Connect with us

تجزیہ

ریلوے پلیٹ فارم پر زندگی گزارنے کو مجبور بے سہارا بچے

Published

on

مامونی داس
(دہلی)

پونیت ایک 18 سالہ نوجوان ہے۔ جب وہ نئی دہلی ریلوے اسٹیشن پر ایک کوڑے دان سے خالی پلاسٹک کی پانی کی بوتلیں اٹھاتا ہے توبامقصد نظر آتا ہے لیکن تھوڑا سا بے چین بھی دیکھائی دیتا ہے۔ صبح کی دھوپ نکل رہی ہے اور اس کے پورے دن کے منصوبے ترتیب دیے جا چکے ہیں۔ اب وہ ردی والی گلی (کوڑے کے خریداروں کی گلی) کی طرف بڑھے گا جہاں اسے پلاسٹک کی بوتلیں ری سائیکلرز کو فروخت کرنے کی امید ہے۔ جب وہ چھوٹا تھا تو پیٹ بھرنے کے لیے بھیک مانگتا تھا۔ اس نے چنا (چنے پر مبنی ناشتہ) فروش کے طور پر بھی کام کیا، اور مایوس کن حالات میں، چند موبائل فون بھی چرائے ہیں۔ 18 سالہ ایک اور نوجوان ترون، جو ریلوے اسٹیشن کے 16 پلیٹ فارمز میں سے ایک دوسرے پلیٹ فارم سے خالی بوتلیں اکٹھا کرتا ہے۔ جب وہ ری سائیکلرز کے پاس جاتے ہیں تو دونوں ایک ساتھ ہو جاتے ہیں۔

پونیت اور ترون ان لاکھوں بچوں میں سے ہیں جن کی اپنی کوئی شناخت نہیں ہے اور جو ملک بھر کے ریلوے اسٹیشنوں پر کام کرتے اور وہیں اپنی زندگی گزارنے پر مجبور ہو تے ہیں۔ ریلوے پلیٹ فارم کے ارد گرد صفائی کے عملے اور دیگر لوگوں کے ذریعہ انہیں عام طور پر کنگلے (بے آسرا) کہا جاتا ہے۔ ریلوے پلیٹ فارم ہمیشہ سے بہت سے لوگوں، خاص طور پر بچوں کے لیے روزی روٹی کا ذریعہ رہا ہے۔ جو کام یہاں بچے کرتے ہیں وہ اس لیے غیر قانونی مانے جاتے ہیں کیونکہ اس طرح کے کام کرنے والے بچے نابالغ ہوتے ہیں۔ لوگوں کے ذریعہ استعمال شدہ پلاسٹک کی بوتلیں ٹرینوں، پلیٹ فارمز یا بڑے اسٹیشنوں کے آس پاس سے یہ بچے اکٹھا کرتے ہیں اور انہیں وہ ری سائیکلرز کو فروخت کرتے ہیں۔ کچھ بچے بھیک مانگتے ہیں اور کچھ ایسے بچے بھی ہوتے ہیں جو سامان بیچتے ہیں۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ریلوے کے ڈبوں کو صاف صاف کرتے ہیں اور تھوڑی سی تعداد ایسے بچوں کی بھی ہوتی ہے جو چھوٹی موٹی چوری میں بھی ملوث ہوتے ہیں۔

بہر کیف، جن بچوں کو اسکول جانا چاہیے وہ اپنی پسند کے بجائے حالات سے مجبور ہو کر مشقت بھری زندگی گزارنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ اور صرف مٹھی بھر ایسی تنظیمیں ہیں جو ان بچوں کی زندگیوں میں تبدیلی لانے پر توجہ مرکوز کرتی ہیں۔ بہت سے بچے مذکورہ سرگرمیوں میں سے ایک سے زیادہ سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں۔ واقعاتی شہادتوں سے پتہ چلتا ہے کہ چھوٹے بچے ابتدا میں بھیک مانگنا شروع کر تے ہیں اور پھر آہستہ آہستہ استعمال شدہ پانی کی بوتلیں جمع کرکے انہیں فروخت کرنے کے کام لگ جاتے ہیں۔ان بچوں کے لیے وبائی بیماری ایک بڑے جھٹکے کے طور پر آئی اور ان کی روزمرہ کی روزی روٹی اور بقا پر سوالیہ نشان لگا گئی۔کوویڈ کے دوران پونیت اور ترون جیسے بچوں کے لیے ریلوے پلیٹ فارم کے ارد گرد سے کمائی کے آپشنز نہیں تھے کیونکہ ریلوے نے لاک ڈاؤن کے دوران کام روک دیاتھا۔وبائی بیماری کے آنے کے بعد انجو کو ٹرین کے ڈبوں میں بھیک مانگنے کی بجائے سڑکوں پر آنا پڑا۔ وہ بچے جو وبائی امراض کے دوران ریلوے پلیٹ فارم سے غائب ہو گئے تھے وہ مندروں یا سڑکوں پر بھیک مانگ کر یا ہاکنگ کرکے متبادل ذریعہ معاش تلاش کرنے پر مجبور تھے۔ دوسرے کچی آبادیوں میں اپنے گھروں کو واپس چلے گئے۔اندازے کے مطابق وہ غربت ہی ہے جس نے زیادہ تر بچوں کو بھیک مانگنے اور ریلوے اسٹیشنوں پر کام کرنے پر مجبور کیا ہے۔ کچھ نے اس لیے گھر چھوڑ دیا کیونکہ وہ اپنی زندگی اپنے طریقے سے گزارنا چاہتے تھے اور اپنے گھرکے ماحول سے بے چین تھے لیکن یہ ہر کسی کی کہانی نہیں تھی۔ بہت سے بچوں نے اپنا گھر اس لیے چھوڑ دیا کیونکہ وہ اپنے والدین پر بوجھ نہیں بننا چاہتے تھے کیونکہ ان کے والدین پہلے ہی کام اور نقدی کی مر کھا رہے تھے۔

