دنیا
چھ روزہ عرب اسرائیل جنگ، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو بدل کر رکھ دیا
بعض تاریخ دان اور ماہرین کہتے ہیں کہ اسرائیل کو 1967 کی جنگ میں جو کامیابی حاصل ہوئی تھی وہ عرب اسرائیل تنازع کے حل کے لیے نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوسکی بلکہ اس نے صورتِ حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔
پانچ جون 1967 کو اسرائیل اور عرب ممالک کے مابین شروع ہونے والی جنگ یوں تو صرف چھ دن جاری رہی تھی لیکن اس نے مشرقِ وسطیٰ اور عرب اسرائیل تنازع کے مستقبل کا رخ متعین کر دیا تھا۔
اس جنگ کو ختم ہوئے 54 سال مکمل ہو گئے ہیں۔
تاریخ پر نظر رکھنے والے بین الاقوامی امور کے ماہرین کے مطابق اس جنگ نے اسرائیل کے اپنے پڑوسی عرب ممالک کے ساتھ تعلقات کی راہ بھی متعین کی اور ساتھ ہی امریکہ کے ساتھ اس کے تعلقات بھی ایک نئے دور میں داخل ہوئے۔ اس لیے مبصرین تاریخ کے اس اہم واقعے کے سیاق و سباق اور اس میں حصہ دار بننے والی عالمی طاقتوں کے کردار پر نظر ڈالنے کی ضرورت ایک بار پھر محسوس کر رہے ہیں۔
تاریخی پس منظر
1967 کی عرب اسرائیل جنگ وہ تیسرا موقع تھا جب عرب ممالک اور اسرائیل آمنے سامنے آئے تھے۔اس سے قبل سن 1948 میں عرب اسرائیل جنگ اور 1956 میں مصر کے ساتھ سوئز کینال پر تنازعہ پیدا ہو چکا تھا۔
تاریخ دانوں کے مطابق، پہلی عالمی جنگ تک فلسطین کا علاقہ سلطنتِ عثمانیہ میں شامل تھا۔ جنگ کے بعد 1922 میں اس وقت کے عالمی تنازعات حل کرنے کے لیے قائم کی گئی عالمی تنظیم ‘لیگ آف نیشنز’ نے فلسطین کو برطانیہ کے حوالے کردیا تھا۔ اس انتظام کو ’فلسطین مینڈیٹ‘ کہا جاتا ہے۔ غزہ کا علاقہ بھی اس میں شامل تھا۔
بعدازاں 1947 میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے اس مینڈیٹ کے اختتام سے قبل ہی فلسطین کو عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاستوں میں تقسیم کرنے کے منصوبے کی منظوری دی۔
برطانوی مینڈیٹ 15 مئی 1948 کو ختم ہوا اور اسی دن جنگ کا آغاز ہوا جس کے نتیجے میں اسرائیل کا قیام عمل میں آیا۔ اس جنگ کی ابتدا ہی میں پڑوسی عرب ملک مصر کی افواج غزہ میں داخل ہوگئیں۔ البتہ جنگ کے زور پکڑ جانے کے بعد عربوں کے ہاتھ سے بہت سے علاقے نکل گئے۔
اقوامِ متحدہ نے عربوں اور یہودیوں کے لیے الگ الگ ریاست کا جو فارمولاپیش کیا تھا اس میں یروشلم کو متحد رکھنے کے لیے شہر کو اپنی نگرانی میں ایک بین الاقوامی انتظام کے تحت لانے کی تجویز دی تھی۔ لیکن اس فارمولے پر عمل نہیں ہوسکا۔ بلکہ یروشلم کا حصول اس تنازع کا محور بن گیا۔
بعد ازاں 1949 میں اردن اور اسرائیل نے شہر کی تقسیم کا ایک بندوبست تسلیم کرلیا جس میں مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ اردن کے زیرِ کنٹرول آگیا۔ اس کے علاوہ مغربی کنارہ بھی اردن کے پاس ہی تھا۔
مغربی یروشلم اور انیسویں صدی میں تعمیر ہونے والے شہر کے علاقے ریاستِ اسرائیل کے زیرِ انتظام آگئے۔ اس تقسیم کے باعث مغربی یروشلم میں آباد بہت سے مسلمانوں کو اپنا گھر بار چھوڑ کر ہجرت کرنا پڑی۔
