Connect with us

دنیا

چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا

Published

on

بعض تاریخ دان اور ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو 1967 کی جنگ میں جو کامیابی حاصل ہوئی تھی وہ عرب اسرائیل تنازع کے حل کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی بلکہ اس نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔

پانچ جون 1967 کو اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین شروع ہونے والی جنگ یوں تو صرف چھ دن جاری رہی تھی لیکن اس نے مشرقِ وسطیٰ اور عرب اسرائیل تنازع کے مستقبل کا رخ متعین کر دیا تھا۔

اس جنگ کو ختم ہوئے 54 سال مکمل ہو گئے ہیں۔

تاریخ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کے اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی راہ بھی متعین کی اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ اس لیے مبصرین تاریخ کے اس اہم واقعے کے سیاق و سباق اور اس میں حصہ دار بننے والی عالمی طاقتوں کے کردار پر نظر ڈالنے کی ضرورت ایک بار پھر محسوس کر رہے ہیں۔

تاریخی پس منظر
1967 کی عرب اسرائیل جنگ وہ تیسرا موقع تھا جب عرب ممالک اور اسرائیل آمنے سامنے آئے تھے۔اس سے قبل سن 1948 میں عرب اسرائیل جنگ اور 1956 میں مصر کے ساتھ سوئز کینال پر تنازعہ پیدا ہو چکا تھا۔

تاریخ دانوں کے مطابق، پہلی عالمی جنگ تک فلسطین کا علاقہ سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا۔ جنگ کے بعد 1922 میں اس وقت کے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے قائم کی گئی عالمی تنظیم ‘لیگ آف نیشنز’ نے فلسطین کو برطانیہ کے حوالے کردیا تھا۔ اس انتظام کو ’فلسطین مینڈیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ غزہ کا علاقہ بھی اس میں شامل تھا۔

بعدازاں 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس مینڈیٹ کے اختتام سے قبل ہی فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔

برطانوی مینڈیٹ 15 مئی 1948 کو ختم ہوا اور اسی دن جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس جنگ کی ابتدا ہی میں پڑوسی عرب ملک مصر کی افواج غزہ میں داخل ہوگئیں۔ البتہ جنگ کے زور پکڑ جانے کے بعد عربوں کے ہاتھ سے بہت سے علاقے نکل گئے۔

اقوامِ متحدہ نے عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاست کا جو فارمولاپیش کیا تھا اس میں یروشلم کو متحد رکھنے کے لیے شہر کو اپنی نگرانی میں ایک بین الاقوامی انتظام کے تحت لانے کی تجویز دی تھی۔ لیکن اس فارمولے پر عمل نہیں ہوسکا۔ بلکہ یروشلم کا حصول اس تنازع کا محور بن گیا۔

بعد ازاں 1949 میں اردن اور اسرائیل نے شہر کی تقسیم کا ایک بندوبست تسلیم کرلیا جس میں مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ اردن کے زیرِ کنٹرول آگیا۔ اس کے علاوہ مغربی کنارہ بھی اردن کے پاس ہی تھا۔

مغربی یروشلم اور انیسویں صدی میں تعمیر ہونے والے شہر کے علاقے ریاستِ اسرائیل کے زیرِ انتظام آگئے۔ اس تقسیم کے باعث مغربی یروشلم میں آباد بہت سے مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔

مشرقِ وسطیٰ میں اس کے بعد ایک اور بین الاقوامی بحران نے اس وقت جنم لیا جب 26 جولائی 1956 کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہرِ سوئز کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے قبل اس اہم آبی گزر گاہ کا انتظام فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ ‘سوئز کینال کمپنی’ کے پاس تھا۔

مصر کی سوویت یونین سے بڑھتی قربت
دوسری جانب جمال عبدالناصر کی سوویت یونین سے قربت بڑھ رہی تھی۔ سن 1955 میں ناصر نے کمیونسٹ ملک چیکو سلوواکیہ سے اسلحے کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ دراصل سوویت یونین کے ساتھ ہی تھا۔