بہر کیف، ہر ایک کو خاندان سے الگ نہیں ہونا پڑتا ہے۔ کچھ اپنے والدین کے ساتھ رہتے ہیں مگر اہل خانہ کی آمدنی تعاون کرنے کے لیے ریلوے اسٹیشنوں پر کام کرتے ہیں۔ لیکن ان سبھی کی کہانیاں اس بات کی عکاسی کرتی ہیں کہ کس طرح سماجی اور حکومتی کوششیں حقیقت میں تمام بچوں کو معمول کی زندگی گزارنے اور اسکول جانے کا احاطہ نہیں کرتی ہیں۔ بہر صورت، اس طرح کے مسائل کو حل کرنے کے لئے کمیونٹی کی شمولیت کے ساتھ لوگوں میں بیداری پیدا کرنا نہایت ضروری عمل ہے۔ان کے خاندانوں کے حالات کو بہتر بنانے کے اقدامات کے ساتھ ساتھ بیداری بھی ضروری ہے۔صرف بچوں کو بچانا اور انہیں ان کے گھروں تک پہنچانا کوئی دیرپا حل نہیں ہے کیونکہ اضافی آمدنی حاصل کرنے کے لیے والدین اپنے بچوں کو واپس پلیٹ فارم پر بھیج سکتے ہیں۔ یا انہیں غیر رسمی لیبر مارکیٹ میں دھکیلا جا سکتا ہے۔ترون اور پونیت دونوں ٹوٹے ہوئے گھروں سے آئے ہیں۔ تاہم، پونیت اور ترون جیسے بچوں کی ایک بڑی تعداد ایسی بھی ہے جو گھر کے مشکل حالات سے تنگ آکر بھاگ کر آتے ہیں، یا پھر یوں کہیں کہ ان کے پاس واپس جانے کے لیے کوئی گھر نہیں ہوتا ہے۔ کچھ دوسرے قسم کے بچے بھی ہوتے ہیں جیسے پریتم، جس نے نے پڑھائی میں درپیش مسائل کا مقابلہ کرنے سے قاصر ہو کر اسکول چھوڑ دیا اور اپنے طور پر رہنے کا انتخاب کیا۔

ان جیسے بچوں کو اسکولوں میں واپس لانے اور مرکزی دھارے سے جوڑنے کے لیے ایک مثبت کوشش کے ساتھ اس میں سرمایہ کاری کرنے کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے ایک ایسے جامع نقطہ نظر کی بھی ضرورت ہے جس میں خاندان، برادری اور حکومت سبھی شامل ہوں۔ جن بچوں نے اسکول چھوڑ دیا ہے ان کو دوبارہ اسکول جانے کی تلقین کرتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرنے کی ضرورت ہے تاکہ وہ اپنے تعلیمی میدان میں دلجمعی کے ساتھ مصروف ہو سکیں۔ تعلیمی میدان رفتار پکڑنے میں ان کی مدد کے لیے انہیں برج کلاسز بھی فراہم کی جانی چاہئے۔ اسی طرح نوجوانوں کے لیے آموزشی پروگرام مہیا کیے جانے کی ضرورت ہے تاکہ وہ لکھنا پڑھنا سیکھ سکیں پھر ہنر مندی کے لئے خاص طور پر ڈیزائن کیے گئے پروگراموں میں اندراج کر سکیں۔الغرض، اگر ہم چاہتے ہیں کہ ریلوے پلیٹ فارم اور اس کے اردگرد کے علاقوں میں ترون اور پنیت جیسے افراد بھی بہتر اور اچھی زندگی گزاریں تو اس کے لیے ریلوے پلیٹ فارم کے بچوں کو بہتر متبادل، بحال زندگی، اور دوبارہ انضمام کی ضرورت ہے۔(چرخہ فیچرس)

یہ مصنف کی ذاتی رائے ہے۔

Continue Reading

تجزیہ

مصنوعی ذہانت اور ہندوستانی زراعت: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی نئی راہیں

Published

on

خصوصی مضمون: ظفراقبال

موسمیاتی تبدیلی آج دنیا بھر میں زراعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، غیر متوقع بارش، خشک سالی، سیلاب اور پانی کی قلت نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ ہندوستان جیسے زرعی ملک میں اس صورت حال کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں لاکھوں خاندانوں کا روزگار کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ ایسے حالات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے یہ امید وابستہ کی جارہی ہے کہ وہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی پیداوار بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

اسی مقصد کے تحت گوگل نے حیدرآباد میں قائم انٹرنیشنل کراپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار دی سیمی اَرِڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی) اور دنیا کے دیگر تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے ایسی فصلوں کی تیاری کو فروغ دینا ہے جو خشک سالی اور موسمیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کرسکیں۔ اس منصوبے میں جوار جیسی غذائیت سے بھرپور فصلوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔

ہندوستان میں زراعت کا بڑا حصہ مون سون کی بارشوں پر منحصر ہے۔ بارشوں میں بے قاعدگی، شدید گرمی اور پانی کی کمی کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ کبھی بارش وقت پر نہیں ہوتی اور کبھی مختصر مدت میں اتنی زیادہ بارش ہوجاتی ہے کہ کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر چھوٹے اور متوسط کسان ہوتے ہیں، جن کے پاس فصلوں کے نقصان کو برداشت کرنے کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں۔

موسمیاتی تبدیلی کے باعث روایتی زرعی طریقوں پر انحصار بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں جدید ٹیکنالوجی کسانوں کو موسم کی پیش گوئی، آب پاشی، بیجوں کے انتخاب اور فصلوں کی دیکھ بھال کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موسمیاتی اور زرعی معلومات کا تجزیہ کرکے ان مسائل کے ممکنہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

گوگل اس منصوبے کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت کی تحقیقی شاخ گوگل ڈیپ مائنڈ اور غیر منافع بخش اقدامات سے متعلق ادارے گوگل ڈاٹ آرگ کی مدد لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں قائم آئی سی آر آئی ایس اے ٹی، ہڈسن الفا انسٹی ٹیوٹ فار بایوٹیکنالوجی اور واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبہ جینوم سائنسز کے ساتھ بھی تعاون کیا جارہا ہے۔

اس شراکت داری کا مقصد ایسی فصلوں کی ترقی کو تیز کرنا ہے جو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت جیسے ناموافق حالات میں بھی بہتر طور پر نشوونما پاسکیں۔ اس کے لیے فصلوں کی جینیاتی خصوصیات کا مطالعہ اور ان اقسام کی شناخت اہم ہوگی جو موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہیں۔

