پاکستان
تحریک عدم اعتماد کامیاب، عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے
وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گئی۔ اپوزیشن کے 174 ارکان نے ان کے خلاف ووٹ دیا۔
عمران خان ملکی تاریخ کے پہلے وزیراعظم ہیں جن کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔ نئے وزیراعظم کا انتخاب 11 اپریل بروز پیر ہوگا۔
اسپیکر اسد قیصر کے مستعفی ہونے کے بعد ایوان ایاز صادق کے حوالے کرگئے جس کے بعد ان کی صدارت میں اجلاس کی کارروائی شروع ہوئی۔
اس دوران حکومتی ارکان نے احتجاج اجلاس کا بائیکاٹ کیا اور ایوان سے چلے گئے ۔
بعد ازاں ایوان میں 5 منٹ کیلئے گھنٹیاں بجائی گئیں اور دروازے بند کردیے گئے جس کے بعد ایاز صادق نے وزیر اعظم کے خلاف عدم اعتماد کی قرارداد پڑھ کر سنائی اور ایوان کا اجلاس ملتوی کردیا گیا۔
جس کے بعد قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ تلاوت قرآن پاک سے باقاعدہ شروع ہوا اور پیپلز پارٹی کے رہنما نوید قمر نے قرارداد پیش کی جس کے بعد رائے شماری کا آغاز ہوا۔
اس دوران 174 ارکان نے عدم اعتماد کی قرارداد کے حق میں ووٹ دیا اور یوں عمران خان عدم اعتماد کے ذریعے ہٹائے جانے والے ملک کے پہلے وزیراعظم بن گئے۔
اپوزیشن اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ مولانا فضل الرحمان، سابق وزیراعظم سینیٹر یوسف رضا گیلانی، آصفہ بھٹو سمیت دیگر افراد گیلری میں موجود ہیں۔
کسی کو بلاوجہ جیل نہیں بھجوائیں گے، قانون اپنا راستہ خود بنائے گا، شہباز شریف
تحریک عدم اعتماد کامیاب ہونے کے بعد مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف نے کہا کہ آج ہم سب تمام قائدین اور اراکین اسمبلی اللہ کے حضور سربسجود ہیں، ایک نئی صبح طلوع ہونے والی ہے، ایک نیا دن آنے والا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کروڑوں عوام کی دعائیں اللہ نے قبول کی ہیں، متحدہ اپوزیشن کے اکابرین کو سلام پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے اتحاد کا مظاہرہ کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔
شہباز شریف نے کہا کہ آصف علی زرداری، مولانا فضل الرحمان، خالد مقبول صدیقی سمیت تمام اراکین کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آج پاکستان دوبارہ آئین اور قانون کا پاکستان بننے جا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان تمام ساتھیوں نے جیلیں کاٹی ہیں، ماضی کی تلخیوں میں نہیں جانا چاہتے،ہم اس قوم کے دکھوں اور زخموں پر مرہم رکھنا چاہتے ہیں۔ ہم کسی کو بلاوجہ جیل نہیں بھجوائیں گے۔ قانون اپنا راستہ خود بنائے گا۔
پرانے پاکستان میں سب کو خوش آمدید کہتا ہوں، بلاول بھٹو
اس موقع پر چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو نے کہا کہ پورے پاکستان اور ہاؤس کو مبارک دینا چاہوں گا، پاکستان میں پہلی بار عدم اعتماد کامیاب ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پرانے پاکستان میں سب کو خوش آمدید کہتا ہوں، محترمہ 10 اپریل 1986 کو ضیا الحق کے خلاف جدوجہد کیلئے لاہور آئی تھیں، آج 10 اپریل 2022 ہے، ویلکم بیک پرانا پاکستان۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ میں 3 سال سے اس ہاؤس کا ممبر ہوں، اس عرصہ میں جتنا سیکھا شاید زندگی بھر نہیں سیکھا، نوجوانوں سے اتنا کہنا چاہوں گا کہ کچھ بھی ناممکن نہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ظلم ظلم ہوتا ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، جمہوریت بہترین انتقام ہے۔