مشرقِ وسطیٰ میں اس کے بعد ایک اور بین الاقوامی بحران نے اس وقت جنم لیا جب 26 جولائی 1956 کو مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نہرِ سوئز کو قومیانے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے سے قبل اس اہم آبی گزر گاہ کا انتظام فرانس اور برطانیہ کی مشترکہ ‘سوئز کینال کمپنی’ کے پاس تھا۔
مصر کی سوویت یونین سے بڑھتی قربت
دوسری جانب جمال عبدالناصر کی سوویت یونین سے قربت بڑھ رہی تھی۔ سن 1955 میں ناصر نے کمیونسٹ ملک چیکو سلوواکیہ سے اسلحے کی خریداری کا معاہدہ طے پانے کا اعلان کیا۔ یہ معاہدہ دراصل سوویت یونین کے ساتھ ہی تھا۔
اس کے ساتھ ہی سوویت یونین سے تعلقات مزید بہتر کرنے کے لیے ناصر نے معاہدۂ بغداد میں شامل ہونے سے بھی انکار کر دیا۔ یہ معاہدہ بعد میں سینٹرل ٹریٹی آرگنائزیشن یا ’سینٹو‘ کہلایا۔ امریکہ کی مدد سے قائم ہونے والا یہ اتحاد مشرقِ وسطیٰ میں سوویت یونین کے بڑھتے قدم روکنے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا اور اس میں ترکی، عراق، ایران، پاکستان اور برطانیہ بھی شامل تھے۔
مصر کے ساتھ 1955 میں ہونے والے معاہدے کے بعد سوویت یونین کو مشرقِ وسطیٰ میں قدم جمانے کا موقع مل گیا۔
جمال عبدالناصر کے سوویت یونین کے ساتھ بڑھتے ہوئے مراسم کے باعث امریکہ اور برطانیہ نے دریائے نیل پر اسوان ڈیم تعمیر کے منصوبے کے لیے مصر کو وعدے کے مطابق مالی معاونت فراہم کرنے سے انکار کردیا۔ جمال عبدالناصرکے لیے یہ منصوبہ انتہائی اہم تھا اور اس میں ناکامی کی صورت میں ان کی عوامی مقبولیت متاثر ہوسکتی تھی۔
اس لیے ردِ عمل میں جمال عبدالناصر نے نہر سوئز پر مارشل لا نافذ کر کے سوئز کینال کمپنی کا انتظام حکومت کی تحویل میں لے لیا۔ اس کمپنی میں فرانس اور برطانیہ کی بڑی سرمایہ کاری تھی۔ جمال نے اس اقدام کے ساتھ ہی یہ عندیہ بھی دیا کہ نہرِ سوئز سے گزرنے والے بحری جہازوں سے اسوان ڈیم کی تعمیر کے لیے رقم بھی وصول کی جائے گی۔
اب فرانس اور برطانیہ کو یہ خطرہ لاحق ہوگیا کہ کہیں جمال عبدالناصر نہرِ سوئز کو بند ہی نہ کر دیں۔ اس صورت میں خلیجِ فارس سے مغربی یورپ کو تیل کی فراہمی رک سکتی تھی۔
اس بحران کو حل کرنے کے لیے سفارتی کوششیں بے نتیجہ ثابت ہوئیں تو تاریخ دانوں کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے نہرِ سوئز سے ملحقہ علاقے کا کنٹرول حاصل کرنے اور جمال عبدالناصر کو اقتدار سے بے دخل کرنے کے لیے ایک خفیہ منصوبہ بنایا۔
جمال عبدالناصر کے خلاف اس منصوبے میں ساتھ دینے کے لیے انہیں اسرائیل کی صورت میں ایک علاقائی اتحادی پہلے ہی میسر تھا کیوں کہ نہرِ سوئز سے متعلق اقدام سے قبل ہی ناصر نے اسرائیل کے لیے آبنائے تیران کو بند کردیا تھا۔
آبنائے تیران خلیجِ عقبہ کے ذریعے اسرائیل کو بحیرۂ احمر سے ملاتی ہے اور اسرائیل کے لیے تزویراتی اور تجارتی اعتبار سے انتہائی اہمیت کا حامل بحری راستہ ہے۔
اس کے علاوہ 1955 سے 1956 کے دوران مصر کے حمایت یافتہ کمانڈو اسرائیلی علاقوں میں کارروائیاں بھی کر رہے تھے۔