گوگل انڈیا کی کنٹری منیجر پریتی لوبانا اور گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈی نیس آفیسر لیلا ابراہیم کے مطابق، یہ کوشش زرعی لچک کے ایک اہم ذریعے کے طور پر جوار پر ہندوستان کی توجہ سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس طرح مقامی تحقیق کو عالمی غذائی تحفظ کے وسیع تر مقصد سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

جوار ہندوستان کی ایک اہم غذائی فصل ہے، جو نسبتاً کم پانی میں بھی اگ سکتی ہے۔ اس کی یہی خصوصیت اسے خشک سالی اور پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کے لیے مفید بناتی ہے۔ جوار میں توانائی، غذائی ریشہ اور مختلف غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ متوازن غذا کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔

اس فصل کی اہمیت صرف انسانی خوراک تک محدود نہیں۔ اسے مویشیوں کے چارے اور بعض صنعتی مقاصد، بشمول حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر سائنسی تحقیق کے ذریعے جوار کی ایسی اقسام تیار کی جاسکیں جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کو بہتر طور پر برداشت کریں تو اس سے کسانوں اور غذائی تحفظ دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

گوگل کے منصوبے کا ایک اہم مقصد جوار کی مقامی اقسام کی جینیاتی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ایک جینیاتی اٹلس تیار کرنا ہے۔ اس سے محققین کو مختلف اقسام کے درمیان فرق جاننے اور مفید خصوصیات کی شناخت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

فصلوں کی نئی اور بہتر اقسام تیار کرنے کے لیے سائنس دانوں کو ان کی جینیاتی خصوصیات اور مختلف ماحول میں ان کی کارکردگی کا تفصیلی مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موجود معلومات کا تجزیہ کرکے ان جینیاتی عوامل کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے جو خشک سالی برداشت کرنے، بیماریوں کے خلاف مزاحمت یا بہتر پیداوار جیسی خصوصیات سے وابستہ ہوتے ہیں۔

جینیاتی اٹلس کی مدد سے محققین جوار کی مختلف اقسام کی خصوصیات کو منظم انداز میں سمجھ سکیں گے۔ اس سے مستقبل میں فصلوں کی افزائش کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ عمل فوری نتائج دینے والا نہیں۔ نئی اقسام کی تیاری، تجرباتی کاشت اور مختلف علاقوں میں ان کی موزونیت جانچنے کے لیے وقت اور مسلسل تحقیق درکار ہوگی۔

مصنوعی ذہانت کا استعمال موسم کی پیش گوئی، فصلوں کی بیماریوں کی شناخت اور پانی کے بہتر استعمال میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔ اگر ان سہولتوں کو کسانوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے تو زرعی نقصانات کم کرنے اور پیداوار بہتر بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔

مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی مشورے اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب وہ کسانوں کی عملی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ کسانوں کو مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کرنا، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی بڑھانا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دینا ضروری ہے۔

اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد صرف بڑے کسانوں تک محدود نہ رہ جائیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے کم خرچ اور آسانی سے دستیاب سہولتیں فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے مشوروں کی درستگی جانچنا اور انہیں مقامی موسمی حالات، زمین اور پانی کی دستیابی کے مطابق بنانا بھی ضروری ہے۔

روایتی زرعی علم کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے جدید تحقیق کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ مقامی بیجوں اور فصلوں کے تنوع کا تحفظ بھی اہم ہے، کیونکہ یہی تنوع مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قیمتی وسائل فراہم کرسکتا ہے۔

گوگل اور تحقیقی اداروں کی شراکت داری ہندوستان میں زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ جوار جیسی فصلوں پر تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جینیاتی معلومات کا تجزیہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔

تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب تحقیق کے نتائج کسانوں تک پہنچیں، نئی فصلیں مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان کے فوائد عام کسانوں کے لیے قابلِ حصول بنائے جائیں۔ مصنوعی ذہانت موسمیاتی تبدیلی کا مکمل حل نہیں، لیکن سائنسی تحقیق، روایتی علم اور پائیدار زرعی پالیسیوں کے ساتھ مل کر یہ ہندوستان کے غذائی تحفظ اور کسانوں کی معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

ال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ

Published

on

خصوصی مضمون: ظفراقبال

سمندر زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک اہم ستون ہیں۔ یہ نہ صرف عالمی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ بے شمار جانداروں کو پناہ فراہم کرنے، غذائی وسائل مہیا کرنے اور ساحلی آبادیوں کے معاشی استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام کے اہم ترین اجزا میں مرجان کی چٹانیں شامل ہیں، جنہیں سمندر کے بارانی جنگلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چٹانیں اپنی غیر معمولی حیاتیاتی تنوع، قدرتی خوب صورتی اور ماحولیاتی افادیت کے باعث دنیا بھر میں اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم، عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور سمندری پانی کے مسلسل گرم ہونے نے ان کے وجود کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔

ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے کے علاقے مرجان کی چٹانوں کے اہم مراکز ہیں۔ یہاں موجود مرجان نہ صرف سمندری حیات کے تحفظ میں معاون ہیں بلکہ ماہی گیروں کی روزی روٹی، ساحلی تحفظ اور مقامی معیشت سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے اور ال نینو جیسے موسمیاتی مظاہر نے ان چٹانوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔

سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2026-27 میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والا انتہائی شدید ال نینو مرجان کی وسیع پیمانے پر بلیچنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت حال نے مرجان کے تحفظ، سائنسی نگرانی اور طویل مدتی ماحولیاتی منصوبہ بندی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔

مرجان کی چٹانیں سمندر میں پائے جانے والے چھوٹے جانداروں یعنی مرجان کے پولپس کی طویل عرصے میں تشکیل پانے والی ساختیں ہیں۔ یہ جاندار کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل سخت ڈھانچے بناتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ وسیع چٹانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے اندر اور آس پاس مختلف اقسام کی مچھلیاں، مولسکس، کرسٹیشینز اور دیگر سمندری جاندار رہتے ہیں۔ اس طرح مرجان کی چٹانیں سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی اہم مسکن فراہم کرتی ہیں۔

ان چٹانوں کی اہمیت صرف سمندری جانداروں تک محدود نہیں۔ یہ ساحلی علاقوں کو لہروں کی شدت سے بچانے، ساحلی کٹاؤ کم کرنے اور بعض حالات میں طوفانی لہروں کے اثرات محدود کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان سے وابستہ سمندری وسائل مقامی ماہی گیری اور سیاحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ چنانچہ مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان دراصل ایک پورے ماحولیاتی اور معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔

مرجان کی بلیچنگ اس وقت ہوتی ہے جب سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھنے کے باعث مرجان اپنے اندر رہنے والی خوردبینی کائی کو کھو دیتے ہیں یا ان کے ساتھ ان کا تعلق متاثر ہو جاتا ہے۔ ان کائی کو زوکسانتھیلی (Zooxanthellae) کہا جاتا ہے۔ یہ مرجان کو خوراک بنانے میں مدد دیتی ہیں اور انہیں ان کے مخصوص رنگ بھی فراہم کرتی ہیں۔ جب مرجان شدید حرارتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ ان کائی کو خارج کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا رنگ مدھم یا سفید پڑ جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو بلیچنگ کہا جاتا ہے۔بلیچنگ کا مطلب لازماً مرجان کی موت نہیں ہوتا۔ اگر درجہ حرارت بروقت معمول پر آ جائے اور حرارتی دباؤ زیادہ دیر برقرار نہ رہے تو مرجان صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر پانی طویل عرصے تک گرم رہے تو مرجان کو خوراک کی کمی، بیماریوں اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

ال نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں میں سمندر کی سطح کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے وابستہ ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے۔ یہ دنیا کے مختلف خطوں میں بارش، خشک سالی، درجہ حرارت اور ہواؤں کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات ہر خطے میں یکساں نہیں ہوتے، تاہم بعض حالات میں یہ پہلے سے جاری عالمی حدت کے اثرات کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔عالمی حدت کے باعث سمندر پہلے ہی اضافی حرارت جذب کر رہے ہیں۔ جب ال نینو کی کیفیت اس صورت حال کے ساتھ ملتی ہے تو بعض سمندری علاقوں میں پانی کا درجہ حرارت مرجان کی برداشت کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ نتیجتاً بلیچنگ کے وسیع واقعات رونما ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

موسمیاتی ماہرین نے 2026-27 کے دوران شدید ال نینو کے ممکنہ خطرے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر نے اس عرصے میں انتہائی شدید ال نینو واقعے کے امکان کو 90 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ تاہم، کسی موسمیاتی پیش گوئی کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے، ال نینو کی شدت، دورانیے اور علاقائی اثرات کے بارے میں مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ اس کے باوجود ممکنہ خطرے کے پیش نظر مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔

تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے مرجان کی چٹانوں کے اہم علاقے ہیں۔ خلیجِ منار اپنی سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہے، جبکہ پالک بے بھی مرجان اور دیگر سمندری جانداروں کے لیے اہم مسکن فراہم کرتی ہے۔ ان علاقوں کی چٹانیں سمندری ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے ساتھ مقامی ماہی گیروں کی معاشی سرگرمیوں میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو 1998، 2010، 2016 اور 2024 کے ال نینو سے وابستہ برسوں میں شدید بلیچنگ اور مرجان کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ 2005 سے گرمیوں کے دوران پانی کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے پر ہر سال بلیچنگ کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ تاہم، درجہ حرارت کم ہونے کے بعد بعض چٹانیں دوبارہ صحت یاب بھی ہوئی ہیں۔یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ مرجان کی بقا کے لیے صرف درجہ حرارت میں اضافے کا جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ پانی کتنی دیر تک گرم رہتا ہے اور مرجان کو بحالی کے لیے کتنا وقت ملتا ہے۔ مختصر دورانیے کی حدت کے مقابلے میں طویل عرصے تک بلند درجہ حرارت زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔

تمل ناڈو کے محکمہ جنگلات اور سگنتھی دیواداسن میرین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی ایم آر آئی) کے تعاون سے خلیجِ منار میرین نیشنل پارک کے تحت مرجان کی چٹانوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس سال 7 سے 12 مئی کے درمیان کیے گئے مشترکہ زیرِ آب سروے میں خلیجِ منار کے 12 جزیروں اور شمالی پالک بے کے مرجانی علاقوں کا جائزہ لیا گیا۔سروے کے دوران سمندری پانی کا درجہ حرارت 31.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو مرجان کی بلیچنگ کے لیے تشویش ناک حد ہے۔ تاہم، جون میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے آنے کے باعث بلیچنگ کی شدت محدود رہی اور اس کے نتیجے میں مرجان کی ہلاکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق، خلیجِ منار میں بلیچنگ کا اوسط دائرہ 3.69 فیصد تھا، جبکہ پالک بے میں یہ شرح 13.9 فیصد رہی۔ پالک بے میں 10.8 فیصد مرجانی حصہ مکمل اور 3.1 فیصد جزوی بلیچنگ سے متاثر ہوا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں علاقوں میں بلیچنگ کی شدت مختلف رہی اور پالک بے میں صورت حال نسبتاً زیادہ تشویش ناک تھی۔ستمبر اور اکتوبر کے دوران غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت نے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ اس مدت میں بلیچنگ کی اطلاع نہیں ملی، لیکن درجہ حرارت کی روزانہ نگرانی جاری ہے۔ یہ نگرانی اس لیے اہم ہے کہ بلیچنگ کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی پانی کا مسلسل گرم رہنا مرجان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔

مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور قابلِ اعتماد سائنسی معلومات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ خلیجِ منار میرین بایوسفیئر ریزرو کے وائلڈ لائف وارڈن اکھل تامبی کے مطابق تمل ناڈو کو طویل مدتی بنیادی معلومات اور نگرانی کے پہلے سے موجود نظام کا فائدہ حاصل ہے۔ اس نظام کی مدد سے بڑے پیمانے پر نقصان ہونے سے پہلے غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔اسی طرح ایس ڈی ایم آر آئی کے ڈائریکٹر ایڈورڈ جے کے پیٹرسن نے نشاندہی کی ہے کہ نگرانی کے ذریعے قلیل مدتی حرارتی دباؤ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی بلیچنگ کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے محکمہ جنگلات کو مناسب وقت پر اقدامات کرنے کا موقع ملتا ہے۔نگرانی کے مؤثر نظام میں سمندری درجہ حرارت کی باقاعدہ پیمائش، مرجان کی صحت کا جائزہ، بلیچنگ کے پھیلاؤ کی نقشہ بندی اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل جانچ شامل ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ مختلف اوقات میں حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تقابل بھی ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مرجان کن حالات میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور کون سے علاقے نسبتاً زیادہ حساس ہیں۔

مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور معاشی سرگرمیوں سے بھی براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ ان چٹانوں پر انحصار کرنے والی متعدد سمندری انواع کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے موزوں ماحول ملتا ہے۔ اگر مرجان بڑے پیمانے پر تباہ ہو جائیں تو ان سے وابستہ جانداروں کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں مقامی ماہی گیروں کو مچھلیوں کی دستیابی میں کمی، ماہی گیری کے اخراجات میں اضافے اور آمدنی میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مرجان کی چٹانوں سے وابستہ سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ ہے۔مزید برآں، مرجان کی چٹانیں ساحلی علاقوں کو لہروں کی توانائی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی خرابی بعض مقامات پر ساحلی کٹاؤ اور طوفانی لہروں کے اثرات کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے مرجان کا تحفظ ماحولیاتی پالیسی کے ساتھ ساتھ ساحلی آبادیوں کے معاشی اور سماجی تحفظ کا بھی اہم جزو ہونا چاہیے۔

تمل ناڈو کا محکمہ جنگلات مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے طویل مدتی انتظامی منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ ریاست کے چیف وائلڈ لائف وارڈن راکیش کمار ڈوگرا کے مطابق، ماضی میں بلیچنگ کے واقعات اور آب و ہوا سے متعلق دیگر خلل کے تجربات کو خلیجِ منار میرین نیشنل پارک اور بایوسفیئر ریزرو کے آئندہ دس سالہ انتظامی منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے محض ہنگامی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ ضروری ہے کہ واقعے سے پہلے اس کے دوران اور بعد میں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی واضح ہو۔ اس میں ابتدائی انتباہ، متاثرہ علاقوں کی فوری جانچ، نقصان کی سائنسی تشخیص اور بحالی کے اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔اس کے ساتھ مرجان کی چٹانوں پر انسانی دباؤ کم کرنا بھی ضروری ہے۔ غیر پائیدار ماہی گیری، سمندری آلودگی، پلاسٹک کے فضلے، ساحلی ترقی اور دیگر مقامی عوامل مرجان کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان مسائل کا خاتمہ عالمی حدت کو فوری طور پر نہیں روک سکتا، لیکن ان میں کمی مرجان کی قدرتی بحالی کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔

تحفظ کی کوششوں میں مقامی ماہی گیروں، سائنس دانوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں کی شمولیت بھی اہم ہے۔ مقامی آبادی کو مرجان کی اہمیت، بلیچنگ کی علامات اور سمندری ماحول کے تحفظ کے طریقوں سے آگاہ کر کے نگرانی اور تحفظ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں پر بڑھتا ہوا خطرہ اس وسیع تر ماحولیاتی بحران کی علامت ہے جس میں عالمی حدت، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور قدرتی موسمیاتی مظاہر ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ ممکنہ شدید ال نینو کے پیش نظر خلیجِ منار اور پالک بے کی چٹانوں کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماضی کے تجربات، حالیہ سروے کے نتائج اور سائنس دانوں کی تنبیہات واضح کرتی ہیں کہ بروقت اقدامات سے نقصان کی شدت کم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس مقصد کے لیے مسلسل سائنسی نگرانی، مؤثر انتظامی منصوبہ بندی، مقامی آلودگی میں کمی، پائیدار ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں کی شمولیت کو ترجیح دینا ہوگی۔

مرجان کی چٹانوں کا تحفظ دراصل سمندری حیاتیاتی تنوع، غذائی وسائل، ساحلی سلامتی اور انسانی روزگار کے تحفظ کی مشترکہ کوشش ہے۔ اگر تمل ناڈو میں پیشگی اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو ممکنہ موسمیاتی بحران کے اثرات کم کرنے اور ان قیمتی قدرتی وسائل کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، طویل مدتی کامیابی کے لیے مقامی سطح کے تحفظ کے ساتھ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے، کیونکہ سمندروں کی بڑھتی ہوئی حدت کا بنیادی حل موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو کم کرنے میں پوشیدہ ہے۔

(یواین آئی)

Continue Reading

تجزیہ

کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا

Published

on

جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔

اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔

برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔

تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”

عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.

منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔

ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔

جینت رائے چودھری

یواین آئی ایف اے

Continue Reading
Advertisement
ہندوستان6 hours ago

اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ

ہندوستان6 hours ago

مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور

دنیا6 hours ago

سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال

دنیا6 hours ago

یمن کی فوج کے تعز میں حوثیوں کے میزائل ٹھکانوں، اسلحہ ڈپو اور فوجی تنصیبات پر فضائی حملے

دنیا6 hours ago

ایران کا آبنائے ہرمز میں چار جہازوں پر حملے کا دعویٰ، تین دیگر بحری جہاز بارودی سرنگوں سے ٹکرائے

جموں و کشمیر9 hours ago

انتخابی شکست کے خوف سے جموں و کشمیر میں پنچایت انتخابات ٹال رہی ہے نیشنل کانفرنس: سنیل شرما

جموں و کشمیر10 hours ago

بارہمولہ میں 2 مشتبہ اوور گراؤنڈ کارکن گرفتار، آئی ای ڈی اور پستول برآمد

دنیا11 hours ago

ٹرمپ کا ایران کو شکست دینے کا دعویٰ، جے سی پی او اے سے نکلنے کے فیصلے کا دفاع

دنیا11 hours ago

ہم روس کے ساتھ مذکرات کےلیے تیار ہیں:زیلسنکی

دنیا11 hours ago

سعودی عرب پر حملہ ہوا تو مصر دفاع کے لیے میدان میں آئے گا: السیسی

دنیا11 hours ago

ایران نے دوبارہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش کی تو حکومت کا تختہ الٹیں گے: نتن یاہو

دنیا11 hours ago

ایران کی امریکہ کو فوجی کارروائی کے سنگین نتائج کی وارننگ، توانائی منڈیاں تین سال تک غیر مستحکم رہنے کا خدشہ

دنیا12 hours ago

امریکہ اور اسرائیل ایران پر حملوں کا منصوبہ بنا رہے ہیں

ہندوستان13 hours ago

سونیا گاندھی کی خودنوشت کا 10 نومبر کوہوگا اجرا، انسٹاگرام پر بھی ہوئیں سرگرم

جموں و کشمیر13 hours ago

جموں و کشمیر ہائی کورٹ نے ‘میکانکی’ طریقے سے کی گئی احتیاطی حراست پر سوال اٹھائے، سری نگر کے ڈپٹی کمشنر کو طلب کیا

دنیا13 hours ago

یوکرین مذاکرات میں پیش رفت کے درمیان ٹرمپ کا روس پر پابندیوں سے گریز

ہندوستان14 hours ago

راہل گاندھی ”پارٹ ٹائم لیڈر، فل ٹائم سیاح” ہیں: شیوراج سنگھ چوہان

ہندوستان16 hours ago

مودی نے امت شاہ کو سالگرہ کی مبارک باد دی

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر پولیس نے کٹرا میں جعلی ٹریول ایجنٹ کو بے نقاب کیا

جموں و کشمیر1 day ago

دہشت گردی کی حمایت کرنے والوں کو جموں و کشمیر کے ایل جی کی سخت وارننگ، ‘پاتال سے بھی ڈھونڈ نکالیں گے’

دنیا1 day ago

ایران کی جوابی کارروائی کی وارننگ، امریکہ کا تہران کے ساتھ امن معاہدہ انتہائی مشکل قرار

دنیا1 day ago

ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر کے اودھم پور میں سڑک حادثہ، دو ہلاک، 15 زخمی

جموں و کشمیر1 day ago

جموں و کشمیر حکومت نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا

ہندوستان1 day ago

نوجوان فنکاروں کو اپنی صلاحیتوں کو نکھارنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع ملنے چاہئیں: مرمو

ہندوستان1 day ago

دسمبر 2029 تک ملک کو نشے کی لعنت سے پاک کرنے کا ہدف: شاہ

ہندوستان1 day ago

پی ایم۔ دکش یوجنا میں بھی ‘ دکشتا’ نہیں دکھا سکی مودی حکومت: کانگریس

ہندوستان2 days ago

منی پور کی بگڑتی ہوئی صورتحال پر مودی، شاہ جواب دیں: کھرگے

دنیا2 days ago

ایران کو امریکہ پر اعتماد نہیں، ناکام سفارت کاری کا نتیجہ ہے موجودہ جنگ

دنیا2 days ago

ٹرمپ نے اپنے دوسرے صدارتی دور میں 3 لاکھ ویزے منسوخ کئے ہیں

دنیا2 days ago

ایران: “ہمارے ملک سے افزودہ یورینیم کا ایک گرام تک باہر نہیں بھیجا جائے گا”

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر: اودھم پور میں بس سڑک سے پھسل کر حادثے کا شکار، 17 مسافر زخمی

ہندوستان2 days ago

وزیر اعظم مودی نے پولیس یادگاری دن پر فرض کی ادائیگی کے دوران جانیں قربان کرنے والے اہلکاروں کو خراجِ عقیدت پیش کیا

دنیا2 days ago

امریکہ اور اسرائیل نومبر میں امریکی وسط مدتی انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ نہیں کریں گے: وائٹ ہاؤس

جموں و کشمیر2 days ago

لداخ کا پہلا میڈیکل کالج 2027-28 میں شروع ہوگا

ہندوستان2 days ago

راجناتھ سنگھ کی ایس سی او رکن ممالک سے دہشت گردی کے پورے نظام کو ختم کرنے کی اپیل

ہندوستان2 days ago

آر ایس ایس خواتین کو مردوں کی ملکیت سمجھتا ہے: راہل

دنیا2 days ago

فرانس میں مزید کرفیو نافذ کرنے پر غور، نومبر میں احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ

دنیا2 days ago

ٹرمپ کی مقبولیت ریکارڈ گراوٹ کے ساتھ 31 فیصد پر، وسط مدتی انتخابات سے پہلے ریپبلکن پارٹی کی مشکلات میں اضافہ

جموں و کشمیر2 days ago

عمر عبداللہ نے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس انٹرنز کا وظیفہ بڑھا کر 25 ہزار روپے کردیا

جموں و کشمیر2 days ago

جموں و کشمیر میں دربار موو، دفاتر 2 نومبر کو جموں میں دوبارہ کھلیں گے

جموں و کشمیر2 days ago

سجاد لون کی اسمارٹ میٹرنگ پر جموں و کشمیر حکومت پر تنقید، کیبل پالیسی کو عوام کے لیے ‘حیران کن تحفہ’ قرار دیا

دنیا2 days ago

یوکرین جنگ کے خاتمے کے لیے ٹرمپ اور شی جن پنگ کے ساتھ سہ فریقی ملاقات کے خواہاں پوتن

دنیا2 days ago

ایران اور روس کے درمیان اسٹریٹجک تعلقات مزید مضبوط، ، دونوں ملکوں کے رشتے تاریخی بلندی پر: عراقچی

ہندوستان3 days ago

بچوں کو موبائل اور آن لائن گیمنگ کی لت سے بچانے کے لیے کھیلوں، ڈرائنگ اور تخلیقی سرگرمیوں میں مشغول کرنے کی پہل: پرمجیت…

ہندوستان3 days ago

حلقہ بندی پر نئی تجویز ہے تو عام کریں، کل جماعتی اجلاس بلائیں: کانگریس

دنیا3 days ago

جے ڈی وینس نے نیتن یاہو کی حمایت سے انکار کردیا

دنیا3 days ago

ہمیں ایک کام ختم کرنا ہے ٹرمپ: نیتین یاہو

دنیا3 days ago

پوتن اور شی پنگ سے ملاقات ہو سکتی ہے:ٹرمپ

ہندوستان3 days ago

کھرگے اور پرینکا نے وجے دشمی پر ملک کے باشندوں کو نیک خواہشات پیش کیں

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

ہندوستان7 months ago

مغربی ایشیا کے بحران کے باعث عالمی بینک نے مالی سال 27 کے لیے ہندوستان کی شرح نمو کم کر کے 6.6 فیصد کر دی

اداریہ5 years ago

یوکرین کے خلاف روس کا رویہ تشویشناک : برطانیہ

ہندوستان6 months ago

غیر آئینی طریقوں سے پارٹیوں کو توڑنا جمہوری ڈھانچے پر براہ راست حملہ ہے: بھگونت مان

جموں و کشمیر8 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

اہم خبریں4 years ago

عید کی آمد کے ساتھ ہی لوگوں کی کثیر تعداد بازاروں میں دھیکنے کو مل رہی ے۔ کھچ مناظر ان تصاویر میں

تازہ ترین8 months ago

خامنہ ای کی مبینہ شہادت: کشمیر میں ریلیاں، ایم ایم یو کی مکمل ہڑتال کی کال

تازہ ترین4 years ago

عید کی آمد پر سرینگر کے مختلف بازاروں میں خرید و فروخت کے کھچ مناظر

پاکستان5 months ago

پاکستان اور چین کا ایران۔امریکہ کشیدگی کم کرنے پر زور، اسحق ڈار اور وانگ ای میں رابطہ

تازہ ترین9 months ago

لمبرداروں اور چوکیداروں کا مسائل کے حل کے لیے حکومت کو میمورنڈم

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

اہم خبریں9 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

جموں و کشمیر7 months ago

جموں جناح، علامہ اقبال اور سر سید احمد خان سے نفرت کیوں کرتا ہے؟

تازہ ترین9 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

تجزیہ10 months ago

دہشت گردی کے بھولے ہوئے متاثرین

تازہ ترین4 years ago

کشمیری کسان شہتوت کی کاشتکاروں کرتے ہوئے۔

جموں و کشمیر2 months ago

اسپورٹس کوٹا پر مبنی ملازمتیں: جے اینڈ کے بی جے پی نے اعلیٰ سطحی جانچ کا مطالبہ کیا، احتجاجی کھلاڑیوں کی حمایت کی

اداریہ5 years ago

بی جے پی ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کررہی ہے،کمیشن میں شکایت درج کرائیں گے:اکھلیش

کھیل9 months ago

ٹی ٹوئنٹی ورلڈ کپ 2026: آئی سی سی کے موقف کی بی سی سی آئی نے بھی تائید کر دی

تازہ ترین9 months ago

پاکستان نے سخت مقابلے میں نیدرلینڈز کو تین وکٹوں سے شکست دی

اداریہ5 years ago

ممبئی سیریل بلاسٹ کا ملزم یو اے ای میں گرفتار

تازہ ترین9 months ago

لوک سبھا کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی

تازہ ترین9 months ago

مرکزی بجٹ خود کفیل، مضبوط اور عالمی سطح پر مسابقتی ہندوستان کے وزیراعظم مودی کے عزم کے مطابق ہے: کھنڈیلوال

تصاویر6 years ago

ٹک ٹاک اپنے عالمی توسیعی پروگرام کے لیے تین ہزار انجینئرز بھرتی کرے گا

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

اہم خبریں9 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تصاویر6 years ago

مصر میں فرعونوں کے دور کے درجنوں تابوتوں کی سنسنی خیز دریافت

دنیا9 months ago

واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ نے کھلبلی مچا دی، خلیجی اتحادیوں کا ٹرمپ کو ممکنہ تباہی سے خبردار

تازہ ترین9 months ago

ڈنمارک میں اسرائیلی سفارت خانے کے قریب گرینڈ دھماکہ کے ملزم دو سویڈش شہریوں کو جیل

تازہ ترین9 months ago

سری لنکا کی پاکستان سے ہندوستان ٹی20 میچ کے بائیکاٹ پر نظرِ ثانی کی اپیل

تازہ ترین12 months ago

ستائیسویں ترمیم: پاکستان کی فوج کس طرح قانون کے ذریعے آئین پر اثرانداز ہو رہی ہے

ہندوستان9 months ago

صدر کے خطاب میں ترقی یافتہ ہندوستان کے اہداف نمایاں: سونووال

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

اہم خبریں6 years ago

اس صدی کے آخر تک برفانی ریچھ دنیا سے مٹ جائیں گے

تازہ ترین10 months ago

امکان کی سیاست اور مفتی محمد سعید کا نظریہ

جموں و کشمیر2 years ago

چین، امریکہ پاکستان کو بھارت کے خلاف مدد کررہا ے/ انٹرویو

دنیا8 months ago

پاکستانی فوج کا افغانستان کے خلاف فضائی آپریشن شروع

تجزیہ11 months ago

کشمیر میں بجلی نرخوں میں اضافہ عوام پر سیدھا وار

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

اداریہ5 years ago

میری جنگ دستوری سیکولرزم سے نہیں، سیاسی سیکولرزم سے ہے: اویسی

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

جموں و کشمیر9 months ago

کشمیر میں اگلے 36 گھنٹوں کے دوران ہلکے برف و باراں کا امکان

جموں و کشمیر8 months ago

زعفران پیداوار میں کمی کا دعویٰ غلط؛ 3715 ہیکٹیر رقبہ برقرار: حکومت

تازہ ترین9 months ago

امت شاہ کا تین روزہ دورہ جموں و کشمیر:سیاسی ملاقاتیں اور اعلیٰ سطحی سکیورٹی میٹنگیں ایجنڈے میں شامل

اداریہ5 years ago

اردو شعر و ادب کا ’تحریک آزادی‘ میں ناقابل فراموش کردار رہا ہے: پروفیسر نجمہ اختر

جموں و کشمیر12 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

جموں و کشمیر6 months ago

پہلگام میں محسوس ہوتی عجیب خاموشی

جموں و کشمیر7 months ago

جموں و کشمیر میں نئی انتظامی ڈویژنز کی تجویز: چناب اور پیر پنجال کی وضاحت

جموں و کشمیر8 months ago

“وادی کشمیر میں اسرائیل اور امریکہ مخالف احتجاجی مظاہروں کی لہر”

جموں و کشمیر8 months ago

ڈیلی ویجروں کا بحران

تازہ ترین8 months ago

ایس ایم ایچ ایس اسپتال کے باہر غیر قانونی پارکنگ

تازہ ترین8 months ago

کشمیری کسانوں کے لیے بڑی پیش رفت، جدید ٹیکنالوجی کا آغاز

جموں و کشمیر8 months ago

ورلڈ کپ کی گونج، کشمیری ولو کے بیٹس کی مانگ میں زبردست اضافہ

اہم خبریں9 months ago

وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے بجٹ 2026-27 پیش کرنے کے بعد میڈیا سے خطاب کیا

اہم خبریں9 months ago

جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں سجاد غنی لون کی دھواں دار تقریر

تازہ ترین9 months ago

وضاحت | وحید الرحمن پرّا کے ’’جموں و کشمیر کا مفاہمت، صدمے سے شفا اور وقار بل، 2026‘‘ کی تشریح

