تازہ ترین
کشمیر میں ملی ٹنسی کا خمیازہ پنڈتوں کے ساتھ ساتھ مسلمانوں اور سکھوں کو بھی بھگتنا پڑا/سیتا رام یچھوری
سری نگر،(یو این آئی): (سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری سیتا رام یچھوری کا کہنا ہے کہ کشمیر میں ملی ٹنسی سے صرف پنڈت برادری کے لوگوں کو ہی مشکلات سے دوچار نہیں ہونا پڑا ہے بلکہ مسلمانوں اور سکھ برادروں کو بھی اس کا خمیازہ بھگتنا پڑا ہے۔
انہوں نے دفعہ370 کی منسوخی کے خلاف عدالت عظمیٰ میں پارٹی کی طرف سے دائر عرضی پر جلد شنوائی کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ اس عرضی کی شنوائی میں جتنی زیادہ تاخیر ہوگی سرکار کو قوانین لاگو کرنے میں اتنا زیادہ وقت ملے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہماری پارٹی کا ماننا ہے کہ جموں وکشمیر ملک کا حصہ ہے لیکن جن شرائط پر یہ ریاست ملک کے ساتھ جڑ گئی ہے ان کی پاسداری ہونی چاہئے۔
موصوف جنرل سکریٹری نے ان باتوں کا اظہار جمعرات کے روز یہاں گپکار میں واقع سی پی آئی (ایم) کے سینئر لیڈر محمد یوسف تاریگامی کی رہائش گاہ پر منعقدہ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ’افسوس کی بات ہے کہ ہم نے عدالت عظمیٰ میں دفعہ370 اور35 اے کی منسوخی کے خلاف ایک عرضی دائر کی ہے لیکن آج تک اس پر شنوائی نہیں ہوئی جتنی دیر اس کی شنوائی میں ہوگی بی جے پی کو قوانین لاگو کرنے میں اتنا زیادہ وقت ملے گا یہی وجہ ہے کہ یہاں اراضی قوانین،حد بندی قوانین کو لاگو کیا جا رہا ہے‘۔
ان کا کہنا تھا: ’جب تک عدالت عظمیٰ میں یہ فیصلہ نہیں ہوگا کہ مذکورہ دفعات کی منسوخی غیر قانونی تھی یا نہیں تب تک نئے قوانین کے اطلاق پر پابندی عائد ہونی چاہئے تھی لہذا ہماری گذارش ہے کہ اس عرضی کی بہت جلد شنوائی ہونی چاہئے‘۔
کشمیر فائلز فلم پر بات کرتے ہوئے مسٹر یچھوری نے کہا کہ کشمیر میں ملی ٹنسی سے صرف پنڈت برادری کو ہی نہیں بلکہ مسلمانوں اور سکھ برادری کو بھی مشکلات سے دوچار ہونا پڑا ہے۔
انہوں نے کہا: ’اس فلم کے خلاف ایڈیٹرس گلڈ نے بھی مشترکہ بیان دیا کہ اس سے ملک میں اتحاد اور بھائی چارے کے ماحول کو ٹھیس پہنچے گی اب کہا جاتا ہے کہ وہ بھی فلم بنائیں لیکن اْس فلم کو دکھانے کی اجازت نہیں دی جائے گی‘۔
ان کا کہنا تھا: ’ملی ٹنسی میں ہماری پارٹی کے لیڈروں اور ورکروں پر بھی حملے ہوئے مسلمانوں اور سکھ براداری کے لوگوں کو مارا گیا لیکن انہوں نے ہجرت کیوں نہیں کی لہذا اس وقت کے گورنر کے رول کے بارے میں بھی بات ہونی چاہئے تھی‘۔
موصوف جنرل سکریٹری نے کہا کہ اس فلم سے مسائل حل ہونے کے بجائے مزید مسائل پیدا ہوں گے جو ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ ایک آرٹی آئی کے جواب میں ایک پولیس افسر نے بتایا کہ وادی میں ملی ٹنسی شروع ہونے سے لے کر کل 89 پنڈت لوگ ہلاک ہوئے ہیں جبکہ باقی دوسرے مذہبوں کے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ’ہماری پارٹی بھی پنڈتوں کے حقوق کے لئے لڑ رہی ہے لیکن نفرت کی بنیادوں پر جو یہاں سیاست چل رہی ہے وہ ملک کے لئے ٹھیک نہیں ہے لہذا ہمیں آئین کو بچانے کے لئے متحد ہونا ہے‘۔
مسٹر یچھوری نے کہا کہ ہماری پارٹی کا ماننا ہے کہ جموں وکشمیر ملک کا حصہ ہے لیکن جن شرائط پر اس ریاست کا الحاق ملک کے ساتھ ہوا تھا ان کی پاسداری ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ الحاق کے روز اول سے ہی یہ ہمارا ماننا رہا ہے۔
موصوف سی پی آئی (ایم) لیڈر نے کہا کہ ملک کے حالات بد سے بد تر ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے لوگوں کو گوناگوں مشکلات سے دوچار ہونا پڑ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ تاریخ میں شاید پہلی بار ملک کی بے روزگاری سب سے زیادہ ہے اور پچاس فیصد نوجوان اب روز گار کی تلاش ہی نہیں کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ نوجوانوں کو تعلیم اور روز گار فراہم کرے تاکہ وہ ملک کے لیے خود اپنی خدمات انجام دے سکیں۔
مسٹر یچھوری نے کہا کہ ملک کے جمہوری اداروں کو مسمار کیا جا رہا ہے اور ملک میں کوئی بھی ایسی چیز بچی نہیں ہے جس کو بیچا نہ گیا ہو۔
انہوں نے کہا کہ ملک کے آئین کو بچانے کے لئے تمام سیکولر پارٹیوں کو ایک ہونے کی ضرورت ہے۔
اس موقع پر محمد یوسف تاریگامی نے کہا کہ کشمیر صرف زمین کا ایک ٹکرا نہیں ہے بلکہ اس خطہ اراضی کی پانچ ہزار سال پرانی شناخت ہے جس کو مسخ نہیں کیا جا سکتا ہے۔
انہوں نے کہ ہماری پارٹی دفعہ370 کی منسوخی کو ایک سانحے سے تعبیر کرتی ہے کیونکہ اس ریاست کی تاریخی حیثیت کو رات کے اندھیرے میں لیڈروں کو بند کرکے اور لاک ڈاؤن نافذ کرکے ختم کر دیا گیا۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم حد بندی کمیشن کے خلاف نہیں ہے لیکن یہ عمل2026 میں ہونا تھا لیکن یہاں پہلے ہی کیا جا رہا ہے۔
کشمیر فائلز فم کے حوالے سے مسٹر تاریگامی نے کہا کہ ہمارا مطالبہ ہے اس پر جنوبی افریقہ کے طرز پر ایک کمیشن تشکیل دیا جانا چاہئے تاکہ زمینی سطح پر یہ معلوم ہو سکے کہ کون مرا کیسے مرا۔
انہوں نے کہا کہ پارٹی نے کانفرنس کے دوران ایک قرار داد پاس کیا ہے جس میں لوگوں کو در پیش گوناگوں مشکلات کو اجاگر کیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