اسرائیل کی نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی
اسرائیل نے 10 اکتوبر 1956 کو مصر پر حملہ کرکے نہرِ سوئز کی جانب پیش قدمی شروع کر دی تھی۔ منصوبے کے مطابق برطانیہ اور فرانس نے اسرائیل اور مصری افواج سے نہرِ سوئز کا علاقہ خالی کرنے کا مطالبہ کیا اور ساتھ ہی اقوامِ متحدہ کی جانب سے جنگ بندی کے احکامات پر عمل درآمد کے لیے اپنی فوجیں میدان میں اتار دیں۔
امریکہ کو خدشہ تھا کہ فرانس اور برطانیہ کے براہِ راست اس تنازع کا حصہ بننے سے سوویت یونین کو بھی خطے میں مداخلت کا موقع مل سکتا ہے۔ اس لیے امریکہ نے اقوامِ متحدہ میں ایک قرارداد پیش کی جس کے بعد 22 دسمبر کو برطانیہ اور فرانس نے اپنی افواج کو واپس بلالیا اور مارچ 1957 میں اسرائیلی فوج بھی واپس چلی گئی۔
اس تنازع کے بعد جمال عبدالناصر عرب اور مصری قوم پرستوں کے ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ اسرائیل کو نہرِ سوئز کے استعمال کا حق تو نہ مل سکا لیکن اس کے لیے آبنائے تیران کا بحری راستہ کھل گیا جب کہ برطانیہ اور فرانس کا مشرقِ وسطیٰ پر اثر و رسوخ بہت محدود ہوگیا۔
چھ روزہ جنگ کیسے شروع ہوئی؟
نہرِ سوئز کے بحران کے بعد اسرائیل اور مصر کی سرحد پر واقع جزیرہ نما سینا میں اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس تعینات کر دی گئی تھی۔
سوئز بحران کے بعد عرب دنیا میں مصر ایک قائد کے طور پر سامنے آیا اور 1958 میں اس نے شام کے ساتھ مل کر ‘یونائیٹڈ عرب ری پبلک’ قائم کرلیا۔ لیکن فیصلہ سازی میں مصر کو حاصل برتری نے شامیوں میں شکایات پیدا کیں اور یہ اتحاد ستمبر 1961 میں ختم ہوگیا۔ البتہ مصر نے 1971 تک یہ نام برقرار رکھا۔
دوسری جانب شام، لبنان اور اُردن میں موجود فلسطینی گوریلا گروپوں کی کارروائیوں میں اضافہ ہو رہا تھا اور انہوں نے اسرائیلی مفادات کو نقصان پہنچانا شروع کر دیا تھا۔ شام کی جانب سے بھی فلسطینی مزاحمت کی حمایت میں اضافہ ہو رہا تھا۔
نومبر 1966 کو اسرائیل نے مغربی کنارے کے ایک گاؤں السموع پر فضائی حملہ کیا۔ اس وقت مغربی کنارہ اردن کے زیرِ انتظام تھا۔ اس حملے میں 18 ہلاکتیں ہوئیں اور 54 افراد زخمی ہوئے۔
اسی دوران اسرائیلی سرحد پر فلسطینی مزاحمت کاروں کی گوریلا کارروائیاں بڑھتی جارہی تھیں جنہیں شام کی حمایت حاصل تھی۔ ان جھڑپوں کی شدت میں بتدریج اضافہ ہوتا گیا اور اپریل 1967 میں اسرائیل اور شام کی فوجوں میں لڑائی شروع ہو گئی جس میں اسرائیلی فضائیہ نے شام کے چھ ’مِگ‘ جنگی طیارے گرا دیے۔
اسی دوران مئی میں سوویت یونین کی بعض خفیہ رپورٹس میں نشان دہی کی گئی کہ اسرائیل شام کے خلاف بڑی کارروائی کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
انسائیکلوپیڈیا آف برٹینیکا کے مطابق اگرچہ یہ رپورٹس درست نہیں تھیں لیکن ان کی وجہ سے اسرائیل اور اس کے عرب پڑوسیوں میں کشیدگی مزید بڑھ گئی۔
عرب دنیا میں خود کو نمایاں رکھنے کے لیے جمال عبدالناصر اسرائیل سے متعلق جارحانہ پالیسی اپنائے ہوئے تھے۔ اس لیے مصر اور دیگر عرب ممالک میں ان سے بہت سی توقعات وابستہ کی جاتی تھیں۔
