تجزیہ
مستقبل کا بھارت
زیر تبصرہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل کتاب ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ راشٹریہ سویم سنگھ (جو اگر کہا جائے کہ فی الوقت ہندوستان کی سب سے بڑی تنظیم ہے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا) کیا کرنا چاہتی ہے اور کیوں کرناچاہتی ہے۔ان کے منصوبے کیا ہیں۔سنگھ کیوں ہندوتو کی بات کرتا ہے اور سنگھ کے سامنے بھارت کا وژن کیا ہے۔کتاب کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ یہ سربراہ تنظیم ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کی تقاریر ہیں۔ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آرایس ایس ) کے سنگھ پالک (صدر) ہیں۔ وہ اس عہدہ پر کے ایس سدرشن کے بعد مارچ 2009 سے براجمان ہیں۔ ان کی پیدائش 11 ستمبر 1950 کو چندر پور بمبئی (مہاراشٹر) میں ہوئی۔ انھوں نے ویٹنری سائنس اینڈ انیمل ہز بنڈری میں گریجویٹ(Bvsc) کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا ہے۔کتاب کا حسن ہے کہ اس کا ترجمہ ایک ذمےدار شخص ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب اردو کے ممتاز دانشور، معلم، فلسفی، مفکر اور معروف نثر نگار ہیں۔انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے ایم اے، ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ستیہ وتی کالج دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں درس و تدریس سے وابستہ رہے اور اس کے صدرشعبہ بھی رہے ہیں، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں ڈائرکٹر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ یہ کتاب آر ایس ایس کو سمجھنے میں بنیادی ماخذ ہے۔ڈاکٹر منموہن وید، سیکرٹری آر ایس ایس لکھتے ہیں: “مستقبل کا بھارت – راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا نظریہ کے موضوع پر قابل احترام سر سنگھ چالک ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کے ذریعے 19 تا17 تمبر 2018 وگیان بھون میں ایک لیکچر سیریز کا انعقاد کیا گیا تھا۔ سماج کے مختلف حلقوں کی نمائندہ اور بااثر شخصیات کو اس میں مدعو کیا گیا تھا۔ سماج کی ان قابل قدر شخصیات نے لگا تار تین دن آکر اس لیکچر سیریز کے تئیں جس گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا وہ بھارت کے روشن مستقبل کے تئیں ان کے اعتقاد اور فکر کی عکاسی کرتا ہے۔اس سے ہمارے حوصلہ اور یقین میں اضافہ ہوا ہے۔”(صفحہ x111) مترجم کتاب ڈاکٹر عقیل احمد لکھتے ہیں:”اس دوران انھوں نے جہاں دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی وہیں بالخصوص مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے موضوعات پر بھی کھل کر اپنی بات رکھی۔ ان کی یہ تقریر اپنے موضوع پر مکمل اور جامع ہے جس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مددملتی ہے کہ سنگھ بھارت کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس ملک کی تعمیر وترقی کے لیے اس کے پاس کیا منصوبے ہیں۔اسی طرح اس ملک میں پائے جانے والے دیگر مذہبی فرقوں کے تئیں سنگھ کے نظریات سے بھی ہمیں واقفیت ہوتی ہے۔ ان کی تقاریر اور اجلاس کے اواخر میں ہونے والے سوالات و جوابات کتابی شکل میں ہندی زبان میں شائع کیے گئے ہیں۔ چونکہ اردو زبان میں آر ایس ایس کے تعلق سے بہت کم مواد موجود ہے۔اس وجہ سے اردو طبقہ آر ایس ایس کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتا اور نہ جاننے کی وجہ سے بھی بہت سی بد گمانیاں پیدا ہوگئی ہیں، اس لیے ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کی اس تقریری مجموعے کا ہندی سے اردو ترجمعہ شائع کیا جارہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ سنگھ کو کما حقہ سمجھنے اور اس کے تعلق سے پھیلی ہوئی بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں یہ کتاب معاون ثابت ہوگی.”ڈاکٹر منموہن وید مزید لکھتے ہیں:”اس لیکچر سیریز میں پہلے دو دن کا خطاب اور تیسرے دن سامعین کے ذریعے دلچسپی کے ساتھ پوچھے گئے سوالات کے جوابوں کو ایک جگہ جمع کر کے کتا بچے کی شکل میں قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ اس لیکچر سیریز کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں اور سماج میں بھی اچھی اور صحت مند بحث چل پڑی ہے۔ اس کا ہم استقبال کرتے ہیں۔ اس کتابچے کے ذریعے بھی یہ بحث آگے بڑھے گی اور اپنے وطن عزیز کے تئیں ایک مساوی نظر میں ابھر کر سامنے آئے گا اور امید ہے کہ اس سے ہمیں بھارت کے روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کا رخ اور حوصلہ ملے گا۔”
کتاب کے پہلے باب جو ڈاکٹر موہن راو بھاگوت کی پہلے دن کی تقریر ہے “مستقبل کا بھارت، سنگھ کا نظریہ”میں ڈاکٹر صاحب نے آر ایس ایس کو 29 صفحات میں خوب سمیٹا ہے۔یہ 29 صفحات آر ایس ایس اور اس کے نظریات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب خطبہ کے آغاز میں کہتے ہیں: “اس پروگرام کا انعقاد سنگھ کو سمجھنے کے لیے ہوا ہے کیونکہ سنگھ آج ایک طاقت کے روپ میں اس ملک میں موجود ہے، ایسا تجربہ ساری دنیا کو ہورہاہے۔ فطری طور پر اس کی چرچا ہوتی ہے ہونی بھی چاہیے، مگر چرچا کرنے کے لیے صحیح صورت حال کا بھی پتا ہونا چاہیے۔ چرچا کیسی چلے وہ چرچا کرنے والوں کا حق ہے مگر حقیقت کیا ہے یہ جان کر چرچا ہوتی ہے تو اس کے غیر جانبدارانہ نتائج نکلتے ہیں۔”(صفحہ 1) مزید لکھتے ہیں:”ہمارے ریاست دہلی کے کارکنان نے سوچا کہ سنگھ کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں باضابطہ طور پر دہلی کے با اثر قابل احترام طبقے کو بتایا جائے۔ اس پر کچھ سوال جواب ہو اور اس کے لیے یہ وقت منتخب کیا گیا۔ کیونکہ صحیح صورت حال جاننا ضروری ہے۔ یہی صورت حال میں آپ کے سامنے بیان کرنے والا ہوں۔ آپ کے سامنے صحیح صورت حال رکھتے وقت میرا مقصد آپ کو اپنی رائے کا موافق بنانا نہیں ہے۔ موافق ہونا یا نہ ہونا یہ آپ کا حق ہے۔ سنگھ جیسا ہے ویسا ہی میں بتاؤں گا۔ آپ کے سوالوں کا اپنے علم کے مطابق جواب دوں گا۔ اس پر ریسرچ یا ترمیم سب آپ کر سکتے ہیں یہ آپ کا حق ہے۔ لیکن اس کے بعد آپ کے ذریعے جو بھی چرچا ہوگی وہ سنگھ کی اتھرائزڈ جانکاری کی بنیاد پر ہوگی۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔”(صفحہ 2)
