تازہ ترین
ہندوستانیوں کے فرض کے احساس کو بیدار کرنے میں طاقت لگائیں روحانی ادارے: مودی
نئی دہلی ماؤنٹ آبو، (یو این آئی): وزیر اعظم نریندر مودی نے آج ملک کے روحانیت کےمیدان میں کام کرنے والوں سے کہا کہ وہ ملک کے شہریوں میں فرض شناسی کا احساس پیدا کرنے میں اپنی توانائی صرف کریں تاکہ آنے والے 25 سالوں میں ہندوستان وہ سب کچھ حاصل کرسکےجسے ہم نے سینکڑوں سالوں کی غلامی میں گنوایا ہے۔
مسٹر مودی نے یہاں راجستھان کے ماؤنٹ آبو میں واقع پرجاپِتا برہما کماری ایشوریہ وشو ودیالیہ اور برہما کماری سنستھا کے ذریعہ منعقدہ پروگرام ’ آزادی کے امرت مہوتسو سے سورنِم بھارت کی اور‘ میں ورچوئلی کلیدی خطاب میں یہ اپیل کی۔ انہوں نے اس طرح کی تنظیموں سے بھی اپیل کی کہ وہ جن ممالک میں کام کرتے ہیں وہاں ہندوستان کی شبیہ کو خراب کرنے کی کوششوں کے مقابلے سچائی سےلوگوں کو آگاہ کریں۔
اس پروگرام میں لوک سبھا اسپیکر اوم برلا، راجستھان کے گورنر کلراج مشرا، وزیر اعلیٰ اشوک گہلوت، گجرات کے وزیر اعلیٰ بھوپیندر پٹیل، مرکزی وزیر سیاحت اور ثقافت جی کشن ریڈی، مرکزی وزراء ارجن رام میگھوال اور کیلاش چودھری بھی موجود تھے۔
مسٹر مودی نے’ آزادی کے امرت مہوتسو سے سورنِم بھارت کی اور‘کے پروگرام کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام میں ’سنہرےہندوستان‘کے لیے احساس ہے اور روحانی مشق بھی ہے۔ اس میں ملک کے لیے ترغیب کے ساتھ ساتھ برہما کماریوں کی کوششیں بھی ہیں۔ انہوں نے کہا،’ ہماری ترقی ملک کی ترقی میں مضمر ہے۔ ہم سے ہی ملک کا وجود ہے اورملک سے ہی ہمارا وجود ہے۔ یہ احساس، یہ شعور نئے ہندوستان کے تعمیر میں ہم ہندوستانیوں کی سب سے بڑی طاقت بن رہا ہے۔ ملک آج جو کچھ کر رہا ہے اس میں ’سب کی کوشش‘ شامل ہے‘۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آج ہم ایسا نظام بنا رہے ہیں جس میں تفریق کی کوئی جگہ نہ ہو، ہم ایک ایسا معاشرہ بنا رہے ہیں جو برابری اور سماجی انصاف کی بنیاد پر مضبوطی سے کھڑا ہو، ہم ایسا ہندوستان ابھرتا دیکھ رہے ہیں جس کی سوچ اور اپروچ نئی ہے، اور جس کے فیصلے ترقی پسند ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب دنیا تاریکی کے گہرے دور میں تھی، خواتین کے بارے میں پرانی سوچ میں جکڑی تھی، اس وقت ہندوستان دیوی کے روپ میں ماں شکتی کی پوجا کرتا تھا۔ ہمارے یہاں گارگی، میتری، انوسویا، اروندھتی اور مدالسا جیسےگیانی سماج کو علم دیتے تھے۔ یہاں تک کہ قرون وسطیٰ کے مشکل دور میں بھی اس ملک میں پنّادھیائے اور میرا بائی جیسی عظیم خواتین ہوئیں۔
اور امرت مہوتسو میں، ملک جدوجہد آزادی کی تاریخ کو یاد کر رہا ہے، اس میں بھی بہت سی خواتین نے اپنی قربانیاں دی ہیں۔ کِتّور کی رانی چینما، متنگنی ہزارہ، رانی لکشمی بائی، ویرنگنا جھلکاری بائی سے لے کر اہلیابائی ہولکر اور ساوتری بائی پھولے تک سماجی میدان میں ان دیویوں نے ہندوستان کی شناخت کو برقرار رکھا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہمیں اپنی ثقافت، اپنی تہذیب، اپنے سنسکاروں کو زندہ رکھنا ہے، اپنی روحانیت کو، اپنے تنوع کو برقرار رکھنا ہے اور اسے بڑھانا ہے، اور ساتھ ہی ٹیکنالوجی، بنیادی ڈھانچے، تعلیم اور صحت کے نظام کو مسلسل جدید بنانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امرت کال کا یہ وقت سوتے ہوئے خواب دیکھنے کا نہیں ہے بلکہ جاگ کر اپنے عزم کو پورا کرنے کا ہے۔ آنے والے 25 سال؛ محنت،قربانی، ’تپ-تپسیا‘کے 25 برس ہیں۔سینکڑوں سال کی غلامی میں ہمارے سماج نے جو گنوایا ہے، یہ 25 برس کی مدت، اسے دوبارہ حاصل کرنے کا ہے ۔