اس کے ساتھ ہی سوویت یونین سے تعلقات مزید بہتر کرنے کے لیے ناصر نے معاہدۂ بغداد میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا۔ یہ معاہدہ بعد میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا ’سینٹو‘ کہلایا۔ امریکہ کی مدد سے قائم ہونے والا یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں سوویت یونین کے بڑھتے قدم روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں ترکی، عراق، ایران، پاکستان اور برطانیہ بھی شامل تھے۔

مصر کے ساتھ 1955 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سوویت یونین کو مشرقِ وسطیٰ میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔

جمال عبدالناصر کے سوویت یونین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم کے باعث امریکہ اور برطانیہ نے دریائے نیل پر اسوان ڈیم تعمیر کے منصوبے کے لیے مصر کو وعدے کے مطابق مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ جمال عبدالناصرکے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہم تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں ان کی عوامی مقبولیت متاثر ہوسکتی تھی۔

اس لیے ردِ عمل میں جمال عبدالناصر نے نہر سوئز پر مارشل لا نافذ کر کے سوئز کینال کمپنی کا انتظام حکومت کی تحویل میں لے لیا۔ اس کمپنی میں فرانس اور برطانیہ کی بڑی سرمایہ کاری تھی۔ جمال نے اس اقدام کے ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ نہرِ سوئز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے اسوان ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم بھی وصول کی جائے گی۔

اب فرانس اور برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں جمال عبدالناصر نہرِ سوئز کو بند ہی نہ کر دیں۔ اس صورت میں خلیجِ فارس سے مغربی یورپ کو تیل کی فراہمی رک سکتی تھی۔

اس بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں تو تاریخ دانوں کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے نہرِ سوئز سے ملحقہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے اور جمال عبدالناصر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔

جمال عبدالناصر کے خلاف اس منصوبے میں ساتھ دینے کے لیے انہیں اسرائیل کی صورت میں ایک علاقائی اتحادی پہلے ہی میسر تھا کیوں کہ نہرِ سوئز سے متعلق اقدام سے قبل ہی ناصر نے اسرائیل کے لیے آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔

آبنائے تیران خلیجِ عقبہ کے ذریعے اسرائیل کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے اور اسرائیل کے لیے تزویراتی اور تجارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل بحری راستہ ہے۔

اس کے علاوہ 1955 سے 1956 کے دوران مصر کے حمایت یافتہ کمانڈو اسرائیلی علاقوں میں کارروائیاں بھی کر رہے تھے۔

اسرائیل کی نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی
اسرائیل نے 10 اکتوبر 1956 کو مصر پر حملہ کرکے نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ منصوبے کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل اور مصری افواج سے نہرِ سوئز کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔

امریکہ کو خدشہ تھا کہ فرانس اور برطانیہ کے براہِ راست اس تنازع کا حصہ بننے سے سوویت یونین کو بھی خطے میں مداخلت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد 22 دسمبر کو برطانیہ اور فرانس نے اپنی افواج کو واپس بلالیا اور مارچ 1957 میں اسرائیلی فوج بھی واپس چلی گئی۔

اس تنازع کے بعد جمال عبدالناصر عرب اور مصری قوم پرستوں کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ اسرائیل کو نہرِ سوئز کے استعمال کا حق تو نہ مل سکا لیکن اس کے لیے آبنائے تیران کا بحری راستہ کھل گیا جب کہ برطانیہ اور فرانس کا مشرقِ وسطیٰ پر اثر و رسوخ بہت محدود ہوگیا۔

چھ روزہ جنگ کیسے شروع ہوئی؟
نہرِ سوئز کے بحران کے بعد اسرائیل اور مصر کی سرحد پر واقع جزیرہ نما سینا میں اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس تعینات کر دی گئی تھی۔