اس تقریب اور اس کتاب کا مقصد مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے،یہاں وہ سنگھ کے بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار کا تعارف کراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جس کو بھی آر ایس ایس سمجھنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈاکٹر ہیڈ گوار کو سمجھے، مصنف یہاں تنظیم کے بانی کا تعارف کراتے ہوئے ان کی طالب عالمانہ زندگی، ان کی عوامی زندگی، ان کی سماجی بیداری کے چار مراحل، ان کے تعلقات اور سنگھ کی تاسیس پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالتے ہیں، اس مختصر تعارف سے بانی آر ایس ایس کی زندگی کے اہم شعبہ جات کی جانکاری قاری کو ملتی ہے، تعارف کے بعد آر ایس ایس کیا ہے پر بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: “راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کیا ہے؟ یہ ایک طریقہ کار ہے اور کچھ نہیں ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نام کی تنظیم ہے؟ وہ شخصیت سازی کا کام کرتا ہے کیونکہ کام کاج کے اخلاق واطوار میں ہم آج بھی کئی طرح کی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ ہمیں بھید بھاؤ سے فری سماج ہوا ہے، مساوات سماج چاہیے لیکن یہ جاننا چاہیے کہ صرف ایسا کہنے سے نہیں ہوگا۔سماج کا کردار نمونوں کی موجودگی سے بدلتا ہے۔ ہمارے یہاں آئیڈیلز میں عظیم لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔”(صفحہ 12)
سنگھ کے مقصد کے بارے میں لکھتے ہیں:”سنگھ کا مقصد ہر گاؤں ہر گلی میں اچھے رضا کار تیار کرنا ہے۔اچھے رضا کار کا مطلب ہے وہ جس کا اپنا کردار قابل اعتماد ہو، خالص ہو۔ جو پورے سماج اور ملک کو اپنا مان کر چلتا ہو۔کسی کو بھید بھاؤ سے عداوت کے جذبے سے نہیں دیکھتا ہو اور اس طرح جس نے سماج کی ہمدردی اور اعتماد حاصل کیا ہو۔ ایسے اطوار و کردار والے لوگوں کی ٹولی ہر ایک گاؤں میں ہر محلے میں کھڑی ہو۔ یہ منصوبہ 1925 میں سنگھ کے روپ میں شروع کیا گیا۔ سنگھ بس اتنا ہی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔”(صفحہ 13) تقریر کے دوران وہ ہندتو کیوں، مختلف نظریات میں توازن، جوڑنے والی تہذیب اور سنگھ کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی ہے، سنگھ کے طریقہ کار کے تحت بتاتے ہیں: “سنگھ ایسی اوپن تنظیم ہے۔ یہاں ہر سویم سیوک پوچھ سکتا ہے۔ ہر سویم سیوک سوچتا ہے۔ تبادلہ خیال کرتا ہے۔ ہر سویم سیوک کی بات چرچا میں آنے کی روایت ہے۔ اب لاکھوں سیوئم سیوک ہیں،ان سب کی میں اکیلا نہیں سنتا ہوں لیکن شاکھا کی سطح پر ایسا انتظام ہے کہ ہر ایک کی رائے اوپر تک پہنچتی ہے اور پھر عام اتفاق رائے ہوتا ہے، جس راۓ پر اتفاق ہوتا ہے اسی میں سب لوگ اپنی اپنی رائے کو ضم کر دیتے ہیں۔سب سے زیادہ جمہوری تنظیم اگر آپ کو دیکھنی ہے تو آپ سنگھ میں آئیے۔”(صفحہ 22) یہاں وہ تنظیم کو چلانے والے وسائل پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “سنگھ میں خرچ خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ سنگھ کا کام کرنے کے لیے باہر سے ہم ایک پائی بھی نہیں لیتے۔ کسی نے لاکر دیا تو ہم لوٹا دیتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سویم سیوکوں کے باہمی تعاون سے چلتا ہے۔ سال میں ایک بار بھگوادھوج کو گرو مان کر اس کی پوجا میں اس کو نذر گزارتے ہیں۔”(صفحہ 23) مزید لکھتے ہیں: “سویم سیوک سماجی خدمت کا جو کام کرتے ہیں ان کے لیے لوگوں کا تعاون لیتے ہیں، ان کے ٹرسٹ بنے ہوۓ ہیں، وہ با قاعدہ نجی طور پر آڈٹ کر تے ہیں، اس کا حساب رکھتے ہیں، ساری باتیں وہ قانون کے حساب سے کرتے ہیں لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ باہر سے پیسہ نہیں لیتا ہے۔ دیا جائے تو بھی نہیں لیتا ہے۔ سنگھ کو چلا رہے ہیں سنگھ کے سویم سیوک؛ ایسی خود کفیل ہماری تنظیم اور ثقافتی کام ہے۔”(صفحہ 25 )
