پاکستان
تحریک عدم اعتماد کامیاب، عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے
وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی۔ اپوزیشن کے 174 ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔
عمران خان ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔ نئے وزیراعظم کا انتخاب 11 اپریل بروز پیر ہوگا۔
اسپیکر اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد ایوان ایاز صادق کے حوالے کرگئے جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔
اس دوران حکومتی ارکان نے احتجاج اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے چلے گئے ۔
بعد ازاں ایوان میں 5 منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں اور دروازے بند کردیے گئے جس کے بعد ایاز صادق نے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پڑھ کر سنائی اور ایوان کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔
جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ تلاوت قرآن پاک سے باقاعدہ شروع ہوا اور پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے قرارداد پیش کی جس کے بعد رائے شماری کا آغاز ہوا۔
اس دوران 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔
اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، سابق وزیراعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی، آصفہ بھٹو سمیت دیگر افراد گیلری میں موجود ہیں۔
کسی کو بلاوجہ جیل نہیں بھجوائیں گے، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، شہباز شریف
تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ آج ہم سب تمام قائدین اور اراکین اسمبلی اللہ کے حضور سربسجود ہیں، ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے، ایک نیا دن آنے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی دعائیں اللہ نے قبول کی ہیں، متحدہ اپوزیشن کے اکابرین کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
شہباز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، خالد مقبول صدیقی سمیت تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج پاکستان دوبارہ آئین اور قانون کا پاکستان بننے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام ساتھیوں نے جیلیں کاٹی ہیں، ماضی کی تلخیوں میں نہیں جانا چاہتے،ہم اس قوم کے دکھوں اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی کو بلاوجہ جیل نہیں بھجوائیں گے۔ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
پرانے پاکستان میں سب کو خوش آمدید کہتا ہوں، بلاول بھٹو
اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ پورے پاکستان اور ہاؤس کو مبارک دینا چاہوں گا، پاکستان میں پہلی بار عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرانے پاکستان میں سب کو خوش آمدید کہتا ہوں، محترمہ 10 اپریل 1986 کو ضیا الحق کے خلاف جدوجہد کیلئے لاہور آئی تھیں، آج 10 اپریل 2022 ہے، ویلکم بیک پرانا پاکستان۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میں 3 سال سے اس ہاؤس کا ممبر ہوں، اس عرصہ میں جتنا سیکھا شاید زندگی بھر نہیں سیکھا، نوجوانوں سے اتنا کہنا چاہوں گا کہ کچھ بھی ناممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ظلم ظلم ہوتا ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
یہ لمحہ انعام سے زیادہ امتحان ہے، خالد مقبول صدیقی
متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ منتخب نمائندوں اور مہمانوں سمیت پورے ملک کو مبارکباد دیتا ہوں، یہ لمحہ انعام سے زیادہ امتحان ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دعا ہے یہ تبدیلی صرف چہروں کی تبدیلی نہ ہو، عدم اعتماد کی کامیابی سے جو اعتماد ملا ہے اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئیں جاگیردارانہ جمہوریت کی بجائے حقیقی جمہوریت کی طرف بڑھیں، آئیں ایسے پاکستان کی طرف بڑھیں جسے ہم سیکیورٹی اسٹیٹ سے ویلفیئر اسٹیٹ بنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں ہم اپنے بچوں کو محفوظ سمجھیں، ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، آپ قوم سے اپنا وعدہ پورا کریں۔
غیر آئینی حکمرانی کا خاتمہ کر کے آئینی حکمرانی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں، مولانا اسعد محمود
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا اسعد محمود نے کہا کہ قوم کو آج مبارک پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم غیر آئینی حکمرانی کا خاتمہ کر کے آئینی حکمرانی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں، پاکستان سب کا ہے، ہم سب نے اس کیلئے جدوجہد کرنی ہے۔
خوشی ہے عمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی، علی محمد خان
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ مجھے اس بات پر خوشی ہے عمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج میری پارلیمانی امور کی ڈیوٹی تمام ہوئی، بحثیت وزیر پارلیمانی امور کے مولانا فضل الرحمان کو ویلکم کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا جس عمران خان کو ایجنٹ کہتے تھے وہ کیسا ایجنٹ تھا جسے ہٹانے کیلئے امریکہ نے پورا زور لگایا، میدان کربلا میں حسین کو عارضی شکست ہوئی تھی، لیکن دنیا انہیں یاد رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کے ہنسنے سے میرے حوصلے کم نہیں ہوں گے، وقت ثابت کرے گا کہ کون اصلی شیر ہے،عمران خان کا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے آزاد خارجہ پالیسی کی بات کی، روس صرف بہانہ ہے ،عمران خان نشانہ ہے۔
تحریک عدم اعتماد کامیاب، عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے
علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان کا یہ گناہ ہے کہ اس نے سامراج کے سامنے کھڑے ہو کر ایبسلوٹلی ناٹ کہا ، کہا گیا کہ اگر عمران خان کی حکومت گر گئی تو پاکستان کو معاف کردیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا لیڈر کھڑا رہا، جھکا نہیں، ڈرا نہیں ، میری دعا ہے کہ میرا ملک ،میرا پاکستان آگے بڑھتا رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جلد عمران خان انشااللہ عوام کی طاقت سے دوبارہ واپس آئے گا، آج بھی پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جو سامراج کیخلاف کھڑے ہیں۔
اسپیکر کے عہدے پر مزید نہیں رہ سکتا ، استعفا دیتا ہوں، اسد قیصر
اس سے قبل جب اسپیکر قومی اسمبلی جو کچھ دیر پہلے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کےبعد پارلیمنٹ پہنچے تھے نے ایوان میں آکر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا اور کہا کہ میں آئین کا اور اپنے عہدے کا حلف کا پابند ہوں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے حلف کا اہم ترین مطالبہ ہے کہ پاکستان کی خودمختاری سالمیت کا تحفظ کروں۔ میرے پاس دھمکی آمیز خط پہنچ گیا ہے ، جسے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم سب کو ملک کی خودمختاری کےلیے کھڑا ہونا ہوگا، اسپیکر کے عہدے پر مزید نہیں رہ سکتا ، استعفا دیتا ہوں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں آئین کا پابند ہوں ،سپریم کورٹ کے فیصلے کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے چیئرمین پینل اجلاس چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سردار ایاز صادق سے درخواست ہے کہ وہ آئیں اور لیگل عمل پورا کریں ۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد ایاز صادق ایوان کی کارروائی چلا رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی ارکان نے اپنی نشستیں چھوڑ دی اور اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔
قومی اسمبلی کی صبح کی کارروائی
اس سے قبل جب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن کی طرف سے ایک ہی نعرہ لگایا گیا کہ ووٹنگ کراو، ووٹنگ کراو مگر اسپیکر کی طرف سے مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے اور بار بار یقین دھانی کرائی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔
سازش کی بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی، شہباز شریف
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبا ز شریف کا کہنا تھا کہ پرسوں پاکستان کی تاریخ میں تابناک دن تھا۔نظریہ ضرورت کا سہارا لیاگیا،عدالت نے اس کو دفن کردیا۔سپریم کورٹ نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی کام کو کالعدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج پارلیمان سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہاہے۔سپریم کورٹ کے حکم پر اسپیکر یہ کارروائی چلائیں گے۔آج آپ آئین اورقانون کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر کھڑے رہیں۔خدارا آج آپ اسپیکر کا کردار ادا کر کے تاریخ میں نام لکھوا لیں۔
شہبااز شریف کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان نے شور شرابا شروع کر دیا۔ اسپیکر اسد قیصر نے جواب دیا کہ میں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ سنا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق من و عن کارروائی کروں گا۔عالمی سازش کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔
شہباز شریف نے جواب میں کہا کہ ہمارے سینوں میں بھی پاکستانی دل دھڑکتا ہے۔اگر آپ سازش کی بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک سے متعلق اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی تسلیم کرتا ہوں۔ آئین شکنی کی گنجائش ہے نہ ہوگی۔پاکستان کی تاریخ آئین شکنی کےواقعات سے بھری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوس ہیں لیکن سر تسلیم خم کرتے ہیں۔تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے اور اس کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے۔ہم جمہوری اور آئینی طریقے سے تحریک کا دفاع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کہا کہ کوئی نظریہ ضرورت قبول نہیں کریں گے۔وقت آگیا ہے کہ آج ہمیں نظریہ ضرورت کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہی کارروائی کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔اعلیٰ عدلیہ نے کہا کہ یہ اجلاس جاری رہے گا۔عدالتی تاریخ کا حصہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے ڈکٹیٹر کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی۔3اپریل کےدن جو ہوا دہرانا نہیں چاہتا۔اتوار کو دفاتر کھولے گئے اور کارروائی کا آغاز ہوا۔
انکا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد متفقہ طور پر اسمبلی رولنگ کو مسترد کیا گیا۔اپوزیشن کئی سال سے نئے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے۔متحدہ اپوزیشن عدالت کیوں گئی اورسوموٹو کیوں لیا گیا اس کا پس منظر ہے۔ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر دوستوں کو اعتراض تھا عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔جہاں بیرونی سازش ہورہی ہے اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کا فورم اعلی ٰترین فورم ہے،نیشنل سیکیورٹی کونسل میں لیٹر کا بھی ذکر ہوا۔نیشنل سیکیورٹی کمیٹی لیٹر کو دیکھ کر نتیجے پر پہنچی کہ مراسلہ صحیح اور معاملہ حساس ہے