لیکن اسرائیل کے مغربی کنارے پر حملے اور شام کے جنگی طیارے گرانے کے بعد وہ اُردن اور شام کی مدد کے لیے میدان میں نہیں اترے جس کی وجہ سے انہیں عرب دنیا میں تنقید کا سامنا تھا۔
ان پر یہ الزام بھی عائد کیا جاتا تھا کہ وہ مصر اور اسرائیل کی سرحد پر سینا کے علاقے میں تعینات اقوامِ متحدہ کی ایمرجنسی فورس کے پیچھے چھپ رہے ہیں۔
اس صورتِ حال میں ناصر نے شام کی مدد کے لیے واضح اقدام کا فیصلہ کیا اور 14 مئی 1967 کو مصری افواج نے جزیرہ نما سینا میں پیش قدمی شروع کر دی۔
اس کے بعد 18 مئی کو ناصر نے اقوامِ متحدہ کی اسپیشل فورس کو سینا سے ہٹانے کے لیے باقاعدہ درخواست بھی دے دی اور 22 مئی سے اسرائیلی بحری جہازوں کے لیے خلیجِ عقبہ کو بند کر دیا۔ جنوبی اسرائیل کے شہر ایلات کی بندرگاہ پر اس بندش کے گہرے اثرات مرتب ہوئے۔
اسرائیل نے پہلے ہی خبردار کر دیا تھا کہ اگر خلیجِ عقبہ کو بند کیا گیا تو اس کے نتیجے میں جنگ شروع ہو سکتی ہے۔
اس تنازع کی بڑھتی ہوئی شدت کے پیشِ نظر امریکہ کے صدر لنڈن بی جونسن نے مصر اور اسرائیل کو جنگ میں پہل سے باز رہنے کا پیغام دیا اور ساتھ ہی خلیجِ عقبہ سے متصل آبنائے تیران کو کھولنے کے لیے ایک بین الاقوامی بندوبست کرنے میں تعاون کی بھی پیشکش کی۔ لیکن ان کی اس تجویز پر عمل نہیں ہوسکا۔
اسی اثنا میں اردن کے شاہ حسین نے 30 مئی 1967 کو مصر کے ساتھ مشترکہ دفاع کے معاہدے پر دستخط کر دیے اور اردن کی فوج کو مصر کی قیادت میں دے دیا۔ بعد میں عراق نے بھی اس اتحاد میں شمولیت اختیار کرلی۔
آپریشن فوکس
عرب ممالک کی تیاریوں کو دیکھتے ہوئے اسرائیل نے جنگ شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔ پانچ جون کو اسرائیلی ڈیفنس فورسز (آئی ڈی ایف) نے ‘آپریشن فوکس’ کے نام سے فضائی حملہ شروع کیا۔ اس آپریشن میں اسرائیل کے 200 طیاروں نے حصہ لیا۔
اس آپریشن میں اسرائیل نے مصر کی ایئر فورس کے 90 فی صد طیارے زمین ہی پر تباہ کردیے۔ ایسا ہی ایک بڑا حملہ شام کی فضائیہ پر بھی کیا گیا۔ اسرائیل نے اپنی ان کارروائیوں کو ‘پری ایمپٹِو‘ یا پیشگی حملے قرار دیا۔
اس حملے کے بعد مصری فوج کے پاس فضائیہ کی مدد نہیں رہی اور وہ میدان میں حریف کے حملوں کا آسان ہدف بن گئی۔
جنگ شروع ہونے کے تین دن کے اندر اسرائیل نے غزہ کی پٹی اور نہرِ سوئز کے مشرقی کنارے تک جزیرہ نما سینا کا سارا علاقہ حاصل کرلیا۔
اسرائیل نے اُردن کو جنگ کی صورت میں لاتعلق رہنے کا انتباہ کیا تھا۔ لیکن پانچ جون کو جنگ شروع ہوئی تو اردن نے مغربی یروشلم پر شیلنگ شروع کر دی۔
جوابی کارروائی میں اسرائیلی فورسز نے 7 جون تک اردن کی فوج کو مشرقی یروشلم سے پیچھے دھکیل دیا اور 1949 میں طے ہونے والے بندوبست کے تحت اردن کے زیر انتظام مشرقی یروشلم اور مغربی کنارے کا اکثر علاقہ بھی حاصل کرلیا۔ اس طرح یروشلم کا قدیم شہر پوری طرح اسرائیل کے کنٹرول میں آگیا۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی جانب سے 7 جون کو جنگ بندی کی پیش کش کی گئی۔ اسرائیل اور اردن نے اسے فوراً قبول کرلیا اور مصر نے اگلے روز تک آمادگی ظاہر کردی لیکن شمالی اسرائیل پر بمباری جاری رکھی۔