یہ لمحہ انعام سے زیادہ امتحان ہے، خالد مقبول صدیقی
متحدہ قومی مومنٹ (ایم کیو ایم) پاکستان کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ منتخب نمائندوں اور مہمانوں سمیت پورے ملک کو مبارکباد دیتا ہوں، یہ لمحہ انعام سے زیادہ امتحان ہے۔
خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ دعا ہے یہ تبدیلی صرف چہروں کی تبدیلی نہ ہو، عدم اعتماد کی کامیابی سے جو اعتماد ملا ہے اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے کہا کہ آئیں جاگیردارانہ جمہوریت کی بجائے حقیقی جمہوریت کی طرف بڑھیں، آئیں ایسے پاکستان کی طرف بڑھیں جسے ہم سیکیورٹی اسٹیٹ سے ویلفیئر اسٹیٹ بنائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک ایسا پاکستان چاہتے ہیں جس میں ہم اپنے بچوں کو محفوظ سمجھیں، ہم نے اپنا وعدہ پورا کیا ہے، آپ قوم سے اپنا وعدہ پورا کریں۔
غیر آئینی حکمرانی کا خاتمہ کر کے آئینی حکمرانی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں، مولانا اسعد محمود
جمعیت علمائے اسلام ف کے سربراہ مولانا اسعد محمود نے کہا کہ قوم کو آج مبارک پیش کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ ہم غیر آئینی حکمرانی کا خاتمہ کر کے آئینی حکمرانی کی طرف قدم بڑھا رہے ہیں، پاکستان سب کا ہے، ہم سب نے اس کیلئے جدوجہد کرنی ہے۔
خوشی ہے عمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی، علی محمد خان
پاکستان تحریک انصاف کے رہنما علی محمد خان نے کہا کہ مجھے اس بات پر خوشی ہے عمران خان نے حکومت قربان کی لیکن غلامی قبول نہیں کی۔
قومی اسمبلی اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ آج میری پارلیمانی امور کی ڈیوٹی تمام ہوئی، بحثیت وزیر پارلیمانی امور کے مولانا فضل الرحمان کو ویلکم کرتا ہوں۔
انہوں نے کہا کہ مولانا جس عمران خان کو ایجنٹ کہتے تھے وہ کیسا ایجنٹ تھا جسے ہٹانے کیلئے امریکہ نے پورا زور لگایا، میدان کربلا میں حسین کو عارضی شکست ہوئی تھی، لیکن دنیا انہیں یاد رکھتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کسی کے ہنسنے سے میرے حوصلے کم نہیں ہوں گے، وقت ثابت کرے گا کہ کون اصلی شیر ہے،عمران خان کا گناہ یہ ہے کہ انہوں نے آزاد خارجہ پالیسی کی بات کی، روس صرف بہانہ ہے ،عمران خان نشانہ ہے۔
تحریک عدم اعتماد کامیاب، عمران خان سابق وزیراعظم ہو گئے
علی محمد خان نے کہا کہ عمران خان کا یہ گناہ ہے کہ اس نے سامراج کے سامنے کھڑے ہو کر ایبسلوٹلی ناٹ کہا ، کہا گیا کہ اگر عمران خان کی حکومت گر گئی تو پاکستان کو معاف کردیں گے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے فخر ہے کہ میرا لیڈر کھڑا رہا، جھکا نہیں، ڈرا نہیں ، میری دعا ہے کہ میرا ملک ،میرا پاکستان آگے بڑھتا رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جلد عمران خان انشااللہ عوام کی طاقت سے دوبارہ واپس آئے گا، آج بھی پاکستان میں ایسے لوگ ہیں جو سامراج کیخلاف کھڑے ہیں۔
اسپیکر کے عہدے پر مزید نہیں رہ سکتا ، استعفا دیتا ہوں، اسد قیصر
اس سے قبل جب اسپیکر قومی اسمبلی جو کچھ دیر پہلے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کےبعد پارلیمنٹ پہنچے تھے نے ایوان میں آکر اپنے استعفیٰ کا اعلان کیا اور کہا کہ میں آئین کا اور اپنے عہدے کا حلف کا پابند ہوں ۔
