اہم خبریں
مودی کی مقبولیت میں کمی کی باتیں: حقیقت یا سَراب
جاوید جمال الدین
ملک میں کوروناوباء کی ایک اور لہر آنے کے اندیشے اور بحث، کمرتوڑ مہنگائی پر عوامی پریشانی اور افغانستان میں طالبان کی واپسی کی خبر کے درمیان سے ایک ایسی خبر بلکہ سروے سامنے آیا ہے،جس کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اس کی ہمنوا تنظیموں اور جماعتوں نے تصور بھی نہیں کیا تھا۔ کیونکہ ان کا ایجنڈا ہے اور اسی پر کام کرتے ہیں۔
البتہ یہ سچ ہے کہ سروے ایک معتبر میڈیا ہاؤس نے کرایا ہے اور اس کا نتیجہ یہ سامنے آیا ہے کہ ملک کے وزیر اعظم نریندر مودی کی مقبولیت ایک سال میں 66فیصد سے کم ہو کرمحض 24 فیصد رہ گئی ہے۔ یعنی اگر تجزیہ کیا جائے تو احساس ہوگا کہ انڈیا ٹوڈے کے ذریعہ انجام دیئے گئے مذکورہ سروے کے مطابق مودی اپنی مقبولیت کھو چکے ہیں اور ان کی پارٹی کے دوسرے لیڈران اور اپوزیشن کے کئی قومی لیڈر نے عوام اپنی پکڑبنالی ہے، جنہیں وہ وہ اور ان کی پارٹی ذلیل وخوار کرتی رہے۔
اس سے پہلے کئے گئے سروے میں کورونا وائرس کی پہلی لہر سے پیدا شدہ حالات سے بہترین طریقے سے نمٹنے کی وجہ سے امسال کے آغاز میں جنوری 2021 میں وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت 73 فیصد تک پہنچ گئی تھی،حالانکہ تب عوام کو دشواریوں اور پریشانیوں کا شدید سامنا کرنا پڑا تھا اور کئی شہریوں سے ہجرت کرکے اپنے آبائی شہر پہنچنے کے لیے پاپڑ بیلنے پڑے تھے۔ سرکاری سطح پر پہلے تو چشم پوشی برتیں گئی، لیکن جب پانی سر سے اونچا ہوگیا تب مودی حکومت نے عوامی بہتری وفلاح کے لیے اقدامات کیے تھے۔ جس کا کریڈٹ حسب معمول مودی نے لیاتھا۔
لیکن مودی حکومت کے لیے دوسری لہر خطرناک ثابت ہوئی اور اس نے بیڑہ غرق کر کے رکھ دیا، یہی وجہ ہے کہ مودی کی مقبولیت میں ایک دو نہیں بلکہ 49 فیصد تک کی کمی واقعی ہوئی۔ جوکہ انتہائی تشویشناک امر ہے۔ اس سروے نے پارٹی لیڈرشپ کی نیندیں حرام کردیں ہیں اور جونقصان پہنچا ہے، اس کی بھرپائی کے لیے ہاتھ پیر مارے جارہے ہیں، ایسا محسوس ہورہا ہے کہ اس سلسلہ میں اترپردیش اسمبلی انتخابات کے قبل کئی نئے حربے اور طریقے اپنائے جائیں گے تاکہ سروے میں کورونا وباء کی پہلی لہر کے دوران ہوئے نقصان کو کم کیا جاسکے۔
مذکورہ سروے کے بار ے میں ذکرکیا جاچکاہے، جوکہ کیونکہ انگریزی نیوز چینل انڈیا ٹوڈے نے اسے انجام دیا ہے اور اس لیے اس کی حقیقت سے انکار یا اس کو مسترد بھی نہیں کیاجاسکتا ہے، یہ چینل کے موڈ آف دی نیشن پول کا سروے ہے، جوکہ 10 جولائی سے 20 جولائی 2021 کے درمیان کیاگیا ہے اور ملک کی 19 ریاستوں کے 115 پارلیمانی حلقوں اور 230 اہم ترین اسمبلی حلقوں میں کیا گیا ہے۔ سروے میں شامل لوگوں سے مختلف سوالات پوچھےگئے اور اس کے نتائج حیران کن کہہ جاسکتے ہیں، کیونکہ مودی کی مقبولیت میں زبردست کمی کے ساتھ ہی اترپردیش کے وزیراعلی یوگی ادیتیہ ناتھ اور کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کی مقبولیت میں بھی اضافہ ظاہر کیا گیا ہے، یہ نتائج مودی کانام بھرنے والوں کے لیے سانپ سونگھنے جیسا ہے۔ دراصل اترپردیش میں آئندہ سال کے اول میں اسمبلی کے انتخابات ہیں اور مودی کے بجائے یوگی کا جادو سر چڑھ کر بولنے لگے گا، یہی پارٹی کے ایک طبقہ کے لیے سردرد ثابت ہوسکتا ہے۔
