تازہ ترین
اب تک ناقابل شکست رہنے والی پاکستان ٹیم آسٹریلوی قلعہ فتح نہ کرسکی، ورلڈ کپ سے باہر
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں اب تک ناقابل شکست رہنے والی پاکستان ٹیم آسٹریلوی قلعہ فتح کرنے میں ناکام رہی اور ورلڈ کپ سے باہر ہوگئی جبکہ آسٹریلیا فائنل میں پہنچ گیا۔
پاکستان نےآسٹریلیا کی دعوت پر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنائے، محمد رضوان 67 اور فخر زمان 55 رنز بناکر نمایاں رہے۔
آسٹریلیا نے 177 رنز کا ہدف 19 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کرکے ایونٹ میں ناقابل شکست رہنے والی پاکستان ٹیم کو شکست دی۔ میتھیو ویڈ کو میچ کا بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔
دبئی میں کھیلے گئے میچ میں پاکستان نے آسٹریلیا کے خلاف بھی اپنی ٹیم میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔
پاکستان کیلئے اچھی خبر یہ تھی کہ ڈاکٹرز نے شعیب ملک اور محمد رضوان کو میچ کے لیے فٹ قرار دیا اور وہ آج میچ کا حصہ تھے۔
Both Pakistan and Australia are unchanged – who are you backing in tonight's semi?https://t.co/qttdI3dkOI | #T20WorldCup pic.twitter.com/FPiVwrqFQC
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) November 11, 2021
واضح رہے کہ پاکستان متحدہ عرب امارات میں گزشتہ 16 ٹی ٹوئنٹی میچز میں ناقابل شکست تھا جبکہ آسٹریلیا آئی سی سی ایونٹ میں پاکستان کے خلاف تمام 5 ناک آؤٹ میچز جیتا چکا ہے۔ پاکستان یہ تاریخ نہیں بدل سکا۔
Pakistan have won their last 16 T20Is in the UAE. However, Australia have won all four previous ICC knockout matches between the sides.
Which streak ends today?#PAKvAUS | #T20WorldCup pic.twitter.com/jY8RmkhAi0
— ESPNcricinfo (@ESPNcricinfo) November 11, 2021
پاکستان کی اننگز
پاکستان نے مقررہ 20 اوورز میں 4 وکٹوں کے نقصان پر 176 رنز بنائے، محمد رضوان 67 اور فخر زمان رنز 55 بناکر نمایاں رہے۔
پاکستانی اوپنرز نے آسٹریلیا کے خلاف بھی ٹیم کو شاندار آغاز فراہم کیا اور دونوں کے درمیان 71 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی۔
پاکستان کی پہلی وکٹ 10 ویں اوور میں گری جب کپتان بابر اعظم 34 گیندوں پر 39 رنز بناکر زمپاکی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔
بابر اعظم ڈیبیو ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں سب سے زیادہ رنز بنانے والے کھلاڑی بن گئے
بابر اعظم نے آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے دوسرے سیمی فائنل میں آسٹریلیا کے خلاف شاندار چوکے سے اپنا کھاتا کھولا اور پاکستان کرکٹ ٹیم کے بیٹنگ کنسلٹنٹ میتھو ہیڈن کو پیچھے چھوڑ دیا۔
میتھو ہیڈن نے 2007 کے ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ میں 265 رنز بنائے تھے جس سے زیادہ اب بابر کے رنز ہوگئے ہیں۔
ایک وکٹ گرنے کے بعد محمد رضوان اور فخر زمان کے درمیان 72 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی۔