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے عالمی سازش پر بات کرنے پر اپوزیشن اراکین نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا اور کہا ہے آج کے ایجنڈے میں صرف ووٹنگ شامل ہے۔شاہ محمود قریشی کے خطاب کے دوران ایوان میں ہونے والے ہنگامے اور شور شرابے پر اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں آئین شکنی کی گئی اور اسپیکر آپ آئین شکنی اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کررہےہیں۔ عدالت نے آپ کو پابند کیا آپ توہین عدالت کر کے خود بھی نااہل ہوں گے۔ عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ آج آپ نے ووٹنگ کرانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی عدالت نے اسپیکر کی رولنگ مسترد کی ہے اور آپ کو عدالت نے کہا ہے کہ 3 اپریل کی پروسیس جاری رکھنا ہے ووٹنگ کرانی ہے لیکن آپ کے وزیر اعظم بھاگ رہے ہیں اور ابھی جو شخص خطاب کر رہے تھے اس سے متعلق میں نے پہلے بھی کہا تھا۔ میں نے وزیر اعظم سے کہا تھا اس سے بچ کے رہو اور اسی نے ہی وزیر اعظم کو پھنسایا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر آپ ووٹنگ نہیں کراتے اور توہین عدالت کرتے ہیں تو عدالت یہی قریب ہی ہے۔ بلاول بھٹو نے اپوزیشن بینچز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثریت اس طرف ہے اور عمران خان اکثریت کھو چکے ہیں۔ عدالت کا حکم مانیں پہلے ووٹنگ کرائیں۔ اس کی کہانی میں اتنے جھوٹ ہیں میں کتنے جھوٹ گنواوں ؟ بات کرنے والی شخصیت عمران خان نہیں اپنا سوچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان آج بھی ایوان میں موجود نہیں ہیں اور نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ کیوں نہیں تھے؟ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں عدم اعتماد کا ذکر نہیں تھا اور اگر پاکستان کے خلاف 7 مارچ کو بات ہوئی تھی تو اسی وقت ان کی غیرت جاگنی چاہیے تھی اور خط آتے ہی اسی وقت اپنے اتحادیوں کو کہتے کہ اس طرح کی سازش ہوئی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آج اپوزیشن کہیں نہیں جائے گی اور آئینی حق آپ سے چھینیں گے۔ اصل سازش یہ ہے کہ عمران خان شفاف الیکشن سے ڈرتے ہیں اور جب بگٹی صاحب نے اعلان کیا تو ان کو اندازہ ہوگیا کہ گیم ختم ہوگیا۔ یہ لڑائی جمہوریت کے چاہنے والے اور غیر جمہوری لوگوں کے درمیان ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ہزار کوشش کریں سیاسی شہید نہیں بن سکتے اور یہ لوگ ایک بار پھر فیض یاب ہو کر آنا چاہتے ہیں۔ یہ جوسازش ہے یہ عمران خان کو دوبارہ لانے کے لیے نہیں جمہوریت کو لپیٹنے کے لیے لایا گیا۔ ان کی سازش ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات ہوں لیکن صاف شفاف انتخابات آپ لوگ جیت نہیں سکتے۔ عمران خان 100 بار کوششیں کریں بھٹو نہیں بن سکتے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حقائق یہ ہیں کہ یہ پہلے بھی سلیکٹڈ تھے۔ غیر آئینی تجاویز عمران خان کو دیا جا رہا ہے وہ جمہوریت کو سمیٹنے کے لیے دیا جا رہا ہے۔ یہ سلیکٹ ہوئے تو اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کے لیے ہوئے اور سلیکٹ ہوئے تو صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے ہوئے۔ قومی اسمبلی میری، شہباز شریف نہ کسی اور کی ہے یہ عوام کی ہے اور قومی اسمبلی کی عمارت کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی بینچز پر 90 فیصد چہرے لوٹے ہی نظر آ رہے ہیں اور میں جہاں بھی دیکھوں لوٹا ہی لوٹا ہے۔ ہمارے پاس لوگ آئے تو لوٹا ان کے پاس جاتے ہیں تو الیکٹ ایبل۔ وزیر خارجہ بتائیں پہلی دفعہ پارٹی تبدیل کی تو کتنے پیسے لیے؟ اور وزیرخارجہ نے دوسری اور تیسری مرتبہ پارٹی تبدیل کی تو کتنے میں ضمیر بیچا؟