انہوں نے مزید کہا کہ میرے حلف کا اہم ترین مطالبہ ہے کہ پاکستان کی خودمختاری سالمیت کا تحفظ کروں۔ میرے پاس دھمکی آمیز خط پہنچ گیا ہے ، جسے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف بھی دیکھ سکتے ہیں۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہم سب کو ملک کی خودمختاری کےلیے کھڑا ہونا ہوگا، اسپیکر کے عہدے پر مزید نہیں رہ سکتا ، استعفا دیتا ہوں۔
اسپیکر قومی اسمبلی نے کہا کہ میں آئین کا پابند ہوں ،سپریم کورٹ کے فیصلے کو من وعن تسلیم کرتے ہوئے چیئرمین پینل اجلاس چلائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ سردار ایاز صادق سے درخواست ہے کہ وہ آئیں اور لیگل عمل پورا کریں ۔
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کے عہدے سے مستعفی ہونے کے بعد ایاز صادق ایوان کی کارروائی چلا رہے ہیں۔
دوسری جانب حکومتی ارکان نے اپنی نشستیں چھوڑ دی اور اجلاس کا بائیکاٹ کر دیا۔
قومی اسمبلی کی صبح کی کارروائی
اس سے قبل جب اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت اجلاس شروع ہوا تو اپوزیشن کی طرف سے ایک ہی نعرہ لگایا گیا کہ ووٹنگ کراو، ووٹنگ کراو مگر اسپیکر کی طرف سے مسلسل ٹال مٹول سے کام لیا جا رہا ہے اور بار بار یقین دھانی کرائی جا رہی ہے کہ سپریم کورٹ کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا۔
سازش کی بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی، شہباز شریف
قومی اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر شہبا ز شریف کا کہنا تھا کہ پرسوں پاکستان کی تاریخ میں تابناک دن تھا۔نظریہ ضرورت کا سہارا لیاگیا،عدالت نے اس کو دفن کردیا۔سپریم کورٹ نے اسپیکر اور ڈپٹی اسپیکر کے غیر آئینی کام کو کالعدم قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج پارلیمان سلیکٹڈ وزیراعظم کو شکست فاش دینے جارہاہے۔سپریم کورٹ کے حکم پر اسپیکر یہ کارروائی چلائیں گے۔آج آپ آئین اورقانون کے تحت سپریم کورٹ کے حکم پر کھڑے رہیں۔خدارا آج آپ اسپیکر کا کردار ادا کر کے تاریخ میں نام لکھوا لیں۔
شہبااز شریف کی تقریر کے دوران قومی اسمبلی میں حکومتی ارکان نے شور شرابا شروع کر دیا۔ اسپیکر اسد قیصر نے جواب دیا کہ میں نے سپریم کورٹ کا فیصلہ سنا ہے۔سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق من و عن کارروائی کروں گا۔عالمی سازش کے حوالے سے بھی بات ہوگی۔
شہباز شریف نے جواب میں کہا کہ ہمارے سینوں میں بھی پاکستانی دل دھڑکتا ہے۔اگر آپ سازش کی بات کریں گے تو بات بہت دور تک جائے گی۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ تحریک سے متعلق اپوزیشن لیڈر نے جو بات کی تسلیم کرتا ہوں۔ آئین شکنی کی گنجائش ہے نہ ہوگی۔پاکستان کی تاریخ آئین شکنی کےواقعات سے بھری ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ہم سپریم کورٹ کے فیصلے سے مایوس ہیں لیکن سر تسلیم خم کرتے ہیں۔تحریک کو پیش کرنا اپوزیشن کا حق ہے اور اس کا دفاع کرنا ہمارا فرض ہے۔ہم جمہوری اور آئینی طریقے سے تحریک کا دفاع کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ بلاول بھٹو نے سپریم کورٹ کے فیصلے سے قبل کہا کہ کوئی نظریہ ضرورت قبول نہیں کریں گے۔وقت آگیا ہے کہ آج ہمیں نظریہ ضرورت کا سہارا لینے کی ضرورت نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے مطابق ہی کارروائی کو آگے بڑھایا جارہا ہے۔اعلیٰ عدلیہ نے کہا کہ یہ اجلاس جاری رہے گا۔عدالتی تاریخ کا حصہ ہے کہ اعلیٰ عدلیہ نے ڈکٹیٹر کو آئین میں ترمیم کی اجازت دی۔3اپریل کےدن جو ہوا دہرانا نہیں چاہتا۔اتوار کو دفاتر کھولے گئے اور کارروائی کا آغاز ہوا۔