پاکستان ٹیم کا مجموعی اسکور 143 رنز پر پہنچا تو رضوان 67 رنز کی شاندار اننگز کھیل کر اسٹارک کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔
محمد رضوان ایک کیلنڈر ائیر میں ایک ہزار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز بنانے والے پہلے کھلاڑی بن گئے
محمد رضوان نے آسٹریلیا کے خلاف 67 رنز کی اننگز کھیل کر سال 2021 میں ایک ہزار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز مکمل کرلیے۔ رضوان ایک کیلنڈر ائیر میں ہزار ٹی ٹوئنٹی انٹرنیشنل رنز بنانے والے دنیا کے پہلے بیٹر ہیں۔
اس کے علاوہ محمد آصف پہلی گیند پر بغیر کوئی رن بنائے آؤٹ ہوئے جبکہ شعیب ملک بھی صرف ایک رن بناکر پویلین لوٹ گئے جبکہ فخر زمان آخری اوورز میں جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 32 گیندوں پر 55 رنز بنا کر ناقابل شکست رہے۔
آسٹریلیا کی جانب سے مچل اسٹارک نے 2 اور پیٹ کمنز اور زمپا نے ایک، ایک وکٹ حاصل کی۔
آسٹریلیا کی اننگز
آسٹریلیا نے 177 رنز کا ہدف 19 اوورز میں 5 وکٹوں کے نقصان پر پورا کیا۔
پاکستان کے 177 رنز کے ہدف کے تعاقب میں آسٹریلیا کا آغاز اچھا نہ رہا اور پہلے ہی اوور میں کپتان ایرون فنچ صفر پر شاہین شاہ کی گیند پر ایل بی ڈبلیو ہو کر پویلین لوٹ گئے۔
پہلی وکٹ جلد گرنے کے بعد مچل مارش اور ڈیوڈ وارنر کے درمیان 51 رنز کی شراکت داری قائم ہوئی لیکن جب آسٹریلیا کا مجموعی اسکور 52 رنز پر پہنچا تو مچل مارش 22 گیندوں پر 28 رنز بناکر شاداب کی گیند پر کیچ آؤٹ ہوگئے۔
آسٹریلیا کی تیسری وکٹ 77 رنز پر گری،اسٹیون اسمتھ5 رنز بناکر شاداب کا شکار بنے۔
پاکستان کو چوتھی کامیابی 89 رنز پر ملی جب سیٹ بیٹسمین ڈیوڈ وارنر 49 رنز بناکر آؤٹ ہوگئے۔ انہیں بھی شاداب نے آؤٹ کیا۔
آسٹریلیا کو پانچواں نقصان 96 رنز پر اُٹھانا پڑا جب خطرناک بیٹر گلین میکسویل 7 رنز بناکر آؤٹ ہوئے۔
5 وکٹیں گرنے کے بعد مارکس اسٹوئنس اور متھیو ویڈ نے شاندار بیٹنگ کرتے ہوئے مزید کوئی نقصان نہ ہونے دیا اپنی ٹیم کو دوسری بار ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے فائنل میں پہنچا دیا۔
19ویں اوور میں حسن علی نے میتھو ویڈ کا کیچ چھوڑ دیا جو پاکستان کی شکست کی وجہ بنی۔ کیچ ڈراپ ہونے کے بعد میتھیو ویڈ نے شاہین شاہ آفریدی کو لگاتار تین چھکے رسید کرکے میچ اپنے حق میں کرلیا۔
میتھو ویڈنے 17 گیندوں پر برق رفتار 41 رنز بنائے جبکہ مارکس اسٹوئنس نے 40 رنز بناکر ٹیم کو فتح دلوانے میں اہم کردار ادا کیا۔
پاکستان کی جانب سے شاداب خان نے 4 اور شاہین شاہ آفریدی نے ایک وکٹ حاصل کی۔
واضح رہے کہ آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کے پہلے سیمی فائنل میں گزشتہ روز نیوزی لینڈ نے انگلینڈ کو شکست دےکی پہلی بار فائنل کیلئے کوالیفائی کیا ہے۔
آئی سی سی مینز ٹی ٹوئنٹی ورلڈکپ کا فائنل آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ کے درمیان 14 نومبر کو دبئی میں کھیلا جائے گا۔(جیو نیوز)
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
