تجزیہ
مستقبل کا بھارت
زیر تبصرہ کتاب انتہائی اہمیت کی حامل کتاب ہے۔اس میں بتایا گیا ہے کہ راشٹریہ سویم سنگھ (جو اگر کہا جائے کہ فی الوقت ہندوستان کی سب سے بڑی تنظیم ہے تو کوئی مبالغہ نہیں ہوگا) کیا کرنا چاہتی ہے اور کیوں کرناچاہتی ہے۔ان کے منصوبے کیا ہیں۔سنگھ کیوں ہندوتو کی بات کرتا ہے اور سنگھ کے سامنے بھارت کا وژن کیا ہے۔کتاب کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ یہ سربراہ تنظیم ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کی تقاریر ہیں۔ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت راشٹریہ سویم سیوک سنگھ ( آرایس ایس ) کے سنگھ پالک (صدر) ہیں۔ وہ اس عہدہ پر کے ایس سدرشن کے بعد مارچ 2009 سے براجمان ہیں۔ ان کی پیدائش 11 ستمبر 1950 کو چندر پور بمبئی (مہاراشٹر) میں ہوئی۔ انھوں نے ویٹنری سائنس اینڈ انیمل ہز بنڈری میں گریجویٹ(Bvsc) کی ڈگری حاصل کی۔ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کو ڈاکٹر آف سائنس کی اعزازی ڈگری سے بھی نوازا گیا ہے۔کتاب کا حسن ہے کہ اس کا ترجمہ ایک ذمےدار شخص ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے کیا ہے۔
ڈاکٹر صاحب اردو کے ممتاز دانشور، معلم، فلسفی، مفکر اور معروف نثر نگار ہیں۔انھوں نے دہلی یونیورسٹی سے ایم اے، ایم فل اور ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی ہے۔ ستیہ وتی کالج دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں درس و تدریس سے وابستہ رہے اور اس کے صدرشعبہ بھی رہے ہیں، قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان میں ڈائرکٹر کے عہدہ پر فائز ہیں۔ یہ کتاب آر ایس ایس کو سمجھنے میں بنیادی ماخذ ہے۔ڈاکٹر منموہن وید، سیکرٹری آر ایس ایس لکھتے ہیں: “مستقبل کا بھارت – راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کا نظریہ کے موضوع پر قابل احترام سر سنگھ چالک ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کے ذریعے 19 تا17 تمبر 2018 وگیان بھون میں ایک لیکچر سیریز کا انعقاد کیا گیا تھا۔ سماج کے مختلف حلقوں کی نمائندہ اور بااثر شخصیات کو اس میں مدعو کیا گیا تھا۔ سماج کی ان قابل قدر شخصیات نے لگا تار تین دن آکر اس لیکچر سیریز کے تئیں جس گہری دلچسپی کا مظاہرہ کیا وہ بھارت کے روشن مستقبل کے تئیں ان کے اعتقاد اور فکر کی عکاسی کرتا ہے۔اس سے ہمارے حوصلہ اور یقین میں اضافہ ہوا ہے۔”(صفحہ x111) مترجم کتاب ڈاکٹر عقیل احمد لکھتے ہیں:”اس دوران انھوں نے جہاں دیگر اہم موضوعات پر گفتگو کی وہیں بالخصوص مسلمانوں سے تعلق رکھنے والے موضوعات پر بھی کھل کر اپنی بات رکھی۔ ان کی یہ تقریر اپنے موضوع پر مکمل اور جامع ہے جس سے ہمیں یہ سمجھنے میں مددملتی ہے کہ سنگھ بھارت کو کس نظر سے دیکھتا ہے اور اس ملک کی تعمیر وترقی کے لیے اس کے پاس کیا منصوبے ہیں۔اسی طرح اس ملک میں پائے جانے والے دیگر مذہبی فرقوں کے تئیں سنگھ کے نظریات سے بھی ہمیں واقفیت ہوتی ہے۔ ان کی تقاریر اور اجلاس کے اواخر میں ہونے والے سوالات و جوابات کتابی شکل میں ہندی زبان میں شائع کیے گئے ہیں۔ چونکہ اردو زبان میں آر ایس ایس کے تعلق سے بہت کم مواد موجود ہے۔اس وجہ سے اردو طبقہ آر ایس ایس کے بارے میں بہت زیادہ نہیں جانتا اور نہ جاننے کی وجہ سے بھی بہت سی بد گمانیاں پیدا ہوگئی ہیں، اس لیے ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کی اس تقریری مجموعے کا ہندی سے اردو ترجمعہ شائع کیا جارہا ہے۔ مجھے امید ہے کہ سنگھ کو کما حقہ سمجھنے اور اس کے تعلق سے پھیلی ہوئی بہت سی غلط فہمیوں کو دور کرنے میں یہ کتاب معاون ثابت ہوگی.”ڈاکٹر منموہن وید مزید لکھتے ہیں:”اس لیکچر سیریز میں پہلے دو دن کا خطاب اور تیسرے دن سامعین کے ذریعے دلچسپی کے ساتھ پوچھے گئے سوالات کے جوابوں کو ایک جگہ جمع کر کے کتا بچے کی شکل میں قارئین کے لیے پیش کیا جارہا ہے۔ اس لیکچر سیریز کی وجہ سے ذرائع ابلاغ میں اور سماج میں بھی اچھی اور صحت مند بحث چل پڑی ہے۔ اس کا ہم استقبال کرتے ہیں۔ اس کتابچے کے ذریعے بھی یہ بحث آگے بڑھے گی اور اپنے وطن عزیز کے تئیں ایک مساوی نظر میں ابھر کر سامنے آئے گا اور امید ہے کہ اس سے ہمیں بھارت کے روشن مستقبل کی طرف بڑھنے کا رخ اور حوصلہ ملے گا۔”
کتاب کے پہلے باب جو ڈاکٹر موہن راو بھاگوت کی پہلے دن کی تقریر ہے “مستقبل کا بھارت، سنگھ کا نظریہ”میں ڈاکٹر صاحب نے آر ایس ایس کو 29 صفحات میں خوب سمیٹا ہے۔یہ 29 صفحات آر ایس ایس اور اس کے نظریات کو سمجھنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ڈاکٹر صاحب خطبہ کے آغاز میں کہتے ہیں: “اس پروگرام کا انعقاد سنگھ کو سمجھنے کے لیے ہوا ہے کیونکہ سنگھ آج ایک طاقت کے روپ میں اس ملک میں موجود ہے، ایسا تجربہ ساری دنیا کو ہورہاہے۔ فطری طور پر اس کی چرچا ہوتی ہے ہونی بھی چاہیے، مگر چرچا کرنے کے لیے صحیح صورت حال کا بھی پتا ہونا چاہیے۔ چرچا کیسی چلے وہ چرچا کرنے والوں کا حق ہے مگر حقیقت کیا ہے یہ جان کر چرچا ہوتی ہے تو اس کے غیر جانبدارانہ نتائج نکلتے ہیں۔”(صفحہ 1) مزید لکھتے ہیں:”ہمارے ریاست دہلی کے کارکنان نے سوچا کہ سنگھ کی حقیقت کیا ہے اس کے بارے میں باضابطہ طور پر دہلی کے با اثر قابل احترام طبقے کو بتایا جائے۔ اس پر کچھ سوال جواب ہو اور اس کے لیے یہ وقت منتخب کیا گیا۔ کیونکہ صحیح صورت حال جاننا ضروری ہے۔ یہی صورت حال میں آپ کے سامنے بیان کرنے والا ہوں۔ آپ کے سامنے صحیح صورت حال رکھتے وقت میرا مقصد آپ کو اپنی رائے کا موافق بنانا نہیں ہے۔ موافق ہونا یا نہ ہونا یہ آپ کا حق ہے۔ سنگھ جیسا ہے ویسا ہی میں بتاؤں گا۔ آپ کے سوالوں کا اپنے علم کے مطابق جواب دوں گا۔ اس پر ریسرچ یا ترمیم سب آپ کر سکتے ہیں یہ آپ کا حق ہے۔ لیکن اس کے بعد آپ کے ذریعے جو بھی چرچا ہوگی وہ سنگھ کی اتھرائزڈ جانکاری کی بنیاد پر ہوگی۔ یہی ہمارا مقصد ہے۔”(صفحہ 2)