انکا کہنا ہے کہ کارروائی کے بعد متفقہ طور پر اسمبلی رولنگ کو مسترد کیا گیا۔اپوزیشن کئی سال سے نئے انتخابات کا مطالبہ کررہی ہے۔متحدہ اپوزیشن عدالت کیوں گئی اورسوموٹو کیوں لیا گیا اس کا پس منظر ہے۔ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ پر دوستوں کو اعتراض تھا عدالت نے فیصلہ سنا دیا۔جہاں بیرونی سازش ہورہی ہے اس کی تحقیق ہونی چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ نیشنل سیکیورٹی کونسل کا فورم اعلی ٰترین فورم ہے،نیشنل سیکیورٹی کونسل میں لیٹر کا بھی ذکر ہوا۔نیشنل سیکیورٹی کمیٹی لیٹر کو دیکھ کر نتیجے پر پہنچی کہ مراسلہ صحیح اور معاملہ حساس ہے
وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی کے عالمی سازش پر بات کرنے پر اپوزیشن اراکین نشستوں پر کھڑے ہو گئے۔ اپوزیشن نے تحریک عدم اعتماد پر ووٹنگ کا مطالبہ کیا اور کہا ہے آج کے ایجنڈے میں صرف ووٹنگ شامل ہے۔شاہ محمود قریشی کے خطاب کے دوران ایوان میں ہونے والے ہنگامے اور شور شرابے پر اسپیکر اسد قیصر نے اجلاس ساڑھے بارہ بجے تک ملتوی کر دیا۔
چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ایوان میں آئین شکنی کی گئی اور اسپیکر آپ آئین شکنی اور سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کررہےہیں۔ عدالت نے آپ کو پابند کیا آپ توہین عدالت کر کے خود بھی نااہل ہوں گے۔ عدالت نے فیصلہ سنا دیا ہے کہ آج آپ نے ووٹنگ کرانی ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی عدالت نے اسپیکر کی رولنگ مسترد کی ہے اور آپ کو عدالت نے کہا ہے کہ 3 اپریل کی پروسیس جاری رکھنا ہے ووٹنگ کرانی ہے لیکن آپ کے وزیر اعظم بھاگ رہے ہیں اور ابھی جو شخص خطاب کر رہے تھے اس سے متعلق میں نے پہلے بھی کہا تھا۔ میں نے وزیر اعظم سے کہا تھا اس سے بچ کے رہو اور اسی نے ہی وزیر اعظم کو پھنسایا۔
بلاول بھٹو نے کہا کہ اگر آپ ووٹنگ نہیں کراتے اور توہین عدالت کرتے ہیں تو عدالت یہی قریب ہی ہے۔ بلاول بھٹو نے اپوزیشن بینچز کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اکثریت اس طرف ہے اور عمران خان اکثریت کھو چکے ہیں۔ عدالت کا حکم مانیں پہلے ووٹنگ کرائیں۔ اس کی کہانی میں اتنے جھوٹ ہیں میں کتنے جھوٹ گنواوں ؟ بات کرنے والی شخصیت عمران خان نہیں اپنا سوچ رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم عمران خان آج بھی ایوان میں موجود نہیں ہیں اور نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں وزیر خارجہ کیوں نہیں تھے؟ نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس میں عدم اعتماد کا ذکر نہیں تھا اور اگر پاکستان کے خلاف 7 مارچ کو بات ہوئی تھی تو اسی وقت ان کی غیرت جاگنی چاہیے تھی اور خط آتے ہی اسی وقت اپنے اتحادیوں کو کہتے کہ اس طرح کی سازش ہوئی ہے۔