اسرائیل نے 9 جون کو گولان کی پہاڑیوں پر حملہ کیا اور ایک دن کی گھمسان کی لڑائی کے بعد یہ پہاڑیاں بھی حاصل کرلیں۔ اس کے بعد شام نے بھی 10 جون کو جنگ بندی تسلیم کرلی۔
جنگ کے بعد کیا ہوا؟
چھ روز تک جاری رہنے والی اس جنگ میں عرب ممالک کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ اس جنگ میں مصر میں تقریباً 11 ہزار، اردن میں چھ ہزار اور شام میں ایک ہزار اموات ہوئیں اور اسرائیل میں 700 لوگ مارے گئے۔
عرب افواج کے جنگی ساز و سامان اور ہتھیاروں کا بھی بھاری نقصان ہوا۔ اس شکست کی وجہ سے عرب عوام اور سیاسی قیادت کے حوصلے پست ہوگئے۔
جنگ میں شکست کے بعد مصر کے صدر جمال عبدالناصر نے نو جون کو استعفٰی دے دیا۔ لیکن ان کے اس فیصلے کے خلاف مظاہرے ہوئے اور انہوں نے استعفی واپس لے لیا۔ جنگ میں ہونے والی کامیابی کے بعد اسرائیل خطے کی بڑی فوجی قوت بن کر سامنے آیا۔
چھ دن تک جاری رہنے والی اس جنگ کے بعد اسرائیل اور فلسطینیوں کے درمیان تنازع نے ایک نیا موڑ لیا۔
اس جنگ کی وجہ سے لاکھوں افراد بے گھر ہوئے اور تقریباً 10 لاکھ سے زائد پناہ گزین اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقوں میں آگئے۔ اس کے نتیجے میں 1948 میں شروع ہونے والا پناہ گزینوں کا بحران مزید شدید ہوگیا۔ پناہ گزینوں کے اسی بحران نے بعد میں سیاسی بے چینی اور تشدد کی صورتِ حال کو بھی جنم دیا۔
جنگ کے بعد نومبر میں اقوامِ متحدہ نے ایک قرارداد منظور کی جس میں اسرائیلی سے پائیدار امن کے لیے جنگ کے دوران حاصل کیے گئے علاقوں سے دست بردار ہونے کے لیے کہا گیا تھا۔
بعد میں یہی قرارداد اسرائیل اور اس کے پڑوسی ممالک کے مابین تعلقات کی بنیاد بنی۔ اس قرارداد کو اسرائیل اور مصر کے درمیان ہونے والے کیمپ ڈیوڈ معاہدے اور فلسطینیوں کے ساتھ دو ریاستی حل کی کاوشوں کا نقطۂ آغاز بھی قرار دیا جاتا ہے۔
جنگ میں اگرچہ اسرائیل کے زیرِ کنٹرول علاقے میں تین گنا اضافہ ہوا لیکن یہ علاقے آج تک وجہِ نزاع بنے ہوئے ہیں۔
اسرائیل نے 1982 میں امن معاہدے کے تحت جزیرہ نما سینا کا علاقہ مصر کو واپس کر دیا تھا۔ اسرائیل 2005 میں غزہ کی پٹی سے بھی دست بردار ہوگیا تھا۔ تاہم چھ روزہ جنگ کے دوران ہونے والا گولان ہائٹس اور مغربی کنارے پر اس کا قبضہ 54 سال بعد آج بھی برقرار ہے۔
اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ میں اُردن سے مشرقی یروشلم اور قدیم شہر کا علاقہ حاصل کرنے کے بعد اسے متحدہ یروشلم قرار دے کر اپنا دارالحکومت بنانے کا اعلان کیا تھا۔ البتہ فلسطینی مشرقی یروشلم کو اپنی مستقبل کی ریاست کا دارالحکومت قرار دیتے ہیں۔اسرائیل کے اس اقدام کو تاحال بین الاقوامی سطح پر تسلیم نہیں کیا گیا۔ تاہم اسرائیل نے 1967 میں جو علاقے حاصل کیے تھے ان میں یہودی بستیوں کا قیام بھی ہر کچھ عرصے بعد تصادم کو جنم دیتا ہے.