….
وزیر اعظم نے کہا،’ ہمیں یہ بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ آزادی کے 75 سالوں میں ہمارے معاشرے اور قوم میں ایک برائی نے ہر کسی کے اندر گھر کر گئی ۔ یہ برائی ہے، اپنے فرائض سے انحراف کرنا، اپنے فرائض کو مقدم نہ رکھنا۔ پچھلے 75 سالوں میں ہم نے صرف حقوق کی بات کی، حقوق کی لڑائی لڑی، وقت کھپاتے رہے ۔ حقوق کی بات، کسی حد تک، وقتی طور پر، کسی بھی صورت میں درست ہو سکتی ہے، لیکن اپنے فرائض کو پوری طرح بھول جانا‘ اس بات نے ہندوستان کو کمزور رکھنے میں بہت بڑا کردار ادا کیا ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ آنے والے 25 سالوں میں فرائض ادا کر کے اس کمی کو پورا کیا جا سکتا ہے۔ برہما کماری ہندوستان کے لوگوں کو فرض کے لیے بیدار کرنے کی ذمہ داری پوری کر سکتی ہیں۔ ہم سب کو ملک کے ہر شہری کے دل میں ایک چراغ جلانا ہے یعنی فرض کا چراغ۔ ہم سب مل کر ملک کو فرض کی راہ پر آگے بڑھائیں گے تو معاشرے میں پھیلی برائیاں بھی دور ہوں گی اور ملک بھی نئی بلندیوں پر پہنچے گا۔ برہما کماری ایشوریہ وشو ودیالیہ کو اپنی طاقت کا استعمال لوگوں میں فرض کے احساس کو بیدار کرنے میں کرنا چاہیے۔
انہوں نے بین الاقوامی سطح پر ہندوستان کی شبیہ کو خراب کرنے کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئےکہا کہ کس طرح ہندوستان کی شبیہ کو خراب کرنے کی مختلف کوششیں جاری ہیں۔ بین الاقوامی سطح پر بھی بہت کچھ ہو رہا ہے۔ ہم اس سے یہ کہہ کر نہیں بچ سکتے کہ یہ صرف سیاست ہے۔ یہ سیاست نہیں، ہمارے ملک کا سوال ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ جب ہم آزادی کا امرت کا تہوار منا رہے ہیں تو یہ ہماری ذمہ داری بھی ہے کہ دنیا ہندوستان کو صحیح طریقے سے جانے۔ ایسی تنظیمیں جن کی بین الاقوامی سطح پر موجودگی ہے، وہ ہندوستان کے بارے میں صحیح بات دوسرے ممالک کے لوگوں تک پہنچائیں، ہندوستان کے بارے میں پھیلائی جانے والی افواہوں کے بارے میں سچ بتائیں، انھیں آگاہ کریں، یہ ہم سب کا فرض بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جن ممالک میں یہ تنظیمیں کام کر رہی ہیں ان سے کم از کم پانچ سو افراد کو ہندوستان بھیجا جائے تاکہ وہ ہندوستان کی اچھی چیزیں دیکھ سکیں اور حاصل کرسکیں۔
مسٹر مودی نے برہما کماریوں کی سات پہل کا افتتاح کیا ۔ ان میں ’میرا بھارت سوستھ بھارت‘، آتم نر بھر بھارت: آتم نربھر کسان، خواتین: ہندوستان کی پرچم بردار، شانتی بس مہم کی طاقت، اَن دیکھا بھارت سائیکل ریلی، یونائیٹڈ انڈیا موٹر بائیک مہم اور سوچھ بھارت ابھیان کے تحت گرین انیشیٹیو شامل ہیں۔ میرا بھارت سوستھ بھارت پہل کے تحت میڈیکل کالجوں اور اسپتالوں میں روحانیت، تندرستی اور غذائیت پر توجہ مرکوز کرتے ہوئے مختلف تقریبات اور پروگرام منعقد کیے جائیں گے۔
