تازہ ترین
خطاط اور مصور صادقین بحیثیت شاعر
30 جون 1930 کو امروہہ کے ایک نقوی سید زادے سبطین احمد کے گھر میں ان کا تیسرا اور سب سے چھوٹا بیٹا پیدا ہوا۔ اس بیٹے کا نام والدین نے صادقین رکھا۔ پوت کے پاؤں پالنے میں ہی نظر آنے لگتے ہیں اس کہاوت کے مصداق صادقین کے اندر بچپن سے ہی مصوری کا ہنر نظر آنے لگا تھا۔ گھر کا ماحول روایتی طور پر مذہبی تھا اس لئے جب صادقین دیواروں پر اپنے خیالات کو لکیروں کے ذریعے ابھارتے تھے تو دیواریں کالی کرنے پر انہیں برا بھلا کہا جاتا تھا۔
کبھی سزا بھی ملتی تھی۔ سرزنش بھی کی جاتی تھی لیکن وہ باز نہیں آتے تھے۔ اس وقت کسے معلوم تھا کہ گھر کی دیواریں کالی کرنے والا یہی صادقین ایک روز ایک مایہ ناز خطاط، مصور، نقاش اور شاعر کے طور پر شہرت کی بلندیوں پر امروہہ کا نام بھی روشن کرے گا اور دنیائے فن سے اپنی صلاحیتوں کا لوہا بھی منوائے گا۔اس مضمون میں ہم صادقین کی نہ خطاطی پر بات کریں گے نا مصوری اور نا نقاشی کے فن پر روشنی ڈالیں گے بلکہ صادقین کے شاعرانہ کمالات کا جائزہ ان کی شاعری کے ذیل میں لینے کی کوشش کریں گے۔ والدین صادقین کو ڈاکٹر کے طور پر دیکھنا چاہتے تھے صادقین نے ڈاکٹری کی پڑھائی بھی شروع کردی تھی لیکن ایک روز پریکٹیکل کے دوران ایک لاش کا اپوسٹ مارٹم دیکھ کر صادقین کا حساس دل لرز گیا اور وہ پڑھائی چھوڑ کر واپس آگئے۔
اور یہ اچھا ہی ہوا ورنہ آرٹ اور ادب کی دنیا صادقین جیسے ہیرے سے محروم رہ جاتی۔ انہوں نے 1948 میں آگرہ یونیورسٹی سے گریجویشن کیا۔ دو ڈھائی برس تک صادقین نے بطور آرٹ ٹیچر امروہہ کے آئی ایم انٹر کالج میں ملازمت بھی کی۔ 1948-49 کے آپ پاس وہ ترک وطن کرکے پاکستان چلے گئے۔
خطاط۔ مصور اور نقاش کے ساتھ ساتھ صادقین کے پہلو میں ایک شاعر کا دل بھی دھڑکتا تھا۔ اور اس شاعر صادقین نے اپنے جذبات، خیالات اور احساسات کے اظہار کے لئے شاعری کی اس صنف کو منتخب کیا جسے شاعری کی مشکل ترین صنف کہا جاتا ہے یعنی رباعی۔ کچھ نظموں اور ایک مرثیہ کو چھوڑ کرصادقین کی شاعری کا کل سرمایہ رباعیات کی صورت میں ہی موجود ہے۔
صادقین پکاسو، اقبال، غالب اور خیام سے بہت متاثر تھے۔ اس لئے اگر ان کے فن خطاطی اور فن مصوری پر پکاسو اور اقبال کے افکار کے نقش جلوہ گر نظر آتے ہیں تو شاعری میں خیام اور غالب کا اثر غالب نظر آتا ہے۔ غالب کی شوخی کلام صادقین کی رباعیات میں چغلی کھاتی نظر آتی ہے۔ شوخی صادقین کی رباعیات کا خاصہ ہے اور خمریات کا بیان خیام سے کسب فیض کا نتیجہ ہے۔ صادقین در اصل خود کو کیا سمجھتے تھے اپنی ایک رباعی میں اس طرح بیان کرتے ہیں۔
میں حسن کی جس انجمن نازمیں ہوں
گم ہوں تو مگر اپنے ہی انداز میں ہوں
میں شاعر و خطاط و مصور کے سوا
اور بھی بہت کچھ ہوں مگر راز میں ہوں۔
اپنی انفرادیت پر صادقین کو فخر تھا۔ صادقین نے اپنی انفرادیت کا تعارف یوں کرایا۔
دنیا میں ہیں بے شمار و بے حد نقوی
گن سکتے نہیں اتنے ہیں سید نقوی
بس نام کے اپنے تن تنہا تم ہو
اے سید صادقین احمد نقوی
صادقین بیوی بچوں کے جھمیلے سے آزاد تھے کیونکہ انہوں نے شادی نہیں کی تھی اور شادی کیوں نہیں کی تھی اس سوال کا جواب بھی انہوں نے اپنی ایک رباعی کے ذریعے نہایت شوخ انداز میں یوں دیا۔
وہ مطلع ہستی پہ ہویدا نہ ہوئی
میں اس پہ فدا مجھ پہ وہ شیدا نہ ہوئی
میں صاحب اولاد بھی ہوسکتا تھا
اولاد کی والدہ ہی پیدا نہ ہوئی
صادقین کی شاعری کی ابتدا نظموں سے ہوئی۔ اور وہ صدف تخلص رکھتے تھے۔ لیکن بعد میں انہوں نے اپنے نام کو ہی تخلص قرار دیا۔ انہوں نے جب رباعیات کی طرف رخ کیا تو بس اسی کے ہو کر رہ گئے۔ اپنی ایک رباعی میں انہوں نے یہ بتایا ہے کہ رباعیات انہوں نے کب سے نظم کرنا شروع کیں۔