سروے کاجائزہ لیا جائے تویہ بتا یا گیا ہے کہ وزیراعظم نریندر مودی کی مقبولیت میں یہ بڑی کمی محض آٹھ دس مہینے میں واقع ہوئی ہے۔ بلکہ عوام انہیں پسندیدہ وزیراعظم بھی نہیں سمجھتے ہیں۔ اس سروے میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ عالمی وبا کورونا کی دوسری لہرسے ٹھیک طرح سے نہ نمٹنے کی وجہ سے نریندر مودی کی مقبولیت 66 فیصد سے گھٹ کر 24 فیصد پر آ گئی ہے۔ سروے کے مطابق 27 فیصد افراد نے بڑے بڑے سیاسی جلسوں اور انتخابی ریلیوں کو کورونا کی دوسری لہر کی وجہ قرار دیا،ظاہری بات ہے کہ کئی ریاستوں کے اسمبلی انتخابات اور خصوصی طورپر مغربی بنگال میں کوروناوباء کی پرواہ کیے بغیر مودی اور شاہ نے بڑھ چڑھ کر انتخابی مہم میں حصہ لیا اور آخر دور میں عدالت کی مداخلت اور وباء کے بڑے پیمانے پر پھیلنے کے نتیجے میں اپنے پاؤں پیچھے کھینچ لیے۔ جبکہ نتائج بھی پارٹی کے دعووں کے برعکس نکلے تھے۔ اس لیے عوام کے 26 فیصد کا خیال تھا کہ دوسری لہر میں کورونا وائرس کی شدت کو نظر انداز کیا گیا۔ اس
سروے میں شامل 71، فیصد افراد نے اس پر ناراضگی ظاہر کی ہے کہ کورونا کے باعث ہونے والی اموات سرکاری اعداد و شمار سے بہت زیادہ ہیں، جبکہ 44 فیصد نے اس دوران پیدا ہوئے صحت کے مسائل کے لیے مرکزی اور ریاستی حکومتوں کوذمہ دار ٹھہرایا۔ ظاہر ہے کہ مہنگائی بھی اس میں ایک اہم جز رہا ہے،29 فیصد لوگوں کا خیال تھا کہ اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ اور مہنگائی مودی حکومت کی ناکامی کی بڑی وجہ رہی ہیں جبکہ 23 فیصد افراد ایسے بھی ہیں جنہوں نے بے روزگاری کو حکومت کی ناکامی کی دوسری بڑی وجہ قرار دیاہے۔ ان دونوں مسائل سے عوامی توجہ ہٹانے کے لیے مختلف قسم۔ کے حربے اپنائے جارہے ہیں۔
ایک سال قبل مودی کو اگست 2020 میں 66 فیصد عوام نے اپنی پہلی پسند سمجھاتھا، لیکن اگست 2021 میں یہ تعداد گھٹ کرصرف 24 فیصد رہ گئی ہے۔ ابھی 8 مہینے قبل مودی جنوری 2021 میں 38 فیصد لوگوں کی پسند تھے- ہاں ہندوستان کیلیے آئندہ وزیر اعظم کی دوڑ میں ان کی اپنی پارٹی کے دو رہنماء کی مقبولیت میں ضرور اضافہ ہوا ہے- یوپی کے وزیراعظم یوگی آدتیہ ناتھ کو اگست 2021 میں 11 فیصد شرکاء نے وزیراعظم کے عہدے کے لیے بہترین قراردیاہے، جبکہ جنوری 2021 میں یہ تعداد 10 فیصد ہی تھی اور اگست 2020 میں تو صرف تین فیصد نے انہیں اس لائق سمجھاتھا،البتہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ ان کی مقبولیت یوگی سے کم ہوئی ہے۔ جوکہ یوپی انتخابات کے پیش نظر یوگی کے حق میں ہے۔ حالانکہ جہاں تک یوپی اسمبلی انتخابات کا تعلق ہے،پی جے پی اور اس کی ہمنوا تنظیموں نے حسب معمول فرقہ پرست ایجنڈےپر عمل کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے، بلکہ عمل پیراہیں۔