اس تقریر میں انہوں نے ایک اہم بات کی ہے جس پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔مصنف”شہرت کی بھوک “کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: “کبھی کبھی لوگ کہتے ہیں کہ آپ سبھی اچھے لوگوں کو بے شناخت بنا رہے ہو ہاں بھئی بات صحیح ہے۔ ہم بے چہرہ بنتے ہیں تا کہ یہ بھی غرور نہ ر ہے کہ فلاں کام میں نے کیا ہے۔ اس کی وجہ سے کچھ مشکلات بھی آتی ہیں لیکن ایک خاص قسم کا انسان سماج میں تیار ہو، اس کے لیے ہم نے یہ کام شروع کیا ہمیں اور کچھ نہیں چا ہیے۔”(صفحہ 26) مزید لکھتے ہیں: “ اگر سنگھ کے لوگ بڑے بڑے کام کرتے ہیں تو یہ کسی پر احسان ہے کیا؟ یہ تو اپنا سماج ہے اس کے لیے کرنا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اپنے سماج کے لیے قربانی کی بھی تیاری رکھنی چاہیے۔ تو زندہ رہ کر اگر دو چار اچھے کام کر لیے تو اس میں پیٹھ تھپتھپانے جیسی بات کیا ہے؟ بے غرضی کے ساتھ ملک کی خدمت کرو سب مل کر کرو اور اس لیے اجتماعیت سنگھ میں آپ کو قدم قدم پر ملے گی۔ سنگھ کے کتنے سویم سیوک ہیں، کام بھی بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ لیکن مشہور سب نہیں ہوتے۔ دنیا داری میں چلتا ہے تو سنگھ کا ذمے دار ہونا پڑتا ہے پھر بڑا بن گیا ہے تو میڈیا کے لوگ پیچھے پڑتے ہیں دکھاتے ہیں، اس لیے کسی کو سامنے آنا پڑتا ہے۔ نہیں تو ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت سر سنگھ چالک بن گیا اور روز اس کی تصویریں چھپ رہی ہیں۔ یہ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کے لیے بہت پریشانی کا سبب ہے۔ کیونکہ یہ سنگھ کی روایت نہیں ہے۔”(صفحہ 26) تقریر میں انہوں نے سنگھ میں خواتین کی صورتحال پر بھی بحث کی ہے۔
دوسرے باب میں سنگھ کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، سنگھ اور سیاست، خواتین کے بارے میں سنگھ کا نظریہ، ہندتو، ہندو لفظ کیوں، دھرم، ریلیجن، ترقی کا نظریہ، دستور کے تحت بہت ساری غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہیے, واضح رہے کہ سنگھ کے کاموں میں مردوں کے لیے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے رہنمائی ملتی ہے جبکہ خواتین کو راشٹریہ سیویکا سمیتی سے ملتی ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ چلیں گے۔ ایک دوسرے کے شعبہ عمل میں دخل نہیں دیں گے۔ ایک دوسرے کی ہمیشہ مدد کریں گے۔ یہ اس وقت طے ہوا۔ ایک لاکھ ستر ہزار سے اوپر چھوٹے بڑے خدمت کے پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔ یہ آٹھ سال پہلے کے اعداد و شمار ہیں، آر ایس ایس چونکہ اپنے آپ کو معاشرتی تنظیم کہتی ہے لیکن بی جے پی کو آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم کہا جاتا ہے، سیاست کے بارے میں سنگھ کیا کہتی ہے، وہ کہتے ہیں: “میں یہ بات تھوڑے لفظوں میں پھر اس لیے بتا رہا ہوں کہ کئی بار ہم سے سوال کیا جاتا ہے کہ سنگھ کا سیاست سے کیا تعلق ہے؟ کیا سنگھ کے سیاسی عزائم ہیں؟ کیونکہ آج کل کے تقریباً عام رحجان سے ایسا لگتا ہے کہ انسان کسی قابل ہو جاتا ہے اور اس شعبے میں کچھ کرلیتا ہے۔ جہاں سے اسے یہ قابلیت ملی ہے۔ تو وہ سیاست میں جانا چاہتا ہے۔ لیکن سنگھ کو پورے معاشرے کو جوڑنا ہے اور سیاست معاشرے اور زندگی کے بہت سے موضوعات کو لیتی ہے۔ ان موضوعات میں اختلافات پائے جاتے ہیں، یہ ہونا فطری بھی ہے۔ کیونکہ خیالات مختلف اقسام کے رہتے ہیں جس کی وجہ سے گروپ بندی ہوجاتی ہے الگ الگ پارٹیاں بن جاتی ہیں اور ان کے درمیان آپسی مخالفت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ سیاست، جماعت اور پورے معاشرے کو جوڑنے کا کام ایک محدود دائرے میں ہی ایک ساتھ چل سکتا ہے۔ وہ مزید بتاتے ہیں اس لیے سنگھ نے اپنے قیام کے بعد سے ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہماری تنظیم سیاست سے دور رہے گی۔ مسابقت کی سیاست نہیں کرے گی، انتخابات نہیں لڑے گی، سنگھ کا کوئی بھی عہدے دار کسی بھی سیاسی پارٹی میں عہدے دار نہیں بن سکتا، سنگھ کو الیکشن اور ووٹوں کی سیاست سے دور رہنا ہے۔”(صفحہ 32)
اس سوال کے جواب میں کہ آخر سنگھ کے لوگ کیوں بی جے پی میں ہی جاتے ہیں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں:”سویم سیوک ایک خاص پارٹی میں ہی کیوں ہیں؟ اس پارٹی کے بہت سے عہدے داران، موجودہ وزیر اعظم صدر سویم سیوک ہیں؟ اس لیے لوگ جب یہ قیاس لگاتے ہیں کہ نا گپور سے فون جاتا ہوگا اور بات ہوتی ہوگی، یہ بالکل غلط ہے۔ ایک تو وہاں کام کرنے والے سیاسی کارکنان یا تو میری عمر کے ہیں یا مجھ سے بھی سینئر ہیں اور سنگھ کے کاموں کا میرا جتنا تجربہ ہے اس سے کہیں زیادہ تجربہ انھیں سیاست کا ہے۔ ان کو اپنی سیاست کے لیے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہم انھیں کوئی مشورہ دے بھی نہیں سکتے۔ جان پہچان ہے تو حال چال پوچھ لیتے ہیں۔ ان کو کوئی مشورہ چاہے تو وہ کچھ لیتے ہیں اور ہم اگر کوئی مشورہ دے سکتے ہیں تو دے دیتے ہیں مگر ان کی سیاست پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہے۔ سرکار کی پالیسیوں پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ ہمارے سویم سیوک ہیں ان کو نظر و فکر حاصل ہے اور وہ اپنے اپنے شعبہ عمل میں انھیں استعمال کرنے کی صلاحیت اور اختیار رکھتے ہیں۔ اس آزادی، استقلال اور خود انحصاری کے ساتھ ان کا کام چلتا ہے اور چلنا چاہیے ہم یہی چاہتے ہیں۔ ملک میں اور ملک کے سسٹم میں پاور نام کی جو چیز ہے اس کا جو مرکز دستور سے طے ہوا ہے وہی رہے گا۔ کوئی باہر کا دوسرا مرکز کھڑا ہو ہم اسے غلط لکھتے ہیں۔ اس لیے ایسا ہم کرتے بھی نہیں ہیں”سب جانتے ہیں 2014 سے بی جے پی اپنے عروج پر ہے اس کے باوجود آر ایس ایس کوئی ایسا بیان نہیں دیتی جس سے یہ ظاہر ہو کہ بی جے پی اس کی سیاسی ونگ ہے بلکہ اس کے برعکس مسلمان جذباتی قوم ہے، ہم اگر اپنے آس پاس مجموعہ دیکھتے ہیں تو اپنے آپ کو امیر المومنین کے منصب پر فائز سمجھتے ہیں اور لوگوں سے اس کا عہد لیتے ہیں، ہندوستان کی تعریف اور باقیوں کی تنقید یوں کرتے ہیں “ہم دنیا میں جہاں بھی گئے ہیں لڑے نہیں، ہم نے کسی کا ملک فتح نہیں کیا۔ ہم نے کسی کی جائیداد نہیں لوٹی۔ جہاں بھی گئے علم دیا تہذیب دی۔ دوسرے ممالک کے لوگ آ کر اپنے ملک میں بااثر بن جاتے ہیں اور بعد میں واپس چلے جاتے ہیں۔ تو ان کی یادگار اچھی نہیں رہتی۔ دوسرے ممالک سے لوگ آئے، انھوں نے ہم پر حکومت کی، چلے گئے۔ ممالک کے لوگ آئے، ہم پر اثر انداز ہوئے، چلے گئے۔ اس کو اچھا نہیں کہا جاتا لیکن واحد ہندوستان ہے، جس کا دنیا کے جن ممالک میں ظہور ہوا، اس کی یادوں کو وہاں کے لوگ خوشی سے احترام کرتے ہیں۔ آج بھی اس کی باقیات چل رہی ہیں۔ کہیں مجھے ملتے ہیں، کہیں دستکاری نئے سرے سے کھڑی کی گئی ہیں، مہا بھارت اور رامائن کی کہانیاں چلائیں۔ رام لیلائیں چلائیں، خوشی سے چلتی ہیں۔ عبادت کا طریقہ بدل گیا۔ بعد میں وہ شیور ہے، نہ بودھ رہے۔ وہ آج مسلمان ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے اسلاف نہیں بدلے۔”(صفحہ 43)
باربار ڈاکٹر صاحب کوشش کرتے ہیں کہ سب ان کا ساتھ دیں، سب لوگ ہندوستان کی ترقی میں اپنا رول نبھائیں، اس سلسلے میں جو وہ کہتے ہیں بڑا پن دکھائی دیتا ہے۔ دستور کے تحت لکھتے ہیں:”ہندتو عالمی کہنے کی بات کرتا ہے۔ جس دن ہم کہیں گے کہ صرف یہ چلیں گے وید کو نہ ماننے والا بدھ مذہب نہیں چلے گا، اس دن وہ ہندتو نہیں رہے گا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں سچائی کی مستقل تلاش جاری ہے اور اس وجہ سے بہت سارے فلسفے اور نظریات پیدا ہوئے ہیں۔ ان سب کی اپنی اہمیت اور قدر و قیمت ہے، وہ سب سچ ہیں، ایسا سب مانتے ہیں اور ماننا چاہیے۔ ہم اس ہندتو کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہی واحد نظریہ ہے جو اس بھائی چارے کو نظریاتی بنیاد دیتا ہے۔”(صفحہ 48)۔
ملک کا پورا سماج تمام تر امتیازات و مفادات کو فراموش کر کے منظم ہوکر اپنے ملک کے لیے جینے مرنے کا عہد کرتا ہے۔ تب ہی ملک کی تقدیر بدلتی ہے۔ جو ممالک آج تک دنیا میں ترقی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، آپ سب کی تاریخ دیکھ لیجیے کم از کم سو سال ایسی کوششیں مسلسل کی گئیں۔ اس کے بعد وہ ملک زوال سے عروج کی طرف گامزن ہوا اور ساری دنیا کے سر کا تاج بن گیا۔ چاہے وہ انگلینڈ ہو، امریکہ ہو، فرانس ہو، کیوبا ہو، جاپان ہو یا چین ہو۔ ان سب کی اپنی تاریخ لکھی گئی ہے۔ میں نے خود پڑھا ہے۔ اس کے حتمی نتائج کی بنیاد پر میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں۔”(صفحہ 49)
اس کتاب میں اہم معلومات بھی ہیں۔عام طور پر آر ایس ایس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سب کو دینا چاہتے ہیں۔دوسروں سے کچھ نہیں لیتے اس سلسلے میں وہ جاپان کے بارے میں لکھتے ہیں:”میں ایک مثال دوں گا جاپان کے بارے میں ایک کتاب لکھی گئی ہے ‘دی انکریڈیبل جاپانیز’ جاپان اس وقت دنیا کے بازاروں کا بادشاہ تھا۔ اس کا مطالعہ دو ماہرین سماجیات اور دو معاشی ماہرین نے کیا اور ایک کتاب لکھی۔ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ کتاب کے آخری صفحے پر انھوں نے نو نتائج بیان کیے ہیں۔ ان نو نتائج میں سے پہلے پانچ معاشیات سے متعلق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپان کے عوام نظم و ضبط کے عادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنے ترقی پذیر ہیں۔ دوم وہ کہتے ہیں کہ جاپان کے عوام جب اپنے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں، تو وہ صرف اپنے مفاد کو نہیں سوچتے۔ کم از کم وہ اپنے گاؤں کی بھلائی سوچ کر کوئی منصوبہ بناتے ہیں۔ تیسری بات انھوں نے یہ لکھی ہے کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ چوتھی بات انھوں نے لکھی کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں اور پانچویں بات یہ کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کا ہر کام بہترین اور اعلی طریقے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں”۔(صفحہ 50)
