تازہ ترین
جموں وکشمیر میں جمہوریت کہیں نہیں، جان بوجھ کر ایک سوچے سمجھے طریقے سے مذہبی، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر دشمنی پیدا کی جارہی ہے/ عمر عبدا للہ
جموں، (یو این آئی): جموں وکشمیر نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے خطہ پیرپنچال کے دورے کے تیسرے روز مینڈھر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے اس عزم کو دہرایا کہ نیشنل کانفرنس جموں وکشمیر کی پہنچان،وحدت اور انفرادیت کے ساتھ ساتھ یہاں کے نوجوانوں کے بہتر مستقبل کیلئے لڑتی رہے گی اور اْمید ظاہر کیاکہ ہمیں اس لڑائی میں ضروری کامیابی حاصل ہوگی۔
عمر عبداللہ نے اپنا خطاب جاری رکھتے ہوئے کہا کہ ”نیشنل کانفرنس ایک جمہوری جماعت ہے، ہم جمہوریت میں یقین رکھتے ہیں، ہم کہتے ہیں کہ ہمارے ساتھ جو ہواوہ غیر قانونی اور غیر آئین تھا، ہم اس بات میں یقین نہیں رکھتے کہ نوجوانوں کے ہاتھوں میں پتھر دیکر سڑکوں پر لڑیں، ہم سڑکوں پر نہیں بلکہ عدالت میں لڑیں گے۔
اللہ کا شکر ہے کہ دیر آید درست آید سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے یہ تسلیم کیا ہے دفعہ370 کے معاملے پر سماعت شروع ہونی چاہئے۔
اور ہم اْمید کررہے ہیں کہ سپریم کورٹ میں گرمی کی چھٹیاں ختم ہوتے ہی سماعت شروع ہوگی اور ہمارا ماننا ہے کہ ہمارا موقف مضبوط ہے اور ہمیں کامیابی نصیب ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ”ہمارے ادارے صحیح ہیں، ہماری نیت صاف ہے، ہم دھوکہ دینے والے لوگ نہیں ہیں، ہم سچ کو جھوٹ اور جھوٹ کو سچ میں تبدیل نہیں کرتے اگر چہ اس کیلئے وفتاً فوقتاً ہمیں بھی سزا ملتی ہے، لیکن کوئی بات نہیں وہ ہم برداشت کرلیں گے۔
لیکن جو لڑائی ہم لڑ رہے ہیں وہ صحیح اور حق پر مبنی ہے اور ہم جموں وکشمیر کے عوام کے حقوق کیلئے ہر حال میں جدوجہد کرتے رہیں گے۔“
انہوں نے بھاجپا سے مخاطب ہوئے ہوئے کہا کہ ”یہاں کے لوگ غریب اور بے بس ضرور ہوسکتے ہیں لیکن اتنے بے قوف نہیں ہیں جو آپ کے جھانسوں میں آئیں گے۔2018سے تو یہاں مکمل طور پر آپ کا (بھاجپا کا) کنٹرول ہے، یہاں کے عوام کیلئے کون سے بہتری آئی؟
ہم نے 5اگست2019 دیکھا، اْس وقت بڑی بڑی باتیں ہوئیں۔ہمارے نوجوانون سے کہا گیا تھا کہ بس اب آپ دیکھئے کہ کتنا بدلا? آئے گا، آپ کیلئے نیا جموں وکشمیر قائم ہوگا، یہ ہل والے ترقی کے راستے میں رکاوٹ ہیں۔
اگر ہم رکاوٹ تھے تو آپ نے کیا کیا؟اسی لئے ہم یہ بات پوچھنے کیلئے مجبور ہوجاتے ہیں کہ 5اگست2019کو اس ریاست کو کیا فائدہ پہنچا؟بی جے پی کو اس چیز کو ملک میں بھیچ کر سیاسی فائدہ ملا ہوگا لیکن یہاں کے رہنے والوں کو اس کا کیا فائدہ ملا؟“۔
انہوں نے کہا کہ اگر ہم تعمیر و ترقی اور امن و خوشحالی کی صورت میں وہیں ہوتے جہاں پر 5اگست 2019میں تھے ہمیں وہ بھی قبول تھا لیکن آپ نے تو ہمیں دہائیوں پیچھے دھکیل دیا۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ گذشتہ برسوں کے دوران بھرتی عمل پر مسلسل بریک ہے۔ ہمارے دور میں آر ای ٹی، این آر ایچ ایم اور دیگر بھرتیاں ہوتی تھیں۔
انہوں نے کہاکہ دور دراز پہاڑی علاقوں میں ڈی جی کو ہیلی کاپٹر میں اترواتے تھے اور وہیں ڈی جی بھرتی عمل میں لائی جاتی تھی۔نوجوانوں کی لائن لگتی تھی، کوئی اْن سے نہیں پوچھتا تھا کہ آپ کا مذہب کیا ہے؟
آپ کی ذات کیا ہے؟کیاآپ ہل کیساتھ چلتے ہو، ہاتھ کیساتھ چلتے ہویا کمل کیساتھ چلتے ہو؟فیتہ نکلتا تھا، اْمیدوار کا قد اور چھاتی برابر نکلتی تھی اور ریس میں کامیاب ہوتا تھا تو ڈی جی صاحب وہیں بھرتی کاآرڈر ہاتھ میں تھما دیتا تھا۔
آج کہاں ہے وہ سب؟این سی نائب صدر نے کہاکہ جس تعمیر و ترقی کی باتیں کی گئی تھی وہ ترقی کہاں ہے؟ پونچھ سے مینڈھر روڑ کا حال یہ ہے کہ یہاں آتے آتے ہماری ہڑیاں ہل گئیں۔بجلی کہاں ہے؟ ہمیں تو ماہ رمضان میں سحری اور افطا رکے وقت بجلی سے محروم رکھا گیا جبکہ ماضی میں ہر ایک حکومت کی یہی کوشش رہتی تھی کہ کم از کم سحری اور افطار کے وقت صارفین کو بجلی فراہم ہوسکے۔
لیکن یہاں بجلی کہیں نہیں اور میٹر لگانے میں جلدی کی جارہی ہے، وہ بھی سمارٹ میٹر، کیا سمارٹ میٹر سے بجلی آئے گی؟ جناب پہلے صارفین کو بجلی فراہم کیجئے پھر سمارٹ میٹر لگانے کی سوچئے۔ انہوں نے کہا کہ اب تو نکلوں کے میٹر بھی لگانے کے منصوبے بنائے جارہے ہیں۔ نکلوں میں پانی نہیں لیکن میٹر لگانا پہلی ترجیح ہے۔
عمر عبداللہ کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر میں جمہوریت کہیں نہیں، روزگار کہیں نہیں، ترقی کہیں نہیں اور امن و امان کہیں نہیں۔ 5اگست 2019سے متعلق نئی دلی کے تمام دعوے سراب ثابت ہوچکے ہیں۔
آج لوگ ڈرے اور سہمے ہوئے ہیں، یہاں تک کہ اب کشمیری باہری ریاستوں میں جانے بھی کتراتے تھے، پیرپنچال کے ہزاروں مزدور گرمیوں میں باہری ریاستوں میں مزدوری کیلئے جاتے تھے لیکن آج لکھن پورے سے آگے جانے سے گھبراہے ہیں کہ کہیں اْن کو نشانہ نہ بنایا جائے۔
ہماری ہر ایک چیز پر حملے کئے جارہے ہیں۔ ہم کس طرح اپنے خدا کو یاد کرتے ہیں،ہم کس طرح اپنے لوگوں کو مسجد میں بلاتے ہیں ان سب کاموں پر حملے کئے جارہے ہیں، ہماری بچیاں حجاب پہن کر کالج جانا پسند کرتی ہیں، یہ بات بھی ان کو کھٹکتی ہے۔
جان بوجھ کر ایک سوچے سمجھے طریقے سے مذہبی، علاقائی اور لسانی بنیادوں پر دشمنی پیدا کی جارہی ہے اور ہمیں بحیثیت قوم ان سب منصوبوں سے ہوشیار رہنے کی ضرورت ہے۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