سوئز بحران کے بعد عرب دنیا میں مصر ایک قائد کے طور پر سامنے آیا اور 1958 میں اس نے شام کے ساتھ مل کر ‘یونائیٹڈ عرب ری پبلک’ قائم کرلیا۔ لیکن فیصلہ سازی میں مصر کو حاصل برتری نے شامیوں میں شکایات پیدا کیں اور یہ اتحاد ستمبر 1961 میں ختم ہوگیا۔ البتہ مصر نے 1971 تک یہ نام برقرار رکھا۔

دوسری جانب شام، لبنان اور اُردن میں موجود فلسطینی گوریلا گروپوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور انہوں نے اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ شام کی جانب سے بھی فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں اضافہ ہو رہا تھا۔

نومبر 1966 کو اسرائیل نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں السموع پر فضائی حملہ کیا۔ اس وقت مغربی کنارہ اردن کے زیرِ انتظام تھا۔ اس حملے میں 18 ہلاکتیں ہوئیں اور 54 افراد زخمی ہوئے۔

اسی دوران اسرائیلی سرحد پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی گوریلا کارروائیاں بڑھتی جارہی تھیں جنہیں شام کی حمایت حاصل تھی۔ ان جھڑپوں کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور اپریل 1967 میں اسرائیل اور شام کی فوجوں میں لڑائی شروع ہو گئی جس میں اسرائیلی فضائیہ نے شام کے چھ ’مِگ‘ جنگی طیارے گرا دیے۔

اسی دوران مئی میں سوویت یونین کی بعض خفیہ رپورٹس میں نشان دہی کی گئی کہ اسرائیل شام کے خلاف بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔

انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا کے مطابق اگرچہ یہ رپورٹس درست نہیں تھیں لیکن ان کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔

عرب دنیا میں خود کو نمایاں رکھنے کے لیے جمال عبدالناصر اسرائیل سے متعلق جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔ اس لیے مصر اور دیگر عرب ممالک میں ان سے بہت سی توقعات وابستہ کی جاتی تھیں۔

لیکن اسرائیل کے مغربی کنارے پر حملے اور شام کے جنگی طیارے گرانے کے بعد وہ اُردن اور شام کی مدد کے لیے میدان میں نہیں اترے جس کی وجہ سے انہیں عرب دنیا میں تنقید کا سامنا تھا۔

ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا تھا کہ وہ مصر اور اسرائیل کی سرحد پر سینا کے علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔

اس صورتِ حال میں ناصر نے شام کی مدد کے لیے واضح اقدام کا فیصلہ کیا اور 14 مئی 1967 کو مصری افواج نے جزیرہ نما سینا میں پیش قدمی شروع کر دی۔

اس کے بعد 18 مئی کو ناصر نے اقوامِ متحدہ کی اسپیشل فورس کو سینا سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دے دی اور 22 مئی سے اسرائیلی بحری جہازوں کے لیے خلیجِ عقبہ کو بند کر دیا۔ جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات کی بندرگاہ پر اس بندش کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔

اسرائیل نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر خلیجِ عقبہ کو بند کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جنگ شروع ہو سکتی ہے۔

اس تنازع کی بڑھتی ہوئی شدت کے پیشِ نظر امریکہ کے صدر لنڈن بی جونسن نے مصر اور اسرائیل کو جنگ میں پہل سے باز رہنے کا پیغام دیا اور ساتھ ہی خلیجِ عقبہ سے متصل آبنائے تیران کو کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی بندوبست کرنے میں تعاون کی بھی پیشکش کی۔ لیکن ان کی اس تجویز پر عمل نہیں ہوسکا۔

اسی اثنا میں اردن کے شاہ حسین نے 30 مئی 1967 کو مصر کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور اردن کی فوج کو مصر کی قیادت میں دے دیا۔ بعد میں عراق نے بھی اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔

آپریشن فوکس
عرب ممالک کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ جون کو اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ‘آپریشن فوکس’ کے نام سے فضائی حملہ شروع کیا۔ اس آپریشن میں اسرائیل کے 200 طیاروں نے حصہ لیا۔

اس آپریشن میں اسرائیل نے مصر کی ایئر فورس کے 90 فی صد طیارے زمین ہی پر تباہ کردیے۔ ایسا ہی ایک بڑا حملہ شام کی فضائیہ پر بھی کیا گیا۔ اسرائیل نے اپنی ان کارروائیوں کو ‘پری ایمپٹِو‘ یا پیشگی حملے قرار دیا۔

اس حملے کے بعد مصری فوج کے پاس فضائیہ کی مدد نہیں رہی اور وہ میدان میں حریف کے حملوں کا آسان ہدف بن گئی۔

جنگ شروع ہونے کے تین دن کے اندر اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور نہرِ سوئز کے مشرقی کنارے تک جزیرہ نما سینا کا سارا علاقہ حاصل کرلیا۔

اسرائیل نے اُردن کو جنگ کی صورت میں لاتعلق رہنے کا انتباہ کیا تھا۔ لیکن پانچ جون کو جنگ شروع ہوئی تو اردن نے مغربی یروشلم پر شیلنگ شروع کر دی۔

جوابی کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے 7 جون تک اردن کی فوج کو مشرقی یروشلم سے پیچھے دھکیل دیا اور 1949 میں طے ہونے والے بندوبست کے تحت اردن کے زیر انتظام مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کا اکثر علاقہ بھی حاصل کرلیا۔ اس طرح یروشلم کا قدیم شہر پوری طرح اسرائیل کے کنٹرول میں آگیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 7 جون کو جنگ بندی کی پیش کش کی گئی۔ اسرائیل اور اردن نے اسے فوراً قبول کرلیا اور مصر نے اگلے روز تک آمادگی ظاہر کردی لیکن شمالی اسرائیل پر بمباری جاری رکھی۔

اسرائیل نے 9 جون کو گولان کی پہاڑیوں پر حملہ کیا اور ایک دن کی گھمسان کی لڑائی کے بعد یہ پہاڑیاں بھی حاصل کرلیں۔ اس کے بعد شام نے بھی 10 جون کو جنگ بندی تسلیم کرلی۔

جنگ کے بعد کیا ہوا؟
چھ روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں عرب ممالک کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں مصر میں تقریباً 11 ہزار، اردن میں چھ ہزار اور شام میں ایک ہزار اموات ہوئیں اور اسرائیل میں 700 لوگ مارے گئے۔

عرب افواج کے جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں کا بھی بھاری نقصان ہوا۔ اس شکست کی وجہ سے عرب عوام اور سیاسی قیادت کے حوصلے پست ہوگئے۔

جنگ میں شکست کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نو جون کو استعفٰی دے دیا۔ لیکن ان کے اس فیصلے کے خلاف مظاہرے ہوئے اور انہوں نے استعفی واپس لے لیا۔ جنگ میں ہونے والی کامیابی کے بعد اسرائیل خطے کی بڑی فوجی قوت بن کر سامنے آیا۔

چھ دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع نے ایک نیا موڑ لیا۔

اس جنگ کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 10 لاکھ سے زائد پناہ گزین اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں آگئے۔ اس کے نتیجے میں 1948 میں شروع ہونے والا پناہ گزینوں کا بحران مزید شدید ہوگیا۔ پناہ گزینوں کے اسی بحران نے بعد میں سیاسی بے چینی اور تشدد کی صورتِ حال کو بھی جنم دیا۔

جنگ کے بعد نومبر میں اقوامِ متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیلی سے پائیدار امن کے لیے جنگ کے دوران حاصل کیے گئے علاقوں سے دست بردار ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔

بعد میں یہی قرارداد اسرائیل اور اس کے پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات کی بنیاد بنی۔ اس قرارداد کو اسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدے اور فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کی کاوشوں کا نقطۂ آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔

جنگ میں اگرچہ اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقے میں تین گنا اضافہ ہوا لیکن یہ علاقے آج تک وجہِ نزاع بنے ہوئے ہیں۔

اسرائیل نے 1982 میں امن معاہدے کے تحت جزیرہ نما سینا کا علاقہ مصر کو واپس کر دیا تھا۔ اسرائیل 2005 میں غزہ کی پٹی سے بھی دست بردار ہوگیا تھا۔ تاہم چھ روزہ جنگ کے دوران ہونے والا گولان ہائٹس اور مغربی کنارے پر اس کا قبضہ 54 سال بعد آج بھی برقرار ہے۔

اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اُردن سے مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ حاصل کرنے کے بعد اسے متحدہ یروشلم قرار دے کر اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ البتہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔اسرائیل کے اس اقدام کو تاحال بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ تاہم اسرائیل نے 1967 میں جو علاقے حاصل کیے تھے ان میں یہودی بستیوں کا قیام بھی ہر کچھ عرصے بعد تصادم کو جنم دیتا ہے.

چھ روزہ جنگ اور پاکستانی پائلٹ
پاکستان کی فضائیہ نے نومبر 1966 میں اردن کی رائل ایئر فورس کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے اپنے کچھ پائلٹ وہاں بھیجے تھے۔

ترک خبر رساں ادارے ‘انادولو’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق فضائیہ کی تاریخ پر تین کتابوں کے مصنف ایئر کموڈور قیصر طفیل کا کہنا ہے کہ جب 5 جون 1967 کو جنگ کا آغاز ہوا تو پاکستانی پائلٹ سیف الاعظم اور ان کے ساتھیوں کو وہاں جنگی خدمات کی اجازت دی گئی۔

سیف الاعظم نے جنگ کے دوران تین اسرائیلی طیارے مار گرائے تھے جن میں سے ایک اُردن میں گرایا۔ اس کے بعد انہیں عراق منتقل کردیا گیا اور انہوں نے وہاں اسرائیل کے دو طیاروں کو نشانہ بنایا۔

بعض مبصرین کہتے ہیں کہ سیف الاعظم نے اسرائیل کے طیارے گرا کر عراق اور اُردن کی ایئر بیس بچا لیں ورنہ ان کا انجام بھی مصری فضائیہ جیسا ہوتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مصری فضائیہ کی مکمل تباہی کے بعد سیف الاعظم کی یہ کارکردگی تاریخ میں محض ایک علامتی حیثیت ہی رکھتی ہے کیوں کہ اس سے جنگ کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔

بعد ازاں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سیف الاعظم بنگلہ دیش کی فضائیہ میں شامل ہوگئے۔ سن 1980 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔

سیف الاعظم شاید تاریخ کے وہ واحد پائلٹ ہیں جنھوں نے چار ممالک اردن، عراق، پاکستان اور بنگلہ دیش کے جنگی طیارے اڑائے اور دو مختلف ممالک بھارت اور اسرائیل کے طیارے گرائے۔

ان کی جنگی مہارت کے اعتراف میں عراق، اردن، پاکستان اور امریکہ کی جانب سے انہیں مختلف فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ سیف الاعظم کا انتقال 79 برس کی عمر میں گزشتہ برس 14 جون کو ڈھاکہ میں ہوا تھا۔