جہاں تک اپوزیشن لیڈروں کی مقبولیت کا سوال ہے،کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی کو میڈیا اور بی جے پی لیڈرشپ جس انداز میں بھی پیش کرتی رہے، اس سے ہٹ کر ان کی مقبولیت اگست2021میں 10فیصد تک پہنچ گئی ہے- جوکہ جنوری2021میں سات فیصد ہی تھی،البتہ مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ اور ترنمول کانگریس کی سربراہ ممتا بنرجی کی مقبولیت میں بھی پہلے کے مقابلے میں اضافہ ہوا ہے-
ہم سب اس سچائی سے بخوبی واقف ہیں کہ ہماراملک ہندوستان اس وقت دنیا میں عالمی وباء کورونا سے متاثر ہونے والا دوسرا بڑا ملک ہے، یہاں اب تک کورونا کے باعث 3 کروڑ 23 لاکھ 58 ہزار سے زائد افراد متاثر ہوئے اور 4 لاکھ 33 ہزار سے زائد اموات ہو چکی ہیں۔ لیکن اس کے باوجود بی جے پی قیادت بڑی چالاکی اور چپی کے ساتھ آئندہ سال کے آغاز کے مہینوں میں ہونے والے اسمبلی انتخابات اور خصوصی طور پر یوپی اسمبلی الیکشن کے لیے کمربستہ ہے اور اپنے ایجنڈے پر کام کرنے کابھی من بنا لیا ہے۔ اس لیے کبھی کبھی اس قسم کے سروے بھی شکوک وشبہات پیدا کرتے ہیں کہ کہیں ‘بھکتوں ‘میں جوش بھرنے کے لیے منصوبہ بندی تو نہیں کی گئی ہے۔
اہم خبریں
اسکولی لائبریریوں میں مبینہ ‘علیحدگی پسند مواد’ پر جموں و کشمیر حکومت کی بڑی کارروائی، 8 تعلیمی افسران معطل، اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم
جموں و کشمیر حکومت نے سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں میں مبینہ طور پر علیحدگی پسند مواد پر مشتمل کتابوں کی شمولیت کے معاملے میں بڑی کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم کے آٹھ افسران کو معطل کر دیا ہے، ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات ختم کر دی ہیں، دو کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو بلیک لسٹ کرنے کا حکم دیا ہے اور پورے معاملے کی اعلیٰ سطحی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔
یہ کارروائی جموں و کشمیر پیپلز فورم (جے کے پی ایف) کی جانب سے ان کتابوں کے خلاف سخت اعتراضات سامنے آنے کے چند روز بعد عمل میں آئی ہے۔ فورم نے اپنی تفصیلی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ سرکاری اسکولوں کی لائبریریوں کے لیے منتخب کی گئی ایک کتاب میں سزا یافتہ دہشت گرد مقبول بٹ کو “شہید” قرار دیا گیا ہے، بھارت کو “قابض ریاست” کہا گیا ہے، “انڈین آکیوپائیڈ کشمیر (IOK)” کی اصطلاح استعمال کی گئی ہے اور متعدد علیحدگی پسند رہنماؤں کے بارے میں ایسا مواد شامل کیا گیا ہے جسے فورم نے ملک مخالف قرار دیا۔ فورم نے یہ سوال بھی اٹھایا تھا کہ سمگر شکشا اسکیم کے تحت ایسی کتابوں کو آخر کس بنیاد پر اسکولی طلبہ کے لیے موزوں قرار دے کر سرکاری لائبریریوں کے لیے منظور کیا گیا۔