اس تقریب اور اس کتاب کا مقصد مندرجہ بالا اقتباسات سے معلوم ہوتا ہے،یہاں وہ سنگھ کے بانی ڈاکٹر ہیڈ گیوار کا تعارف کراتے ہوئے بتاتے ہیں کہ جس کو بھی آر ایس ایس سمجھنا ہے اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ ڈاکٹر ہیڈ گوار کو سمجھے، مصنف یہاں تنظیم کے بانی کا تعارف کراتے ہوئے ان کی طالب عالمانہ زندگی، ان کی عوامی زندگی، ان کی سماجی بیداری کے چار مراحل، ان کے تعلقات اور سنگھ کی تاسیس پر مختصر مگر جامع روشنی ڈالتے ہیں، اس مختصر تعارف سے بانی آر ایس ایس کی زندگی کے اہم شعبہ جات کی جانکاری قاری کو ملتی ہے، تعارف کے بعد آر ایس ایس کیا ہے پر بات کرتے ہوئے وہ کہتے ہیں: “راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کیا ہے؟ یہ ایک طریقہ کار ہے اور کچھ نہیں ہے۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ نام کی تنظیم ہے؟ وہ شخصیت سازی کا کام کرتا ہے کیونکہ کام کاج کے اخلاق واطوار میں ہم آج بھی کئی طرح کی تبدیلیاں چاہتے ہیں۔ ہمیں بھید بھاؤ سے فری سماج ہوا ہے، مساوات سماج چاہیے لیکن یہ جاننا چاہیے کہ صرف ایسا کہنے سے نہیں ہوگا۔سماج کا کردار نمونوں کی موجودگی سے بدلتا ہے۔ ہمارے یہاں آئیڈیلز میں عظیم لوگوں کی کوئی کمی نہیں ہے۔”(صفحہ 12)
سنگھ کے مقصد کے بارے میں لکھتے ہیں:”سنگھ کا مقصد ہر گاؤں ہر گلی میں اچھے رضا کار تیار کرنا ہے۔اچھے رضا کار کا مطلب ہے وہ جس کا اپنا کردار قابل اعتماد ہو، خالص ہو۔ جو پورے سماج اور ملک کو اپنا مان کر چلتا ہو۔کسی کو بھید بھاؤ سے عداوت کے جذبے سے نہیں دیکھتا ہو اور اس طرح جس نے سماج کی ہمدردی اور اعتماد حاصل کیا ہو۔ ایسے اطوار و کردار والے لوگوں کی ٹولی ہر ایک گاؤں میں ہر محلے میں کھڑی ہو۔ یہ منصوبہ 1925 میں سنگھ کے روپ میں شروع کیا گیا۔ سنگھ بس اتنا ہی ہے اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے۔”(صفحہ 13) تقریر کے دوران وہ ہندتو کیوں، مختلف نظریات میں توازن، جوڑنے والی تہذیب اور سنگھ کے طریقہ کار پر روشنی ڈالی ہے، سنگھ کے طریقہ کار کے تحت بتاتے ہیں: “سنگھ ایسی اوپن تنظیم ہے۔ یہاں ہر سویم سیوک پوچھ سکتا ہے۔ ہر سویم سیوک سوچتا ہے۔ تبادلہ خیال کرتا ہے۔ ہر سویم سیوک کی بات چرچا میں آنے کی روایت ہے۔ اب لاکھوں سیوئم سیوک ہیں،ان سب کی میں اکیلا نہیں سنتا ہوں لیکن شاکھا کی سطح پر ایسا انتظام ہے کہ ہر ایک کی رائے اوپر تک پہنچتی ہے اور پھر عام اتفاق رائے ہوتا ہے، جس راۓ پر اتفاق ہوتا ہے اسی میں سب لوگ اپنی اپنی رائے کو ضم کر دیتے ہیں۔سب سے زیادہ جمہوری تنظیم اگر آپ کو دیکھنی ہے تو آپ سنگھ میں آئیے۔”(صفحہ 22) یہاں وہ تنظیم کو چلانے والے وسائل پر بات کرتے ہوئے لکھتے ہیں: “سنگھ میں خرچ خود ہی کرنا پڑتا ہے۔ سنگھ کا کام کرنے کے لیے باہر سے ہم ایک پائی بھی نہیں لیتے۔ کسی نے لاکر دیا تو ہم لوٹا دیتے ہیں۔ راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سویم سیوکوں کے باہمی تعاون سے چلتا ہے۔ سال میں ایک بار بھگوادھوج کو گرو مان کر اس کی پوجا میں اس کو نذر گزارتے ہیں۔”(صفحہ 23) مزید لکھتے ہیں: “سویم سیوک سماجی خدمت کا جو کام کرتے ہیں ان کے لیے لوگوں کا تعاون لیتے ہیں، ان کے ٹرسٹ بنے ہوۓ ہیں، وہ با قاعدہ نجی طور پر آڈٹ کر تے ہیں، اس کا حساب رکھتے ہیں، ساری باتیں وہ قانون کے حساب سے کرتے ہیں لیکن راشٹریہ سویم سیوک سنگھ باہر سے پیسہ نہیں لیتا ہے۔ دیا جائے تو بھی نہیں لیتا ہے۔ سنگھ کو چلا رہے ہیں سنگھ کے سویم سیوک؛ ایسی خود کفیل ہماری تنظیم اور ثقافتی کام ہے۔”(صفحہ 25 )
اس تقریر میں انہوں نے ایک اہم بات کی ہے جس پر سب کو عمل کرنا ہوگا۔مصنف”شہرت کی بھوک “کے عنوان کے تحت لکھتے ہیں: “کبھی کبھی لوگ کہتے ہیں کہ آپ سبھی اچھے لوگوں کو بے شناخت بنا رہے ہو ہاں بھئی بات صحیح ہے۔ ہم بے چہرہ بنتے ہیں تا کہ یہ بھی غرور نہ ر ہے کہ فلاں کام میں نے کیا ہے۔ اس کی وجہ سے کچھ مشکلات بھی آتی ہیں لیکن ایک خاص قسم کا انسان سماج میں تیار ہو، اس کے لیے ہم نے یہ کام شروع کیا ہمیں اور کچھ نہیں چا ہیے۔”(صفحہ 26) مزید لکھتے ہیں: “ اگر سنگھ کے لوگ بڑے بڑے کام کرتے ہیں تو یہ کسی پر احسان ہے کیا؟ یہ تو اپنا سماج ہے اس کے لیے کرنا ہے۔ ضرورت پڑنے پر اپنے سماج کے لیے قربانی کی بھی تیاری رکھنی چاہیے۔ تو زندہ رہ کر اگر دو چار اچھے کام کر لیے تو اس میں پیٹھ تھپتھپانے جیسی بات کیا ہے؟ بے غرضی کے ساتھ ملک کی خدمت کرو سب مل کر کرو اور اس لیے اجتماعیت سنگھ میں آپ کو قدم قدم پر ملے گی۔ سنگھ کے کتنے سویم سیوک ہیں، کام بھی بہت سے لوگ کرتے ہیں۔ لیکن مشہور سب نہیں ہوتے۔ دنیا داری میں چلتا ہے تو سنگھ کا ذمے دار ہونا پڑتا ہے پھر بڑا بن گیا ہے تو میڈیا کے لوگ پیچھے پڑتے ہیں دکھاتے ہیں، اس لیے کسی کو سامنے آنا پڑتا ہے۔ نہیں تو ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت سر سنگھ چالک بن گیا اور روز اس کی تصویریں چھپ رہی ہیں۔ یہ ڈاکٹر موہن راؤ بھاگوت کے لیے بہت پریشانی کا سبب ہے۔ کیونکہ یہ سنگھ کی روایت نہیں ہے۔”(صفحہ 26) تقریر میں انہوں نے سنگھ میں خواتین کی صورتحال پر بھی بحث کی ہے۔
