تازہ ترین
خطرناک وائرس ماضی میں کب اور کیسے لیبارٹریوں سے لیک ہوئے؟
واشنگٹن ڈی سی —
امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل نے ایک امریکی لیبارٹری کے حوالے سے اپنی ایک حالیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ چین کی ووہان لیب سے کرونا وائرس کے لیک ہونے کا نظریہ قابل یقین ہے اور اس پر مزید تحقیق ہونی چاہیے۔
امریکی ریاست کیلی فورنیا میں واقع لارنس لیورمور نیشنل لیبارٹری میں مئی 2020 میں تیار ہونے والی ایک خفیہ رپورٹ اس وقت امریکی محکمہ خارجہ کے استعمال میں تھی، جب ٹرمپ انتظامیہ کی میعاد کے آخری مہینوں میں محکمہ عالمی وبا کی شروعات کی وجوہات پر تفتیش کر رہا تھا۔
وال سٹریٹ جرنل کے مطابق لارنس لیورمور لیبارٹری کے پاس حیاتیاتی معاملات پر گہرا تجربہ ہے اور رپورٹ میں سارز وائرس کی اس قسم کے جینوم پر تجزیہ کر کے، جس سے کووڈ 19 کی بیماری لاحق ہوتی ہے، یہ خیال ظاہر کیا گیا ہے۔
کسی لیبارٹری سے وائرس کے لیک ہونے کے بعد عوام میں پھیلنے اور وبا کا باعث بننے کا یہ پہلا واقعہ نہیں ہے۔ اس سے پہلے بھی دنیا بھر میں ایسے واقعات ہوتے رہے ہیں جن میں جان لیوا وائرس لیبارٹری سے لیک ہونے کے بعد بڑی تعداد میں ہلاکتوں کا سبب بنے۔
برطانیہ میں سن 1966، 1972 اور 1978 میں چیچک کی بیماری کا لیب سے لیک ہونا
جہاں عالمی ادارہ صحت کی کامیاب کوششوں کی وجہ سے پچھلی صدی میں چیچک کے مرض کا مکمل طور پر ختم کر دیا گیا تھا، وہیں برطانیہ میں متعدد بار یہ بیماری لیبارٹری میں وائرس پر تحقیق کے دوران بے احتیاطی کی وجہ سے پھیلی۔
ورکنگ گروپ آن کیمیکل اینڈ بائیولوجیکل ویپنز سینٹر فار آرمز کنٹرول اینڈ نان پرولیفریشن کے لیے ایک سائنسدان ڈاکٹر مارٹن فرمانسکی نے اپنے مقالے ’’لیبارٹری اسکیپس اینڈ سیلف فلفلنگ پرافیسی ایپی ڈیمکس‘‘ میں کہا ہے کہ جہاں 1963 سے 1978 تک اس بیماری کے چند ہی واقعات رونما ہوئے، وہیں ان واقعات پر تحقیق کے بعد جو لیبارٹری میں مہلک جراثیموں کو پھیلنے سے روکنے کے لیے جو حفاظتی قواعد و ضوابط اختیار کئے گئے وہ آج تک رائج ہیں۔
1977 کی H1N1 وائرس کی وبا
1918 کے سپینش فلو کو کون نہیں جانتا۔ اس فلو میں کروڑوں لوگ ہلاک ہوئے۔ لیکن خبروں کی ایک ویب سائٹ ‘بزنس ان سائٹر’ کی ایک رپورٹ کے مطابق H1N1 کی ایک قسم کے 1977 میں ایک چینی لیبارٹری سے لیک ہونے کے نتیجے میں دنیا بھر میں وبا پھیلنے سے لاکھوں انسان ہلاک ہو گئے تھے۔
