تجزیہ
صلاحیتوں کا ارتقاء
سہیل بشیر کار
صحیح مسلم میں رسول رحمت ﷺ نے ارشاد ہے:’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ ‘‘ دینِ اسلام، جو جانور ذبح کرنے کے لیے بھی احسن طریقہ چاہتا ہے،کیسے ممکن ہے کہ وہ زندگی کے جملہ شعبہ جات کے بارے میں بہتری (احسان) نہ چاہے؟ہر کام میں بہتری اور نفاست کو پسند کیا جاتا ہے اور اسلام نے بھی اس بات کو پسند کیا ہے کہ مومن اپنے ہر کام میں ترقی کے اعلیٰ معیار کو پالے، چاہے وہ عبادات سے متعلق ہوں یا معمولاتِ زندگی سے متعلق۔ اصل میں یہی احسان ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون ہوتاہے جس سے کہ نہ صرف وہ شخص خود فائدہ حاصل کرتا ہے بلکہ پوری انسانیت اس کی صلاحیتوں سے مستفید ہوتی ہے۔ جس شخص میں احسان کی صفت پائی جاتی ہے، وہ بہر صورت اپنی صلاحیتوں کے ارتقاء کی فکر میں ہمیشہ رہتا ہے اور صلاحیتوں کے ارتقاء سے ہی متمدن قومیں اور تہذیبیں وجود پاتیں اور دوام حاصل کرتی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب’’ صلاحیتوں کا ارتقاء‘‘ جناب انجینئر ایس امین الحسن کی ایک منفرد تصنیف ہے۔ اس کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ فاضل مصنف اس میدان کے ماہر ہیں۔ انجینئر ایس امین الحسن نے انجینئرنگ کی تعلیم کے بعد سائیکالوجی میں ماسٹرس کیا ہے۔ آپNLP Trainer ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اعلیٰ اکیڈمک کیریئر کے ساتھ ساتھ آپ عملی میدان سے وابستہ ہیں۔
مشہور و معروف عالمِ دین اور فقیہ ڈکٹر محمد رضی الاسلام ندوی اس کتاب کے بارے میں رقم طراز ہیں :’’اس کتاب کی حیثیت ایک گائیڈ بک کی ہے، جو قاری کو صلاحیتوں کے ارتقاء کی فکر کرنے کے لیے نہ صرف بے چین کردیتی ہے، بلکہ اس کے لیے عملی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔ ایک فرد کیسے اپنی صلاحیتوں کا ارتقاء کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود ہی دیکھے کہ اس کے اندر کون سی صلاحیت رکھی گئی ہے۔‘‘
کتاب کو7 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پیش لفظ میں درج ہے:’’صلاحیتوں کے ارتقاء کے ضمن میں پہلا کام بنیادی طور پر ہر فرد کے ذہن میں یہ بات پیوست کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر صلاحیتوں کا خمیر رکھا ہے۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا پیدا نہیں ہوتا جو بالکل ہی بے صلاحیت ہو۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے اندر کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانے، انھیں بروئے کارلائے اور انھیں تعمیر وترقی کے کام میں لگائے۔ دنیا میں انسانوں کو ایک دوسرے پر جو فضیلت حاصل ہے وہ صلاحیتوں کی بنیاد پر ہے۔ اسی کی بنیاد پر کاروبار دنیا کا انتظام چل رہا ہے۔ کوئی اعلیٰ اور کوئی ادنیٰ ہے تو اس کی بنیاد پر معاشی زندگی کا پہیہ چلتا ہے۔‘‘(ص 7)
فاضل مصنف صلاحیتوں کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں :’’ جو جتنی صلاحیت رکھتا ہے، دنیا میں آمدنی کے وسائل و ذرائع اس کے لیے اتنے ہی آسان ہوتے ہیں اور سماجی زندگی میں ترقی کے زینے طے کرنا آسان ہوتا ہے۔ سماج میں جو نظریاتی کش مکش ہوتی ہے، اس میں بھی صلاحیتوں ہی کی مسابقت ہوتی ہے۔ آج امریکا اگر اقوام کی امامت کرتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ دنیا بھر سے صلاحیتوں کو اس نے جمع کیا اور ان کے اظہار کے مواقع فراہم کیے۔ دنیا میں عروج، برتری اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو چار چاند لگائے۔ امت مسلمہ کا بھی جب چہار عالم میں ڈنکا بجتا تھا، اس وقت ان کی صفوں میں بڑے بڑے مفکر، دانش ور، سائنس دان، تاجر، دنیا کو کھنگالنے والے جنگی مہارت رکھنے والے اور علوم کی دنیا میں جاہلیت کو دعوت مبارزت دینے والے پائے جاتے تھے۔ آج امت کے زوال کے اسباب میں یہ بات مسلم ہے کہ تعلیم، مہارت اور ذہانت کے میدان میں وہ بہت پیچھے ہوگئی۔ اس کی نشاۃ ثانیہ کی راہ یہ بتائی جاتی ہے کہ علوم پر اس کا دست رس پھر سے بحال ہو۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب برتا جاتا ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ ذہانت کے خلاف کہیں تعصب نہیں ہوتا۔ آج بھی صلاحیتوں کی قدر ہر جگہ ہوتی ہے۔‘‘(ص 8) لہٰذا ہر سطح پر صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں :’’ صلاحیتوں کی نشو و نما تحریک کے ایک کارکن سے لے کر ہر سطح کے قائدین کی ضرورت ہے، جس پر فرد اگر توجہ دینے لگے تو مجموعی طور پر تحریک صلاحیتوں کے میدان میں کافی آگے بڑھ سکتی ہے۔‘‘(ص 5)
پیش لفظ ہی میں مصنف ان چار باتوں کا ذکر کرتے ہیں، جو صلاحیتوں کے ارتقاء کے لیے ضروری ہیں : پہلی بات ہر فرد کو جاننا ضروری ہے کہ تربیت کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اپنی ہمہ جہت تربیت کا سامان خود کرنا ہے۔ دوسری بات یہ کہ فرد جس بھی سطح کا ہو ہمارے لیے سرمایہ ہے۔ تیسری بات یہ ہے جو جس چیز میں ماہر ہے، اس سے بلا لحاظ مذہب و ملت استفادہ کرنا ہے، معاشرہ میں صلاحیتوں کے فروغ کے لیے جس طرح کی بھی کوشش ہو رہی ہوں ہمیں چاہیے کہ ان کوششوں میں ہم شامل ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ہمیں انتہائی محنت اور جنون پیدا کرنا ہوگا۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں :’’کچھ بننے سنور نے اور کچھ صلاحیت اور مہارت پیدا کرنے کے لیے اندر سے ایک آگ چاہیے، جس کی گرمی اور حرارت ہمیں متحرک اور سرگرم کر دے۔ جن کی زندگیوں میں یہ آگ سرد پڑجائے، وہ راکھ کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ تنظیمی زندگی کے نتیجے میں ہمارے اندر کی وہ چنگاری کبھی ٹھنڈی ہونے نہیں پاتی۔ اگر کہیں ایسا ہو چکا ہے تو ضروری ہے کہ پھر سے اس چنگاری کو آگ میں تبدیل کیا جائے۔ اندر کی وہ آگ جلتی رہے تو یہ بات یقینی ہے کہ ہم خود ہی متحرک رہیں گے اور اپنے لیے خود مہمیز کا کام کریں گے۔ اور اس آگ سے ہم خود اپنی ایک نئی شخصیت ڈھالیں گے اور سماج کو کوئی نئی چیز دے سکیں گے، انشاء اللہ۔ ہمارا اجتماعی ماحول کسی کے اندر کی آگ کو سرد ہونے نہیں دے گا بلکہ ایک دوسرے کے لیے مہمیز کا کام کرے گا۔‘‘(ص 12)