شب میری تھی شام میری دن تھا میرا
آیا ہوا خود مجھ پہ ہی جن تھا میرا
کتنی ہی بار رباعیات تھیں لکھ کر پھاڑیں
اٹھارہ برس کا جب کہ سن تھا میرا
غالب کی طرح صادقین کی بھی زاہد، واعظ اور ناصح سے نہیں بنتی تھی۔ صادقین کا واعظ و ناصح سے چھتیس کا آنکڑا تھا۔ واعظ اور ناصح سے کھٹ پٹ پر ان کی درجنوں رباعیات گواہ ہیں۔ نمونے کے طور پر کچھ پیش خدمت ہیں۔
زاہد مری ہر بات میں بل ڈالتا ہے
ایمان کے پھولوں کو کچل ڈالتا ہے
کب تیری نماز میں میں مخل ہوتا ہوں
تو کیوں مری مستی میں خلل ڈالتا ہے
پھر کیا کیا کچھ شیخ جو آئے میں نے
خیمے کے وہ باہر ہی بٹھائے میں نے
اور جلدی سے ماتھے پہ بنا کر قشقہ
سجدوں کے نشانات مٹائے میں نے
خطاط مصور نقاش اور شاعر ہونے کے ناطے صادقین کے اندر غضب کی جمالیاتی حس موجود تھی۔ اس جمالیاتی حس پر کس شوخی کے انداز میں انہوں نے یہ رباعی نظم کی۔
جو نقش بجا ہو وہ بھلا لگتا ہے
گر جگہ بدل جائے تو کیا لگتا ہے
جاناں کی حسیں زلف کا موئے پیچاں
سالن میں سے نکلے تو برا لگتا ہے۔
صادقین کے کلام کے مجموعے بیاض صادقین۔ رباعیات نقاش اول، رباعیات نقاش دوئم۔ رباعیات شاعر، رباعیات صادقین اور رباعیات مصور کے نام سے منظر عام پر آچکے ہیں۔ ان کے کلام کے مجموعے شاعری کے اعتبار سے تو دیگر شعرا سے مختلف اور منفرد ہیں ہی طباعت اور کتابت کے لحاظ سے بھی جدا گانہ حیثیت رکھتے ہیں۔ وہ صرف اس لئے کہ وہ خود ایک خطاط اور مصور تھے۔ انہوں نے اپنے مجموعہ کلام کو کتابت سے نہیں خطاطی اور مصوری سے آراستہ کیا۔ دنیا میں شاید ہی کوئی اور شاعر ایسا ہوگا جس نے اپنے کلام کی خود خطاطی کی ہو۔
رباعی کو ہی صادقین نے اپنے اظہار کا وسیلہ کیوں بنایا اس لئے کہ یہ ان کی مشکل پسندی کا تقاضہ تھا۔ مصوری میں بھی ان کی یہ مشکل پسندی صاف نظر آتی ہے۔ انہوں نے کیکٹس کو اپنی مصوری میں وسیلہ اظہار بنایا ہے۔ کیکٹس ایک ایسا سخت جان پودا ہے جو صحرا کے خشک ترین اور سخت ترین ماحول میں زمین کا سینہ چاک کر کے ابھرتا ہے۔ رباعی کو مشکل ترین صنف سخن کہا جاتا ہے۔ اور صادقین نے اسی صنف کو اپنے احساسات کے اظہار کا پیراہن قرار دیا۔ 1500 سے زیادہ رباعیات تو صادقین 1969 میں نظم کر چکےتھے.
بہت سے لوگ قطعہ اور رباعی میں فرق نہیں سمجھتے۔ ہیئت کے اعتبار سے رباعی صرف اور صرف چارع مصرعوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ اس کا پہلا دوسرا اور چوتھا مصرعہ ہم ردیف و ہم قافیہ ہوتا ہے جبکہ قطعہ میں دوسرا اور چوتھا مصرع ہم ردیف و ہم قافیہ ہوتا ہے اور قطعہ چار مصرعوں کی قید سے آزاد ہوتا ہے۔ رباعی کے 54 سے لیکر 72 تک اوزان بتائے گئے ہیں، رباعی کا ایک وزن لاحولا ولا قوتہ الا با اللہ بھی ہے۔صادقین نے اپنی زندگی میں ایک مرثیہ بھی نظم کیا۔ اس میں بھی ان کی جدت ترازی نظر آتی ہے۔ انہوں نے 80 بندوں پر مشتمل مرثیہ رباعی کی بحر میں نظم کیا۔ صادقین سے پہلے صرف صفی حیدر آبادی اور ان کے ہم وطن نسیم امروہوی رباعی کی بحر میں مرثیہ نظم کر چکے تھے۔ ایک جدت ترازی ان کی یہ بھی ہے کہ انہوں نے مرثیہ کا چہرا اپنے وطن عزیز امروہہ کو بنایا۔ چہرہ مرثیہ کے اجزائے ترکیبی کا پہلا جز ہوتا ہے۔ صادقین سے پہلے مرثیہ نگاروں نے مختلف موضوعات کا انتخاب کیا لیکن کسی شہر یا بستی کو موضوع نہیں بنایا۔ صادقین کے مرثیہ کے چہرہ کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا کی ہر شے میں تغیر و تبدل آتا رہتا ہے اور امروہہ بھی اس سے اچھوتا نہیں رہا لیکن وقت کی تبدلیوں کا اثر امروہہ کی عزاداری اور عزاداروں پر نہیں پڑا۔ صادقین کے تصنیف کردہ مرثیہ کے چند بند نمونے کے طور پر پیش ہیں۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