اس معاملے پر کارروائی کرتے ہوئے محکمہ اسکولی تعلیم نے حکومتی حکم نامہ نمبر 257-JK(Edu) آف 2026 جاری کیا، جس میں کہا گیا کہ متعلقہ کتابوں میں “انتہائی نامناسب مواد” موجود ہے اور ابتدائی طور پر ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان کتابوں کی سفارش کرنے والی ماہرین کمیٹی کے ارکان نے سنگین غفلت، فرائض میں کوتاہی اور مطلوبہ جانچ پڑتال نہیں کی۔
حکم نامے کے مطابق “Personalities and Legends of J&K” اور “Great Personalities of Jammu and Kashmir” نامی کتابیں سمگر شکشا کے تحت خریدی گئی سینکڑوں کتابوں میں سے ہائر سیکنڈری (سریز-4) ایکسپرٹ کمیٹی نے منتخب کی تھیں، تاہم اعتراضات سامنے آنے کے بعد انہیں فوری طور پر واپس لے لیا گیا۔
حکومت نے تحقیقات مکمل ہونے تک اس انتخابی عمل سے وابستہ آٹھ افسران، جن میں کوآرڈینیٹرز، اکیڈمک افسران، پرنسپلز اور لیکچررز شامل ہیں، کو معطل کر دیا ہے، جبکہ سمگر شکشا سے وابستہ ایک کنٹریکچول ملازم کی خدمات بھی ختم کر دی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ ایک سینئر آئی اے ایس افسر کو انکوائری آفیسر مقرر کرتے ہوئے 30 دن کے اندر رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت دی گئی ہے۔
حکومت نے دونوں کتابوں کے مصنفین اور پبلشرز کو جموں و کشمیر میں بلیک لسٹ کرنے کے ساتھ ساتھ ان کے شائع کردہ تمام مواد کو بھی یونین ٹیریٹری سے واپس لینے کا حکم دیا ہے۔ اس پورے معاملے نے سرکاری فنڈز سے خریدی جانے والی تعلیمی کتابوں کی جانچ پڑتال کے نظام اور انہیں منظور کرنے والی ماہرین کمیٹیوں کی جوابدہی پر بھی سنگین سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ادھر وزیر تعلیم، صحت اور سماجی بہبود سکینہ ایتو نے اس معاملے کو “ناقابل برداشت اور ناقابل قبول” قرار دیتے ہوئے وقت مقررہ تحقیقات کا حکم دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ محکمہ اسکولی تعلیم کے سیکریٹری کو فوری طور پر تحقیقات شروع کرنے کی ہدایت دے دی گئی ہے تاکہ یہ معلوم کیا جا سکے کہ متنازع مواد سرکاری اسکولوں کی کتابوں تک کیسے پہنچا۔ سکینہ ایتو نے واضح کیا کہ جو بھی اس معاملے میں قصوروار پایا جائے گا اسے قانون کے مطابق سخت سزا دی جائے گی اور کسی کو بھی بخشا نہیں جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت تعلیمی نظام کی ساکھ برقرار رکھنے اور طلبہ کو معیاری اور ذمہ دارانہ تعلیمی مواد فراہم کرنے کے لیے پوری طرح پرعزم ہے۔
دوسری جانب جموں و کشمیر اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے سینئر رہنما سنیل شرما نے کتاب “Personalities and Legends of J&K” پر فوری پابندی عائد کرنے اور اسے تمام سرکاری لائبریریوں اور تعلیمی اداروں سے واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر نریندر سنگھ، سنیل سیٹھی اور زوراور سنگھ جموال کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ کتاب دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور بھارت مخالف نظریات کو فروغ دینے کی کوشش ہے اور اسے سرکاری لائبریریوں تک پہنچانا ایک منظم سازش کی عکاسی کرتا ہے۔