چھ روزہ جنگ اور پاکستانی پائلٹ
پاکستان کی فضائیہ نے نومبر 1966 میں اردن کی رائل ایئر فورس کو تربیت اور مشاورت فراہم کرنے کے لیے اپنے کچھ پائلٹ وہاں بھیجے تھے۔
ترک خبر رساں ادارے ‘انادولو’ میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ کے مطابق فضائیہ کی تاریخ پر تین کتابوں کے مصنف ایئر کموڈور قیصر طفیل کا کہنا ہے کہ جب 5 جون 1967 کو جنگ کا آغاز ہوا تو پاکستانی پائلٹ سیف الاعظم اور ان کے ساتھیوں کو وہاں جنگی خدمات کی اجازت دی گئی۔
سیف الاعظم نے جنگ کے دوران تین اسرائیلی طیارے مار گرائے تھے جن میں سے ایک اُردن میں گرایا۔ اس کے بعد انہیں عراق منتقل کردیا گیا اور انہوں نے وہاں اسرائیل کے دو طیاروں کو نشانہ بنایا۔
بعض مبصرین کہتے ہیں کہ سیف الاعظم نے اسرائیل کے طیارے گرا کر عراق اور اُردن کی ایئر بیس بچا لیں ورنہ ان کا انجام بھی مصری فضائیہ جیسا ہوتا۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ مصری فضائیہ کی مکمل تباہی کے بعد سیف الاعظم کی یہ کارکردگی تاریخ میں محض ایک علامتی حیثیت ہی رکھتی ہے کیوں کہ اس سے جنگ کے نتائج پر کوئی اثر نہیں پڑا تھا۔
بعد ازاں بنگلہ دیش کے قیام کے بعد سیف الاعظم بنگلہ دیش کی فضائیہ میں شامل ہوگئے۔ سن 1980 میں ریٹائرمنٹ کے بعد انہوں نے سول سروس میں شمولیت اختیار کی۔ بعد ازاں وہ بنگلہ دیش پارلیمنٹ کے رکن بھی رہے۔
سیف الاعظم شاید تاریخ کے وہ واحد پائلٹ ہیں جنھوں نے چار ممالک اردن، عراق، پاکستان اور بنگلہ دیش کے جنگی طیارے اڑائے اور دو مختلف ممالک بھارت اور اسرائیل کے طیارے گرائے۔
ان کی جنگی مہارت کے اعتراف میں عراق، اردن، پاکستان اور امریکہ کی جانب سے انہیں مختلف فوجی اعزازات سے نوازا گیا۔ سیف الاعظم کا انتقال 79 برس کی عمر میں گزشتہ برس 14 جون کو ڈھاکہ میں ہوا تھا۔
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے
صنعاء، یمن کی فوج نے جمعرات کو تعز صوبے میں حوثی باغیوں کے میزائل لانچروں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا۔ سرکاری ٹیلی ویژن نے یہ اطلاع ایسے وقت دی ہے جب لڑائی میں شدت آرہی ہے اور اقوام متحدہ نے بے گھر افراد کے بڑھتے ہوئے بحران سے خبردار کیا ہے۔
یمن سیٹلائٹ چینل کے مطابق، جنوب مغربی صوبے تعز کے مغربی، جنوبی اور مشرقی علاقوں میں حوثیوں کے متعدد ٹھکانوں پر حملے کیے گئے۔ ان میں رڈار نظام، فوجی مواصلاتی آلات اور اسلحہ ذخیرہ کرنے کی تنصیبات شامل ہیں۔
یہ حملے حوثیوں کے قبضے میں موجود علاقوں کو دوبارہ حاصل کرنے کے لیے حکومت کی بڑھتی ہوئی فوجی کارروائیوں کے دوران کیے گئے ہیں۔ حوثیوں کا شمالی اور مغربی یمن کے بڑے حصے پر کنٹرول ہے۔
حکومتی فورسز نے حالیہ دنوں میں حوثیوں کے ٹھکانوں کے خلاف سیکڑوں کارروائیاں کرنے کی اطلاع دی ہے۔
فوجی ترجمان ماجد النزیلی نے کہا کہ سرکاری فورسز نے 835 اہدافی کارروائیاں کیں، جن میں 285 حوثی جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے، جبکہ ٹینکوں اور اسلحہ کے گوداموں کو تباہ کردیا گیا۔
اسٹریٹجک اہمیت کے حامل جبل حان کے پہاڑی علاقوں کے علاوہ ذباب اور المسراخ اضلاع کے اطراف شدید لڑائی کی اطلاعات ہیں۔ ایک سرکاری فوجی ذریعے نے یہ بھی بتایا کہ تعز کے جنوب میں معافر ضلع میں حوثیوں کے اجتماع اور بنیادی ڈھانچے کو فضائی حملوں میں نشانہ بنایا گیا۔
یمنی حکومت نے خبردار کیا ہے کہ اس کی فوجی کارروائیوں کا دائرہ حوثیوں کی ریلیوں تک بھی پھیل سکتا ہے۔ حکومت کا الزام ہے کہ حوثی ان اجتماعات کو بچوں کی بھرتی کے لیے استعمال کررہے ہیں۔ وزارت دفاع نے حوثیوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ وہ ریلیوں اور ان سرگرمیوں سے دور رہیں جنہیں حوثی ”ثقافتی کورس” قرار دیتے ہیں۔
اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطۂ انسانی امور (اوچا) کے مطابق، اگست سے اب تک بڑھتے ہوئے تشدد کے باعث تقریباً 2 لاکھ 60 ہزار افراد اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہیں، جن میں سے تقریباً نصف نے تعز میں پناہ لی ہے۔
اوچا نے بدھ کی دیر شب جاری کردہ رپورٹ میں بتایا کہ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر نے شہریوں کے جانی نقصان کے 251 واقعات کی تصدیق کی ہے، جن میں 57 افراد ہلاک اور 194 زخمی ہوئے۔ رپورٹ کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں نصف بچے تھے۔
اوچا نے کہا کہ انسانی ہمدردی کی تنظیموں نے اگست سے اب تک 1 لاکھ 74 ہزار سے زیادہ بے گھر افراد تک امداد پہنچائی ہے۔ انہیں خوراک، حفظانِ صحت کی کٹس اور ہنگامی نقد امداد فراہم کی گئی ہے۔
ادارے کے مطابق، حال ہی میں بے گھر ہونے والے خاندانوں نے پناہ گاہ کو اپنی سب سے فوری ضرورت قرار دیا ہے، جس کے بعد خوراک اور نقد امداد کی ضرورت ہے۔
دریں اثنا، یمن کی وزارت تعلیم نے بتایا ہے کہ تنازع کے باعث 25 لاکھ سے زیادہ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔
تازہ لڑائی ایسے وقت میں ہورہی ہے جب یمن کی بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت نے حوثیوں کے قبضے والے علاقوں، بشمول دارالحکومت صنعاء، کو واپس لینے کے لیے رواں ماہ کے اوائل میں شروع کیے گئے جوابی فوجی آپریشن ”یمن کی صبح” کو تیز کردیا ہے۔ اس کارروائی میں سعودی عرب کی قیادت والے اتحاد کی حمایت حاصل ہے۔
یمن کا تنازع اب علاقائی کشیدگی سے بھی جڑتا جارہا ہے۔ حوثی سعودی اہداف پر حملے کررہے ہیں، جبکہ سعودی عرب کو بار بار ڈرون اور میزائل حملوں کے خطرات کا سامنا ہے۔
سعودی عرب کی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے جمعرات کو بتایا کہ بدھ کی شام دمام کے شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ سعودی حکام نے ایسے متعدد حملوں کا الزام حوثی تحریک پر عائد کیا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق، امریکہ نے بھی ریاض میں اپنے سفارت خانے کے غیر ضروری عملے اور ان کے اہل خانہ کو سعودی عرب چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ یہ بتائی گئی ہے کہ خطے میں دشمنانہ کارروائیوں میں تیزی سے اضافے کا امکان ہے۔
یمنی حکومت نے حوثیوں پر بدھ کو عدن اور الریان ہوائی اڈوں پر حملے کرنے کا الزام بھی لگایا ہے۔ صدارتی قیادت کونسل کے سربراہ رشاد العلیمی نے مبینہ حملوں کی مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے حوثی گروپ کو دہشت گرد تنظیم قرار دینے کی اپیل کی۔
یمن 2014 سے تنازع کی لپیٹ میں ہے، جب حوثیوں نے صنعاء اور دیگر صوبوں پر قبضہ کرلیا تھا۔ مارچ 2015 میں سعودی عرب کی قیادت میں اتحاد نے بین الاقوامی طور پر تسلیم شدہ حکومت کی حمایت میں مداخلت کی تھی۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایران کا آبنائے ہرمز میں چار جہازوں پر حملے کا دعویٰ، تین دیگر بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے
تہران، ایران کی نیم فوجی تنظیم پاسدارانِ انقلاب (آئی آر جی سی) نے جمعرات کو دعویٰ کیا کہ اس نے خلیج فارس میں تیل کی منتقلی کرنے والے چار بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، کیونکہ وہ آبنائے ہرمز میں ایسے بحری راستوں سے گزر رہے تھے جنہیں تہران غیر مجاز قرار دیتا ہے۔ تنظیم کے مطابق، تین دیگر جہاز بھی آبنائے ہرمز میں اسی ”غیر مجاز” راستے سے گزرتے ہوئے بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے۔