دوسرے باب میں سنگھ کے بارے میں غلط فہمیاں دور کرنے کی کوشش کی گئی ہے، سنگھ اور سیاست، خواتین کے بارے میں سنگھ کا نظریہ، ہندتو، ہندو لفظ کیوں، دھرم، ریلیجن، ترقی کا نظریہ، دستور کے تحت بہت ساری غلط فہمیوں کو دور کرنا چاہیے, واضح رہے کہ سنگھ کے کاموں میں مردوں کے لیے راشٹریہ سویم سیوک سنگھ سے رہنمائی ملتی ہے جبکہ خواتین کو راشٹریہ سیویکا سمیتی سے ملتی ہے۔ یہ دونوں ایک ساتھ چلیں گے۔ ایک دوسرے کے شعبہ عمل میں دخل نہیں دیں گے۔ ایک دوسرے کی ہمیشہ مدد کریں گے۔ یہ اس وقت طے ہوا۔ ایک لاکھ ستر ہزار سے اوپر چھوٹے بڑے خدمت کے پروجیکٹ پر کام کرتے ہیں۔ یہ آٹھ سال پہلے کے اعداد و شمار ہیں، آر ایس ایس چونکہ اپنے آپ کو معاشرتی تنظیم کہتی ہے لیکن بی جے پی کو آر ایس ایس کی سیاسی تنظیم کہا جاتا ہے، سیاست کے بارے میں سنگھ کیا کہتی ہے، وہ کہتے ہیں: “میں یہ بات تھوڑے لفظوں میں پھر اس لیے بتا رہا ہوں کہ کئی بار ہم سے سوال کیا جاتا ہے کہ سنگھ کا سیاست سے کیا تعلق ہے؟ کیا سنگھ کے سیاسی عزائم ہیں؟ کیونکہ آج کل کے تقریباً عام رحجان سے ایسا لگتا ہے کہ انسان کسی قابل ہو جاتا ہے اور اس شعبے میں کچھ کرلیتا ہے۔ جہاں سے اسے یہ قابلیت ملی ہے۔ تو وہ سیاست میں جانا چاہتا ہے۔ لیکن سنگھ کو پورے معاشرے کو جوڑنا ہے اور سیاست معاشرے اور زندگی کے بہت سے موضوعات کو لیتی ہے۔ ان موضوعات میں اختلافات پائے جاتے ہیں، یہ ہونا فطری بھی ہے۔ کیونکہ خیالات مختلف اقسام کے رہتے ہیں جس کی وجہ سے گروپ بندی ہوجاتی ہے الگ الگ پارٹیاں بن جاتی ہیں اور ان کے درمیان آپسی مخالفت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔ سیاست، جماعت اور پورے معاشرے کو جوڑنے کا کام ایک محدود دائرے میں ہی ایک ساتھ چل سکتا ہے۔ وہ مزید بتاتے ہیں اس لیے سنگھ نے اپنے قیام کے بعد سے ہی یہ فیصلہ کیا ہے کہ ہماری تنظیم سیاست سے دور رہے گی۔ مسابقت کی سیاست نہیں کرے گی، انتخابات نہیں لڑے گی، سنگھ کا کوئی بھی عہدے دار کسی بھی سیاسی پارٹی میں عہدے دار نہیں بن سکتا، سنگھ کو الیکشن اور ووٹوں کی سیاست سے دور رہنا ہے۔”(صفحہ 32)
اس سوال کے جواب میں کہ آخر سنگھ کے لوگ کیوں بی جے پی میں ہی جاتے ہیں ڈاکٹر صاحب کہتے ہیں:”سویم سیوک ایک خاص پارٹی میں ہی کیوں ہیں؟ اس پارٹی کے بہت سے عہدے داران، موجودہ وزیر اعظم صدر سویم سیوک ہیں؟ اس لیے لوگ جب یہ قیاس لگاتے ہیں کہ نا گپور سے فون جاتا ہوگا اور بات ہوتی ہوگی، یہ بالکل غلط ہے۔ ایک تو وہاں کام کرنے والے سیاسی کارکنان یا تو میری عمر کے ہیں یا مجھ سے بھی سینئر ہیں اور سنگھ کے کاموں کا میرا جتنا تجربہ ہے اس سے کہیں زیادہ تجربہ انھیں سیاست کا ہے۔ ان کو اپنی سیاست کے لیے کسی کے مشورے کی ضرورت نہیں ہے۔ ہم اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔ ہم انھیں کوئی مشورہ دے بھی نہیں سکتے۔ جان پہچان ہے تو حال چال پوچھ لیتے ہیں۔ ان کو کوئی مشورہ چاہے تو وہ کچھ لیتے ہیں اور ہم اگر کوئی مشورہ دے سکتے ہیں تو دے دیتے ہیں مگر ان کی سیاست پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہے۔ سرکار کی پالیسیوں پر ہمارا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ ہمارے سویم سیوک ہیں ان کو نظر و فکر حاصل ہے اور وہ اپنے اپنے شعبہ عمل میں انھیں استعمال کرنے کی صلاحیت اور اختیار رکھتے ہیں۔ اس آزادی، استقلال اور خود انحصاری کے ساتھ ان کا کام چلتا ہے اور چلنا چاہیے ہم یہی چاہتے ہیں۔ ملک میں اور ملک کے سسٹم میں پاور نام کی جو چیز ہے اس کا جو مرکز دستور سے طے ہوا ہے وہی رہے گا۔ کوئی باہر کا دوسرا مرکز کھڑا ہو ہم اسے غلط لکھتے ہیں۔ اس لیے ایسا ہم کرتے بھی نہیں ہیں”سب جانتے ہیں 2014 سے بی جے پی اپنے عروج پر ہے اس کے باوجود آر ایس ایس کوئی ایسا بیان نہیں دیتی جس سے یہ ظاہر ہو کہ بی جے پی اس کی سیاسی ونگ ہے بلکہ اس کے برعکس مسلمان جذباتی قوم ہے، ہم اگر اپنے آس پاس مجموعہ دیکھتے ہیں تو اپنے آپ کو امیر المومنین کے منصب پر فائز سمجھتے ہیں اور لوگوں سے اس کا عہد لیتے ہیں، ہندوستان کی تعریف اور باقیوں کی تنقید یوں کرتے ہیں “ہم دنیا میں جہاں بھی گئے ہیں لڑے نہیں، ہم نے کسی کا ملک فتح نہیں کیا۔ ہم نے کسی کی جائیداد نہیں لوٹی۔ جہاں بھی گئے علم دیا تہذیب دی۔ دوسرے ممالک کے لوگ آ کر اپنے ملک میں بااثر بن جاتے ہیں اور بعد میں واپس چلے جاتے ہیں۔ تو ان کی یادگار اچھی نہیں رہتی۔ دوسرے ممالک سے لوگ آئے، انھوں نے ہم پر حکومت کی، چلے گئے۔ ممالک کے لوگ آئے، ہم پر اثر انداز ہوئے، چلے گئے۔ اس کو اچھا نہیں کہا جاتا لیکن واحد ہندوستان ہے، جس کا دنیا کے جن ممالک میں ظہور ہوا، اس کی یادوں کو وہاں کے لوگ خوشی سے احترام کرتے ہیں۔ آج بھی اس کی باقیات چل رہی ہیں۔ کہیں مجھے ملتے ہیں، کہیں دستکاری نئے سرے سے کھڑی کی گئی ہیں، مہا بھارت اور رامائن کی کہانیاں چلائیں۔ رام لیلائیں چلائیں، خوشی سے چلتی ہیں۔ عبادت کا طریقہ بدل گیا۔ بعد میں وہ شیور ہے، نہ بودھ رہے۔ وہ آج مسلمان ہیں لیکن وہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے اسلاف نہیں بدلے۔”(صفحہ 43)
باربار ڈاکٹر صاحب کوشش کرتے ہیں کہ سب ان کا ساتھ دیں، سب لوگ ہندوستان کی ترقی میں اپنا رول نبھائیں، اس سلسلے میں جو وہ کہتے ہیں بڑا پن دکھائی دیتا ہے۔ دستور کے تحت لکھتے ہیں:”ہندتو عالمی کہنے کی بات کرتا ہے۔ جس دن ہم کہیں گے کہ صرف یہ چلیں گے وید کو نہ ماننے والا بدھ مذہب نہیں چلے گا، اس دن وہ ہندتو نہیں رہے گا۔ کیونکہ ہمارے ملک میں سچائی کی مستقل تلاش جاری ہے اور اس وجہ سے بہت سارے فلسفے اور نظریات پیدا ہوئے ہیں۔ ان سب کی اپنی اہمیت اور قدر و قیمت ہے، وہ سب سچ ہیں، ایسا سب مانتے ہیں اور ماننا چاہیے۔ ہم اس ہندتو کو لے کر آگے بڑھ رہے ہیں کیونکہ یہی واحد نظریہ ہے جو اس بھائی چارے کو نظریاتی بنیاد دیتا ہے۔”(صفحہ 48)۔
ملک کا پورا سماج تمام تر امتیازات و مفادات کو فراموش کر کے منظم ہوکر اپنے ملک کے لیے جینے مرنے کا عہد کرتا ہے۔ تب ہی ملک کی تقدیر بدلتی ہے۔ جو ممالک آج تک دنیا میں ترقی کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں، آپ سب کی تاریخ دیکھ لیجیے کم از کم سو سال ایسی کوششیں مسلسل کی گئیں۔ اس کے بعد وہ ملک زوال سے عروج کی طرف گامزن ہوا اور ساری دنیا کے سر کا تاج بن گیا۔ چاہے وہ انگلینڈ ہو، امریکہ ہو، فرانس ہو، کیوبا ہو، جاپان ہو یا چین ہو۔ ان سب کی اپنی تاریخ لکھی گئی ہے۔ میں نے خود پڑھا ہے۔ اس کے حتمی نتائج کی بنیاد پر میں آپ کو یہ بتا رہا ہوں۔”(صفحہ 49)