تیسرے باب”تجسس – حل “میں ڈاکٹر موہن راو بھاگوت نے ان سوالات کا جواب دیا ہے جو سنگھ کی پالیسیوں کے بارے میں کیے جاتے ہیں۔ ذات پات کے بارے میں کہتے ہیں:”پہلی بین ذات شادی 1942 میں مہاراشٹر میں ہوئی۔ یہ پہلا واقعہ تھا اور اچھے پڑھے لکھے لوگوں کا تھا، اسی وجہ سے یہ مشہور ہوا۔ اس وقت ان کے پاس جو اچھے اور مبارکبادی کے پیغامات آئے تھے، ان میں قابل احترام ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا پیغام بھی شامل تھا اور شری گرو جی کا بھی۔ گرو جی نے اس پیغام میں کہا تھا کہ آپ کی شادی کی وجہ صرف جسمانی کشش نہیں ہے، آپ یہ بھی بتانا چاہ رہے ہیں کہ سماج میں ہم سب ایک ہیں، اسی وجہ سے آپ یہ شادی کر رہے ہیں۔ میں اس کے لیے آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ کے لیے ازدواجی زندگی میں ہر خوشی کی تمنا کرتا ہوں۔”(صفحہ 57) کیا سنگھ صرف اپر کاسٹ ہندوؤں کی تنظیم ہے، اس سلسلے میں وہ سنگھ کے ماحول کا نقشہ ایک واقعہ سے یوں کھینچتے ہیں:”جب میں پہلی بار سرکار یہ واہ منتخب ہوا۔ تو ہمارے سریش جی سونی معاون سرکار یہ واہ مقرر ہوئے تھے تو میڈیا نے یہ کہا کہ یہ بھاگوت گروپ کی جیت ہے لیکن اوبی سی کو نمائندگی دینی ہے۔ لہذا سونی کا تقرر کیا گیا ہے۔ تو میں نے سونی جی سے پوچھا کہ سونی جی! آپ او بی سی سے آتے ہیں؟ تو وہ تھوڑا سا مسکرائے اور جواب نہیں دیا۔ ابھی بھی مجھے نہیں معلوم کہ سونی جی کس برادری سے آتے ہیں۔ یہ سنگھ کا ماحول ہے۔ لہذا اگر ہم اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو تبدیلی واقع ہوگی۔ میں ناگپور میں پڑھتا تھا۔ تو اس وقت ناگپور سنگھ کے تقریبا تمام افسر ادھیکاری ایک ہی ذات کے، یعنی برہمن تھے۔ لیکن جب میں 80 کی دہائی میں ناگپور پر چارک کی حیثیت سے واپس آیا تو جگہ جگہ جتنی بستیاں تھیں، وہاں اس طرح کا ایک ایگزیکٹو تھا۔ اسی لیے ہماری شاخیں بڑھا دی گئیں، ہم اس بستی میں پہنچ گئے، ہم نے کام بڑھایا، اس میں سے کارکنان تیار ہوئے، وہ آگے آئے۔ اگر کوٹہ سسٹم کریں گے تو ذات پات باقی رہے گی۔ آسان عمل کے ذریعے لاتے وقت لانے والوں کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیے کیونکہ فطری طور پر ایک انسان کا مزاج اپنے جیسے کو پکڑنے کا ہوتا ہے۔ ہمیں صرف اپنے جیسے کو نہیں، سب کو پکڑنا ہے۔ یہ دھیان رکھ کر اگر کام چلتا ہے تو ایسا ہوتا ہے۔”(صفحہ 59)