فاضل مصنف حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قاری کی امنگ پیدا کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں : ’’ایک آگ موسی علیہ السّلام کو دور سے دکھائی دی اور وہ اس کے قریب گئے، تا کہ وہ یا تو سردی میں گرمی کا سامان فراہم کر سکیں یا آگے کا راستہ معلوم کر سکیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو موسوی مشن کے علم بردار ہوتے ہیں خود ان کے سینے کے اندر ایک آگ ہوتی ہے، جس سے وہ اپنے لیے گرمی اور حرارت بھی پاسکتے ہیں اور آگے کا راستہ بھی روشن کر سکتے ہیں۔ ‘‘(ص 12)
برادر ایس امین الحسن چوں کہ موٹیویشنل اسپیکر بھی ہیں، لہٰذا وہ اپنی بات بہترین طریقے سے رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کتاب کے پہلے باب’’ صلاحیتوں کا فروغ۔ضرورت اور حکمت عملی‘‘کے آغاز میں بہت ہی اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں آدمی کا وزن اور اعتبار اس کی صلاحیتوں کے حساب سے ہوتا ہے، اس لیے اپنی صلاحیتوں کو اپ ڈیٹ کرنا اور اپ گریڈ کرنا عقل مندوں اور دنیا میں کچھ کر گزرنے کا شیوہ ہوتا ہے۔‘‘(ص 15) اس باب میں مصنف سمجھاتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یہ کام موجودہ دور ہی میں اہم نہیں ہے بلکہ قرآن کریم میں پیغمبروں کے تذکرہ میں کہا گیا ہے کہ ان کے ہاں بھی اونچے معیار کو پالینے کا تصور تھا۔ وہ لکھتے ہیں :’’ قرآن مجید میں جا بجا انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں کسی جگہ ان کی دعوت نمایاں ہے تو کسی جگہ ان کی گھریلو زندگی کے کچھ پہلو سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالی سے جو دعائیں کیں، قرآن نے انھیں بھی ابھار کر پیش کیا ہے‘‘ (ص 15)
فاضل مصنف قرآن مجید سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور اپنے لیکچرز میں قرآن کریم کے اہم رموز کو بیان کرتے ہیں۔ کتاب میں بھی اس کے خوبصورت اشارے ملتے ہیں۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں :’’ دل چسپ بات جس کی طرف لوگوں کا ذہن کم جا تا ہے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن نے ان کی مخصوص صلاحیت کا ذکر کیا ہے، جو ان کی شناخت کا حصہ ہے۔ یعنی رہتی دنیا تک وہ اس صلاحیت کے حوالے سے بانی وموجد کی حیثیت سے جانے جاتے رہیں گے۔ جیسے حضرت نوح علیہ السلام بحیثیت کشتی ساز، حضرت ابراہیم علیہ السلام عالمی دعوت کا نقشۂ کار بنانے والے، حضرت داؤد علیہ السلام زرہ ساز، حضرت یوسف علیہ السلام بحیثیت ماہر پلاننگ اور مینجمنٹ وغیرہ۔‘‘(ص 16)
صلاحیتوں کے فروغ کی اہمیت کے حوالے سے وہ قاری کو دورِ رسالت میں لے جاتے ہیں۔ لکھتے ہیں : ’’صحابہ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ اورحضرت عمر ؓ رائے اور مشورے کے لوگ تھے۔ نبی اسلام ان سے قبائلی سیاست، جنگی اسٹریٹجی، جنگ میں استعمال ہونے والے نئے اوزار اور ہتھیار کے سلسلے میں مشورہ کیا کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاص ؓ اورحضرت خالد بن ولید ؓ میدان جنگ کے ماہرین تھے۔ ان سے جنگی مہمات کی قیادت کا کام لیا کرتے تھے۔ حضرت علی ؓ اسلام کے اول مفتی اور قاضی تھے، سرور کونینﷺنے اپنی نگرانی میں انھیں مقدمات کے فیصلے کی ٹرینگ دی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اورحضرت ابی بن کعب ؓ قرآن کے پہلے مفسرین تھے۔ آپ نے لوگوں سے کہہ رکھا تھا کہ ان حضرات سے قرآن سیکھا کریں۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓ بہترین کمیونی کیشن کے آدمی تھے، ان سے ڈپلومیسی کا کام آپ نے لیا۔‘‘(ص16) آگے اس باب میں متنوع صلاحیتوں کی اہمیت، صلاحیتوں کے فروغ کے لیے حکمتِ عملی پر قیمتی نکات بیان کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ صلاحیتیں خود بہ خود پیدا نہیں ہوتیں، اس کے لیے محنت کرنا لازمی بھی ہے اور مستقل کام بھی۔
دوسرے باب میں مصنف نے سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے سلسلے میں اہم بحث کی ہے،وہ لکھتے ہیں :’’انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے سلسلے میں نبیﷺکا فارمولا کچھ اس طرح سے تھا، جس کا ذکر اس سے پہلے ہو چکا ہے کہ Buy, Build and Borrowیعنی صلاحیتوں کو نشوونما دینا، سماج کے باصلاحیت افراد کو متاثر کرنا اور بعض مخصوص صلاحیتوں سے بہ وقت ضرورت استفادہ کرنا۔ ‘‘(ص 29)
صحیح بخاری کی وہ حدیث جس میں کہا گیا کہ’’ لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے (کسی میں اچھا مال نکلتا ہے کسی میں برا) سے دو اہم نکات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’انسانوں میں سب سے زیادہ قیمتی وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اعلی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ دائرۂ اسلام میں ہیں یا اس سے باہر ہیں۔ صرف صلاحیتیں انسانیت کے لیے مفید نہیں ہوتیں، اگر وہ ایمان اور تقوی سے عاری ہوں۔ سب سے زیادہ اچھے انسان وہ ہیں جن میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہو۔‘‘ (ص 30) اسی طرح وہ حدیث مبارکہ جس میں کہا گیا ہے کہ ’’جو انوں میں سے جو جاہلیت میں سب سے بہتر تھے، اسلام میں بھی بہتر رہیں گے‘‘کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے ضمن میں سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ اپنی ہی صفوں میں جو مخلص کارکنان جو ہمہ دم دین کے ہر کام کی انجام دہی کے لیے تیار رہتے ہیں اور اپنی زندگی اسی کاز کے لیے وقف کر دینے کا تہیہ کیے ہوئے تحریک میں شامل ہوتے ہیں، ان پر پہلی توجہ دی جائے۔ ان کا تزکیہ ہو، ان کی صلاحیتیں پروان چڑھیں، ان کی شخصیت سازی ہو اور وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانیں تا کہ انھیں درجۂ کمال تک پہنچاسکیں۔ اسی کا نام تزکیہ ہے۔‘‘(ص 32) یہاں مصنف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے کارکنان کی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہیے اور ساتھ ہی واقعۂ ہجرت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ہجرت کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے غیر مسلم بدو، عبد اللہ بن اریقط کی خدمات حاصل کیں، تاکہ وہ غیر معروف راستے سے یثرب کی طرف لے جائیں۔ روانگی کے لیے مقررہ وقت پر ابن اریقط اونٹوں کے ساتھ غار میں ان سے ملنے آیا، اور وہ سیدھے شمال کی سمت میں یثرب کی طرف جانے کے بجائے جنوب مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ بہت ہی پر خطر سفر تھا۔ اور دوسری طرف قریش انھیں گرفتار کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے تھے۔ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی نے خود کو خدا کے سپرد کر دیا تھا، تاہم انھوں نے راستہ بتانے والے کی مدد حاصل کرنے میں دریغ نہیں کیا، وہ شخص دشمنوں کا ہم مذہب یعنی مشرک تھا، لیکن وہ اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ قابل اعتماد بھی ہے اور راستوں کا غیر معمولی جان کار بھی ہے۔ اس لیے اس پر اعتمادکیا اور راستہ بتانے والے کی حیثیت سے اس کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا گیا۔ آپ ؐ صلاحیتوں کی قدر کرتے تھے اور ان سے تحریک کے لیے خدمات حاصل کرنے میں دریغ نہیں کرتے تھے۔‘‘(ص 36)
تیسرے باب میں مصنف نے سیرت نبویؐ کی روشنی میں بتایا ہے کہ آپ نے اس دور میں کس طرح صلاحیتوں کی نشوونما کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے دس صلاحیتوں کے تحت نشونما کا تذکرہ کیا ہے۔ مقررین کی نشونما کے تحت وہ حضرت جعفر بن طیار کے نجاشی کے دربار میں تقریر کے تحت لکھتے ہیں :’’حضرت جعفر طیار نے نجاشی کے دربار میں جس شان دار انداز سے تقریر کی، انھیں آج ہم پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دربار نجاشی میں اس کی کیا گونج رہی ہوگی اور سامعین کے حواس پر کیا اثرات مرتب کی ہوگی۔ ‘‘ (ص 47)
انجینئر ایس امین الحسن نے کتاب میں سیرت النبیﷺکو سمجھنے کے لیے نئے اہم زاویے بیان کیے ہیں۔ کاش ہمارے معاشرہ میں سیرت کے ان عملی پہلوؤں سے عوام الناس کو روشناس کیا جاتا۔ کتاب کے چوتھے باب میں مصنف نے تحریک اسلامی کی چار خصوصیات کی تفصیل بیان کی ہے۔ فاضل مصنف نے آج کے حالات میں کون سی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہیے؟اس سوال کے تحت چار اہم صلاحیتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، جن کی امت مسلمہ کو سخت ضرورت ہے۔
دنیا کی آدھی آبادی صلاحیتوں کے ارتقاء سے محروم ہے۔ ظاہر ہے اس کا متحمل کوئی بھی معاشرہ نہیں ہو سکتا، یہی وجہ ہے کہ رسول رحمت ﷺ نے خواتین کی صلاحیتوں کے ارتقاء پر خصوصی توجہ دی۔ اس معاشرہ میں خواتین چلتی پھرتی نظر آتی تھیں، مگر دھیرے دھیرے مسلم خواتین معاشرہ کی تعمیر میں وہ رول ادا نہ کر سکیں، جو ان سے مطلوب تھا۔
فاضل مصنف نے پانچویں اور چھٹے باب میں خواتین کے حوالے سے صلاحیتوں کے ارتقاء پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ پانچویں باب میں مصنف نے نسوانی صلاحیتوں، ازدواجی زندگی کا استحکام، تعلقات کا فن اور پرورش کے فن اور کمیونکیشن کے فن پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ چھٹے باب میں مسلم خواتین کا مطلوبہ کردار اور مطلوب صلاحیتیں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب میں مصنف نے کئی خواتین، جو عملی میدان میں سرگرم ہیں اور معاشرہ کی تعمیر میں جن کا رول ہے، کی مثالیں پیش کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں : ’’شاہدہ البغدادی دسویں صدی کی عراق کی ایک معروف اسلامی اسکالر ہیں۔ فاطمہ سمرقندی بارہویں صدی کی اسلامی اسکالرتھیں۔ اس طرح اور بے شمار خواتین ہیں، جن کا نام تاریخ میں ملتا ہے کہ وہ یونیورسٹیوں اور مساجد میں بھی علوم اسلامیہ اور اس زمانے کی جدید سائنس پر لیکچر دیا کرتی تھیں، جن سے استفادہ کرنے والوں میں مردوخواتین دونوں شامل ہیں۔ ‘‘(ص 85)
کتاب کے آخری باب میں مصنف نے امت مسلمہ کے قائدین اور کارکنان کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر گفتگو کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :’’ معلوم ہونا چاہیے کہ قائدین اس وقت سب سے زیادہ مضبوط نظر آتے ہیں، جب وہ خود سیکھ رہے ہوتے ہیں اور کیڈر سے بھی اس کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ‘‘ (ص 86)