Continue Reading

دنیا

روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا

Published

on

واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔

امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔

محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔

یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔

واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔

میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔

یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading

دنیا

ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی

Published

on

واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔

سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔

ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔

جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔

یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔

گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔

ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔

ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔

وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔

انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔

اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔

کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔

ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔

آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔

شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔

امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔

امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔

یو این آئی۔ ع ا

Continue Reading

دنیا

ایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار

Published

on

تہران، ایران نے اقوام متحدہ سے امریکی پابندیوں کے انسانی اور انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے اثرات کی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تہران نے واشنگٹن پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ ایسی ’’یک طرفہ اقتصادی پابندیاں‘‘ استعمال کر رہا ہے جو عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انٹونیو گوتریس، سلامتی کونسل کے صدر اور رکن ممالک کو ارسال کیے گئے خط میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اقوام متحدہ سے حالیہ امریکی اقدامات کے اثرات کا جائزہ لینے اور اس بارے میں رپورٹ پیش کرنے کی اپیل کی۔ ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے خط میں عراقچی نے واشنگٹن کی پابندیوں کی مہم کو ’’ریاستی اور اقتصادی دہشت گردی کا عمل‘‘ قرار دیا اور امریکہ پر تہران کے خلاف غیر قانونی، یک طرفہ اور جبری اقدامات کرنے کا الزام عائد کیا۔

عراقچی نے کہا، ’’پابندیاں جان بوجھ کر عام شہریوں کو نقصان پہنچاتی ہیں، کیونکہ ان کے نتیجے میں خوراک، ادویات، طبی آلات، توانائی اور دیگر ضروری اشیا تک رسائی محدود ہو جاتی ہے۔‘‘ ان کے مطابق اس سے زندگی، صحت، خوراک اور مناسب معیارِ زندگی سمیت بنیادی حقوق متاثر ہوتے ہیں۔ انہوں نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا کہ وہ پابندیوں کے نتیجے میں خوراک، ادویات، صحت کی سہولیات، توانائی، نقل و حمل، انسانی امداد اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لے۔

عراقچی نے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے رکن ممالک سے یہ بھی اپیل کی کہ وہ یک طرفہ جبری اقدامات اور ثانوی پابندیوں کی مذمت کریں۔ انہوں نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ ان پابندیوں کو تسلیم یا نافذ نہ کریں جن کا مقصد ممالک کو ایران کے ساتھ قانونی اقتصادی اور تجارتی تعلقات تبدیل کرنے پر مجبور کرنا ہے۔ انہوں نے واشنگٹن سے یہ بھی مطالبہ کیا کہ وہ تیسرے ممالک اور کمپنیوں پر تہران کے ساتھ اقتصادی تعلقات محدود کرنے کے لیے دباؤ ڈالنا بند کرے اور پابندیوں سے ہونے والے نقصانات کے ازالے کے لیے معاوضہ ادا کرے۔

جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔

Continue Reading
Advertisement
دنیا6 hours ago

روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا

ہندوستان7 hours ago

گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار

دنیا7 hours ago

ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی

ہندوستان8 hours ago

ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی

جموں و کشمیر9 hours ago

جموں کی سرحدوں پر رکشا بندھن سے قبل اسکولی طالبات نے بی ایس ایف اہلکاروں کی کلائی پر راکھی باندھی

جموں و کشمیر9 hours ago

حکومت ’’سرکاری نوکری‘‘ کی ذہنیت بدلنے اور متبادل ذرائع معاش فراہم کرنے کی شعوری کوشش کر رہی ہے: جتیندر

دنیا9 hours ago

ایران کا امریکی پابندیوں کے انسانی اثرات کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ سے مطالبہ، اقدامات کو ’’اقتصادی دہشت گردی‘‘ قرار

دنیا10 hours ago

نیپال-چین سرحد کے ساتھ تباہ کن سیلاب، 1,300 سے زائد افراد لاپتہ

دنیا11 hours ago

روبیو قدرتی سلامتی اور انسدادِ دہشت گردی بورڈ کے لیے چار امیدوار مقرر کریں گے

ہندوستان11 hours ago

پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا

جموں و کشمیر13 hours ago

کشمیر کا آخری زندہ مقامی عسکریت پسند جولائی تک بڑی حد تک نظروں سے اوجھل رہا

پاکستان14 hours ago

پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے

دنیا16 hours ago

قطر کے وزیر اعظم کا دورہ ایران، کشیدگی کم کرنے کی کوششوں پر بات چیت ہوگی

دنیا16 hours ago

نیپال میں بھوٹے کوشی کے سیلاب میں 162 افراد ہلاک، تقریباً 400 لاپتہ؛ غیر ملکی سیاح بھی شامل