ان پروگراموں میں میڈیکل کیمپ، کینسر کی ٹیسٹ، ڈاکٹروں اور دیگر صحت کی دیکھ بھال کرنے والےاہلکاروں کے لیے کانفرنسیں وغیرہ کا انعقاد شامل ہیں۔ آتم نر بھر بھارت: آتم نربھر کسان کے تحت کسانوں کی فلاح و بہبود کے لیے 75 کسانوں کو بااختیار بنانے کی مہم، 75 کسان کانفرنسیں، 75 مسلسل کمپاؤنڈ ایگریکلچر ٹریننگ پروگرام اور اس طرح کے بہت سے اقدامات کا انعقاد کیا جائے گا۔ خواتین: ہندوستان کے پرچم بردار کے تحت، لڑکیوں کو بااختیار بنانے کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانے اور سماجی تبدیلی پر توجہ دی جائے گی۔
شانتی بس ابھیان میں 75 شہروں اور تحصیلوں کو شامل کیا جائے گا اور آج کے نوجوانوں کی مثبت تبدیلی کے بارے میں ایک نمائش کا اہتمام کیا جائے گا۔ وراثت اور ماحول کے درمیان تعلق کو اجاگر کرتے ہوئے، مختلف ثقافتی مقامات پراَن دیکھا بھارت سائیکل ریلی کا انعقاد کیا جائے گا۔ یونائیٹڈ انڈیا موٹر بائیک مہم ماؤنٹ آبو سے دہلی تک چلائی جائے گی اور اس کے تحت کئی شہروں کاکو شامل کیا جائے گا۔ سوچھ بھارت ابھیان کے تحت کی جانے والی پہل میں ماہانہ صفائی مہم، کمیونٹی کی صفائی کے پروگرام اور بیداری مہم شامل ہوں گی۔
اس پروگرام کے دوران گریمی ایوارڈ یافتہ مسٹر رکی کیج کا امرت فیسٹیول آف انڈیپنڈنس کے لیے وقف ایک گانا بھی ریلیز کیا گیا۔
دنیا
کیا عالمی تیل کے ذخائر امریکہ اور ایران کے درمیان نئی جنگ کا مقابلہ کرنے کے لیے کافی ہیں
ویانا، آبنائے ہرمز اور اس کے آس پاس تیل بردار جہازوں پر حملوں میں اضافے اور ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ختم کرنے کی کوششوں میں تعطل کے باعث عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں پانچ ماہ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
عالمی معیار سمجھے جانے والے برینٹ خام تیل کی قیمت بدھ کو دو ڈالر سے زیادہ بڑھ کر 110.85 ڈالر فی بیرل ہوگئی، جو تقریباً پانچ ماہ کی بلند ترین سطح ہے۔
اس سے ایک روز قبل ایران کی اسلامی انقلابی گارڈز کور (آئی آر جی سی) نے کہا تھا کہ آبنائے ہرمز میں ایک ایسے راستے پر بارودی سرنگوں سے ٹکرانے کے بعد دو تیل بردار جہازوں میں آگ لگ گئی، جسے اس نے غیر قانونی گزرگاہ قرار دیا۔ جمعرات کو آئی آر جی سی نے مزید سات جہازوں کو نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا، تاہم واشنگٹن نے اس دعوے کو مسترد کر دیا۔ آئی آر جی سی کے مطابق، نشانہ بننے والے جہازوں میں سے چار تیل منتقل کر رہے تھے اور رات کے دوران ان میں آگ لگ گئی۔
ستمبر میں حوثی باغیوں، جنہیں انصار اللہ بھی کہا جاتا ہے، نے یمن میں باب المندب آبنائے کے قریب علاقے پر قبضہ کر لیا تھا۔ یہ بحیرہ احمر میں داخلے اور وہاں سے نکلنے کی ایک اہم گزرگاہ ہے اور مصر کی نہر سویز تک رسائی کا راستہ بھی ہے۔
یہ کشیدگی ایسے وقت میں بڑھ رہی ہے جب ایران جنگ شروع ہونے کے بعد سے عالمی ہنگامی تیل ذخائر سے بڑے پیمانے پر تیل نکالا جا چکا ہے اور اب یہ ذخائر کئی دہائیوں کی کم ترین سطح پر ہیں۔