آئی آر جی سی کی بحریہ نے کہا کہ اس نے ان چار جہازوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی تھی، جو اس کے بقول ”غیر قانونی راستے” سے گزرے تھے۔ اس سے مراد عمان کے قریب جنوبی بحری راستے ہیں، جنہیں امریکہ نے تجارتی جہازوں کو ایرانی فیس اور پابندیوں سے بچانے کے لیے استعمال کرنے کی ترغیب دی ہے۔
آئی آر جی سی نے ایک بیان میں کہا، ”ہم نے خلیج فارس کے شمالی وسطی حصے میں جہاز سے جہاز میں تیل منتقل کرنے والے ان بحری جہازوں کا پتہ لگایا۔ چاروں جہازوں کو بیک وقت نشانہ بنایا گیا اور ان میں آگ لگ گئی ہے۔”
تنظیم نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایران کی جانب سے تسلیم نہ کیے جانے والے راستوں سے گزرنے کی کوشش کرنے والے تین دیگر جہاز آبنائے ہرمز کے مغرب میں بارودی سرنگوں سے ٹکرا گئے، جس کے بعد ان میں آگ لگ گئی اور انہیں سفر روکنا پڑا۔
آئی آر جی سی نے ان واقعات کا ذمہ دار واشنگٹن کو ٹھہراتے ہوئے الزام لگایا کہ امریکی فوج جہازوں کو بارودی سرنگوں والے پانیوں سے گزرنے کی ہدایت دے رہی ہے۔ اس نے خبردار کیا کہ امریکہ کی مسلسل کارروائیوں کے نتیجے میں پورے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر حملے ہو سکتے ہیں۔
ایران عمان کے قریب جنوبی بحری راہداری کو غیر قانونی سمجھتا ہے، جسے تجارتی جہازوں کی آمدورفت کے لیے مختص کیا گیا ہے اور امریکہ اس کی حفاظت کر رہا ہے۔
یہ دعوے ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب آبنائے ہرمز کے آس پاس بحری جہازوں پر حملوں کی اطلاعات مسلسل موصول ہو رہی ہیں۔
بدھ کو برطانیہ کے ادارے میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز (یو کے ایم ٹی او) نے اطلاع دی تھی کہ عمان کے علاقے بَخا کے قریب ایک آئل ٹینکر پر نامعلوم سمت سے آنے والا ایک پروجیکٹائل گرا۔
اگر ان اطلاعات کی تصدیق ہو جاتی ہے تو سات بحری جہازوں کو نقصان پہنچنے کا یہ واقعہ 28 فروری کو ایران جنگ شروع ہونے کے بعد خلیج میں ایک ہی دن کے دوران جہازوں کو پہنچنے والا سب سے بڑا نقصان ہوگا۔ تاہم، ان دعوؤں کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔
ایرانی سرکاری ٹیلی ویژن کی جانب سے سات آئل ٹینکروں کو ایرانی فورسز یا سمندری بارودی سرنگوں سے نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات کے بعد جمعرات کو تیل کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ عالمی معیار کے برینٹ خام تیل کی قیمت 3.2 فیصد بڑھ کر 112.27 ڈالر فی بیرل ہو گئی، جبکہ امریکی خام تیل کی قیمت 2.8 فیصد اضافے کے ساتھ 99.80 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی۔
حالیہ دنوں میں برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 110 ڈالر فی بیرل کے آس پاس رہی ہے۔ اس کی وجہ تنازع ختم ہونے کے وقت اور آبنائے ہرمز کے ذریعے توانائی کی ترسیل معمول پر آنے کے حوالے سے پائی جانے والی غیر یقینی صورت حال ہے۔
عالمی حصص بازاروں میں بھی گراوٹ دیکھی گئی۔ یورپ میں کاروبار کے ابتدائی اوقات میں جرمنی کا ڈیکس انڈیکس 1.1 فیصد گر کر 25,367.96 پوائنٹس پر آ گیا، فرانس کا سی اے سی 40 انڈیکس 1.3 فیصد کمی کے ساتھ 7,816.67 پوائنٹس پر رہا، جبکہ برطانیہ کا ایف ٹی ایس ای 100 انڈیکس 0.7 فیصد گر کر 10,678.67 پوائنٹس پر آ گیا۔
امریکی اسٹاک فیوچرز میں بھی کمزوری دیکھی گئی۔ ایس اینڈ پی 500 کے فیوچرز میں ایک فیصد جبکہ ڈاؤ جونز انڈسٹریل ایوریج کے فیوچرز میں 0.7 فیصد کی کمی درج کی گئی۔
حملوں کے باوجود تجارتی انٹیلی جنس کمپنی کیپلر کے اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کو چھوڑ کر خلیج فارس کے دیگر ممالک سے خام تیل کی برآمدات، متبادل پائپ لائنوں کے ذریعے بھیجی جانے والی ترسیل سمیت، جنگ سے پہلے کی سطح سے تجاوز کر گئی ہیں۔
یو این آئی ۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