سنیل شرما نے دعویٰ کیا کہ ہلال احمد اور سنتوش مینا کی تصنیف اور پیراڈائز پریس کی شائع کردہ یہ کتاب تاریخ کے نام پر نوجوان نسل کے ذہنوں کو متاثر کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان کے مطابق کتاب میں دہشت گردی اور علیحدگی پسند سرگرمیوں سے وابستہ بعض شخصیات کو “لیجنڈز” اور “آزادی پسند” کے طور پر پیش کیا گیا ہے جبکہ بھارت اور اس کی سیکورٹی فورسز کے خلاف سرگرمیوں کو ہمدردانہ انداز میں بیان کیا گیا ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ کتاب میں مقبول بٹ، ہاشم قریشی، مسرت عالم بھٹ، سید علی شاہ گیلانی، عبدالغنی لون اور محمد فاروق رحمانی سمیت متعدد علیحدگی پسند شخصیات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے، جو نہ صرف تاریخ کو مسخ کرنے کی کوشش ہے بلکہ نوجوانوں کو گمراہ کرنے کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔
بی جے پی رہنما نے مطالبہ کیا کہ کتاب کی تمام کاپیاں فوری طور پر ضبط کر کے سرکاری لائبریریوں، تعلیمی اداروں اور عوامی گردش سے ہٹا دی جائیں۔ انہوں نے کتاب کی خریداری اور منظوری دینے والے افسران، اسکریننگ کمیٹیوں اور لائبریرینز کے خلاف قانونی کارروائی کا بھی مطالبہ کیا۔ اس کے علاوہ انہوں نے جموں و کشمیر کی تمام سرکاری اور اسکولی لائبریریوں کا مکمل آڈٹ کرانے کی اپیل کی تاکہ اگر کسی اور کتاب میں بھی ایسا متنازع یا مبینہ علیحدگی پسند مواد موجود ہو تو اسے بھی فوری طور پر ہٹا دیا جائے۔
اس پورے معاملے نے جموں و کشمیر میں سرکاری تعلیمی اداروں کے لیے کتابوں کے انتخاب، ان کی جانچ پڑتال اور منظوری کے نظام پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ حکومت نے 30 دن کے اندر تحقیقات مکمل کرنے کی ہدایت دی ہے، جس کے بعد ذمہ دار افراد کے خلاف مزید انتظامی اور قانونی کارروائی کیے جانے کا امکان ہے۔
جموں و کشمیر
بارہمولہ میں منشیات سے متعلق بیداری پروگرام: ماہرین نے بڑھتی ہوئی منشیات کی لت کو قومی سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیا
بارہمولہ کے بوائز ہائر سیکنڈری اسکول میں جمعرات کے روز منشیات سے متعلق ایک بیداری پروگرام کامیابی کے ساتھ منعقد کیا گیا۔ یہ پروگرام نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت سول ڈیفنس بارہمولہ کی جانب سے، ایس ڈی آر ایف/ڈیزاسٹر رسپانس ڈویژن بارہمولہ کے تعاون سے منعقد ہوا۔
اس پروگرام میں گیارہویں اور بارہویں جماعت کے طلبہ کی بڑی تعداد نے جوش و خروش کے ساتھ شرکت کی، جو نوجوانوں میں منشیات کے استعمال اور اس کے نقصانات کے حوالے سے بڑھتی ہوئی آگاہی اور تشویش کی عکاسی کرتا ہے۔ پروگرام کا آغاز ایک تعارفی نشست سے ہوا جس میں مقامی اور قومی سطح پر منشیات کے بڑھتے رجحان، اہم خطراتی عوامل اور بروقت روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی گئی۔