ڈاکٹر مارٹن فرمانسکی کے مطابق ابتدا میں اس پرانے وائرس کے دوبارہ نمودار ہونے پر ماہرین کو انتہائی تشویش کے ساتھ شدید حیرانگی بھی ہوئی۔ ان کے بقول مغربی سائنس دانوں نے شروع میں لیبارٹری سے اس وائرس کے لیک ہونے کے سوال پر خاموشی اختیار کی۔ اس کی وجہ ابتدا میں سائنسی شواہد کا نہ ہونا اور روسی اور چینی سائنس دانوں کا اس سلسلے میں باقی دنیا کے ساتھ تعاون بھی شامل تھا جس سے وبا پر قابو پانے میں مدد ملی۔
ان کے بقول 30 برسوں کی سائنسی تحقیق کے بعد اب یہ ثابت ہو چکا ہے کہ یہ وائرس قدرتی طور پر نہیں پھیلا اور اس کے جینوم پر تحقیق سے یہ پتا چلتا ہے کہ 1950 کے عشرے میں لیبارٹری میں فریز کیے ہوئے وائرس کے لیک ہو جانے سے یہ وبا دنیا بھر میں پھیلی۔
1995 میں وینزویلا کا ایقوائن انسیپھیلائٹس )وی ای ای) کی وبا
وی ای ای مچھروں سے پھیلنے والی ایک بیماری ہے جو گھوڑوں کو لاحق ہوتی ہے۔ اس بیماری سے گھوڑے شدید بخار میں مبتلا ہو جاتے ہیں اور ان کے اعصاب بھی متاثر ہوتے ہیں جس سے 83 فیصد تک گھوڑے ہلاک ہو جاتے ہیں۔
بزنس ان سائڈر کے مطابق 1995 میں وینزویلا کی ایک لیبارٹری سے لیک ہونے والے وی ای ای کی ایک قسم سے وینزویلا اور کولمبیا میں ہزاروں لوگ اس بیماری کا شکار ہوئے اور تین سو کے لگ بھگ ہلاکتیں ہوئیں۔ جب کہ تین ہزار سے زائد افراد اعصابی بیماریوں میں مبتلا ہو گئے۔
2003 کی سارز کی وبا
2003 میں سارز کی وبا سے 29 ممالک میں 774 افراد ہلاک ہوئے۔ اخبار نیشنل پوسٹ کے مطابق ان میں سے 21 فیصد کا تعلق اسپتال کے عملے سے تھا۔ جن اسپتالوں میں یہ وبا پھیلی تھی, انہیں بند کرنا پڑا کیونکہ یہ وہا سانس کے ذریعے پھیلتی ہے اور اس کی ویکسین بھی نہیں ہے۔
ڈاکٹر مارٹن نے اپنے مقالے میں لکھا کہ سارز کے 5 فیصد مریض ’’سپر سپریڈر‘‘ یعنی تیزی سے مرض دوسرے افراد کو منتقل کرنے کا سبب بنتے ہیں اور ایک مریض مزید 8 افراد کو یہ بیماری منتقل کر سکتا ہے۔
انہوں نے اپنے مقالے میں ایسے کئی واقعات کا ذکر کیا ہے جن میں یہ وائرس لیبارٹری میں متاثر ہونے والے ریسرچرز کی وجہ سے پھیلا۔
بزنس ان سائڈر کے مطابق ابتدائی واقعہ کے بعد سے یہ وائرس چھ بار لیب سے لیک ہو چکا ہے۔ ان میں سے چار مرتبہ یہ بیجنگ میں لیک ہوا جب کہ ایک بار سنگاپور اور ایک بار تائیوان میں اس کے لیک ہونے کے واقعات پیش آئے۔
2007 میں برطانیہ میں پھیلنے والی فٹ اینڈ ماؤتھ (ایف ایم ڈی) بیماری کی وبا
ایف ایم ڈی کی بیماری جانوروں کو متاثر کرتی ہے اور یہ تیزی سے پھیلنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ نیشنل پوسٹ کے مطابق 2001 میں برطانیہ میں اس بیماری سے ایک کروڑ جانوروں کو تلف کرنا پڑا جس سے ملک کو 16 ارب پاؤنڈ کا نقصان ہوا۔
2007 میں اعلیٰ ترین سیکیورٹی کی حامل ایک لیبارٹری سے محض 4 کلومیٹر فاصلے پر مویشیوں کے ایک فارم میں کئی جانوروں میں یہ بیماری پھیل گئی۔ جس کے نتیجے میں فوری طور پر ہزاروں جانوروں کو تلف کرنا پڑا اور برطانیہ کو برآمدات میں 20 کروڑ پاؤنڈ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
لیبارٹری سے لیک کے باعث وبا پھیلنے کے علاوہ اور بھی ایسے بہت سے واقعات رونما ہوتے رہتے ہیں جو وائرس کی منتقلی کا سبب بنتے ہیں۔ ان میں لیبارٹری میں انجینئیرنگ کے شعبے کی ناکامی یا حفاظتی مشینوں میں خرابی کا پیدا ہونا شامل ہے۔
خبروں کی ویب سائٹ ووکس کے مطابق امریکہ میں اس وقت 66 جراثیموں اور مہلک نامیاتی زہروں پر 300 کے قریب لیبارٹریوں میں تحقیقی کام کیا جا رہا ہے۔ جن میں پلیگ اور اینتھیرکس پر تحقیق شامل ہے۔
مہلک جراثیموں پر تحقیق کا مقصد جہاں ان کا علاج اور ویکسین تیار کرنا ہے، وہیں نئے طریقوں سے زیادہ ہلاکت خیز جراثیم تیار کرنا بھی اس کا حصہ ہوتا ہے، تاکہ یہ دیکھا جائے کہ جنگلوں اور بیابانوں میں یہ جراثیم کس طرح ارتقا کا عمل جاری رکھتے ہیں اور ان کا علاج پہلے سے ڈھونڈ لیا جائے۔
امریکہ کے وبائی امراض کے کنٹرول اور اس کی روک تھام کے ادارے سینٹر فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن (سی ڈی سی) کا ’’سیلیکٹ ایجنٹ اینڈ ٹاکسن پروگرام‘‘ یعنی منتخب جراثیموں اور زہروں کے پروگرام میں یہ لازمی ہے کہ چوری، ضیاع یا روزمرہ کے کام کے دوران محققین کا جراثیموں سے اگر براہ راست واسطہ پڑ جائے، یا حفاظتی جگہوں سے باہر کسی جراثیم کے پھیلنے کا کوئی واقعہ رونما ہو تو اس کی فوری طور پر رپورٹ کی جائے۔ ویب سائٹ ووکس کے مطابق 2005 سے 2012 کے دوران سی ڈی سی کو ایسی 1059 رپورٹس ملی جن میں ایسے واقعات رونما ہوئے۔
ان میں سے ایک واقعہ کچھ یوں تھا کہ جولائی 2014 کو ریاست میری لینڈ میں امریکی ادارہ فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (ایف ڈی اے) کی نئے آفس میں منتقلی کے بعد پرانے آفس کی صفائی کی جا رہی تھی کہ کارڈ بورڈ کے ایک پرانے ڈبے میں 327 وائلز یعنی وائرس کے نمونوں کی بوتلیں ملیں۔ ان میں سے 321 پر کسی قسم کا لیبل نہیں تھا اور چھ بوتلیں اینتھریکس کی تھیں۔
ان کے بارے میں کسی کو معلوم نہیں تھا کہ یہ یہاں موجود ہیں اور بقول ووکس، خیال کیا جاتا ہے کہ وہ 1960 کی دہائی سے عمارت میں پڑی ہوئی تھیں۔
ووکس کے بقول انہیں دیکھ کر گھبرائے ہوئے سائنس دانوں نے فوری طور پر انہیں سیل کر کے سپروائرزر کے آفس بھیج دیا۔ لیکن ایسے خطرناک وائرس کو سنبھالنے کے لیے یہ پروٹوکول نہیں ہے۔ اس دوران ایک بوتل سے جراثیم لیک ہو گئے لیکن خوش قسمتی سے وہ زیادہ خطرناک نہیں تھے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