چیئرمین پیپلز پارٹی نے کہا کہ آج اپوزیشن کہیں نہیں جائے گی اور آئینی حق آپ سے چھینیں گے۔ اصل سازش یہ ہے کہ عمران خان شفاف الیکشن سے ڈرتے ہیں اور جب بگٹی صاحب نے اعلان کیا تو ان کو اندازہ ہوگیا کہ گیم ختم ہوگیا۔ یہ لڑائی جمہوریت کے چاہنے والے اور غیر جمہوری لوگوں کے درمیان ہے۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان ہزار کوشش کریں سیاسی شہید نہیں بن سکتے اور یہ لوگ ایک بار پھر فیض یاب ہو کر آنا چاہتے ہیں۔ یہ جوسازش ہے یہ عمران خان کو دوبارہ لانے کے لیے نہیں جمہوریت کو لپیٹنے کے لیے لایا گیا۔ ان کی سازش ہے کہ انتخابی اصلاحات کے بغیر انتخابات ہوں لیکن صاف شفاف انتخابات آپ لوگ جیت نہیں سکتے۔ عمران خان 100 بار کوششیں کریں بھٹو نہیں بن سکتے۔
بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ حقائق یہ ہیں کہ یہ پہلے بھی سلیکٹڈ تھے۔ غیر آئینی تجاویز عمران خان کو دیا جا رہا ہے وہ جمہوریت کو سمیٹنے کے لیے دیا جا رہا ہے۔ یہ سلیکٹ ہوئے تو اٹھارہویں ترمیم کو ختم کرنے کے لیے ہوئے اور سلیکٹ ہوئے تو صوبوں کے حقوق پر ڈاکہ ڈالنے کے لیے ہوئے۔ قومی اسمبلی میری، شہباز شریف نہ کسی اور کی ہے یہ عوام کی ہے اور قومی اسمبلی کی عمارت کی بنیاد ذوالفقار علی بھٹو نے رکھی تھی۔
انہوں نے کہا کہ حکومتی بینچز پر 90 فیصد چہرے لوٹے ہی نظر آ رہے ہیں اور میں جہاں بھی دیکھوں لوٹا ہی لوٹا ہے۔ ہمارے پاس لوگ آئے تو لوٹا ان کے پاس جاتے ہیں تو الیکٹ ایبل۔ وزیر خارجہ بتائیں پہلی دفعہ پارٹی تبدیل کی تو کتنے پیسے لیے؟ اور وزیرخارجہ نے دوسری اور تیسری مرتبہ پارٹی تبدیل کی تو کتنے میں ضمیر بیچا؟
پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے کہا کہ میں بنگلہ دیش سے کہانی شروع کر کے کہاں ختم کروں یہ جذباتی ہو کر کہتے ہیں کہ ان کی بندوق کی نالی پر میں ہوں۔ لیکن میں جذباتی نہیں ہوتا۔
انہوں نے کہا کہ یہ کون سے ملکی ذخائر کی بات کر رہے ہیں، یہ سب تو میں چھوڑ کر گیا تھا اور ایک دن یہ لوگ سمجھیں گے کہ سیاسی یونیورسٹی صرف پیپلز پارٹی کے پاس ہے۔ ان کے پاس ہمارے کافی اسٹوڈنٹس بیٹھے ہوئے ہیں، وہ بھی واپس آئیں گے۔
آصف علی زرداری نے کہا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد مارکیٹ 700 پوائنٹس کا اضافہ ہوا۔ میں نہیں چاہتا کہ آپ کے خلاف سپریم کورٹ جائیں اور کہیں کہ اسپیکر نے ووٹ نہیں کرایا۔ انہیں سمجھ نہیں آتا یہ کیا باتیں ہیں یہ کیا راز ہے اور اگر میں نے کتاب لکھی تو اس میں سب ذکر کروں گا۔
انہوں نے کہا کہ اسپیکر صاحب میں نہیں چاہتا کہ کل آپ کے خلاف عدالت جاؤں اور کہوں آپ نے ووٹنگ نہیں کروائی۔
وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے کہا کہ 3 سال میں روزگار کے 55 لاکھ مواقع پیدا کیے گئے۔ بہت عرصے سے عمران خان کی حکومت گرانے کی منصوبہ بندی کی جارہی تھی۔ 7 مارچ کو مراسلہ بھیجا گیا اور 8 مارچ سے ان کی کامیابیاں شروع ہوگئیں۔ بتایا جائے یہ کون سی جمہوریت ہے جس کا نمونہ آج ہمیں مل رہا ہے اور ایک منحرف رکن نے کہا کہ 23 کروڑ روپے میں زندگی بہت اچھی گزرے گی۔ سینیٹ کا الیکشن سب کے سامنے ہے جو چوری کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ یوسف رضا گیلانی کے لیے ووٹ خریدے گئے جس کی ویڈیو موجود ہے۔ زرداری صاحب مبارکباد کے مستحق ہیں اور زرداری صاحب کا پیٹ کاٹ کر پیسہ نکالنے کا دعویٰ کرنے والے آج ان کے دربار پر حاضری دیتے ہیں اور گھٹنے پکڑتے ہیں۔ اگر عمران خان نہ ہوتا تو آصف زرداری کو بھی یہ مقام حاصل نہیں ہونا تھا۔
اسد عمر نے کہا کہ ضمیر فروشی کا دروازہ بند کرنے کے لیے بھی تو اپوزیشن آگے بڑھے اور یہ خود آگے بڑھیں تاکہ کوئی بندوق والا آگے نہ آسکے۔ کیا یہ سب پاکستان کے آئین کے مطابق ہو رہا ہے اور پاکستان آج اسی دوراہے پر کھڑا ہوا ہے، فیصلہ ہم نے کرنا ہے اور اس وقت فرق سیاسی جماعتوں کا نہیں بلکہ دو نظریوں کا ہے۔ ایک نظریئے کے تحت پاکستان کے 22 کروڑ عوام بھکاری ہیں اور دوسرا نظریہ یہ کہتا ہے کہ پاکستانی دنیا میں کسی سے کم نہیں ہیں۔
جمعیت علمائے اسلام (جے یو آئی) ف کے رہنما مولانا اسعد محمود نے اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا کہ ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ ووٹ کرائیں۔ اسپیکر صاحب آپ کہتے ہیں کہ میں سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق چلوں گا۔ آپ نے 3 اپریل کو بھی خط کا بہانہ بنا کر عدم اعتماد کو خارج کیا اور وزیراعظم کی اسمبلی تحلیل کرنے کی ریکارڈڈ ویڈیو سامنے آئی۔ خط کو بنیاد پر بنا کر آپ پارلیمان اورآئین کو زمیں بوس کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کیوں خط کی بنیاد پر عدم اعتماد کو خارج کیا گیا ؟ اب آپ کے پاس مینڈیٹ نہیں رہا اور آپ کا وزیر اعظم اب پاکستان کا وزیر اعظم نہیں رہا۔ بھٹو شہید کو آج بھی گالی دی جاتی ہے۔ ہم آئین اور پارلیمنٹ کی جنگ لڑ رہے ہیں اور یوسف رضا گیلانی کے بیٹے کو وفاداریوں کی پاداش میں اغوا کیا گیا تھا۔
مولانا اسعد محمود نے کہا کہ آج ایوان میں عمران خان کے نعرے لگانے والا ماضی میں نواز شریف اور بینظیر کے نعرے لگاتا رہا ہے۔ آپ کا عمران خان ہمارے خلاف ڈٹ کر کھڑا نہیں ہوسکتا تو امریکہ کے خلاف کیا کھڑا ہو گا۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں قومی سلامتی سے متعلق اجلاس میں شرکت کا کوئی خط نہیں ملا اور صرف شہباز شریف کو فون کیا گیا۔ یہ خط اور رولنگ کا مقدمہ سپریم کورٹ میں ہار چکے ہیں۔ ہم پہلے روز سے ان کی حکومت تسلیم کرتے لیکن صرف برداشت کر رہے تھے۔
واضح رہے کی 3 اپریل کو قومی اسمبلی اجلاس میں ڈپٹی اسپیکر نے تحریک عدم اعتماد مسترد کرنے کی رولنگ دیتے ہوئے اجلاس کو غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دیا تھا۔ جس کے بعد وزیر اعظم عمران خان نے اسمبلی تحلیل کرنے کے لیے صدر عارف علوی کو ایڈوائس دی تھی۔
صدر عارف علوی نے 3 اپریل کو ہی اسمبلی تحلیل کر دی تھی اور نگران وزیر اعظم کے لیے خطوط بھی لکھ دیے تھے۔ اپوزیشن نے ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو سپریم کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔
سپریم کورٹ نےمعاملے کا از خود نوٹس لیتے ہوئے5 دن صورتحال پر سماعت کی ۔ جس کے بعد ڈپٹی اسپیکر کی رولنگ کو غیر آئینی قرار دیتے ہو ئے اسمبلی بحال کر دی گئی تھی اور آج قومی اسمبلی اجلاس بلانے کا حکم دیا گیا تھا۔
پاکستان
حوثی حملوں کے بعد سعودی عرب کے دفاع کے لیے ہر ممکن مدد فراہم کریں گے: پاکستان
اسلام آباد، پاکستان نے یمن کے حوثی باغیوں کے سعودی عرب پر حملوں کے بعد مملکت کے دفاع کے لیے ”ہر ممکن مدد” فراہم کرنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبۂ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے ڈائریکٹر جنرل لیفٹیننٹ جنرل احمد شریف چوہدری نے ‘انڈیپنڈنٹ عربیہ’ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں یہ بات کہی۔ ان کا یہ بیان ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کی جانب سے سعودی سرزمین پر میزائل اور ڈرون حملوں میں اضافے کے درمیان سامنے آیا ہے۔
پاکستان مکہ مشترکہ دفاعی اتحاد کا رکن ہے، جس میں سعودی عرب اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس اجتماعی دفاعی معاہدے کے تحت کسی ایک رکن پر حملے کو تمام ارکان پر حملہ تصور کیا جائے گا اور دیگر ارکان متاثرہ ملک کے دفاع کے لیے آگے آئیں گے۔ تاہم، سعودی عرب پر حوثیوں کے حملوں میں مسلسل شدت کے باوجود اسلام آباد اور انقرہ نے اب تک بیانات جاری کرنے کے علاوہ کوئی عملی قدم نہیں اٹھایا ہے۔
چوہدری نے کہا کہ سعودی عرب کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور سلامتی، بالخصوص حرمین شریفین کی حفاظت، پاکستان کے لیے اولین ترجیح ہے۔ انہوں نے کہا، ”پاکستان کے لیے یہ معاملہ ناقابلِ سمجھوتہ اور قطعی ہے۔ اس مقصد کے لیے جس مدد کی ضرورت ہے، وہ فراہم کی جا رہی ہے اور آئندہ بھی فراہم کی جائے گی۔” انہوں نے مزید کہا کہ فوجی اتحاد اپنی مدد کی نوعیت اور اس کے پیمانے کی تفصیلات عام طور پر ظاہر نہیں کرتے۔
حوثی حملوں پر پاکستان میں ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے چوہدری نے کہا کہ ملک کے عوام، سیاسی قیادت اور فوجی قیادت میں بڑے پیمانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا، ”آخر کوئی بھی ذی شعور شخص سعودی عرب، مقدس مقامات پر حملہ کیوں کرے گا یا انہیں دھمکی کیوں دے گا، یا کم از کم ایسا تاثر کیوں پیدا کرے گا؟” ان کا کہنا تھا کہ اسلامی مقدس مقامات کی سلامتی کے معاملے میں کوئی شرط یا سمجھوتہ نہیں ہوسکتا۔
یہ پوچھے جانے پر کہ اگر حوثی حملے جاری رہے تو کیا اسلام آباد کی مدد صرف دفاعی نوعیت تک محدود رہے گی، چوہدری نے کہا کہ مکہ اتحاد کے تینوں ارکان اس بات پر متفق ہیں کہ معاہدے کا کوئی جارحانہ مقصد نہیں اور یہ مکمل طور پر دفاعی نوعیت کا ہے۔
اقوام متحدہ کے منشور کی دفعہ 51 کا حوالہ دیتے ہوئے، جو حقِ دفاع کو تسلیم کرتی ہے، انہوں نے کہا کہ اس اتحاد کا مقصد اجتماعی ردعمل کے ذریعے رکن ممالک کو لاحق خطرات کی روک تھام کرنا ہے۔ انہوں نے کہا، ”اگر یہ بازدارانہ حکمت عملی مؤثر ثابت نہیں ہوتی تو تینوں ممالک کو دستیاب تمام ذرائع استعمال کرتے ہوئے اسے دوبارہ مؤثر بنانا ہوگا۔”
سعودی نائب وزیر خارجہ کی جانب سے حوثیوں کے ساتھ ایران کے تعلقات کی نشاندہی کے بعد، جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا اسلام آباد نے تہران کو حملوں کے حوالے سے خبردار کیا ہے، تو چوہدری نے کہا کہ پاکستان کشیدگی میں مزید اضافے کو روکنے کے لیے تہران سمیت تمام فریقوں سے رابطے میں ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان رابطوں کا بنیادی مقصد ”کشیدگی کو کم کرنا” ہے اور تمام فریقوں کے ساتھ پاکستان کی بات چیت کا محور حالات کو معمول پر لانا ہے۔
چوہدری نے خبردار کیا کہ حوثیوں یا دیگر فریقوں کو تنازع میں شامل کرکے اس کا دائرہ وسیع کرنے سے بحران حل نہیں ہوگا۔ انہوں نے کہا، ”خواہ آپ اس میں حوثیوں کو شامل کریں یا دوسرے علاقوں تک پھیلائیں، اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ اس کا فائدہ صرف ان لوگوں کو ہوگا جو خطے میں افراتفری چاہتے ہیں۔”
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع ا ۔
پاکستان
پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں 5.8 شدت کا زلزلہ
اسلام آباد، پاکستان کے صوبہ بلوچستان میں ہفتہ کو 5.8 شدت کا زلزلہ آیا، جس کی گہرائی 15 کلومیٹر تھی۔ ہندوستان کے نیشنل سینٹر فار سیسمولوجی (این سی ایس) نے یہ اطلاع دی۔
ادارے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ زلزلہ 17 اکتوبر کو ہندوستانی معیاری وقت کے مطابق صبح 10 بج کر 37 منٹ پر آیا۔ زلزلے کا مرکز 27.944 ڈگری شمالی عرض البلد اور 66.532 ڈگری مشرقی طول البلد پر واقع تھا۔
زلزلے کے زمینی اثرات کا انحصار کئی عوامل پر ہوگا، جن میں آبادی والے علاقوں سے اس کا فاصلہ، مقامی ارضیاتی حالات اور زمین میں ارتعاش کی شدت شامل ہیں۔
زلزلے کے بعد فوری طور پر کسی جانی نقصان یا املاک کو پہنچنے والے نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔
پاکستان ہندوستانی اور یوریشیائی ٹیکٹونک پلیٹوں کی سرحد کے قریب واقع ہے، جہاں ان پلیٹوں کے ٹکراؤ سے زلزلہ خیز سرگرمیاں پیدا ہوتی ہیں۔ اسی وجہ سے ملک میں زلزلوں کا خطرہ رہتا ہے۔
جنوب مغربی پاکستان کا وسیع صوبہ بلوچستان زلزلے کے خطرات سے دوچار علاقوں میں شامل ہے۔ دیگر حساس علاقوں میں خیبر پختونخوا اور گلگت بلتستان شامل ہیں، جہاں فعال فالٹ لائنیں اور پیچیدہ پہاڑی سلسلے زلزلوں کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔ پنجاب اور سندھ کے بعض علاقے بھی زلزلہ خیز سرگرمیوں سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
اسلام آباد، پاکستان کے شمال مغربی شہر پشاور میں ایک اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 28 طلبہ اور ایک استاد ہلاک، جبکہ 20 سے زائد دیگر افراد زخمی ہوگئے۔
اسپتال کے ترجمان نے ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ زخمیوں میں سے بعض کی حالت نازک ہے۔
یہ حادثہ جمعرات کو خیبر پختونخوا کی راجدھانی پشاور میں واقع نجی اسکول الخیر ایجوکیشن سینٹر میں پیش آیا۔ حادثے کے بعد راحت اور بچاؤ کی ٹیمیں ملبے میں دبے افراد کی تلاش اور زندہ بچ جانے والوں کو نکالنے میں مصروف ہیں۔
اسپتال کے ترجمان محمد عاصم نے بتایا کہ حادثے میں ہلاک یا زخمی ہونے والے تمام بچوں کی عمر 13 سال یا اس سے کم ہے۔
لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زخمیوں کے علاج کے لیے ایمرجنسی نافذ کردی گئی ہے۔
اسلام آباد سے رپورٹنگ کرتے ہوئے الجزیرہ کے نمائندے کمال حیدر نے بتایا کہ گنجان آبادی والے علاقے میں اسکول واقع ہونے کی وجہ سے امدادی کارروائیوں میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بھاری مشینری، جو امدادی کارروائیوں میں اہم ثابت ہوسکتی تھی، جائے حادثہ تک نہیں پہنچ سکی۔ مقامی افراد اور امدادی ٹیمیں ملبہ ہٹانے اور اس کے نیچے دبے لوگوں کو نکالنے کے لیے بالٹیوں اور دیگر برتنوں کا استعمال کر رہی ہیں۔ اس اسکول میں تقریباً 350 طلبہ رجسٹرڈ ہیں۔”
انہوں نے کہا کہ ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ زخمی طلبہ کی بڑی تعداد اسپتال میں زیر علاج ہے، جن میں سے بعض کی حالت تشویش ناک ہے۔
حکام نے حادثے کی وجوہات کا تعین کرنے کے لیے تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔
پاکستان کے نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں کہا، ”ہمارے بچے ہمارا سب سے قیمتی سرمایہ ہیں اور اس طرح کا ہر نقصان پورے ملک کے لیے ایک سانحہ ہے۔ میری دلی تعزیت اور دعائیں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، ”وزیر اعظم اور حکومت نے اس صورت حال کا سنجیدگی سے نوٹس لیا ہے۔ ہمارے بچوں کی حفاظت اور سلامتی کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہنی چاہیے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی کے سورو داس اور آشوتوش رانکا پانچ دنوں کی عدالتی تحویل میں