اس کتاب میں اہم معلومات بھی ہیں۔عام طور پر آر ایس ایس کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ وہ سب کو دینا چاہتے ہیں۔دوسروں سے کچھ نہیں لیتے اس سلسلے میں وہ جاپان کے بارے میں لکھتے ہیں:”میں ایک مثال دوں گا جاپان کے بارے میں ایک کتاب لکھی گئی ہے ‘دی انکریڈیبل جاپانیز’ جاپان اس وقت دنیا کے بازاروں کا بادشاہ تھا۔ اس کا مطالعہ دو ماہرین سماجیات اور دو معاشی ماہرین نے کیا اور ایک کتاب لکھی۔ کتاب پڑھنے کے لائق ہے۔ کتاب کے آخری صفحے پر انھوں نے نو نتائج بیان کیے ہیں۔ ان نو نتائج میں سے پہلے پانچ معاشیات سے متعلق نہیں ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جاپان کے عوام نظم و ضبط کے عادی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنے ترقی پذیر ہیں۔ دوم وہ کہتے ہیں کہ جاپان کے عوام جب اپنے مفاد کے بارے میں سوچتے ہیں، تو وہ صرف اپنے مفاد کو نہیں سوچتے۔ کم از کم وہ اپنے گاؤں کی بھلائی سوچ کر کوئی منصوبہ بناتے ہیں۔ تیسری بات انھوں نے یہ لکھی ہے کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے ہر وقت تیار رہتے ہیں۔ چوتھی بات انھوں نے لکھی کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کے لیے کسی بھی قسم کی قربانی دینے کو ہمیشہ آمادہ رہتے ہیں اور پانچویں بات یہ کہ جاپان کے عوام اپنے ملک کا ہر کام بہترین اور اعلی طریقے سے کرنے کی کوشش کرتے ہیں”۔(صفحہ 50)
تیسرے باب”تجسس – حل “میں ڈاکٹر موہن راو بھاگوت نے ان سوالات کا جواب دیا ہے جو سنگھ کی پالیسیوں کے بارے میں کیے جاتے ہیں۔ ذات پات کے بارے میں کہتے ہیں:”پہلی بین ذات شادی 1942 میں مہاراشٹر میں ہوئی۔ یہ پہلا واقعہ تھا اور اچھے پڑھے لکھے لوگوں کا تھا، اسی وجہ سے یہ مشہور ہوا۔ اس وقت ان کے پاس جو اچھے اور مبارکبادی کے پیغامات آئے تھے، ان میں قابل احترام ڈاکٹر بابا صاحب امبیڈکر کا پیغام بھی شامل تھا اور شری گرو جی کا بھی۔ گرو جی نے اس پیغام میں کہا تھا کہ آپ کی شادی کی وجہ صرف جسمانی کشش نہیں ہے، آپ یہ بھی بتانا چاہ رہے ہیں کہ سماج میں ہم سب ایک ہیں، اسی وجہ سے آپ یہ شادی کر رہے ہیں۔ میں اس کے لیے آپ کو مبارکباد پیش کرتا ہوں اور آپ کے لیے ازدواجی زندگی میں ہر خوشی کی تمنا کرتا ہوں۔”(صفحہ 57) کیا سنگھ صرف اپر کاسٹ ہندوؤں کی تنظیم ہے، اس سلسلے میں وہ سنگھ کے ماحول کا نقشہ ایک واقعہ سے یوں کھینچتے ہیں:”جب میں پہلی بار سرکار یہ واہ منتخب ہوا۔ تو ہمارے سریش جی سونی معاون سرکار یہ واہ مقرر ہوئے تھے تو میڈیا نے یہ کہا کہ یہ بھاگوت گروپ کی جیت ہے لیکن اوبی سی کو نمائندگی دینی ہے۔ لہذا سونی کا تقرر کیا گیا ہے۔ تو میں نے سونی جی سے پوچھا کہ سونی جی! آپ او بی سی سے آتے ہیں؟ تو وہ تھوڑا سا مسکرائے اور جواب نہیں دیا۔ ابھی بھی مجھے نہیں معلوم کہ سونی جی کس برادری سے آتے ہیں۔ یہ سنگھ کا ماحول ہے۔ لہذا اگر ہم اسی طرح آگے بڑھتے رہے تو تبدیلی واقع ہوگی۔ میں ناگپور میں پڑھتا تھا۔ تو اس وقت ناگپور سنگھ کے تقریبا تمام افسر ادھیکاری ایک ہی ذات کے، یعنی برہمن تھے۔ لیکن جب میں 80 کی دہائی میں ناگپور پر چارک کی حیثیت سے واپس آیا تو جگہ جگہ جتنی بستیاں تھیں، وہاں اس طرح کا ایک ایگزیکٹو تھا۔ اسی لیے ہماری شاخیں بڑھا دی گئیں، ہم اس بستی میں پہنچ گئے، ہم نے کام بڑھایا، اس میں سے کارکنان تیار ہوئے، وہ آگے آئے۔ اگر کوٹہ سسٹم کریں گے تو ذات پات باقی رہے گی۔ آسان عمل کے ذریعے لاتے وقت لانے والوں کے دل میں یہ احساس ہونا چاہیے کیونکہ فطری طور پر ایک انسان کا مزاج اپنے جیسے کو پکڑنے کا ہوتا ہے۔ ہمیں صرف اپنے جیسے کو نہیں، سب کو پکڑنا ہے۔ یہ دھیان رکھ کر اگر کام چلتا ہے تو ایسا ہوتا ہے۔”(صفحہ 59)
کتاب میں excellence پر بہت زور دیا گیا ہے۔تلک جی کے حوالے سے لکھتے ہیں: “تلک جی کے لڑکے نے کہا کہ مجھے فلاں فلاں چیز پڑھنی ہے تو تلک جی نے انھیں ایک خط لکھا کہ زندگی میں کیا پڑھنا ہے اس کے بارے میں خود سوچو۔ تم اگر کہتے ہو کہ میں جوتے بنانے کا کاروبار کروں گا تو وہ بھی مجھے قبول ہوگا۔ لیکن یہ بات ذہن میں رکھو کہ تمھارا سلا ہوا جوتا اتنا عمدہ ہونا چاہیے کہ پونے شہر کا ہر آدمی کہے کہ جوتا خریدنا ہے تو تلک جی کے بیٹے سے خریدنا ہے۔پھر بتاتے ہیں: “لوگ ہمارے اعلی تعلیمی اداروں سے ڈگری لے کر آتے ہیں لیکن وہ ملازمت کے قابل نہیں رہتے۔ ڈگریاں بہت مل رہی ہیں، اعلی تعلیم کے انسٹی ٹیوٹس چل رہے ہیں۔ لیکن تحقیق کم ہورہی ہے۔ مضمون کو پڑھانے والے اساتذہ کم ہور ہے ہیں۔اس نقطہ نظر سے ہمیں جامع نظریہ اختیار کر کے ہر سطح پر تعلیم کا ایک اچھا ماڈل بنانا ہوگا۔ لہذا تعلیم کی پالیسی کا ایک بنیادی خاکہ ہونا چاہیے اور اس میں ضروری تبدیلیاں لانی چاہئیں، یہی سنگھ کئی سالوں سے کہہ رہا ہے۔ اور اس کے لیے مقرر تمام کمیشنوں کی رپورٹس بھی ایسی ہی ہیں۔ اب امید ہے کہ ان سب چیزوں کا اثر نئی تعلیمی پالیسی پر پڑے گا۔'(صفحہ 62)
ایک ہی زبان کیوں کے بارے میں کہتے ہیں: “آخر ایک زبان کی بات ہم کیوں کر رہے ہیں، اس لیے کہ ہمیں ملک کو جوڑنا ہے۔ ایک زبان بنانے سے اگر ملک میں ایک یورپ کھڑا ہوتا ہے تو اس سے ہمارے درمیان تلخی پیدا ہوگی، تو ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہم اپنا ذہن کیسے بنائیں۔ میرا تجربہ کہتا ہے کہ ہندی ٹھیک ہے۔ لیکن زیادہ تر حصوں میں ہندی میں کام کرنا پڑتا ہے اس لیے دوسرے صوبوں کے لوگ بھی ہندی سیکھ رہے ہیں۔ ہندی صوبوں کے لوگوں کا کام ہندی میں چل جاتا ہے، لہذا وہ دوسری زبانیں نہیں سیکھتے۔ ہندی بولنے والے لوگوں کو دوسرے صوبے کی زبان سیکھنا چاہیے۔ تو یہ من ملاپ جلد ہوجائے گا، ہماری ایک قومی زبان اور اسی میں سارا کاروبار ہو، یہ کام جلد ہی ہو جائے گا۔ ایسا کرنے کی ضرورت ہے۔”(صفحہ 65)