مصنف نے سیکھنے کے مراحل کی خمیدہ لکیر(learning curves) کے تحت، علم کا علم، لا علمی کا علم، علم کی لاعلمی اور لاعلمی کی لاعلمی کے تحت اہم نکات واضح کیے ہیں۔ اس باب میں مصنف بار بار یہ سمجھاتے ہیں کہ انسان چاہے کسی بھی لیول کا ہو اس کو سیکھنا لازمی ہے۔ کبھی بھی کسی فرد کو یہ سمجھنا نہیں چاہیے کہ وہ کسی فیلڈ میں ماہر ہوگیا ہے۔اب اس کو سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں بھی مصنف نے قصہ موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر کے قرآنی واقعہ سے اہم نکات بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :’’یہ اصول آپ کی زندگی میں کہیں بھی قابل اعتبار اور مکمل طور پر لاگو ہے، بند اور سخت رہنے سے آپ جہاں ہیں وہیں رہیں گے، جب کہ نئی تعلیم اور تبدیلی کھلا پن یقینی طور پر بہتر نشوونما اور صحت مند تبدیلی کے لئے ایک انتہائی ضروری پلیٹ فارم مہیا کرے گا اور ترقی کی راہوں پر آپ گام زن ہوں گے۔‘‘(ص 96) مصنف نے جہاں جاہلیت پر تنقید کی ہے وہی امت مسلمہ میں رائج کمزور پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :’’ صرف مغربی تعلیم کو دوش دینا نا انصافی ہوگی۔ دینی تعلیم کے نام پر دین کا جو سطحی علم رائج کیا گیا اس کا بھی یہ نقصان ہوا کہ شادی کے دوسرے ہی دن سے حقوق وفرائض کی جنگ چھیڑ دی جاتی ہے۔ جب کہ ازدواجی زندگی کی خوشیاں حقوق وفرائض کے خانوں میں تقسیم نہیں ہوتیں، بلکہ اخلاق اور احسان کی شیرینی سے حاصل ہوتی ہیں۔ وہ گھر جہنم نما ہے، جہاں صبح شام تُو تو میں میں ہوتی ہو اور جوتیوں میں دال بٹتی ہو۔ عورت کو اپنے Resourcefulness کی پہلی صلاحیت سے واقفیت ہونی چاہیے۔ ازدواجی زندگی کے استحکام میں اسے جو کردار ادا کرنا چاہیے وہ معلوم ہو۔‘‘(ص 65)
مصنف نے 96 صفحات کی اس مختصر سی کتاب میں بہت سارے قیمتی مباحث کو خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔اس کتاب کو صرف ایک بار پڑھنا کافی نہیں ہے، بلکہ ر بار بار استفادہ کرنا ہوگا۔
کتاب کا ٹائٹل بہت خوبصورت ہے۔ مشہور و معروف ادارہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرزدہلی نے شاندار گیٹ اپ پر طبع کیا ہے۔ کتاب کی قیمت 70 روپے بھی مناسب ہے۔ یہ کتاب اس نمبر: 7290092403 سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
تجزیہ
مصنوعی ذہانت اور ہندوستانی زراعت: موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کی نئی راہیں
خصوصی مضمون: ظفراقبال
موسمیاتی تبدیلی آج دنیا بھر میں زراعت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے۔ درجہ حرارت میں اضافہ، غیر متوقع بارش، خشک سالی، سیلاب اور پانی کی قلت نے زرعی پیداوار کو متاثر کیا ہے۔ ہندوستان جیسے زرعی ملک میں اس صورت حال کی سنگینی مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں لاکھوں خاندانوں کا روزگار کھیتی باڑی سے وابستہ ہے۔ ایسے حالات میں مصنوعی ذہانت (اے آئی) سے یہ امید وابستہ کی جارہی ہے کہ وہ کسانوں کو موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے نمٹنے اور زرعی پیداوار بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
اسی مقصد کے تحت گوگل نے حیدرآباد میں قائم انٹرنیشنل کراپ ریسرچ انسٹی ٹیوٹ فار دی سیمی اَرِڈ ٹراپکس (آئی سی آر آئی ایس اے ٹی) اور دنیا کے دیگر تحقیقی اداروں کے ساتھ شراکت داری کی ہے۔ اس اقدام کا مقصد مصنوعی ذہانت اور جدید سائنسی تحقیق کی مدد سے ایسی فصلوں کی تیاری کو فروغ دینا ہے جو خشک سالی اور موسمیاتی دباؤ کا بہتر مقابلہ کرسکیں۔ اس منصوبے میں جوار جیسی غذائیت سے بھرپور فصلوں پر خصوصی توجہ دی جارہی ہے۔
ہندوستان میں زراعت کا بڑا حصہ مون سون کی بارشوں پر منحصر ہے۔ بارشوں میں بے قاعدگی، شدید گرمی اور پانی کی کمی کسانوں کے لیے مشکلات پیدا کررہی ہے۔ کبھی بارش وقت پر نہیں ہوتی اور کبھی مختصر مدت میں اتنی زیادہ بارش ہوجاتی ہے کہ کھیتوں میں کھڑی فصلیں تباہ ہوجاتی ہیں۔ اس صورت حال سے سب سے زیادہ متاثر چھوٹے اور متوسط کسان ہوتے ہیں، جن کے پاس فصلوں کے نقصان کو برداشت کرنے کے لیے محدود وسائل ہوتے ہیں۔
موسمیاتی تبدیلی کے باعث روایتی زرعی طریقوں پر انحصار بھی مشکل ہوتا جارہا ہے۔ ایسے میں جدید ٹیکنالوجی کسانوں کو موسم کی پیش گوئی، آب پاشی، بیجوں کے انتخاب اور فصلوں کی دیکھ بھال کے بارے میں بہتر فیصلے کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موسمیاتی اور زرعی معلومات کا تجزیہ کرکے ان مسائل کے ممکنہ حل تلاش کرنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
گوگل اس منصوبے کے لیے اپنی مصنوعی ذہانت کی تحقیقی شاخ گوگل ڈیپ مائنڈ اور غیر منافع بخش اقدامات سے متعلق ادارے گوگل ڈاٹ آرگ کی مدد لے رہا ہے۔ اس کے علاوہ حیدرآباد میں قائم آئی سی آر آئی ایس اے ٹی، ہڈسن الفا انسٹی ٹیوٹ فار بایوٹیکنالوجی اور واشنگٹن یونیورسٹی کے شعبہ جینوم سائنسز کے ساتھ بھی تعاون کیا جارہا ہے۔
اس شراکت داری کا مقصد ایسی فصلوں کی ترقی کو تیز کرنا ہے جو کم پانی اور زیادہ درجہ حرارت جیسے ناموافق حالات میں بھی بہتر طور پر نشوونما پاسکیں۔ اس کے لیے فصلوں کی جینیاتی خصوصیات کا مطالعہ اور ان اقسام کی شناخت اہم ہوگی جو موسمیاتی دباؤ برداشت کرنے کی بہتر صلاحیت رکھتی ہیں۔
گوگل انڈیا کی کنٹری منیجر پریتی لوبانا اور گوگل ڈیپ مائنڈ کی چیف اے آئی ریڈی نیس آفیسر لیلا ابراہیم کے مطابق، یہ کوشش زرعی لچک کے ایک اہم ذریعے کے طور پر جوار پر ہندوستان کی توجہ سے مطابقت رکھتی ہے۔ اس طرح مقامی تحقیق کو عالمی غذائی تحفظ کے وسیع تر مقصد سے جوڑنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
جوار ہندوستان کی ایک اہم غذائی فصل ہے، جو نسبتاً کم پانی میں بھی اگ سکتی ہے۔ اس کی یہی خصوصیت اسے خشک سالی اور پانی کی قلت سے متاثرہ علاقوں کے لیے مفید بناتی ہے۔ جوار میں توانائی، غذائی ریشہ اور مختلف غذائی اجزا پائے جاتے ہیں، اس لیے یہ متوازن غذا کا اہم حصہ بن سکتی ہے۔
اس فصل کی اہمیت صرف انسانی خوراک تک محدود نہیں۔ اسے مویشیوں کے چارے اور بعض صنعتی مقاصد، بشمول حیاتیاتی ایندھن کی تیاری کے لیے بھی استعمال کیا جاسکتا ہے۔ اگر سائنسی تحقیق کے ذریعے جوار کی ایسی اقسام تیار کی جاسکیں جو کم پانی میں زیادہ پیداوار دیں اور موسمیاتی تبدیلیوں کو بہتر طور پر برداشت کریں تو اس سے کسانوں اور غذائی تحفظ دونوں کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔
گوگل کے منصوبے کا ایک اہم مقصد جوار کی مقامی اقسام کی جینیاتی خصوصیات کو سمجھنے کے لیے ایک جینیاتی اٹلس تیار کرنا ہے۔ اس سے محققین کو مختلف اقسام کے درمیان فرق جاننے اور مفید خصوصیات کی شناخت کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔
فصلوں کی نئی اور بہتر اقسام تیار کرنے کے لیے سائنس دانوں کو ان کی جینیاتی خصوصیات اور مختلف ماحول میں ان کی کارکردگی کا تفصیلی مطالعہ کرنا پڑتا ہے۔ مصنوعی ذہانت بڑی مقدار میں موجود معلومات کا تجزیہ کرکے ان جینیاتی عوامل کی شناخت میں مدد دے سکتی ہے جو خشک سالی برداشت کرنے، بیماریوں کے خلاف مزاحمت یا بہتر پیداوار جیسی خصوصیات سے وابستہ ہوتے ہیں۔
جینیاتی اٹلس کی مدد سے محققین جوار کی مختلف اقسام کی خصوصیات کو منظم انداز میں سمجھ سکیں گے۔ اس سے مستقبل میں فصلوں کی افزائش کے لیے زیادہ مؤثر حکمتِ عملی تیار کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم یہ عمل فوری نتائج دینے والا نہیں۔ نئی اقسام کی تیاری، تجرباتی کاشت اور مختلف علاقوں میں ان کی موزونیت جانچنے کے لیے وقت اور مسلسل تحقیق درکار ہوگی۔
مصنوعی ذہانت کا استعمال موسم کی پیش گوئی، فصلوں کی بیماریوں کی شناخت اور پانی کے بہتر استعمال میں بھی مددگار ہوسکتا ہے۔ اگر ان سہولتوں کو کسانوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جائے تو زرعی نقصانات کم کرنے اور پیداوار بہتر بنانے کے امکانات بڑھ سکتے ہیں۔
مصنوعی ذہانت پر مبنی زرعی مشورے اسی وقت مؤثر ثابت ہوں گے جب وہ کسانوں کی عملی ضروریات سے مطابقت رکھتے ہوں۔ کسانوں کو مقامی زبانوں میں معلومات فراہم کرنا، انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سہولتوں تک رسائی بڑھانا اور جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کی تربیت دینا ضروری ہے۔
اس بات کا بھی خیال رکھنا ہوگا کہ نئی ٹیکنالوجی کے فوائد صرف بڑے کسانوں تک محدود نہ رہ جائیں۔ چھوٹے کسانوں کے لیے کم خرچ اور آسانی سے دستیاب سہولتیں فراہم کرنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح مصنوعی ذہانت کے مشوروں کی درستگی جانچنا اور انہیں مقامی موسمی حالات، زمین اور پانی کی دستیابی کے مطابق بنانا بھی ضروری ہے۔
روایتی زرعی علم کو نظرانداز کرنے کے بجائے اسے جدید تحقیق کے ساتھ جوڑنا چاہیے۔ مقامی بیجوں اور فصلوں کے تنوع کا تحفظ بھی اہم ہے، کیونکہ یہی تنوع مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قیمتی وسائل فراہم کرسکتا ہے۔
گوگل اور تحقیقی اداروں کی شراکت داری ہندوستان میں زراعت کو جدید ٹیکنالوجی سے جوڑنے کی ایک اہم کوشش ہے۔ جوار جیسی فصلوں پر تحقیق اور مصنوعی ذہانت کے ذریعے جینیاتی معلومات کا تجزیہ مستقبل میں موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے نئے امکانات پیدا کرسکتا ہے۔
تاہم اس اقدام کی حقیقی کامیابی اسی وقت ممکن ہوگی جب تحقیق کے نتائج کسانوں تک پہنچیں، نئی فصلیں مقامی ضروریات کے مطابق ہوں اور ان کے فوائد عام کسانوں کے لیے قابلِ حصول بنائے جائیں۔ مصنوعی ذہانت موسمیاتی تبدیلی کا مکمل حل نہیں، لیکن سائنسی تحقیق، روایتی علم اور پائیدار زرعی پالیسیوں کے ساتھ مل کر یہ ہندوستان کے غذائی تحفظ اور کسانوں کی معاشی بہتری میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
ال نینو اور سمندری حدت: تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو بڑھتا ہوا خطرہ
خصوصی مضمون: ظفراقبال
سمندر زمین کے موسمیاتی نظام کا ایک اہم ستون ہیں۔ یہ نہ صرف عالمی درجہ حرارت کو متوازن رکھنے میں مدد دیتے ہیں بلکہ بے شمار جانداروں کو پناہ فراہم کرنے، غذائی وسائل مہیا کرنے اور ساحلی آبادیوں کے معاشی استحکام میں بھی بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ سمندری ماحولیاتی نظام کے اہم ترین اجزا میں مرجان کی چٹانیں شامل ہیں، جنہیں سمندر کے بارانی جنگلات بھی کہا جاتا ہے۔ یہ چٹانیں اپنی غیر معمولی حیاتیاتی تنوع، قدرتی خوب صورتی اور ماحولیاتی افادیت کے باعث دنیا بھر میں اہمیت رکھتی ہیں۔ تاہم، عالمی درجہ حرارت میں اضافے اور سمندری پانی کے مسلسل گرم ہونے نے ان کے وجود کو سنگین خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔
ہندوستان کی جنوبی ریاست تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے کے علاقے مرجان کی چٹانوں کے اہم مراکز ہیں۔ یہاں موجود مرجان نہ صرف سمندری حیات کے تحفظ میں معاون ہیں بلکہ ماہی گیروں کی روزی روٹی، ساحلی تحفظ اور مقامی معیشت سے بھی گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں سمندری پانی کے درجہ حرارت میں غیر معمولی اضافے اور ال نینو جیسے موسمیاتی مظاہر نے ان چٹانوں کے لیے خطرات بڑھا دیے ہیں۔
سائنس دانوں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ 2026-27 میں ممکنہ طور پر پیدا ہونے والا انتہائی شدید ال نینو مرجان کی وسیع پیمانے پر بلیچنگ کا سبب بن سکتا ہے۔ اس صورت حال نے مرجان کے تحفظ، سائنسی نگرانی اور طویل مدتی ماحولیاتی منصوبہ بندی کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا ہے۔
مرجان کی چٹانیں سمندر میں پائے جانے والے چھوٹے جانداروں یعنی مرجان کے پولپس کی طویل عرصے میں تشکیل پانے والی ساختیں ہیں۔ یہ جاندار کیلشیم کاربونیٹ پر مشتمل سخت ڈھانچے بناتے ہیں، جو وقت گزرنے کے ساتھ وسیع چٹانوں کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔ ان کے اندر اور آس پاس مختلف اقسام کی مچھلیاں، مولسکس، کرسٹیشینز اور دیگر سمندری جاندار رہتے ہیں۔ اس طرح مرجان کی چٹانیں سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے انتہائی اہم مسکن فراہم کرتی ہیں۔