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ میں بنگلہ دیش سے کہانی شروع کر کے کہاں ختم کروں یہ جذباتی ہو کر کہتے ہیں کہ ان کی بندوق کی نالی پر میں ہوں۔ لیکن میں جذباتی نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کون سے ملکی ذخائر کی بات کر رہے ہیں، یہ سب تو میں چھوڑ کر گیا تھا اور ایک دن یہ لوگ سمجھیں گے کہ سیاسی یونیورسٹی صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ ان کے پاس ہمارے کافی اسٹوڈنٹس بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی واپس آئیں گے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مارکیٹ 700 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کے خلاف سپریم کورٹ جائیں اور کہیں کہ اسپیکر نے ووٹ نہیں کرایا۔ انہیں سمجھ نہیں آتا یہ کیا باتیں ہیں یہ کیا راز ہے اور اگر میں نے کتاب لکھی تو اس میں سب ذکر کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب میں نہیں چاہتا کہ کل آپ کے خلاف عدالت جاؤں اور کہوں آپ نے ووٹنگ نہیں کروائی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ 3 سال میں روزگار کے 55 لاکھ مواقع پیدا کیے گئے۔ بہت عرصے سے عمران خان کی حکومت گرانے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ 7 مارچ کو مراسلہ بھیجا گیا اور 8 مارچ سے ان کی کامیابیاں شروع ہوگئیں۔ بتایا جائے یہ کون سی جمہوریت ہے جس کا نمونہ آج ہمیں مل رہا ہے اور ایک منحرف رکن نے کہا کہ 23 کروڑ روپے میں زندگی بہت اچھی گزرے گی۔ سینیٹ کا الیکشن سب کے سامنے ہے جو چوری کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے لیے ووٹ خریدے گئے جس کی ویڈیو موجود ہے۔ زرداری صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں اور زرداری صاحب کا پیٹ کاٹ کر پیسہ نکالنے کا دعویٰ کرنے والے آج ان کے دربار پر حاضری دیتے ہیں اور گھٹنے پکڑتے ہیں۔ اگر عمران خان نہ ہوتا تو آصف زرداری کو بھی یہ مقام حاصل نہیں ہونا تھا۔
اسد عمر نے کہا کہ ضمیر فروشی کا دروازہ بند کرنے کے لیے بھی تو اپوزیشن آگے بڑھے اور یہ خود آگے بڑھیں تاکہ کوئی بندوق والا آگے نہ آسکے۔ کیا یہ سب پاکستان کے آئین کے مطابق ہو رہا ہے اور پاکستان آج اسی دوراہے پر کھڑا ہوا ہے، فیصلہ ہم نے کرنا ہے اور اس وقت فرق سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ دو نظریوں کا ہے۔ ایک نظریئے کے تحت پاکستان کے 22 کروڑ عوام بھکاری ہیں اور دوسرا نظریہ یہ کہتا ہے کہ پاکستانی دنیا میں کسی سے کم نہیں ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے رہنما مولانا اسعد محمود نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ووٹ کرائیں۔ اسپیکر صاحب آپ کہتے ہیں کہ میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق چلوں گا۔ آپ نے 3 اپریل کو بھی خط کا بہانہ بنا کر عدم اعتماد کو خارج کیا اور وزیراعظم کی اسمبلی تحلیل کرنے کی ریکارڈڈ ویڈیو سامنے آئی۔ خط کو بنیاد پر بنا کر آپ پارلیمان اورآئین کو زمیں بوس کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیوں خط کی بنیاد پر عدم اعتماد کو خارج کیا گیا ؟ اب آپ کے پاس مینڈیٹ نہیں رہا اور آپ کا وزیر اعظم اب پاکستان کا وزیر اعظم نہیں رہا۔ بھٹو شہید کو آج بھی گالی دی جاتی ہے۔ ہم آئین اور پارلیمنٹ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو وفاداریوں کی پاداش میں اغوا کیا گیا تھا۔
مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آج ایوان میں عمران خان کے نعرے لگانے والا ماضی میں نواز شریف اور بینظیر کے نعرے لگاتا رہا ہے۔ آپ کا عمران خان ہمارے خلاف ڈٹ کر کھڑا نہیں ہوسکتا تو امریکہ کے خلاف کیا کھڑا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سلامتی سے متعلق اجلاس میں شرکت کا کوئی خط نہیں ملا اور صرف شہباز شریف کو فون کیا گیا۔ یہ خط اور رولنگ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں ہار چکے ہیں۔ ہم پہلے روز سے ان کی حکومت تسلیم کرتے لیکن صرف برداشت کر رہے تھے۔