الجزیرہ نے ماہرین سے یہ سوال کیا کہ اگر مکمل جنگ دوبارہ شروع ہوجائے، آبنائے ہرمز مکمل طور پر بند کردی جائے اور حوثیوں کے حملوں سے باب المندب کی گزرگاہ بھی متاثر ہوجائے تو دنیا کے تیل ذخائر کتنے عرصے تک کام آسکتے ہیں؟
اسٹریٹجک تیل ذخائر خام تیل اور ایندھن کے وہ ذخیرے ہیں جنہیں حکومتیں یا ان کی جانب سے کام کرنے والی کمپنیاں ہنگامی صورت حال میں استعمال کے لیے محفوظ رکھتی ہیں۔
بین الاقوامی توانائی ایجنسی (آئی ای اے)، جو 1974 میں عرب تیل پابندی کے بعد قائم کی گئی تھی، ان ذخائر کے انتظام میں بنیادی کردار ادا کرتی ہے۔ ایجنسی کے رکن ممالک کے لیے لازم ہے کہ وہ اپنی خالص تیل درآمدات کے کم از کم 90 دن کے برابر ذخائر رکھیں۔ چین اور ہندوستان اس ایجنسی کے رکن نہیں ہیں۔
اس سال ہنگامی ذخائر سے ریکارڈ مقدار میں تیل نکالنے کا فیصلہ کیا گیا۔
11 مارچ کو، ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ شروع ہونے کے چند روز بعد، آئی ای اے کے 32 رکن ممالک نے ہنگامی ذخائر سے 40 کروڑ بیرل تیل دستیاب کرانے پر اتفاق کیا۔ یہ مقدار 2022 میں یوکرین پر روس کے مکمل حملے کے بعد جاری کیے گئے تیل سے دو گنا سے بھی زیادہ تھی۔
آئی ای اے کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکہ نے اپنے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو (ایس پی آر) سے 17 کروڑ 22 لاکھ بیرل جبکہ جاپان نے 7 کروڑ 98 لاکھ بیرل تیل فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔
امریکی محکمہ توانائی کے مطابق، اس کے بعد امریکہ کے اسٹریٹجک پیٹرولیم ریزرو میں تیل کی مقدار گھٹ کر 28 کروڑ 30 لاکھ بیرل رہ گئی ہے، جو اکتوبر 1982 کے بعد کی کم ترین سطح ہے۔
امریکی ادارے انرجی انفارمیشن ایڈمنسٹریشن کے مطابق، اس تیل کا بڑا حصہ فروخت کرنے کے بجائے قرض کے طور پر دیا گیا تھا، جسے اضافی تیل کے ساتھ واپس کرنا ہوگا۔
فروری میں جنگ شروع ہونے سے پہلے کے مقابلے میں اب کہیں کم تیل دستیاب ہے اور اس کا تمام حصہ فوری طور پر استعمال بھی نہیں کیا جا سکتا۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
اروناچل میں چین کے ساتھ تصادم پر حکومت سچ چھپا رہی ہے، ملک کو پوری معلومات دی جائیں: کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے وزیر اعظم نریندر مودی پر اروناچل پردیش میں چینی فوج کے ساتھ ہندوستانی فوجیوں کے تصادم کی معلومات چھپانے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ انہیں ملک کو گمراہ کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور عوام کو پوری حقیقت بتانی چاہیے۔
مسٹر کھرگے نے جمعہ کو یہاں جاری ایک بیان میں کہا کہ انڈو-تبت سرحدی پولیس (آئی ٹی بی پی) کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کے ساتھ مسلسل ہونے والے تصادم کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا ڈوکلام اور گلوان کے بعد یہ ایک اور سنگین تصادم ہے؟ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگست میں تکسنگ کے قریب چینی دراندازی کی خبریں آئی تھیں اور واچا-دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت کے 47 دن بعد بھی تصادم جاری رہنے کی اطلاعات ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اروناچل پردیش ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے اور اس معاملے میں ملک کو اندھیرے میں نہیں رکھا جانا چاہیے۔ حکومت کو بتانا چاہیے کہ کیا اس علاقے میں ہندوستان کی گشت کرنے کی رسائی متاثر ہوئی ہے۔
مسٹر کھرگے نے وزیر اعظم سے چین کو بار بار کلین چٹ دینا بند کرنے اور ملک کے سامنے صورتِ حال واضح کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی ضروری ہے، نہ کہ سفارتی ملاقاتیں اور گلے ملنا۔
چین پر اقتصادی انحصار کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مالی سال 2020-21 سے چین سے درآمدات میں 102 فیصد اضافہ ہوا ہے اور چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 112.16 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن تسلیم کر چکی ہیں کہ چین ہندوستانی برآمدات میں رکاوٹیں ڈالتا ہے۔ چین سے وابستہ سرمایہ کاری پر پابندیوں میں نرمی اور اہل چینی کمپنیوں کو پیداوار سے منسلک ترغیبات (پی ایل آئی) دینے پر غور کیے جانے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے سوال کیا کہ کیا اب ‘میک اِن انڈیا’، ‘امپورٹ فرام چائنا’ بن گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا، ”وزیر اعظم نریندر مودی اور چین کے صدر شی جن پنگ کے درمیان کم از کم 23 ملاقاتیں اور بات چیت ہوئی ہیں۔ قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کی شرکت کے ساتھ خصوصی نمائندوں کی سطح پر 25 دور کی بات چیت ہوئی ہے اور سرحدی معاملات پر مشاورت و تال میل کے لیے ورکنگ میکانزم (ڈبلیو ایم سی سی) کی 36 میٹنگیں ہو چکی ہیں۔ شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) اور برکس کے سربراہ اجلاسوں میں بھی دونوں فریقوں کے درمیان رابطہ ہوا ہے۔ ان ملاقاتوں کے کیا ٹھوس نتائج برآمد ہوئے اور کیا مئی 2020 سے پہلے گشت کرنے کی رسائی مکمل طور پر بحال ہو گئی ہے؟ ہمیں مسلح افواج پر پورا بھروسہ ہے، لیکن قومی سلامتی کے معاملے میں جواب دہی بھی ضروری ہے۔ وزیر اعظم کو اپوزیشن پر حملے کرنے کے بجائے پارلیمنٹ اور ملک کے عوام کو پوری صورتِ حال سے آگاہ کرنا چاہیے۔”
اس دوران کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے سربراہ پون کھیڑا نے یہاں پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت جون-جولائی سے اروناچل پردیش میں چین کی سرگرمیوں سے متعلق خبروں کو دبانے کی کوشش کر رہی تھی، لیکن آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل شتروجیت کپور نے اب تصدیق کی ہے کہ ہندوستانی فوجیوں اور چینی فوج کے درمیان تصادم جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کانگریس آئی ٹی بی پی سمیت تمام بہادر فوجیوں کو سلام کرتی ہے، جو نامساعد حالات میں بھی ڈٹ کر مقابلہ کر رہے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ملک میں ایسی حکومت ہے جو نہ تو فوجیوں کی قربانی کو سلام کرتی ہے اور نہ ہی ان کی بہادری کی ستائش کرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 2020 میں وادیٔ گلوان میں 20 ہندوستانی فوجیوں کی شہادت کے بعد مسٹر مودی نے چین کو کلین چٹ دے دی تھی، جس کے نتیجے میں لداخ سے اروناچل پردیش تک چین کے حوصلے بڑھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل کے بیان کے فوراً بعد ذرائع کے حوالے سے خبریں آنے لگیں کہ فورس اس معاملے پر جلد ہی باضابطہ بیان جاری کرے گی، لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اس لیے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت سچائی کو سامنے آنے سے روکنے کی کوشش کر رہی ہے؟ انہوں نے پوچھا کہ کیا ہندوستان آج بھی اروناچل پردیش میں شیرا-5 گشت چوکی تک پہنچ پا رہا ہے اور کیا چین نے اسافلا، ماجا اور تکسنگ میں سات کلومیٹر اندر تک خیمے لگا رکھے ہیں؟
انہوں نے مشرقی لداخ میں 2020 سے پہلے کی صورتِ حال بحال ہونے کے بارے میں بھی سوال اٹھایا اور پوچھا کہ اگر ایسا نہیں ہوا ہے تو کب ہوگا؟ انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ بار بار ملاقاتوں کے باوجود ملک کو معلوم ہونا چاہیے کہ ہندوستان کو ان سے کیا حاصل ہوا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت نے چین پر اقتصادی انحصار بڑھایا ہے اور چینی سرمایہ کاری نیز پی ایل اے سے وابستہ کمپنیوں کے لیے راستے آسان کیے ہیں۔
مسٹر کھیڑا نے کہا کہ ہندوستان چین کی شرائط مانتا رہا ہے اور اس کے حملوں کا سامنا بھی کرتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 99 ارب ڈالر سے بڑھ کر 112 ارب ڈالر ہو گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستان نے چینی شہریوں کے لیے سفری پابندیاں ہٹائیں، ویزوں کی تعداد بڑھائی اور پریس نوٹ-3 میں ترمیم کرکے چین پر سرمایہ کاری سے متعلق پابندیوں میں نرمی کی، لیکن اس کے بدلے ہندوستان کو کچھ حاصل نہیں ہوا۔
انہوں نے سوال کیا کہ کیا ہندوستانی فوجی آج بھی ان گشت چوکیوں تک پہنچ پا رہے ہیں جہاں وہ 20 اپریل 2020 سے پہلے گشت کیا کرتے تھے؟ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم بین الاقوامی فورموں پر چین کے سامنے سخت موقف اختیار کرنے کے بجائے اپوزیشن کو برا بھلا کہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعظم کو چین سے کس بات کا خوف ہے؟ چینی صدر کے ساتھ ملاقاتوں کے باوجود انہوں نے لداخ اور اروناچل پردیش جیسے حساس معاملات کیوں نہیں اٹھائے؟
مسٹر کھیڑا نے طنز کرتے ہوئے کہا، ”ملک میں 56 انچ کا ایک چینی کھلونا ہے، جس کی چابی کئی ممالک کے پاس ہے۔”
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے کہا کہ مسٹر مودی چین کو مسلسل رعایتیں دے رہے ہیں، جبکہ آئی ٹی بی پی کے ڈائریکٹر جنرل نے اروناچل پردیش میں چینی پی ایل اے کے ساتھ حالیہ تصادم کے دوران فورس کی کارکردگی کی تعریف کی ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ وزیر اعظم اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