ان چٹانوں کی اہمیت صرف سمندری جانداروں تک محدود نہیں۔ یہ ساحلی علاقوں کو لہروں کی شدت سے بچانے، ساحلی کٹاؤ کم کرنے اور بعض حالات میں طوفانی لہروں کے اثرات محدود کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان سے وابستہ سمندری وسائل مقامی ماہی گیری اور سیاحت کے لیے بھی اہم ہیں۔ چنانچہ مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان دراصل ایک پورے ماحولیاتی اور معاشی نظام کو متاثر کرتا ہے۔
مرجان کی بلیچنگ اس وقت ہوتی ہے جب سمندری پانی کا درجہ حرارت معمول سے زیادہ بڑھنے کے باعث مرجان اپنے اندر رہنے والی خوردبینی کائی کو کھو دیتے ہیں یا ان کے ساتھ ان کا تعلق متاثر ہو جاتا ہے۔ ان کائی کو زوکسانتھیلی (Zooxanthellae) کہا جاتا ہے۔ یہ مرجان کو خوراک بنانے میں مدد دیتی ہیں اور انہیں ان کے مخصوص رنگ بھی فراہم کرتی ہیں۔ جب مرجان شدید حرارتی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں تو وہ ان کائی کو خارج کر سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں ان کا رنگ مدھم یا سفید پڑ جاتا ہے۔ اسی کیفیت کو بلیچنگ کہا جاتا ہے۔بلیچنگ کا مطلب لازماً مرجان کی موت نہیں ہوتا۔ اگر درجہ حرارت بروقت معمول پر آ جائے اور حرارتی دباؤ زیادہ دیر برقرار نہ رہے تو مرجان صحت یاب ہو سکتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر پانی طویل عرصے تک گرم رہے تو مرجان کو خوراک کی کمی، بیماریوں اور دیگر ماحولیاتی دباؤ کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے ان کی موت کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ال نینو بحرالکاہل کے وسطی اور مشرقی استوائی حصوں میں سمندر کی سطح کے پانی کے غیر معمولی طور پر گرم ہونے سے وابستہ ایک قدرتی موسمیاتی مظہر ہے۔ یہ دنیا کے مختلف خطوں میں بارش، خشک سالی، درجہ حرارت اور ہواؤں کے معمولات کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس کے اثرات ہر خطے میں یکساں نہیں ہوتے، تاہم بعض حالات میں یہ پہلے سے جاری عالمی حدت کے اثرات کو مزید شدید بنا دیتا ہے۔عالمی حدت کے باعث سمندر پہلے ہی اضافی حرارت جذب کر رہے ہیں۔ جب ال نینو کی کیفیت اس صورت حال کے ساتھ ملتی ہے تو بعض سمندری علاقوں میں پانی کا درجہ حرارت مرجان کی برداشت کی حد سے تجاوز کر سکتا ہے۔ نتیجتاً بلیچنگ کے وسیع واقعات رونما ہونے کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
موسمیاتی ماہرین نے 2026-27 کے دوران شدید ال نینو کے ممکنہ خطرے کی جانب توجہ دلائی ہے۔ فراہم کردہ رپورٹ کے مطابق امریکی نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن کے کلائمیٹ پریڈکشن سینٹر نے اس عرصے میں انتہائی شدید ال نینو واقعے کے امکان کو 90 فیصد سے زیادہ قرار دیا ہے۔ تاہم، کسی موسمیاتی پیش گوئی کو حتمی نتیجہ نہیں سمجھنا چاہیے، ال نینو کی شدت، دورانیے اور علاقائی اثرات کے بارے میں مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ اس کے باوجود ممکنہ خطرے کے پیش نظر مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے پیشگی اقدامات ناگزیر ہیں۔
تمل ناڈو میں خلیجِ منار اور پالک بے مرجان کی چٹانوں کے اہم علاقے ہیں۔ خلیجِ منار اپنی سمندری حیاتیاتی تنوع کے لیے مشہور ہے، جبکہ پالک بے بھی مرجان اور دیگر سمندری جانداروں کے لیے اہم مسکن فراہم کرتی ہے۔ ان علاقوں کی چٹانیں سمندری ماحولیاتی توازن برقرار رکھنے کے ساتھ مقامی ماہی گیروں کی معاشی سرگرمیوں میں بھی کردار ادا کرتی ہیں۔تاریخی ریکارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں کو 1998، 2010، 2016 اور 2024 کے ال نینو سے وابستہ برسوں میں شدید بلیچنگ اور مرجان کی ہلاکت کا سامنا کرنا پڑا۔ مزید یہ کہ 2005 سے گرمیوں کے دوران پانی کا درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے تجاوز کرنے پر ہر سال بلیچنگ کے واقعات دیکھے گئے ہیں۔ تاہم، درجہ حرارت کم ہونے کے بعد بعض چٹانیں دوبارہ صحت یاب بھی ہوئی ہیں۔یہ صورت حال واضح کرتی ہے کہ مرجان کی بقا کے لیے صرف درجہ حرارت میں اضافے کا جاننا کافی نہیں، بلکہ یہ بھی اہم ہے کہ پانی کتنی دیر تک گرم رہتا ہے اور مرجان کو بحالی کے لیے کتنا وقت ملتا ہے۔ مختصر دورانیے کی حدت کے مقابلے میں طویل عرصے تک بلند درجہ حرارت زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتا ہے۔
تمل ناڈو کے محکمہ جنگلات اور سگنتھی دیواداسن میرین ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (ایس ڈی ایم آر آئی) کے تعاون سے خلیجِ منار میرین نیشنل پارک کے تحت مرجان کی چٹانوں کی نگرانی کی جا رہی ہے۔ اس سال 7 سے 12 مئی کے درمیان کیے گئے مشترکہ زیرِ آب سروے میں خلیجِ منار کے 12 جزیروں اور شمالی پالک بے کے مرجانی علاقوں کا جائزہ لیا گیا۔سروے کے دوران سمندری پانی کا درجہ حرارت 31.2 ڈگری سینٹی گریڈ تک پہنچ گیا، جو مرجان کی بلیچنگ کے لیے تشویش ناک حد ہے۔ تاہم، جون میں درجہ حرارت 30 ڈگری سینٹی گریڈ سے نیچے آنے کے باعث بلیچنگ کی شدت محدود رہی اور اس کے نتیجے میں مرجان کی ہلاکت ریکارڈ نہیں کی گئی۔رپورٹ کے مطابق، خلیجِ منار میں بلیچنگ کا اوسط دائرہ 3.69 فیصد تھا، جبکہ پالک بے میں یہ شرح 13.9 فیصد رہی۔ پالک بے میں 10.8 فیصد مرجانی حصہ مکمل اور 3.1 فیصد جزوی بلیچنگ سے متاثر ہوا۔ ان اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دونوں علاقوں میں بلیچنگ کی شدت مختلف رہی اور پالک بے میں صورت حال نسبتاً زیادہ تشویش ناک تھی۔ستمبر اور اکتوبر کے دوران غیر معمولی طور پر بلند درجہ حرارت نے خدشات میں مزید اضافہ کیا ہے۔ اگرچہ اس مدت میں بلیچنگ کی اطلاع نہیں ملی، لیکن درجہ حرارت کی روزانہ نگرانی جاری ہے۔ یہ نگرانی اس لیے اہم ہے کہ بلیچنگ کی علامات ظاہر ہونے سے پہلے بھی پانی کا مسلسل گرم رہنا مرجان پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔
مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے بروقت اور قابلِ اعتماد سائنسی معلومات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ خلیجِ منار میرین بایوسفیئر ریزرو کے وائلڈ لائف وارڈن اکھل تامبی کے مطابق تمل ناڈو کو طویل مدتی بنیادی معلومات اور نگرانی کے پہلے سے موجود نظام کا فائدہ حاصل ہے۔ اس نظام کی مدد سے بڑے پیمانے پر نقصان ہونے سے پہلے غیر معمولی تبدیلیوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے۔اسی طرح ایس ڈی ایم آر آئی کے ڈائریکٹر ایڈورڈ جے کے پیٹرسن نے نشاندہی کی ہے کہ نگرانی کے ذریعے قلیل مدتی حرارتی دباؤ اور طویل عرصے تک جاری رہنے والی بلیچنگ کے درمیان فرق سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ اس سے محکمہ جنگلات کو مناسب وقت پر اقدامات کرنے کا موقع ملتا ہے۔نگرانی کے مؤثر نظام میں سمندری درجہ حرارت کی باقاعدہ پیمائش، مرجان کی صحت کا جائزہ، بلیچنگ کے پھیلاؤ کی نقشہ بندی اور متاثرہ علاقوں کی مسلسل جانچ شامل ہونی چاہیے۔ اس کے ساتھ مختلف اوقات میں حاصل ہونے والے اعداد و شمار کا تقابل بھی ضروری ہے، تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ مرجان کن حالات میں زیادہ متاثر ہوتے ہیں اور کون سے علاقے نسبتاً زیادہ حساس ہیں۔
مرجان کی چٹانوں کو پہنچنے والا نقصان صرف ماحولیات کا مسئلہ نہیں بلکہ انسانی زندگی اور معاشی سرگرمیوں سے بھی براہِ راست تعلق رکھتا ہے۔ ان چٹانوں پر انحصار کرنے والی متعدد سمندری انواع کو خوراک، پناہ اور افزائش کے لیے موزوں ماحول ملتا ہے۔ اگر مرجان بڑے پیمانے پر تباہ ہو جائیں تو ان سے وابستہ جانداروں کی تعداد متاثر ہو سکتی ہے۔اس کے نتیجے میں مقامی ماہی گیروں کو مچھلیوں کی دستیابی میں کمی، ماہی گیری کے اخراجات میں اضافے اور آمدنی میں غیر یقینی صورت حال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ مرجان کی چٹانوں سے وابستہ سیاحت بھی متاثر ہو سکتی ہے، جس سے مقامی کاروبار اور روزگار کے مواقع محدود ہونے کا خدشہ ہے۔مزید برآں، مرجان کی چٹانیں ساحلی علاقوں کو لہروں کی توانائی کم کرنے میں مدد دیتی ہیں۔ ان کی خرابی بعض مقامات پر ساحلی کٹاؤ اور طوفانی لہروں کے اثرات کے خطرے کو بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے مرجان کا تحفظ ماحولیاتی پالیسی کے ساتھ ساتھ ساحلی آبادیوں کے معاشی اور سماجی تحفظ کا بھی اہم جزو ہونا چاہیے۔
تمل ناڈو کا محکمہ جنگلات مرجان کی چٹانوں کے تحفظ کے لیے طویل مدتی انتظامی منصوبہ تیار کر رہا ہے۔ ریاست کے چیف وائلڈ لائف وارڈن راکیش کمار ڈوگرا کے مطابق، ماضی میں بلیچنگ کے واقعات اور آب و ہوا سے متعلق دیگر خلل کے تجربات کو خلیجِ منار میرین نیشنل پارک اور بایوسفیئر ریزرو کے آئندہ دس سالہ انتظامی منصوبے میں شامل کیا جائے گا۔یہ ایک اہم پیش رفت ہو سکتی ہے، کیونکہ موسمیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے محض ہنگامی اقدامات کافی نہیں ہوتے۔ ضروری ہے کہ واقعے سے پہلے اس کے دوران اور بعد میں اختیار کی جانے والی حکمتِ عملی واضح ہو۔ اس میں ابتدائی انتباہ، متاثرہ علاقوں کی فوری جانچ، نقصان کی سائنسی تشخیص اور بحالی کے اقدامات شامل ہونے چاہئیں۔اس کے ساتھ مرجان کی چٹانوں پر انسانی دباؤ کم کرنا بھی ضروری ہے۔ غیر پائیدار ماہی گیری، سمندری آلودگی، پلاسٹک کے فضلے، ساحلی ترقی اور دیگر مقامی عوامل مرجان کی صحت کو متاثر کر سکتے ہیں۔ اگرچہ ان مسائل کا خاتمہ عالمی حدت کو فوری طور پر نہیں روک سکتا، لیکن ان میں کمی مرجان کی قدرتی بحالی کی صلاحیت بہتر بنانے میں مدد دے سکتی ہے۔
تحفظ کی کوششوں میں مقامی ماہی گیروں، سائنس دانوں، تعلیمی اداروں اور سرکاری محکموں کی شمولیت بھی اہم ہے۔ مقامی آبادی کو مرجان کی اہمیت، بلیچنگ کی علامات اور سمندری ماحول کے تحفظ کے طریقوں سے آگاہ کر کے نگرانی اور تحفظ کے نظام کو زیادہ مؤثر بنایا جا سکتا ہے۔تمل ناڈو کی مرجان کی چٹانوں پر بڑھتا ہوا خطرہ اس وسیع تر ماحولیاتی بحران کی علامت ہے جس میں عالمی حدت، سمندری درجہ حرارت میں اضافہ اور قدرتی موسمیاتی مظاہر ایک دوسرے کے اثرات کو بڑھا سکتے ہیں۔ ممکنہ شدید ال نینو کے پیش نظر خلیجِ منار اور پالک بے کی چٹانوں کی نگرانی کو مزید مضبوط بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ماضی کے تجربات، حالیہ سروے کے نتائج اور سائنس دانوں کی تنبیہات واضح کرتی ہیں کہ بروقت اقدامات سے نقصان کی شدت کم کرنے کے امکانات موجود ہیں۔ اس مقصد کے لیے مسلسل سائنسی نگرانی، مؤثر انتظامی منصوبہ بندی، مقامی آلودگی میں کمی، پائیدار ماہی گیری اور ساحلی آبادیوں کی شمولیت کو ترجیح دینا ہوگی۔
مرجان کی چٹانوں کا تحفظ دراصل سمندری حیاتیاتی تنوع، غذائی وسائل، ساحلی سلامتی اور انسانی روزگار کے تحفظ کی مشترکہ کوشش ہے۔ اگر تمل ناڈو میں پیشگی اقدامات کو سنجیدگی سے نافذ کیا جائے تو ممکنہ موسمیاتی بحران کے اثرات کم کرنے اور ان قیمتی قدرتی وسائل کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ رکھنے میں مدد مل سکتی ہے۔ تاہم، طویل مدتی کامیابی کے لیے مقامی سطح کے تحفظ کے ساتھ عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی بھی ناگزیر ہے، کیونکہ سمندروں کی بڑھتی ہوئی حدت کا بنیادی حل موسمیاتی تبدیلی کی رفتار کو کم کرنے میں پوشیدہ ہے۔
(یواین آئی)
تجزیہ
کیا برکس سربراہ اجلاس ڈی ڈالرائزیشن کی سمت آگے بڑھے گا
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، جیسے جیسے برکس سربراہ اجلاس قریب آ رہا ہے، دنیا بھر کے اسٹاک مارکیٹ کے کھلاڑیوں سے لے کر طاقتور مرکزی بینکوں کے سربراہوں تک سبھی کی نظریں ان ابھرتی ہوئی معیشتوں کے رہنماؤں کی میٹنگ میں سامنے آنے والے کسی بھی ایسے اقدام پر ہوں گی جن سے عالمی تجارت اور مالی لین دین میں امریکی ڈالر کی برتری کو خطرہ لاحق ہوتا دکھائی دیتا ہے۔
ڈی ڈالرائزیشن کا عمل اپنی سست رفتاری کے باوجود اس وقت توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، جس کی بنیادی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ بیانات ہیں جن میں انہوں نے برکس ممالک کے گروہ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ دھمکی دی تھی کہ اگر انہوں نے عالمی تجارت میں ڈالر کی برتری کو ختم کرنے کی کوشش کی تو ان پر 100 فیصد ٹیرف عائد کر دیا جائے گا۔ ماسکو، نئی دہلی یا بیجنگ کے رقم اور تجارتی منڈیوں کا انتظام سنبھالنے والے تمام متعلقہ وزراء اور حکام نے بارہا اس بات پر زور دیا ہے کہ برکس ممالک میں سے کوئی بھی ڈالر کے خلاف کسی قسم کی نظریاتی جنگ نہیں لڑ رہا ہے۔ تاہم، جغرافیائی اورسیاسی خطرات سے تجارت کو محفوظ رکھنے کے لیے ان کی پالیسیوں کا عملی اثر یقیناً اس مالیاتی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہا ہے جو دوسری جنگ عظیم کے بعد سے بین الاقوامی نظام کی بنیاد رہا ہے۔
اگرچہ رواں ہفتے کے آخر میں ہونے والے برکس سربراہ اجلاس میں ڈی ڈالرائزیشن پر واضح طور پر گفتگو نہ ہو، لیکن کانفرنس کے حاشیے پر ملک بہ ملک مذاکرات میں کرنسی کی منتقلی اور تجارتی نظام کے چھائے رہنے کا قوی امکان ہے۔ اصل رکن ممالک – ہندوستان، روس، چین، برازیل اور جنوبی افریقہ – کے رہنماؤں کی اپنے درمیان اور حال ہی میں برکس میں شامل ہونے والے متعدد دیگر ممالک جیسے ایران، سعودی عرب، مصر، انڈونیشیا، متحدہ عرب امارات اور ایتھوپیا کے رہنماؤں کے ساتھ کئی اہم دوطرفہ بات چیت کی توقع ہے۔
برکس کے اندرونی ارکان کے درمیان تجارتی حجم 2024 میں 1.17 کھرب امریکی ڈالر رہنے کا تخمینہ تھا اور اس میں 13 فیصد کے سالانہ اوسط سے اضافہ ہو رہا ہے۔ کل برآمدات کے لحاظ سے دنیا میں برکس کا حصہ 24 فیصد ہے۔ قومیت کی بنیاد پر قومی کرنسیوں میں ادائیگیوں کو طے کرنے کے لیے برکس ممالک کی مختلف کوششیں، جیسے ہندوستان اور روس کے درمیان روپیہ-روبل معاہدہ، یا چین کی جانب سے ڈالر کے بجائے یوآن میں خرید و فروخت کی کوششیں، اب تک بین الاقوامی تجارتی لین دین میں کسی بڑے ڈی ڈالرائزیشن کو تیز کرنے میں ناکام رہی ہیں۔ 2026 تک، عالمی سطح پر تجارت کی انوائسنگ اور تصفیے کا تقریباً 54 فیصد حصہ ڈالر میں ہی ہوتا ہے اور یہ صورتحال کئی سال سے برقرار ہے۔ درحقیقت یہ سال 2000 کے تقریباً 50 فیصد سے بڑھ کر یہاں تک پہنچا ہے۔
تاہم، تجارتی انوائسنگ اور تصفیے مستحکم رہنے کے باوجود غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر میں ڈالر کے حصے میں تدریجی لیکن یقینی کمی واقع ہو رہی ہے۔ سال 2000 میں تمام ممالک کے کل غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائر کا تقریباً 71 فیصد حصہ ڈالر کی شکل میں تھا۔ 2026 تک یہ کم ہو کر تقریباً 57 فیصد پر آ گیا ہے، جو ایک صدی کے چوتھائی حصے میں 14 فیصد کی کمی ہے۔ ریزرو بینک آف انڈیا کی مانیٹری پالیسی بنانے والی ٹیم کے ایک رکن نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر کہا، “یہ واضح طور پر اس بات کی علامت ہے کہ متعدد ممالک کے مرکزی بینکرز ڈالر کا بڑا ذخیرہ رکھنے میں جیو پولیٹیکل خطرات کا جائزہ لے رہے ہیں اور دیگر کرنسیوں یا محفوظ ترین راستے یعنی سونے کی خریداری کے ذریعے اس خطرے کو تقسیم کر رہے ہیں۔”
عدم اعتماد کا یہ سلسلہ اب خود امریکہ میں مرکزی بینکوں کے ذریعے سونے کا بلین رکھنے تک پھیل چکا ہے۔ ڈچ سینٹرل بینک نے اس سال مارچ اور اگست کے درمیان شمالی امریکہ سے لندن میں 10 ارب امریکی ڈالر سے زائد مالیت کا تقریباً 86 ٹن سونا منتقل کیا۔ اس سے قبل، جنوری 2026 میں فرانس نے امریکہ میں موجود اپنے 129 ٹن سونے کو فروخت کر دیا، جو کہ اس کے ذخائر کا تقریباً 5 فیصد تھا۔ اس فروخت سے ملنے والی رقم سے فرانس نے یورپ میں بلین خریدا اور اسے اپنے مرکزی بینک کے والٹس میں محفوظ کر لیا۔ یہ عمل صدارت کے پہلے دور میں اٹھائے گئے اس قدم کی عکاسی کرتا ہے جب جرمنی کے بنڈس بینک نے 300 ٹن سونا فرینکفرٹ میں واقع اپنے والٹس میں منتقل کر دیا تھا.
منگل کے روز کریملن کے ترجمان دمتری پیسکوف نے موجودہ صورتحال کا خلاصہ بتاتے ہوئے کہا کہ اگرچہ برکس کسی ڈی ڈالرائزیشن کی پالیسی کے حق میں نہیں ہے، لیکن اس کے رکن ممالک—جن میں سے کئی پابندیوں کی وجہ سے ڈالر میں لین دین نہیں کر سکتے—”صرف وہی کر رہے ہیں جو ہمارے قومی مفادات کے عین مطابق ہے”، انہوں نے مزید کہا کہ “امریکی اقدامات نے ہی ڈالر پر اعتماد کو مجروح کیا ہے”۔ پیسکوف نے اشارہ کیا کہ پابندیوں کی وجہ سے مغربی مالیاتی منڈیوں سے تیزی سے الگ تھلگ کیے جانے کے مسئلے پر روس کا جواب متبادل ادائیگی کے ذرائع تیار کرنا رہا ہے۔
ہندوستان کے نقطہ نظر سے، یہ مسئلہ خاص طور پر پیچیدہ ہے کیونکہ نئی دہلی ایک طرف روسی خام تیل کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار بن چکا ہے تو دوسری طرف وہ مغربی منڈیوں، ٹیکنالوجی اور سرمائے تک اپنی رسائی کو برقرار رکھنا چاہتا ہے۔ یہیں سے برکس زیادہ اہم ہو جاتا ہے۔ اگرچہ اس گروپ کے پاس کوئی ایک مشترکہ کرنسی، مرکزی بینک یا یورو زون جیسا ادارہ جاتی اتحاد نہیں ہے، لیکن یہ اپنے ارکان کو قومی کرنسیوں میں تجارت طے کرنے اور قومی کرنسیوں میں طے شدہ کرنسی تبدیل کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ تدریجی تبدیلیاں قومی کرنسیوں کو دوطرفہ اور کچھ کثیر جہتی تجارتی تصفیوں میں زیادہ قابل استعمال بناتی ہیں، اور اس کے ساتھ ادائیگی کا نظام زیادہ متنوع ہو جاتا ہے۔ یہ حقیقت کہ یہ لین دین موجودہ مغربی کنٹرول والے مالیاتی تصفیے کے ڈھانچے کے دائرہ کار سے باہر ہوتا ہے، واشنگٹن کے لیے شدید تشویش کا باعث ہے۔
جینت رائے چودھری
یواین آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