جموں و کشمیر12 months ago

لیفٹنٹ گورنر نے کیا گورنمنٹ کوٹھی باغ گرلز ہائر سیکنڈری اسکول سری نگر میںDREAMا سکول پروجیکٹ کا افتتاح

جموں و کشمیر3 years ago

جموں وکشمیر کے صحت شعبے میں اہم اصلاحات لاے جارہے ے

تجزیہ3 years ago

پاکستان میں سیاسی بحران اور بینلاقوامی میڈیا کی کوریج

تازہ ترین3 years ago

8 فروری 2024 کے الیکشنز اور 1971 کے الیکشنز میں یکسانیت اور ملک کا تقسیم

تازہ ترین3 years ago

کشمیر میں عیسایت اور مسیحاؤں کے سماجی کام

تازہ ترین3 years ago

متحدہ عرب امارات کا ہندو مندر اور نریندر مودی کی لوک سبھا الیکشن مہم

تازہ ترین3 years ago

جموں وکشمیر میں الیکشنز کو کیوں التواء میں ڈالا گیا ؟

جموں و کشمیر3 years ago

بیگ کی واپسی اور پی ڈی پی کا مستقبل

تازہ ترین3 years ago

شیلاء رشید کا سفر موقعہ پرستی یا دوگلا پن

جموں و کشمیر3 years ago

جی ٹونٹی اجلاس: کشمیر میں ہڑتال قصہ پارینہ، یہاں کے لوگوں نے ہڑتالی کلچر کو مسترد کیا:مرکزی وزیر مملکت

تازہ ترین4 years ago

سری نگر جموں شاہراہ پر ٹریفک کی آمدورفت بحال

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں کووڈ کی نئی لہر سے بچے متاثر، یومیہ ایک سے دو کیس رپورٹ

تازہ ترین4 years ago

کپواڑہ میں کمسن بچی کے قتل کے الزام میں باپ گرفتار: ایس ایس پی کپواڑہ

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں رک رک کر بارشوں کا سلسلہ جاری، باغ مالکان سے باغوں کی دو پاشی نہ کرنے کی تاکید

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کا فیصلہ سرکار کا ہے ہمیں اس پر عملدرآمد کرانا ہے: جی ایم سی میئر

جموں و کشمیر4 years ago

راہل گاندھی کی نا اہلی کے خلاف جموں وکشمیر میں کانگریس کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

کپوارہ میں ایل او سی کے نزدیک ماتا شاردا مندر کا کھل جانا ایک خوش آئند بات ہے: محبوبہ مفتی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر: شدید زلزلے کے دوران اپنے جانوں کی پرواہ کئے بغیر ڈاکٹروں اور دیگر عملے نے خاتون کا کامیاب آپریشن کیا

تازہ ترین4 years ago

منصوبہ بند سازش کے تحت بٹہ مالو بس اسٹینڈ کو دوسری جگہ منتقل کیا گیا، رونقیں دوبارہ واپس لوٹ آئیں گی: رویندر رینا

تازہ ترین4 years ago

فرضی پی ایم او عہدیدار معاملہ: یہ انٹلی جنس کی ناکامی نہیں بلکہ فیلڈ افسر کی لاپرواہی ہے: اے ڈی جی پی کشمیر

تازہ ترین4 years ago

کشمیر اس قدر خوبصورت کہ جہاں کیمرہ رکھا جائے گا وہ فلم شوٹنگ کے لئے بہتر جگہ: بالی ووڈ ادا کار عمران خان

جموں و کشمیر4 years ago

Video ایڈیشنل ڈائریکٹر پی ایم او معاملہ:تحقیقات کے لئے سہہ رکنی ٹیم تشکیل: پولیس

جموں و کشمیر4 years ago

|Video رام بن میں ٹرک دریائے چناب میں جا گرا، بچاؤ آپریشن جاری

تازہ ترین4 years ago

تازہ ترین4 years ago

جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے انعقاد کے لئے قومی سیاسی جماعتوں اور الیکشن کمیشن آف انڈیا کے ساتھ ملاقی ہونگے: فاروق عبداللہ

تازہ ترین4 years ago

ویڈیو| ٹیولپ گریڈن کے بلوم کے پیچھے موجود ہیروز کو جانیں۔

جموں و کشمیر4 years ago

کشمیر سے ایم بی اے پاس آؤٹ نے غیر ملکی نسلوں کے ساتھ منفرد پولٹری فارم قائم کیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے مائسمہ میں آتشزدگی، تین دکان خاکستر

تازہ ترین4 years ago

پراپرٹی ٹیکس کے خلاف چیمبر آف کامرس نے 11مارچ کو جموں بندھ کی کال دی

تازہ ترین4 years ago

حبیبی کچن سڑک کے کنارے ایک شاہانہ ریستوراں

جموں و کشمیر4 years ago

مختلف اسامیوں کے امیدواروں کا سری نگر میں ایپ ٹک کمپنی کے خلاف احتجاج

تازہ ترین4 years ago

ڈل جھیل پر پرندوں کا جنگل سیاحوں کی توجہ کا نیا مرکز

تازہ ترین4 years ago

راہل مشتاق: غیر ملکی نسل کے مرغوں کا پالٹری فارم قائم کرنے والا نوجوان

تازہ ترین4 years ago

چھیڑ چھاڑ کا سامنا کرنے والی خواتین ہم سے رابطہ کریں۔

تازہ ترین4 years ago

شالیمار زرعی یونیورسٹی میں میلہ, ایک لاکھ لوگوں نے شمولیت اختیار کی

تازہ ترین4 years ago

ہندوستان-اٹلی نے اسٹریٹجک پارٹنرشپ کا اعلان کیا۔

تازہ ترین4 years ago

جائیداد ٹیکس کے خلاف جموں میں تاجروں کا احتجاج

تازہ ترین4 years ago

این آئی اے نے سری نگر میں العمر کے چیف مشتاق زرگر کے مکان کو قرق کر دیا

تازہ ترین4 years ago

سری نگر کے بٹہ مالو علاقے میں گاڑی کی ٹکر سے پولیس اہلکار کی رائفل سے اچانک گولی نکلی

تازہ ترین4 years ago

کشمیر میں طویل سرمائی تعطیلات کے بعد اسکول دوبارہ کھل گئے

Advertisement

Trending