اب رہی بات “بنچ آف تھاٹس” کی تو جو باتیں بولی جاتی ہیں وہ خاص حالات و اشخاص کے تعلق سے بولی جاتی ہیں؛ وہ ابدی نہیں رہتی ہیں۔ ایک بات تو یہ ہے کہ گروجی کے جو لازوال افکار ہیں ان کا ایک مجموعہ مشہور ہوا ہے؛ “شری گرو جی، وژن اینڈ مشن“۔اس میں ہم نے ان تمام چیزوں کو حذف کر دیا ہے جو فوری سیاق و سباق میں تھیں اور ان کے ان خیالات کو جمع کیا ہے جو دائمی معنویت کے حامل ہیں۔ آپ اسے پڑھیے، اس میں آپ کو وہ باتیں ملیں گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ سنگھ کوئی بند تنظیم نہیں ہے۔ ڈاکٹر ہیڈ گیوار نے کچھ کہا، اب ہم ہمیشہ اس کو لے کر چلیں ایسا نہیں ہے۔ وقت بدلتا ہے تنظیم کے حالات میں تبدیلی ہوتی ہے۔”(صفحہ 78) اسی طرح دفعہ 370، یکساں سول کوڈ، دفعہ 377 کے حوالے سے پوچھے گئے سوالات کا جواب دیا گیا ہے۔
یہ کتاب ایک منظم اور مضبوط تنظیم کو سمجھنے میں اہم رول ادا کرتی ہے۔اردو داں طبقہ ڈاکٹر شیخ عقیل کا شکر گزار ہے کہ اس اہم کتاب کا انہوں نے ترجمہ کیا۔یہ کتاب ‘قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان’ نئی دہلی نے شائع کی ہے۔قیمت 70 روپے بھی مناسب ہے۔زیرِ تبصرہ کتاب ‘ای کتاب ایپ’ پر پڑھی جاسکتی ہے۔کتاب فون نمبر 49539000 سے حاصل کی جا سکتی ہے۔
تجزیہ
مصنوعی ذہانت اور ہندوستانی زراعت: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی نئی راہیں
خصوصی مضمون: ظفراقبال
موسمیاتی تبدیلی آج دنیا بھر میں زراعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، غیر متوقع بارش، خشک سالی، سیلاب اور پانی کی قلت نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ ہندوستان جیسے زرعی ملک میں اس صورت حال کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں لاکھوں خاندانوں کا روزگار کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ ایسے حالات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے یہ امید وابستہ کی جارہی ہے کہ وہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی پیداوار بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسی مقصد کے تحت گوگل نے حیدرآباد میں قائم انٹرنیشنل کراپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار دی سیمی اَرِڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی) اور دنیا کے دیگر تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے ایسی فصلوں کی تیاری کو فروغ دینا ہے جو خشک سالی اور موسمیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کرسکیں۔ اس منصوبے میں جوار جیسی غذائیت سے بھرپور فصلوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
ہندوستان میں زراعت کا بڑا حصہ مون سون کی بارشوں پر منحصر ہے۔ بارشوں میں بے قاعدگی، شدید گرمی اور پانی کی کمی کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ کبھی بارش وقت پر نہیں ہوتی اور کبھی مختصر مدت میں اتنی زیادہ بارش ہوجاتی ہے کہ کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر چھوٹے اور متوسط کسان ہوتے ہیں، جن کے پاس فصلوں کے نقصان کو برداشت کرنے کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث روایتی زرعی طریقوں پر انحصار بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں جدید ٹیکنالوجی کسانوں کو موسم کی پیش گوئی، آب پاشی، بیجوں کے انتخاب اور فصلوں کی دیکھ بھال کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موسمیاتی اور زرعی معلومات کا تجزیہ کرکے ان مسائل کے ممکنہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
گوگل اس منصوبے کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت کی تحقیقی شاخ گوگل ڈیپ مائنڈ اور غیر منافع بخش اقدامات سے متعلق ادارے گوگل ڈاٹ آرگ کی مدد لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں قائم آئی سی آر آئی ایس اے ٹی، ہڈسن الفا انسٹی ٹیوٹ فار بایوٹیکنالوجی اور واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبہ جینوم سائنسز کے ساتھ بھی تعاون کیا جارہا ہے۔
اس شراکت داری کا مقصد ایسی فصلوں کی ترقی کو تیز کرنا ہے جو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت جیسے ناموافق حالات میں بھی بہتر طور پر نشوونما پاسکیں۔ اس کے لیے فصلوں کی جینیاتی خصوصیات کا مطالعہ اور ان اقسام کی شناخت اہم ہوگی جو موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہیں۔
گوگل انڈیا کی کنٹری منیجر پریتی لوبانا اور گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈی نیس آفیسر لیلا ابراہیم کے مطابق، یہ کوشش زرعی لچک کے ایک اہم ذریعے کے طور پر جوار پر ہندوستان کی توجہ سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس طرح مقامی تحقیق کو عالمی غذائی تحفظ کے وسیع تر مقصد سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جوار ہندوستان کی ایک اہم غذائی فصل ہے، جو نسبتاً کم پانی میں بھی اگ سکتی ہے۔ اس کی یہی خصوصیت اسے خشک سالی اور پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کے لیے مفید بناتی ہے۔ جوار میں توانائی، غذائی ریشہ اور مختلف غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ متوازن غذا کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔
اس فصل کی اہمیت صرف انسانی خوراک تک محدود نہیں۔ اسے مویشیوں کے چارے اور بعض صنعتی مقاصد، بشمول حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر سائنسی تحقیق کے ذریعے جوار کی ایسی اقسام تیار کی جاسکیں جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کو بہتر طور پر برداشت کریں تو اس سے کسانوں اور غذائی تحفظ دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
گوگل کے منصوبے کا ایک اہم مقصد جوار کی مقامی اقسام کی جینیاتی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ایک جینیاتی اٹلس تیار کرنا ہے۔ اس سے محققین کو مختلف اقسام کے درمیان فرق جاننے اور مفید خصوصیات کی شناخت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فصلوں کی نئی اور بہتر اقسام تیار کرنے کے لیے سائنس دانوں کو ان کی جینیاتی خصوصیات اور مختلف ماحول میں ان کی کارکردگی کا تفصیلی مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موجود معلومات کا تجزیہ کرکے ان جینیاتی عوامل کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے جو خشک سالی برداشت کرنے، بیماریوں کے خلاف مزاحمت یا بہتر پیداوار جیسی خصوصیات سے وابستہ ہوتے ہیں۔
جینیاتی اٹلس کی مدد سے محققین جوار کی مختلف اقسام کی خصوصیات کو منظم انداز میں سمجھ سکیں گے۔ اس سے مستقبل میں فصلوں کی افزائش کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ عمل فوری نتائج دینے والا نہیں۔ نئی اقسام کی تیاری، تجرباتی کاشت اور مختلف علاقوں میں ان کی موزونیت جانچنے کے لیے وقت اور مسلسل تحقیق درکار ہوگی۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال موسم کی پیش گوئی، فصلوں کی بیماریوں کی شناخت اور پانی کے بہتر استعمال میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔ اگر ان سہولتوں کو کسانوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے تو زرعی نقصانات کم کرنے اور پیداوار بہتر بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی مشورے اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب وہ کسانوں کی عملی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ کسانوں کو مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کرنا، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی بڑھانا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دینا ضروری ہے۔
اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد صرف بڑے کسانوں تک محدود نہ رہ جائیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے کم خرچ اور آسانی سے دستیاب سہولتیں فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے مشوروں کی درستگی جانچنا اور انہیں مقامی موسمی حالات، زمین اور پانی کی دستیابی کے مطابق بنانا بھی ضروری ہے۔
روایتی زرعی علم کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے جدید تحقیق کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ مقامی بیجوں اور فصلوں کے تنوع کا تحفظ بھی اہم ہے، کیونکہ یہی تنوع مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قیمتی وسائل فراہم کرسکتا ہے۔
گوگل اور تحقیقی اداروں کی شراکت داری ہندوستان میں زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ جوار جیسی فصلوں پر تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جینیاتی معلومات کا تجزیہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔
تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب تحقیق کے نتائج کسانوں تک پہنچیں، نئی فصلیں مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان کے فوائد عام کسانوں کے لیے قابلِ حصول بنائے جائیں۔ مصنوعی ذہانت موسمیاتی تبدیلی کا مکمل حل نہیں، لیکن سائنسی تحقیق، روایتی علم اور پائیدار زرعی پالیسیوں کے ساتھ مل کر یہ ہندوستان کے غذائی تحفظ اور کسانوں کی معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
ال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
خصوصی مضمون: ظفراقبال
سمندر زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک اہم ستون ہیں۔ یہ نہ صرف عالمی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ بے شمار جانداروں کو پناہ فراہم کرنے، غذائی وسائل مہیا کرنے اور ساحلی آبادیوں کے معاشی استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام کے اہم ترین اجزا میں مرجان کی چٹانیں شامل ہیں، جنہیں سمندر کے بارانی جنگلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چٹانیں اپنی غیر معمولی حیاتیاتی تنوع، قدرتی خوب صورتی اور ماحولیاتی افادیت کے باعث دنیا بھر میں اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم، عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور سمندری پانی کے مسلسل گرم ہونے نے ان کے وجود کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے کے علاقے مرجان کی چٹانوں کے اہم مراکز ہیں۔ یہاں موجود مرجان نہ صرف سمندری حیات کے تحفظ میں معاون ہیں بلکہ ماہی گیروں کی روزی روٹی، ساحلی تحفظ اور مقامی معیشت سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے اور ال نینو جیسے موسمیاتی مظاہر نے ان چٹانوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2026-27 میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والا انتہائی شدید ال نینو مرجان کی وسیع پیمانے پر بلیچنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت حال نے مرجان کے تحفظ، سائنسی نگرانی اور طویل مدتی ماحولیاتی منصوبہ بندی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مرجان کی چٹانیں سمندر میں پائے جانے والے چھوٹے جانداروں یعنی مرجان کے پولپس کی طویل عرصے میں تشکیل پانے والی ساختیں ہیں۔ یہ جاندار کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل سخت ڈھانچے بناتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ وسیع چٹانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے اندر اور آس پاس مختلف اقسام کی مچھلیاں، مولسکس، کرسٹیشینز اور دیگر سمندری جاندار رہتے ہیں۔ اس طرح مرجان کی چٹانیں سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی اہم مسکن فراہم کرتی ہیں۔
ان چٹانوں کی اہمیت صرف سمندری جانداروں تک محدود نہیں۔ یہ ساحلی علاقوں کو لہروں کی شدت سے بچانے، ساحلی کٹاؤ کم کرنے اور بعض حالات میں طوفانی لہروں کے اثرات محدود کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان سے وابستہ سمندری وسائل مقامی ماہی گیری اور سیاحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ چنانچہ مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان دراصل ایک پورے ماحولیاتی اور معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