انہوں نے کہا کہ تکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ واچا اور دمئی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی تھی۔ مقامی لوگوں کے حوالے سے انہوں نے دعویٰ کیا کہ لداخ کی طرح اروناچل پردیش میں بھی ہندوستان کے کچھ گشت کے مقامات اس کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ چین اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کر رہا ہے اور 60 ہزار میگاواٹ کی صلاحیت والا ڈیم تعمیر کر رہا ہے، جو ہندوستان کے ماحولیاتی نظام اور آبی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کی تعمیر میں نوجوانوں کا کردار اہم: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ نوجوانوں کو ملک کی ترقی سے جوڑنا، سماج کو تقسیم کرنے والی طاقتوں کے خلاف متحد کرنا اور خود انحصاری کے تئیں بیداری پیدا کرنا ضروری ہے۔
مسٹر مودی آج یہاں چنمیہ امرت مہوتسو عالمی کانفرنس کی افتتاحی تقریب سے خطاب کر رہے تھے۔ انہوں نے چنمیہ مشن سے وکست بھارت کے عزم کو آگے بڑھانے میں فعال کردار ادا کرنے کی اپیل کی۔ انہوں نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی کا بنیادی نظریہ نوجوانوں کی طاقت کو فروغ دے کر ایک مضبوط ہندوستان کی تعمیر کرنا تھا۔ چنمیہ مشن کے نوجوان کارکنوں نے تقریباً 300 دنوں میں 40 ہزار کلومیٹر کا سفر کرکے ایک لاکھ سے زیادہ نوجوانوں سے رابطہ قائم کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ 2047 میں ملک کی آزادی کے 100 سال مکمل ہوں گے اور اسی عرصے میں چنمیہ مشن بھی اپنی صد سالہ تقریبات منائے گا۔ ایسے میں وکست بھارت اور چنمیہ مشن کے سفر کو ساتھ ساتھ آگے بڑھانا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مشن کے سنت، آچاریہ، سادھک اور کارکن وکست بھارت کی تعمیر میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ سوامی چنمیانند جی نے ہندوستانی علم، ثقافت اور ورثے کو عوام تک پہنچانے کا کام کیا۔
چنمیہ مشن کے 100 سے زیادہ تعلیمی ادارے بچوں اور نوجوانوں کو جدید تعلیم کے ساتھ ہندوستانی اقدار بھی سکھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سوامی جی روحانی ترقی کو انفرادی نشوونما اور انفرادی نشوونما کو ملک کی ترقی سے جوڑنے کی تعلیم دیتے تھے۔
مسٹر مودی نے نئی قومی تعلیمی پالیسی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس میں ہندوستانی علمی روایت، مادری زبان میں تعلیم، جدید سائنس اور نئی ٹیکنالوجی کو اہمیت دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے ثقافتی ورثے کا تحفظ اور اس کے تئیں فخر کے احساس کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔ کاشی وشوناتھ دھام، ایودھیا میں رام مندر اور اجین کے مہاکال مہالوک جیسے مراکز کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہندوستان کے ثقافتی مراکز کا احیا ہو رہا ہے۔
وزیر اعظم نے کہا کہ گزشتہ 12 برسوں میں بیرونِ ملک چوری کرکے لے جائی گئی 650 سے زیادہ قدیم مورتیاں واپس لائی گئی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ مختلف اداروں کے مقاصد الگ الگ ہو سکتے ہیں، لیکن ملک کی ترقی اور وقار سب کا مشترکہ ہدف ہے۔ وکست بھارت کے عزم کو پورا کرنے کے لیے سب کو مل کر آگے بڑھنا ہوگا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