دنیا1 day ago

چین اور نیپال کے سرحدی علاقے میں بڑے پیمانے پر لینڈ سلائیڈنگ، بھاری جانی نقصان

دنیا1 day ago

سعودی عرب کے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے شہری جوہری ٹیکنالوجی معاہدہ: وائٹ ہاؤس

جموں و کشمیر1 day ago

کشمیر بھر میں عید میلاد النبی منائی گئی، ہزاروں عقیدت مندوں کا درگاہ حضرت بل میں ہجوم

دنیا1 day ago

ایران، عمان آبنائے ہرمز دوبارہ کھولنے کے قریب، تہران کا امریکہ سے بحری ناکہ بندی ختم کرنے کا مطالبہ

دنیا1 day ago

نیپال میں اچانک سیلاب کے بعد لاپتہ 384 مسافروں میں 105 ہندوستانی شہری شامل

جموں و کشمیر1 day ago

جموں میں این سی بی نے ہیروئن اسمگلنگ کے نیٹ ورک کا پردہ فاش کیا، سرحد پار روابط کا شبہ، تین گرفتار

ہندوستان1 day ago

تہواروں پر بڑھتی مہنگائی سے عام آدمی کی رسوئی کا بجٹ بگڑا: کھرگے

ہندوستان1 day ago

عید میلاد النبی پر کاشی میں جوش و خروش، سکیورٹی کے سخت انتظامات

دنیا2 days ago

امیگریشن کریک ڈاؤن میں تیزی:ٹرمپ انتظامیہ نے دنیا بھر میں امریکی امیگرنٹ ویزا اپائنٹمنٹس روک دیں

دنیا2 days ago

ہندوستان، چین کے درمیان سرحدی مذاکرات کا 25واں دور، سیاسی حل کی کوششیں جاری رکھنے پر اتفاق

پاکستان2 days ago

پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق

دنیا2 days ago

ایرانی حملوں سے امریکی جاسوسی نیٹ ورک کو اربوں ڈالر کا نقصان: رپورٹ

ہندوستان2 days ago

وزیر اعظم مودی نے میلاد النبی پر ملک کو مبارکباد دی، زیادہ ہم آہنگی کی امید ظاہر کی

دنیا2 days ago

امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کو ڈاک کے ذریعے ووٹنگ پر پابندیوں کے منصوبے پر آگے بڑھنے کی اجازت دے دی

پاکستان2 days ago

کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں

دنیا2 days ago

نئی امریکی پابندیوں کا سامنا کرنے کے لیے تیار، اثرات سے نمٹنے کا دو سالہ منصوبہ موجود:ایران

دنیا2 days ago

اقوام متحدہ کے سربراہ کا بحری جہازوں پر حملے ختم کرنے پر زور، آبنائے ہرمز سے آمدورفت کے لیے طریقہ کار کی تجویز

ہندوستان2 days ago

ہندستانی دفاعی صنعتوں کو ملے گی ڈی آر ڈی او کے روایتی میزائل نظام کی ٹیکنالوجی

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر کے ڈی جی پی نے عید میلاد النبی اور آئندہ تقریبات کے لیے سکیورٹی انتظامات کا جائزہ لیا

جموں و کشمیر2 days ago

رکن پارلیمنٹ روح اللہ کا فاروق عبداللہ کے استعفے کے چیلنج پر چند روز میں جواب دینے کا اشارہ

دنیا2 days ago

امریکی وزیر دفاع: “ضرورت پڑنے پر ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں”۔

