اداریہ
سنٹرل وِسٹا پروجیکٹ میں مساجد کا تحفظ یقینی بنایا جائے: مولانا محمود مدنی
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت آنے والی مساجد کو لے کر فکر مندی ظاہر کی ہے اور اس سلسلے میں وزیر برائے رہائش و شہری ترقیاتی امور شری ہردیب سنگھ پوری کو خط لکھا ہے۔
نئی دہلی: جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی نے دہلی میں جاری سنٹرل وسٹا پروجیکٹ کے تحت آنے والی مساجد کو لے کر اپنی فکر مندی کا اظہار کیا ہے اور اس سلسلے میں وزیر برائے رہائش اور شہری ترقیاتی امور حکومت ہند شری ہردیب سنگھ پوری کو خط لکھ کر کہا ہے کہ بہر صورت ان مساجد کے تحفظ کو یقینی بنایا جائے، اس سلسلے میں کسی بھی قسم کا منفی رویہ قبول نہیں کیا جائے گا اور نہ کوئی متبادل کی گنجائش ہے۔ واضح ہو کہ مذکورہ ڈیولپمنٹ پروجیکٹ کے زیر احاطہ علاقے میں (1) ضابطہ گنج مسجد (مان سنگھ روڈ) (2) رکاب گنج مسجد (گردوارہ شری رکاب گنج صاحب کے قریب)(3) کرشی بھون مسجد (کرشی بھون) (4) سنہری باغ روڈ مسجد (نزد ادھیوگ بھون) (5) ایک عوامی مسجد جو کہ بعد میں نائب صدر جمہوریہ ہند ہاؤس کا حصہ بنا دی گئی) کی مسجدیں آتی ہیں۔
ان مساجد کو لے کر عوامی طور پر منفی خدشہ پایا جا رہا ہے، اس سلسلے میں جمعیۃ علماء ہند کے جنرل سکریٹری مولانا حکیم الدین قاسمی کی قیادت میں ایک وفد نے ان تمام مساجد کا گزشتہ 6جون کو دورہ بھی کیا ہے اور فرداً فرداً ساری مساجد کے احوال جمع کیے ہیں۔ اس وفد میں مولانا کے علاوہ قاری عبدالسمیع نائب صدر جمعیۃ علماء صوبہ دہلی، مولانا ضیا ءاللہ قاسمی مولانا یسین جہازی اور عظیم اللہ صدیقی شامل تھے۔
صدر جمعیۃ علماء ہند مولانا محمود مدنی نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ یہ مساجد ہماری قدیم عالمی وراثت کا حصہ ہیں، بہر صورت جن کی حفاظت کی جانی چاہیے، اگر ان کو نقصان پہنچایا گیا تو دنیا بھر میں ملک کی بدنامی ہو گی اور ایک مخصوص طبقہ کی شدید دل آزاری بھی ہو گی۔ اس لیے ان کی حفاظت کے لیے حکومت ہند کے پاس ٹھوس منصوبہ ہو نا چاہیے جس کا وہ وضاحت کے ساتھ اعلان بھی کرے۔
خط میں کہا گیا ہے کہ مذکورہ با لا چاروں مساجد اس وقت آباد ہیں۔ رہ گئی بات نائب صدر جمہوریہ ہند کی رہائش گاہ کے احاطے میں واقع مسجد کی، تو جمعیۃ علماء ہند نے اس بات زور دیا ہے کہ اسے بھی اصل مقصد کے استعمال کے لیے محفوظ رکھنا چاہیے۔ ہمارے پاس یہ مصدقہ معلومات ہیں کہ 2016-17 کے اخیر تک مذکورہ مسجد بھی آباد تھی۔
چونکہ نائب صدر کی رہائش گاہ اور اس کے ساتھ منسلک کمپاؤنڈ بھی وزارت رہائش و شہری امور حکومت ہند کے زیر انتظام ہے، لہذا ہم محترم وزیر (رہائش اور شہری امور) سے درخواست کرتے ہیں کہ وہ جمعیۃ کے وفد کو کسی وقت مقررہ مذکورہ مسجد کے معائنے کی سہولت فراہم کریں۔ جمعیۃ علماء ہند کی ٹیم باضابطہ اس مسجد کا معائنہ کرنا چاہتی ہے تا کہ یہ امر یقینی طور سے معلوم ہو جائے کہ نائب صدر جمہوریہ ہند کی رہائش گا لان میں واقع مسجد اپنی اصلی حالت میں محفوظ ہے، کیوں کہ وہ مسجد بھی ایک تاریخی حیثیت رکھتی ہے۔
تجزیہ
دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین
یہ سوال آج ناگزیر ہے کہ جن خاندانوں کو دہشت گردی نے سب سے پہلے نشانہ بنایا، انہیں انصاف سب سے آخر میں کیوں ملا۔ کشمیر میں دہشت گردی کے ہر واقعے کے بعد حکومتیں بدلتی رہیں، پالیسیاں بدلتی رہیں، مگر دہشت گردی کے متاثرہ خاندان خاموشی، خوف اور نظراندازی کے اندھیروں میں جیتے رہے۔ جن گھروں کے چراغ دہشت گردی نے بجھا دیے، ان کے لیے نہ فوری انصاف تھا، نہ روزگار، نہ بحالی، نہ عزت۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ ان خاندانوں کو وہ سہولتیں اور حقوق دہائیوں بعد ملے، جو ریاست کو ترجیحی بنیادوں پر فوراً فراہم کرنے چاہیے تھے۔ سوال یہ ہے کہ کیوں نہیں دیا گیا؟ کیوں دہشت گردی کے اصل متاثرین کو برسوں انتظار کرنا پڑا؟ باپ مارا گیا، ماں بیوہ ہوئی، بچے یتیم ہوئے، مگر نظام خاموش رہا۔ فائلیں دبتی رہیں، درخواستیں گرد میں دفن ہو گئیں، اور متاثرین کو یا تو خاموش رہنے پر مجبور کیا گیا یا پھر شک کی نگاہ سے دیکھا گیا۔
کئی خاندانوں نے اپنی کہانی سنانے کی ہمت بھی اس خوف سے نہ کی کہ کہیں انہیں ہی نشانہ نہ بنا دیا جائے۔ یہ بھی ایک کڑوا سچ ہے کہ ایک طویل عرصے تک دہشت گردی کے متاثرین کو وہ عزت نہیں دی گئی جس کے وہ حقدار تھے، جبکہ اسی دوران دہشت گردی کے ماحولیاتی نظام سے جڑے عناصر کو مواقع، مراعات اور حتیٰ کہ سرکاری تحفظ بھی حاصل رہا۔ ایک طرف اصل متاثرین در در کی ٹھوکریں کھاتے رہے، دوسری طرف نظام نے ان کے زخموں پر نمک چھڑکا۔ یہ سوال صرف انصاف میں تاخیر کا نہیں، بلکہ انصاف سے انکار کا ہے۔ اگر ریاست اپنے شہریوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہو جائے، تو کم از کم انہیں فوری انصاف، بازآبادکاری اور وقار تو دینا چاہیے۔ مگر یہاں دہائیوں تک ایسا نہیں ہوا۔
آج اگر کچھ خاندانوں کو روزگار، بحالی اور پہچان ملی ہے، تو یہ خوش آئند ضرور ہے، مگر اس کے ساتھ یہ سوال بھی کھڑا ہے کہ اتنی دیر کیوں؟ کیا ان خاندانوں کا درد کم تھا؟ کیا ان کی قربانیاں کم تھیں؟ یا نظام نے انہیں کبھی اپنی ترجیح سمجھا ہی نہیں؟ انصاف اگر دہائیوں بعد ملے، تو وہ انصاف نہیں، ایک تاخیری اعتراف ہوتا ہے۔ دہشت گردی کے متاثرین خیرات نہیں مانگ رہے تھے، وہ اپنا حق مانگ رہے تھے—وہ حق جو ریاست کو بہت پہلے ادا کرنا چاہیے تھا۔ یہ وقت صرف اقدامات کا نہیں، بلکہ احتساب کا بھی ہے۔ یہ پوچھنے کا وقت ہے کہ ماضی میں کن فیصلوں، کن غفلتوں اور کن ترجیحات نے دہشت گردی کے متاثرین کو اتنے طویل عرصے تک انصاف سے محروم رکھا۔ اگر واقعی ایک منصفانہ اور انسانی نظام کی بات کی جاتی ہے، تو دہشت گردی کے متاثرین کو آخری نہیں، بلکہ پہلی ترجیح بنانا ہوگا—ورنہ تاریخ یہ سوال بار بار دہراتی رہے گی: انصاف اتنا دیر سے کیوں؟
اداریہ
ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار
نئی دہلی، 5 فروری (یو این آئی) ہندوستانی سیکورٹی ایجنسیوں نے تقریباً تین دہائیوں کی تلاش کے بعد 1993 کے ممبئی سیریل بلاسٹ کے کلیدی ملزم ابوبکر عبدالغفور شیخ کو گرفتار کر لیا ہے۔
ابوبکر 1993 کے حملے کے ماسٹر مائنڈ داؤد ابراہیم کا قریبی ساتھی اور دھماکوں کا اہم سازشی ہے۔ 12 مارچ 1993 کو ہونے والے ان دھماکوں میں 257 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
قابل ذکر ہے کہ ممبئی میں 12 مختلف مقامات پر ہوئے سلسلہ وار دھماکوں نے ممبئی (تب بمبئی) کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ ہندوستان میں سب سے بڑے دہشت گردانہ حملوں میں سے ایک تھا۔
ذرائع نے بتایا کہ ابو بکر پاکستان مقبوضہ کشمیر (پی او کے) میں اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد کی تربیت دینے، دبئی میں داؤد ابراہیم کی رہائش گاہ پر دھماکوں کی سازش رچنے اور منصوبہ بندی میں ملوث تھا۔
ممبئی دھماکوں کو داؤد ابراہیم کی جانب سے کوآرڈینیٹ کیا گیا تھا۔ یہ دھماکے ٹائیگر میمن اور یعقوب میمن کے ذریعے انجام دیا گیا۔
ذرائع نے بتایا کہ کاروبار میں دلچسپی رکھنے والا ابوبکرعبد الغفور شیخ، خلیجی ممالک سے ممبئی میں سونے اور الیکٹرانکس کے سامان کی اسمگلنگ میں بھی ملوث رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اسے ہندستان کے حوالے کیے جانے کا امکان ہے، تاہم اس حوالے سے کوئی فوری کارروائی نہیں ہوئی ہے۔
اداریہ
یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ
لندن 04 فروری (یو این آئی/ اسپوتنک) برطانیہ کے وزیر خارجہ لِز نے پینٹاگن کے اس بات کو’حیران کُن‘ قرار دیا ہے جس میں اس نے جعلی ویڈیو کے ذریعے روس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ وہ یوکرین پر حملہ کرنے کے بارے میں سوچ رہا ہے۔
پینٹاگن کے ترجمان جان کِربے نے جمعرات کو کہا کہ روس یوکرین کی فوج پر حملہ کرنے کے فراق میں ہے اور مشرقی یوکرین میں روس کے لوگ غیر قانونی طور پر دراندازی کر رہے ہیں۔
پینٹاگن کا ماننا ہے کہ روس تصویری نشر و اشاعت کے لیے ویڈیو بنانے جا رہا ہے جس میں مردہ افراد اور اداکار شامل ہوں گے جو ماتم اور برباد کیے گئے مقامات اور فوجی آلات کی تصویر سازی کریں گے۔
غور طلب ہے کہ یورپی یونین میں روس کے نمائندے ولادیمیر چیژوف نے اس الزام کی تردید کی ہے۔ انھوں نے جمعرات کی دیر رات یہ واضح اور پختہ ثبوت ہے کہ یوکرین کو غیر مستحکم کرنے کے لیے روس مسلسل کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ جمہوری ممالک کے ساتھ ایسا سلوک ہرگز قابل قبول نہیں۔ ہم اس کی شدید مخالفت کرتے ہیں۔
گذشتہ چند ماہ سے روس نے یوکرین کی سرحد پر فوجیوں کا ہجوم لگا رہا ہے مغرب اور یوکرین نے روس پر حملے کا الزام لگا رہے ہیں۔ روس مسلسل اس الزام کی تردید کر رہا ہے کہ اس کا یوکرین پر حملہ کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