مرجان کی بلیچنگ اس وقت ہوتی ہے جب سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھنے کے باعث مرجان اپنے اندر رہنے والی خوردبینی کائی کو کھو دیتے ہیں یا ان کے ساتھ ان کا تعلق متاثر ہو جاتا ہے۔ ان کائی کو زوکسانتھیلی (Zooxanthellae) کہا جاتا ہے۔ یہ مرجان کو خوراک بنانے میں مدد دیتی ہیں اور انہیں ان کے مخصوص رنگ بھی فراہم کرتی ہیں۔ جب مرجان شدید حرارتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ ان کائی کو خارج کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا رنگ مدھم یا سفید پڑ جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو بلیچنگ کہا جاتا ہے۔بلیچنگ کا مطلب لازماً مرجان کی موت نہیں ہوتا۔ اگر درجہ حرارت بروقت معمول پر آ جائے اور حرارتی دباؤ زیادہ دیر برقرار نہ رہے تو مرجان صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر پانی طویل عرصے تک گرم رہے تو مرجان کو خوراک کی کمی، بیماریوں اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ال نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں میں سمندر کی سطح کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے وابستہ ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے۔ یہ دنیا کے مختلف خطوں میں بارش، خشک سالی، درجہ حرارت اور ہواؤں کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات ہر خطے میں یکساں نہیں ہوتے، تاہم بعض حالات میں یہ پہلے سے جاری عالمی حدت کے اثرات کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔عالمی حدت کے باعث سمندر پہلے ہی اضافی حرارت جذب کر رہے ہیں۔ جب ال نینو کی کیفیت اس صورت حال کے ساتھ ملتی ہے تو بعض سمندری علاقوں میں پانی کا درجہ حرارت مرجان کی برداشت کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ نتیجتاً بلیچنگ کے وسیع واقعات رونما ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
موسمیاتی ماہرین نے 2026-27 کے دوران شدید ال نینو کے ممکنہ خطرے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر نے اس عرصے میں انتہائی شدید ال نینو واقعے کے امکان کو 90 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ تاہم، کسی موسمیاتی پیش گوئی کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے، ال نینو کی شدت، دورانیے اور علاقائی اثرات کے بارے میں مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ اس کے باوجود ممکنہ خطرے کے پیش نظر مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔
تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے مرجان کی چٹانوں کے اہم علاقے ہیں۔ خلیجِ منار اپنی سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہے، جبکہ پالک بے بھی مرجان اور دیگر سمندری جانداروں کے لیے اہم مسکن فراہم کرتی ہے۔ ان علاقوں کی چٹانیں سمندری ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے ساتھ مقامی ماہی گیروں کی معاشی سرگرمیوں میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو 1998، 2010، 2016 اور 2024 کے ال نینو سے وابستہ برسوں میں شدید بلیچنگ اور مرجان کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ 2005 سے گرمیوں کے دوران پانی کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے پر ہر سال بلیچنگ کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ تاہم، درجہ حرارت کم ہونے کے بعد بعض چٹانیں دوبارہ صحت یاب بھی ہوئی ہیں۔یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ مرجان کی بقا کے لیے صرف درجہ حرارت میں اضافے کا جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ پانی کتنی دیر تک گرم رہتا ہے اور مرجان کو بحالی کے لیے کتنا وقت ملتا ہے۔ مختصر دورانیے کی حدت کے مقابلے میں طویل عرصے تک بلند درجہ حرارت زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
تمل ناڈو کے محکمہ جنگلات اور سگنتھی دیواداسن میرین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی ایم آر آئی) کے تعاون سے خلیجِ منار میرین نیشنل پارک کے تحت مرجان کی چٹانوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس سال 7 سے 12 مئی کے درمیان کیے گئے مشترکہ زیرِ آب سروے میں خلیجِ منار کے 12 جزیروں اور شمالی پالک بے کے مرجانی علاقوں کا جائزہ لیا گیا۔سروے کے دوران سمندری پانی کا درجہ حرارت 31.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو مرجان کی بلیچنگ کے لیے تشویش ناک حد ہے۔ تاہم، جون میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے آنے کے باعث بلیچنگ کی شدت محدود رہی اور اس کے نتیجے میں مرجان کی ہلاکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق، خلیجِ منار میں بلیچنگ کا اوسط دائرہ 3.69 فیصد تھا، جبکہ پالک بے میں یہ شرح 13.9 فیصد رہی۔ پالک بے میں 10.8 فیصد مرجانی حصہ مکمل اور 3.1 فیصد جزوی بلیچنگ سے متاثر ہوا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں علاقوں میں بلیچنگ کی شدت مختلف رہی اور پالک بے میں صورت حال نسبتاً زیادہ تشویش ناک تھی۔ستمبر اور اکتوبر کے دوران غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت نے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ اس مدت میں بلیچنگ کی اطلاع نہیں ملی، لیکن درجہ حرارت کی روزانہ نگرانی جاری ہے۔ یہ نگرانی اس لیے اہم ہے کہ بلیچنگ کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی پانی کا مسلسل گرم رہنا مرجان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور قابلِ اعتماد سائنسی معلومات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ خلیجِ منار میرین بایوسفیئر ریزرو کے وائلڈ لائف وارڈن اکھل تامبی کے مطابق تمل ناڈو کو طویل مدتی بنیادی معلومات اور نگرانی کے پہلے سے موجود نظام کا فائدہ حاصل ہے۔ اس نظام کی مدد سے بڑے پیمانے پر نقصان ہونے سے پہلے غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔اسی طرح ایس ڈی ایم آر آئی کے ڈائریکٹر ایڈورڈ جے کے پیٹرسن نے نشاندہی کی ہے کہ نگرانی کے ذریعے قلیل مدتی حرارتی دباؤ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی بلیچنگ کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے محکمہ جنگلات کو مناسب وقت پر اقدامات کرنے کا موقع ملتا ہے۔نگرانی کے مؤثر نظام میں سمندری درجہ حرارت کی باقاعدہ پیمائش، مرجان کی صحت کا جائزہ، بلیچنگ کے پھیلاؤ کی نقشہ بندی اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل جانچ شامل ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ مختلف اوقات میں حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تقابل بھی ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مرجان کن حالات میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور کون سے علاقے نسبتاً زیادہ حساس ہیں۔
مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور معاشی سرگرمیوں سے بھی براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ ان چٹانوں پر انحصار کرنے والی متعدد سمندری انواع کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے موزوں ماحول ملتا ہے۔ اگر مرجان بڑے پیمانے پر تباہ ہو جائیں تو ان سے وابستہ جانداروں کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں مقامی ماہی گیروں کو مچھلیوں کی دستیابی میں کمی، ماہی گیری کے اخراجات میں اضافے اور آمدنی میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مرجان کی چٹانوں سے وابستہ سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ ہے۔مزید برآں، مرجان کی چٹانیں ساحلی علاقوں کو لہروں کی توانائی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی خرابی بعض مقامات پر ساحلی کٹاؤ اور طوفانی لہروں کے اثرات کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے مرجان کا تحفظ ماحولیاتی پالیسی کے ساتھ ساتھ ساحلی آبادیوں کے معاشی اور سماجی تحفظ کا بھی اہم جزو ہونا چاہیے۔
تمل ناڈو کا محکمہ جنگلات مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے طویل مدتی انتظامی منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ ریاست کے چیف وائلڈ لائف وارڈن راکیش کمار ڈوگرا کے مطابق، ماضی میں بلیچنگ کے واقعات اور آب و ہوا سے متعلق دیگر خلل کے تجربات کو خلیجِ منار میرین نیشنل پارک اور بایوسفیئر ریزرو کے آئندہ دس سالہ انتظامی منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے محض ہنگامی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ ضروری ہے کہ واقعے سے پہلے اس کے دوران اور بعد میں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی واضح ہو۔ اس میں ابتدائی انتباہ، متاثرہ علاقوں کی فوری جانچ، نقصان کی سائنسی تشخیص اور بحالی کے اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔اس کے ساتھ مرجان کی چٹانوں پر انسانی دباؤ کم کرنا بھی ضروری ہے۔ غیر پائیدار ماہی گیری، سمندری آلودگی، پلاسٹک کے فضلے، ساحلی ترقی اور دیگر مقامی عوامل مرجان کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان مسائل کا خاتمہ عالمی حدت کو فوری طور پر نہیں روک سکتا، لیکن ان میں کمی مرجان کی قدرتی بحالی کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تحفظ کی کوششوں میں مقامی ماہی گیروں، سائنس دانوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں کی شمولیت بھی اہم ہے۔ مقامی آبادی کو مرجان کی اہمیت، بلیچنگ کی علامات اور سمندری ماحول کے تحفظ کے طریقوں سے آگاہ کر کے نگرانی اور تحفظ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں پر بڑھتا ہوا خطرہ اس وسیع تر ماحولیاتی بحران کی علامت ہے جس میں عالمی حدت، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور قدرتی موسمیاتی مظاہر ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ ممکنہ شدید ال نینو کے پیش نظر خلیجِ منار اور پالک بے کی چٹانوں کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماضی کے تجربات، حالیہ سروے کے نتائج اور سائنس دانوں کی تنبیہات واضح کرتی ہیں کہ بروقت اقدامات سے نقصان کی شدت کم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس مقصد کے لیے مسلسل سائنسی نگرانی، مؤثر انتظامی منصوبہ بندی، مقامی آلودگی میں کمی، پائیدار ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں کی شمولیت کو ترجیح دینا ہوگی۔
مرجان کی چٹانوں کا تحفظ دراصل سمندری حیاتیاتی تنوع، غذائی وسائل، ساحلی سلامتی اور انسانی روزگار کے تحفظ کی مشترکہ کوشش ہے۔ اگر تمل ناڈو میں پیشگی اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو ممکنہ موسمیاتی بحران کے اثرات کم کرنے اور ان قیمتی قدرتی وسائل کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، طویل مدتی کامیابی کے لیے مقامی سطح کے تحفظ کے ساتھ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے، کیونکہ سمندروں کی بڑھتی ہوئی حدت کا بنیادی حل موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو کم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔
اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔
برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔
تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”
عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.
منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔
ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
جینت رائے چودھری
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