ماہرین کی ٹیم میں ڈاکٹر بالی (ڈویژنل وارڈن، سول ڈیفنس بارہمولہ)، محترمہ روحیلا (سینئر سائیکالوجسٹ)، جناب عابد سلیم (کلینیکل سائیکالوجسٹ) اور جناب ایوب (سیکٹر وارڈن، سول ڈیفنس) شامل تھے۔ ان ماہرین نے طلبہ کو منشیات کے جسمانی، نفسیاتی اور سماجی اثرات سے آگاہ کیا اور بروقت بیداری اور احتیاطی تدابیر کی اہمیت پر زور دیا۔
اس پروگرام کا مقصد طلبہ کو منشیات کی بڑھتی ہوئی وبا کے خطرات سے آگاہ کرنا، انہیں معلومات سے بااختیار بنانا اور ایک منشیات سے پاک معاشرے کی تعمیر میں فعال کردار ادا کرنے کی ترغیب دینا تھا۔
اپنے بیان میں ڈاکٹر عنایت میر، چیف وارڈن سول ڈیفنس بارہمولہ، نے کہا کہ منشیات کی لت کو جو روایتی طور پر ایک صحت عامہ کا مسئلہ سمجھا جاتا تھا، اب ایک سنجیدہ سماجی، تزویراتی اور قومی سلامتی کے چیلنج کے طور پر دیکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ خاص طور پر سرحدی اور حساس علاقوں میں ابھرتے رجحانات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ منشیات کا پھیلاؤ محض اتفاقی نہیں بلکہ ایک منظم حکمت عملی کے تحت معاشروں کو اندر سے کمزور کرنے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے، جو ہائبرڈ جنگ کا حصہ ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ منشیات کے منظرنامے میں تبدیلی فردی مسئلے سے بڑھ کر اجتماعی کمزوری کی شکل اختیار کر چکی ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کا زوال، سماجی ڈھانچے کی کمزوری اور انسانی کمزوریوں کا استعمال اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ معاشرتی استحکام کو متاثر کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ اس تناظر میں منشیات کا پھیلاؤ ایک ایسا ہتھیار بن چکا ہے جو کم نظر آتا ہے مگر اس کے اثرات انتہائی گہرے ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر میر نے زور دیا کہ منشیات کی لت کو صرف طبی مسئلہ سمجھنے کے بجائے ایک سماجی اور تزویراتی خطرہ سمجھا جائے جس کے لیے فوری اور مربوط اقدامات ناگزیر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی قوم کی طاقت صرف اس کی سرحدوں میں نہیں بلکہ اس کے معاشرے کی صحت، مضبوطی اور یکجہتی میں ہوتی ہے۔ نوجوانوں کا تحفظ، سماجی ہم آہنگی کا فروغ اور منشیات کے نیٹ ورکس کا خاتمہ قومی سلامتی کے اہم تقاضے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو یہ خاموش وبا ایک مستقل خطرے میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
پروگرام کے اختتام پر طلبہ اور ماہرین کے درمیان ایک باہمی تبادلہ خیال ہوا، جس میں اجتماعی ذمہ داری، باشعور فیصلے اور نوجوانوں کی فعال شرکت کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا۔
اہم خبریں
عالمی توانائی بحران کے خدشات کے باوجود دہلی کے گردواروں میں لنگر کی روایت جاری
امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور عالمی توانائی بحران کے باعث شہر میں کُکنگ گیس کی قلت کے خدشات بڑھنے کے باوجود دہلی کے گردواروں نے فیصلہ کیا ہے کہ ان کے لنگر خانے چوبیس گھنٹے جاری رہیں گے اور صدیوں پرانی لنگر کی روایت کسی بھی صورت میں متاثر نہیں ہونے دی جائے گی۔