واضح رہے کی 3 اپریل کو قومی اسمبلی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔ جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے صدر عارف علوی کو ایڈوائس دی تھی۔
صدر عارف علوی نے 3 اپریل کو ہی اسمبلی تحلیل کر دی تھی اور نگران وزیر اعظم کے لیے خطوط بھی لکھ دیے تھے۔ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سپریم کورٹ نےمعاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے5 دن صورتحال پر سماعت کی ۔ جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہو ئے اسمبلی بحال کر دی گئی تھی اور آج قومی اسمبلی اجلاس بلانے کا حکم دیا گیا تھا۔
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کیا پاکستان کے عاصم منیر ایرانی فوجی قیادت کو مذاکرات کی میز پر واپس لانے میں کامیاب ہو سکتے ہیں
اسلام آباد، پاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر نے پیر کے روز تہران میں طاقت کے اہم مراکز کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے صدر، پارلیمنٹ، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل، وزارت خارجہ اور وزارت داخلہ کے حکام سے ملاقاتیں کیں۔
انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف سے بھی ملاقات کی، جو امریکہ کے ساتھ چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں ایران کے اعلیٰ مذاکرات کار ہیں۔تاہم امن مذاکرات میں تعطل کے درمیان تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ثالث کے طور پر منیر کی اصل آزمائش یہ ہوگی کہ آیا وہ ایک بااثر فوجی رہنما کی حیثیت سے اپنے ایرانی ہم منصبوں کو واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے پر آمادہ کر سکتے ہیں۔
منیر کے دورہ ایران سے چند روز قبل ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے تہران میں ڈاکٹروں کے ایک اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ اب وقت آگیا ہے کہ جنگ ختم کی جائے، جبکہ ایران کو برتری حاصل ہے۔ ان کا یہ پیغام واشنگٹن کے ساتھ ساتھ تہران کے اپنے سکیورٹی اداروں کے لیے بھی تھا۔انہوں نے کہا، ’’بہتر ہے کہ ہم اب جنگ ختم کر دیں کیونکہ اس وقت ہم طاقت اور وقار کی پوزیشن میں ہیں۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’پوری دنیا ہماری فتح کو تسلیم کرتی ہے۔‘‘
چند گھنٹے بعد، 21 اگست کو ایرانی مسلح افواج کے چیف آف جنرل اسٹاف میجر جنرل علی عبداللہی نے کسی بھی امریکی غلط اندازے کی صورت میں ’’انقلابی، تباہ کن، پشیمان کردینے والے اور ہلاکت خیز‘‘ ردعمل کا وعدہ کیا۔
یہ ایرانی صدر اور اب ملک کی فوجی قیادت سنبھالنے والے افراد کے درمیان موجود خلیج کی واضح مثال تھی، اور تجزیہ کاروں کے مطابق منیر کو اسی صورتحال سے بھی نمٹنا ہوگا۔
اسی لیے پیر کے روز منیر کی سب سے اہم ملاقات جنرل محسن رضائی سے قرار دی جا رہی ہے، جو ایران کے سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے نمائندے اور سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے نئے سیکریٹری ہیں۔ رضائی بنیادی طور پر فوج اور خامنہ ای کے درمیان رابطے کا پل ہیں۔
منیر کا تہران کا دورہ ایسے وقت میں ہوا جب خطے اور دنیا بھر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی ایران کے خلاف دھمکی آمیز ’’اقتصادی ڈی ڈے‘‘ پابندیوں کے اعلان کی توقع کی جا رہی تھی، جن کے تحت تہران کے ساتھ تجارت جاری رکھنے والے ممالک کو بھی سزا دینے کی دھمکی دی گئی تھی۔
بعد میں امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے وسیع پابندیوں کی مہم کا اعلان کیا، جس میں ایران کے ڈیجیٹل اثاثوں، سونے، ہوا بازی، ٹیکنالوجی اور جہاز رانی کے نیٹ ورکس کو نشانہ بنایا گیا ہے۔تاہم دیگر ممالک کو ایران سے تجارتی تعلقات ختم کرنے کی وارننگ دینے کے باوجود بیسنٹ نے ان ممالک کے خلاف فوری طور پر کسی سزا کا اعلان نہیں کیا اور اعتراف کیا کہ ایسا قدم ’’عالمی مالیاتی نظام کو تباہ کر سکتا ہے۔‘‘
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے بھی ایران کے خلاف دوبارہ فوجی حملوں کا امکان برقرار رکھا۔
انہوں نے کہا، ’’اگر ہمیں فوجی حملوں کی ضرورت پڑی تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اتنا بے وقوف ہوا کہ اپنی حد سے تجاوز کیا یا امریکی فوج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کی تو ہم وہ کریں گے جو ضروری ہوگا۔‘‘
یہ واضح نہیں کہ منیر کا دورہ ایران کے خلاف وسیع تر امریکی کارروائی کو روکنے میں مددگار ثابت ہوا یا نہیں۔تاہم تجزیہ کاروں کے مطابق دورے کا وقت اہم تھا۔ منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ٹیلی فون پر گفتگو کے چند روز بعد تہران کا سفر کیا۔ اطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے اسلام آباد سے کہا تھا کہ وہ اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔
پاکستان کی انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) کے مطابق ایک روزہ دورے کے دوران آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جنگ ختم کرنے کے حوالے سے ’’جامع مذاکرات‘‘ ہوئے۔
آئی ایس پی آر نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’پاکستان کے تعمیری کردار اور مخلصانہ کوششوں‘‘ کو سراہا۔
پاکستان کے وزیر داخلہ محسن نقوی، جو منیر کے ہمراہ تہران گئے تھے، نے اس سے بھی آگے بڑھتے ہوئے مذاکرات کو ’’انتہائی مثبت اور نتیجہ خیز‘‘ قرار دیا اور کہا کہ ’’اہم پیش رفت‘‘ ہوئی ہے۔
یہ رواں سال منیر کا تہران کا چوتھا دورہ تھا، تاہم اس ماہ کے اوائل میں ایران کی فوجی قیادت میں تبدیلیوں کے بعد یہ ان کا پہلا دورہ تھا۔
10 اگست کو سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای نے عبداللہی کو چیف آف جنرل اسٹاف مقرر کیا جبکہ رضائی کو سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل میں منتقل کیا گیا۔ اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے کمانڈر احمد وحیدی مارچ سے اپنے عہدے پر موجود ہیں، جب ان کے پیشرو جنگ کے ابتدائی حملوں میں مارے گئے تھے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اب یہی فوجی رہنما ایران کی جنگ سے متعلق حکمت عملی تشکیل دے رہے ہیں، جس سے کسی فوجی ہم منصب کے لیے روایتی سفارت کاروں کے مقابلے میں تہران کو مذاکرات پر آمادہ کرنا نسبتاً آسان ہو سکتا ہے۔
پاکستانی بحریہ کے سابق وائس ایڈمرل اور دفاعی تجزیہ کار احمد سعید نے الجزیرہ سے گفتگو میں کہا، ’’اس بحران کے دوران جنگ اور امن سے متعلق فیصلوں میں آئی آر جی سی اور وسیع تر سکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کا کردار مسلسل بڑھ رہا ہے۔‘‘
وزیر داخلہ محسن نقوی اپریل سے اب تک آٹھ مرتبہ تہران کا دورہ کر چکے ہیں، لیکن ان دوروں سے کوئی بڑی پیش رفت سامنے نہیں آئی۔تاہم منیر سیاست دان نہیں بلکہ ایک جنرل ہیں اور بظاہر انہیں ایرانی قیادت اور اہم طور پر امریکی صدر ٹرمپ، دونوں کا اعتماد حاصل ہے۔ ٹرمپ پاکستانی آرمی چیف کو اپنا ’’پسندیدہ فیلڈ مارشل‘‘ قرار دے چکے ہیں۔
احمد سعید نے کہا، ’’چند روز قبل منیر کو کی جانے والی فون کال خود ٹرمپ نے شروع کی تھی اور پاکستانی قیادت سے درخواست کی تھی کہ وہ اپنے اثر و رسوخ کو استعمال کرکے ایران کو مذاکرات کی میز پر واپس لائے۔‘‘
ایرانی حکام نے منیر کو جو کچھ بتایا، ایرانی سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وہ ان بیانات سے زیادہ مختلف نہیں تھا جو وہ گزشتہ پورے ہفتے سے اپنے ملک کے میڈیا کو دے رہے تھے۔
ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنرل محسن رضائی نے منیر سے کہا، ’’ہم امریکہ پر اعتماد نہیں کرتے اور اسے اپنا رویہ تبدیل کرنا ہوگا۔‘‘
پارلیمنٹ کے اسپیکر قالیباف نے اس سے بھی زیادہ واضح موقف اختیار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہم مفاہمتی یادداشت کی شرائط پر عمل درآمد کے لیے کام کر رہے ہیں اور امریکہ کو مفاہمتی یادداشت کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کرنی ہوں گی۔‘‘
دوسری جانب پزشکیان نے منیر سے کہا کہ وہ واشنگٹن کو ’’اپنا لہجہ اور طریقہ کار درست کرنے‘‘ کا پیغام دیں۔ ایرانی خبر رساں ادارے تسنیم کے مطابق انہوں نے خبردار کیا کہ ’’طاقت اور دھونس پر انحصار کرنا عمل کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔‘‘
عمان کے وزیر خارجہ بدر بن حمد البوسعیدی بھی منگل کو تہران پہنچنے والے ہیں، جہاں وہ خصوصی طور پر آبنائے ہرمز سے متعلق مذاکرات کے ایک الگ دور میں شرکت کریں گے۔ یہ سفارتی کوشش کئی ماہ سے پاکستان کی ثالثی کے ساتھ ساتھ جاری ہے۔
عمان کا کردار نیا نہیں ہے۔ البوسعیدی آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے قوانین کے حوالے سے ایران کے ساتھ مسلسل مذاکرات کرتے رہے ہیں۔
لاہور میں مقیم دفاعی تجزیہ کار اعجاز حیدر کے مطابق عمان اور پاکستان کے سفارتی راستے ایک دوسرے کے لیے معاون ہیں۔انہوں نے الجزیرہ سے کہا کہ ’’عمان اور اسلام آباد کے راستے ایک دوسرے کی تکمیل کرتے ہیں کیونکہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کی شق 5 میں آبنائے کے حوالے سے عمان اور ایران کے درمیان دوطرفہ مفاہمت پر زور دیا گیا ہے۔‘‘
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں سے گزرتی ہے۔
حیدر نے کہا کہ ایران اور عمان کے درمیان آبنائے کے مشترکہ انتظام سے متعلق معاہدہ امریکہ کے مفاد میں نہیں، اسی لیے ٹرمپ نے عمان پر بمباری کی دھمکی دی ہے۔
دوسری جانب سابق پاکستانی بحری عہدیدار احمد سعید کے مطابق ثالث کے طور پر اسلام آباد کا فائدہ یہ ہے کہ اسے ’’وحیدی، عبداللہی اور رضائی تک براہ راست رسائی حاصل ہے، جو ایران کے فیصلہ سازی کے اصل معمار ہیں۔‘‘
مذاکرات کے قریب ایک ایرانی عہدیدار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ البوسعیدی تہران میں ’’بنیادی طور پر یہ سننے کے لیے ہوں گے کہ ایران نے کیا فیصلہ کیا ہے اور اپنے پاکستانی ثالث کے ساتھ کیا بات چیت کی ہے۔‘‘
کنگز کالج لندن میں دفاعی مطالعات کے ایسوسی ایٹ پروفیسر اینڈریاس کریگ کے مطابق ایرانی فوجی اور سویلین قیادت کے درمیان سامنے آنے والے اختلافات اس بات کو ظاہر کرتے ہیں کہ دونوں فریق جنگ کی موجودہ صورتحال کو مختلف انداز میں دیکھتے ہیں۔
ان کے مطابق پزشکیان اور قالیباف ’’بنیادی طور پر یہ خبردار کر رہے ہیں کہ ایران اس صورتحال میں غیر معینہ مدت تک نہیں رہ سکتا‘‘، جبکہ ’’آئی آر جی سی کے بعض حلقوں کا خیال ہے کہ اس کے برعکس وقت واشنگٹن کے خلاف جا رہا ہے۔‘‘
تاہم انہوں نے کہا کہ ’’محسن رضائی، احمد وحیدی اور آئی آر جی سی اس بات کے تعین میں مرکزی حیثیت رکھتے ہیں کہ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی بھی سیاسی مفاہمت پر عمل درآمد ہو سکتا ہے یا نہیں۔‘‘
ان کے مطابق، ’’ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کسی معاہدے پر مذاکرات کر سکتے ہیں اور قطر ثالثی کر سکتا ہے، لیکن اگر سکیورٹی ادارہ اس کے عملی نتائج کو قبول نہیں کرتا تو ان سب کی کوئی اہمیت نہیں۔‘‘
فی الحال منیر کو ان ثالثوں میں سب سے زیادہ موزوں امیدوار سمجھا جا رہا ہے جو ایرانی جرنیلوں کو جنگی کمرے سے مذاکرات کی میز تک لانے کی بہترین صلاحیت رکھتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان7 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