کتاب میں excellence پر بہت زور دیا گیا ہے۔تلک جی کے حوالے سے لکھتے ہیں: “تلک جی کے لڑکے نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں چیز پڑھنی ہے تو تلک جی نے انھیں ایک خط لکھا کہ زندگی میں کیا پڑھنا ہے اس کے بارے میں خود سوچو۔ تم اگر کہتے ہو کہ میں جوتے بنانے کا کاروبار کروں گا تو وہ بھی مجھے قبول ہوگا۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھو کہ تمھارا سلا ہوا جوتا اتنا عمدہ ہونا چاہیے کہ پونے شہر کا ہر آدمی کہے کہ جوتا خریدنا ہے تو تلک جی کے بیٹے سے خریدنا ہے۔پھر بتاتے ہیں: “لوگ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں سے ڈگری لے کر آتے ہیں لیکن وہ ملازمت کے قابل نہیں رہتے۔ ڈگریاں بہت مل رہی ہیں، اعلی تعلیم کے انسٹی ٹیوٹس چل رہے ہیں۔ لیکن تحقیق کم ہورہی ہے۔ مضمون کو پڑھانے والے اساتذہ کم ہور ہے ہیں۔اس نقطہ نظر سے ہمیں جامع نظریہ اختیار کر کے ہر سطح پر تعلیم کا ایک اچھا ماڈل بنانا ہوگا۔ لہذا تعلیم کی پالیسی کا ایک بنیادی خاکہ ہونا چاہیے اور اس میں ضروری تبدیلیاں لانی چاہئیں، یہی سنگھ کئی سالوں سے کہہ رہا ہے۔ اور اس کے لیے مقرر تمام کمیشنوں کی رپورٹس بھی ایسی ہی ہیں۔ اب امید ہے کہ ان سب چیزوں کا اثر نئی تعلیمی پالیسی پر پڑے گا۔'(صفحہ 62)
ایک ہی زبان کیوں کے بارے میں کہتے ہیں: “آخر ایک زبان کی بات ہم کیوں کر رہے ہیں، اس لیے کہ ہمیں ملک کو جوڑنا ہے۔ ایک زبان بنانے سے اگر ملک میں ایک یورپ کھڑا ہوتا ہے تو اس سے ہمارے درمیان تلخی پیدا ہوگی، تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنا ذہن کیسے بنائیں۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ ہندی ٹھیک ہے۔ لیکن زیادہ تر حصوں میں ہندی میں کام کرنا پڑتا ہے اس لیے دوسرے صوبوں کے لوگ بھی ہندی سیکھ رہے ہیں۔ ہندی صوبوں کے لوگوں کا کام ہندی میں چل جاتا ہے، لہذا وہ دوسری زبانیں نہیں سیکھتے۔ ہندی بولنے والے لوگوں کو دوسرے صوبے کی زبان سیکھنا چاہیے۔ تو یہ من ملاپ جلد ہوجائے گا، ہماری ایک قومی زبان اور اسی میں سارا کاروبار ہو، یہ کام جلد ہی ہو جائے گا۔ ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔”(صفحہ 65)
اب رہی بات “بنچ آف تھاٹس” کی تو جو باتیں بولی جاتی ہیں وہ خاص حالات و اشخاص کے تعلق سے بولی جاتی ہیں؛ وہ ابدی نہیں رہتی ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ گروجی کے جو لازوال افکار ہیں ان کا ایک مجموعہ مشہور ہوا ہے؛ “شری گرو جی، وژن اینڈ مشن“۔اس میں ہم نے ان تمام چیزوں کو حذف کر دیا ہے جو فوری سیاق و سباق میں تھیں اور ان کے ان خیالات کو جمع کیا ہے جو دائمی معنویت کے حامل ہیں۔ آپ اسے پڑھیے، اس میں آپ کو وہ باتیں ملیں گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ سنگھ کوئی بند تنظیم نہیں ہے۔ ڈاکٹر ہیڈ گیوار نے کچھ کہا، اب ہم ہمیشہ اس کو لے کر چلیں ایسا نہیں ہے۔ وقت بدلتا ہے تنظیم کے حالات میں تبدیلی ہوتی ہے۔”(صفحہ 78) اسی طرح دفعہ 370، یکساں سول کوڈ، دفعہ 377 کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔
یہ کتاب ایک منظم اور مضبوط تنظیم کو سمجھنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔اردو داں طبقہ ڈاکٹر شیخ عقیل کا شکر گزار ہے کہ اس اہم کتاب کا انہوں نے ترجمہ کیا۔یہ کتاب ‘قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان’ نئی دہلی نے شائع کی ہے۔قیمت 70 روپے بھی مناسب ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب ‘ای کتاب ایپ’ پر پڑھی جاسکتی ہے۔کتاب فون نمبر 49539000 سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان7 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