قومی دارالحکومت کے اہم گردواروں، جن میں گردوارہ رکاب گنج صاحب، گردوارہ بنگلا صاحب اور گردوارہ سیس گنج صاحب شامل ہیں، کے کمیونٹی کچن ہر ہفتے تقریباً 40 ہزار افراد کو کھانا فراہم کرتے ہیں جبکہ ہفتے کے آخر میں یہ تعداد ایک لاکھ سے بھی تجاوز کر جاتی ہے۔ ان گردواروں کی انتظامیہ اور رضاکاروں نے فیصلہ کیا ہے کہ لنگر سیوا مسلسل جاری رکھی جائے گی۔ اس مقصد کے لیے گیس کے استعمال میں احتیاط، پائپ لائن گیس کی فراہمی اور ہنگامی منصوبہ بندی جیسے اقدامات کیے جا رہے ہیں تاکہ کوئی بھی زائر بھوکا واپس نہ جائے۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب کمرشل ایل پی جی سلنڈروں کی کمی کے باعث شہر کے کئی ہوٹل اور ریستوران اپنے کام بند کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں جبکہ متعدد دیگر بندش کے دہانے پر ہیں۔
خبر رساں ایجنسی یو این آئی (UNI) سے بات کرتے ہوئے گردوارہ حکام نے یقین دلایا کہ سپلائی میں مشکلات کے باوجود لنگر میں کھانے کی فراہمی بلا تعطل جاری رہے گی۔
گردوارہ انتظامیہ کے رکن ہرمیّت سنگھ کالکا نے بتایا کہ گردواروں کے کچن پائپ نیچرل گیس (PNG) کی پائپ لائن سے منسلک ہیں، اس لیے فی الحال ایندھن کی کوئی فوری کمی نہیں ہے۔
انہوں نے کہا:
“جب کووڈ-19 کے دوران پوری دنیا بند تھی، تب بھی ہم نے تمام انتظامات سنبھالے اور اس وقت بھی لنگر سیوا چوبیس گھنٹے جاری رکھی۔ مارچ کے آخر اور اپریل میں ہمارے دو بڑے پروگرام بھی طے ہیں جن میں بیساخی بھی شامل ہے۔”
کالکا نے مزید بتایا کہ اگرچہ کچن پائپ نیچرل گیس پر چل رہے ہیں، لیکن احتیاط کے طور پر کمرشل گیس سلنڈروں کا ذخیرہ بھی رکھا گیا ہے۔
انہوں نے کہا:
“تمام انتظامات کے باوجود ہم نے سیواداروں کو ہدایت دی ہے کہ وسائل کا ضیاع نہ ہو۔ ہم ہر چیز کو بہتر طریقے سے سنبھال رہے ہیں اور ابھی تک کوئی مسئلہ پیش نہیں آیا۔”
احتیاطی اقدام کے طور پر گردوارہ انتظامیہ نے وزارتِ پٹرولیم و قدرتی گیس کو بھی خط لکھا ہے تاکہ گیس سلنڈروں کی فراہمی بلا تعطل جاری رکھی جا سکے اور لنگر سیوا میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔
مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری کے نام لکھے گئے خط میں کالکا نے کہا کہ دہلی سکھ گردوارہ مینجمنٹ کمیٹی کے زیر انتظام تمام تاریخی گردواروں میں روزانہ عقیدت مندوں کو لنگر پیش کیا جاتا ہے۔
خط میں کہا گیا ہے:
“دنیا میں موجودہ جنگی صورتحال کے باعث گیس ایجنسیوں کی جانب سے سلنڈروں کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے جس سے گردواروں میں لنگر کی تقسیم متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔”
انہوں نے وزارت سے اپیل کی کہ ڈی ایس جی ایم سی (DSGMC) کو گیس سلنڈروں کی مسلسل فراہمی یقینی بنائی جائے تاکہ تاریخی گردواروں میں لنگر کی روایت بغیر کسی رکاوٹ کے جاری رہ سکے۔
(مصنف: پرویندر سندھو)
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