دنیا2 days ago

اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو تنہا اور معاشی طور پر دبانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کر دیا

جموں و کشمیر2 days ago

پلوامہ، شوپیان اور سوپور میں 8 مبینہ دہشت گرد ساتھی گرفتار، اسلحہ و گولہ بارود برآمد

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر: سانبہ کے وجے پور میں پل کا گرڈر گرنے سے ایک ہلاک، تین زخمی

ہندوستان2 days ago

لکھنؤ میں وکیلوں کے چیمبرز کومنہدم کرنے کے خلاف عرضی سپریم کورٹ سے خارج

ہندوستان2 days ago

ذات پرمبنی مردم شماری کے طریقۂ کار پر کھرگے اور راہل نے تشویش کا اظہار کیا، مودی کو لکھا مشترکہ خط

ہندوستان2 days ago

کانگریس کا دعویٰ: نوجوانوں میں بے روزگاری کے بحران نے مودی حکومت کی ‘ناکامی’ کو بے نقاب کردیا ہے

جموں و کشمیر2 days ago

کینسر کی دوائی دلانے کے نام پر اسکول کے سابق ساتھی سے لاکھوں کی دھوکہ دہی، ای او ڈبلیو نے چارج شیٹ دائر کی

جموں و کشمیر2 days ago

میرواعظ نے 1989 کے جامع مسجد ’آپریشن‘ کو یاد کیا، 37 برس بعد بھی زخم تازہ

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر کے سوپور میں اے کے-47 رائفل، دستی بم اور گولہ بارود برآمد

جموں و کشمیر3 days ago

جموں و کشمیر: سکیورٹی فورسز نے دو مبینہ دہشت گرد ساتھیوں کو گرفتار کیا، اسلحہ برآمد

جموں و کشمیر3 days ago

بجلی کے کرایوں میں اضافہ “غیر منصفانہ، بوجھل اور مکمل طور پر ناقابل برداشت:طارق قرہ

ہندوستان3 days ago

مودی کی نوجوان سفارتکاروں سے بیرونِ ملک ہندستان کے تعلقات کو مزید استوار کرنے کی اپیل

دنیا3 days ago

نئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ

دنیا3 days ago

ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ

جموں و کشمیر3 days ago

احتجاج کے درمیان جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کو مجبوری قرار دیا

جموں و کشمیر7 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان5 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

جموں و کشمیر6 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین6 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

ہندوستان4 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

جموں و کشمیر6 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

جموں و کشمیر5 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین7 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

تازہ ترین7 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

اہم خبریں7 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

تجزیہ9 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین7 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل7 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین7 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

دنیا6 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

پاکستان4 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

تازہ ترین7 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تازہ ترین6 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

اہم خبریں7 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

ہندوستان7 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تازہ ترین7 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

دنیا7 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

تازہ ترین7 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین10 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

تجزیہ9 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین8 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

جموں و کشمیر7 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

کھیل5 months ago

آئی پی ایل 2026 چنئی سپر کنگز نے پنجاب کو دیا 209 رنز کا ہدف

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

جموں و کشمیر7 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

تازہ ترین7 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

جموں و کشمیر4 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر6 months ago

کشمیر میں نئی ریلوے لائنوں کا سروے مکمل، حکومت کا زمین مالکان کو مکمل معاوضہ دینے کا یقین

کھیل6 months ago

تاریخ رقم: جموں و کشمیر نے پہلی بار رانجی ٹرافی کا خطاب اپنے سر سجایا

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

جموں و کشمیر4 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر5 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر6 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر6 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین6 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین6 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر7 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں7 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں7 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین7 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر10 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر2 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین3 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین3 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر3 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین3 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین3 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین3 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر3 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر3 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین3 years ago

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین3 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر3 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین3 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین3 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر3 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین3 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین3 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین3 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین3 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین3 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین3 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین3 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending