تجزیہ
صلاحیتوں کا ارتقاء
سہیل بشیر کار
صحیح مسلم میں رسول رحمت ﷺ نے ارشاد ہے:’’بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر کام کو اچھے طریقے سے کرنا ضروری قرار دیا ہے، پس جب تم قتل کرو تو اچھے طریقے سے قتل کرو اور جب (جانور) ذبح کرو تو اچھے طریقے سے ذبح کرو۔ ‘‘ دینِ اسلام، جو جانور ذبح کرنے کے لیے بھی احسن طریقہ چاہتا ہے،کیسے ممکن ہے کہ وہ زندگی کے جملہ شعبہ جات کے بارے میں بہتری (احسان) نہ چاہے؟ہر کام میں بہتری اور نفاست کو پسند کیا جاتا ہے اور اسلام نے بھی اس بات کو پسند کیا ہے کہ مومن اپنے ہر کام میں ترقی کے اعلیٰ معیار کو پالے، چاہے وہ عبادات سے متعلق ہوں یا معمولاتِ زندگی سے متعلق۔ اصل میں یہی احسان ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو پروان چڑھانے میں معاون ہوتاہے جس سے کہ نہ صرف وہ شخص خود فائدہ حاصل کرتا ہے بلکہ پوری انسانیت اس کی صلاحیتوں سے مستفید ہوتی ہے۔ جس شخص میں احسان کی صفت پائی جاتی ہے، وہ بہر صورت اپنی صلاحیتوں کے ارتقاء کی فکر میں ہمیشہ رہتا ہے اور صلاحیتوں کے ارتقاء سے ہی متمدن قومیں اور تہذیبیں وجود پاتیں اور دوام حاصل کرتی ہیں۔
زیر تبصرہ کتاب’’ صلاحیتوں کا ارتقاء‘‘ جناب انجینئر ایس امین الحسن کی ایک منفرد تصنیف ہے۔ اس کی اہمیت اس وجہ سے بڑھ جاتی ہے کہ فاضل مصنف اس میدان کے ماہر ہیں۔ انجینئر ایس امین الحسن نے انجینئرنگ کی تعلیم کے بعد سائیکالوجی میں ماسٹرس کیا ہے۔ آپNLP Trainer ہیں۔ اہم بات یہ ہے کہ اعلیٰ اکیڈمک کیریئر کے ساتھ ساتھ آپ عملی میدان سے وابستہ ہیں۔
مشہور و معروف عالمِ دین اور فقیہ ڈکٹر محمد رضی الاسلام ندوی اس کتاب کے بارے میں رقم طراز ہیں :’’اس کتاب کی حیثیت ایک گائیڈ بک کی ہے، جو قاری کو صلاحیتوں کے ارتقاء کی فکر کرنے کے لیے نہ صرف بے چین کردیتی ہے، بلکہ اس کے لیے عملی رہنمائی بھی فراہم کرتی ہے۔ ایک فرد کیسے اپنی صلاحیتوں کا ارتقاء کرے، اس کے لیے ضروری ہے کہ انسان خود ہی دیکھے کہ اس کے اندر کون سی صلاحیت رکھی گئی ہے۔‘‘
کتاب کو7 ابواب میں تقسیم کیا گیا ہے۔ پیش لفظ میں درج ہے:’’صلاحیتوں کے ارتقاء کے ضمن میں پہلا کام بنیادی طور پر ہر فرد کے ذہن میں یہ بات پیوست کرنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اس کے اندر صلاحیتوں کا خمیر رکھا ہے۔ دنیا میں کوئی انسان ایسا پیدا نہیں ہوتا جو بالکل ہی بے صلاحیت ہو۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ اپنے اندر کی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانے، انھیں بروئے کارلائے اور انھیں تعمیر وترقی کے کام میں لگائے۔ دنیا میں انسانوں کو ایک دوسرے پر جو فضیلت حاصل ہے وہ صلاحیتوں کی بنیاد پر ہے۔ اسی کی بنیاد پر کاروبار دنیا کا انتظام چل رہا ہے۔ کوئی اعلیٰ اور کوئی ادنیٰ ہے تو اس کی بنیاد پر معاشی زندگی کا پہیہ چلتا ہے۔‘‘(ص 7)
فاضل مصنف صلاحیتوں کی اہمیت کے بارے میں لکھتے ہیں :’’ جو جتنی صلاحیت رکھتا ہے، دنیا میں آمدنی کے وسائل و ذرائع اس کے لیے اتنے ہی آسان ہوتے ہیں اور سماجی زندگی میں ترقی کے زینے طے کرنا آسان ہوتا ہے۔ سماج میں جو نظریاتی کش مکش ہوتی ہے، اس میں بھی صلاحیتوں ہی کی مسابقت ہوتی ہے۔ آج امریکا اگر اقوام کی امامت کرتا ہے تو اس کی بنیادی وجہ بھی یہی ہے کہ دنیا بھر سے صلاحیتوں کو اس نے جمع کیا اور ان کے اظہار کے مواقع فراہم کیے۔ دنیا میں عروج، برتری اور ترقی کے لیے ضروری ہے کہ انسان اپنی صلاحیتوں کو چار چاند لگائے۔ امت مسلمہ کا بھی جب چہار عالم میں ڈنکا بجتا تھا، اس وقت ان کی صفوں میں بڑے بڑے مفکر، دانش ور، سائنس دان، تاجر، دنیا کو کھنگالنے والے جنگی مہارت رکھنے والے اور علوم کی دنیا میں جاہلیت کو دعوت مبارزت دینے والے پائے جاتے تھے۔ آج امت کے زوال کے اسباب میں یہ بات مسلم ہے کہ تعلیم، مہارت اور ذہانت کے میدان میں وہ بہت پیچھے ہوگئی۔ اس کی نشاۃ ثانیہ کی راہ یہ بتائی جاتی ہے کہ علوم پر اس کا دست رس پھر سے بحال ہو۔ کہا جاتا ہے کہ مسلمانوں کے خلاف تعصب برتا جاتا ہے، مگر واقعہ یہ ہے کہ ذہانت کے خلاف کہیں تعصب نہیں ہوتا۔ آج بھی صلاحیتوں کی قدر ہر جگہ ہوتی ہے۔‘‘(ص 8) لہٰذا ہر سطح پر صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے۔ وہ مزید لکھتے ہیں :’’ صلاحیتوں کی نشو و نما تحریک کے ایک کارکن سے لے کر ہر سطح کے قائدین کی ضرورت ہے، جس پر فرد اگر توجہ دینے لگے تو مجموعی طور پر تحریک صلاحیتوں کے میدان میں کافی آگے بڑھ سکتی ہے۔‘‘(ص 5)
پیش لفظ ہی میں مصنف ان چار باتوں کا ذکر کرتے ہیں، جو صلاحیتوں کے ارتقاء کے لیے ضروری ہیں : پہلی بات ہر فرد کو جاننا ضروری ہے کہ تربیت کے لیے سب سے اہم چیز یہ ہے کہ اپنی ہمہ جہت تربیت کا سامان خود کرنا ہے۔ دوسری بات یہ کہ فرد جس بھی سطح کا ہو ہمارے لیے سرمایہ ہے۔ تیسری بات یہ ہے جو جس چیز میں ماہر ہے، اس سے بلا لحاظ مذہب و ملت استفادہ کرنا ہے، معاشرہ میں صلاحیتوں کے فروغ کے لیے جس طرح کی بھی کوشش ہو رہی ہوں ہمیں چاہیے کہ ان کوششوں میں ہم شامل ہوں۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ صلاحیتوں کے فروغ کے لیے ہمیں انتہائی محنت اور جنون پیدا کرنا ہوگا۔ فاضل مصنف لکھتے ہیں :’’کچھ بننے سنور نے اور کچھ صلاحیت اور مہارت پیدا کرنے کے لیے اندر سے ایک آگ چاہیے، جس کی گرمی اور حرارت ہمیں متحرک اور سرگرم کر دے۔ جن کی زندگیوں میں یہ آگ سرد پڑجائے، وہ راکھ کا ڈھیر بن جاتے ہیں۔ خدا کا شکر ہے کہ تنظیمی زندگی کے نتیجے میں ہمارے اندر کی وہ چنگاری کبھی ٹھنڈی ہونے نہیں پاتی۔ اگر کہیں ایسا ہو چکا ہے تو ضروری ہے کہ پھر سے اس چنگاری کو آگ میں تبدیل کیا جائے۔ اندر کی وہ آگ جلتی رہے تو یہ بات یقینی ہے کہ ہم خود ہی متحرک رہیں گے اور اپنے لیے خود مہمیز کا کام کریں گے۔ اور اس آگ سے ہم خود اپنی ایک نئی شخصیت ڈھالیں گے اور سماج کو کوئی نئی چیز دے سکیں گے، انشاء اللہ۔ ہمارا اجتماعی ماحول کسی کے اندر کی آگ کو سرد ہونے نہیں دے گا بلکہ ایک دوسرے کے لیے مہمیز کا کام کرے گا۔‘‘(ص 12)
فاضل مصنف حضرت موسیٰ ؑ کے واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قاری کی امنگ پیدا کرتے ہیں، وہ لکھتے ہیں : ’’ایک آگ موسی علیہ السّلام کو دور سے دکھائی دی اور وہ اس کے قریب گئے، تا کہ وہ یا تو سردی میں گرمی کا سامان فراہم کر سکیں یا آگے کا راستہ معلوم کر سکیں۔ لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جو موسوی مشن کے علم بردار ہوتے ہیں خود ان کے سینے کے اندر ایک آگ ہوتی ہے، جس سے وہ اپنے لیے گرمی اور حرارت بھی پاسکتے ہیں اور آگے کا راستہ بھی روشن کر سکتے ہیں۔ ‘‘(ص 12)
برادر ایس امین الحسن چوں کہ موٹیویشنل اسپیکر بھی ہیں، لہٰذا وہ اپنی بات بہترین طریقے سے رکھنے کا ہنر جانتے ہیں۔ کتاب کے پہلے باب’’ صلاحیتوں کا فروغ۔ضرورت اور حکمت عملی‘‘کے آغاز میں بہت ہی اہم بات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ معلوم ہونا چاہیے کہ دنیا میں آدمی کا وزن اور اعتبار اس کی صلاحیتوں کے حساب سے ہوتا ہے، اس لیے اپنی صلاحیتوں کو اپ ڈیٹ کرنا اور اپ گریڈ کرنا عقل مندوں اور دنیا میں کچھ کر گزرنے کا شیوہ ہوتا ہے۔‘‘(ص 15) اس باب میں مصنف سمجھاتے ہیں کہ اپنی صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت ہے اور یہ کام موجودہ دور ہی میں اہم نہیں ہے بلکہ قرآن کریم میں پیغمبروں کے تذکرہ میں کہا گیا ہے کہ ان کے ہاں بھی اونچے معیار کو پالینے کا تصور تھا۔ وہ لکھتے ہیں :’’ قرآن مجید میں جا بجا انبیائے کرام علیہم السلام کی زندگی کی تفصیلات پیش کی گئی ہیں۔ ان میں کسی جگہ ان کی دعوت نمایاں ہے تو کسی جگہ ان کی گھریلو زندگی کے کچھ پہلو سامنے آئے ہیں۔ انھوں نے اللہ تعالی سے جو دعائیں کیں، قرآن نے انھیں بھی ابھار کر پیش کیا ہے‘‘ (ص 15)
فاضل مصنف قرآن مجید سے خصوصی شغف رکھتے ہیں اور اپنے لیکچرز میں قرآن کریم کے اہم رموز کو بیان کرتے ہیں۔ کتاب میں بھی اس کے خوبصورت اشارے ملتے ہیں۔ ایک جگہ وہ لکھتے ہیں :’’ دل چسپ بات جس کی طرف لوگوں کا ذہن کم جا تا ہے۔ وہ یہ ہے کہ قرآن نے ان کی مخصوص صلاحیت کا ذکر کیا ہے، جو ان کی شناخت کا حصہ ہے۔ یعنی رہتی دنیا تک وہ اس صلاحیت کے حوالے سے بانی وموجد کی حیثیت سے جانے جاتے رہیں گے۔ جیسے حضرت نوح علیہ السلام بحیثیت کشتی ساز، حضرت ابراہیم علیہ السلام عالمی دعوت کا نقشۂ کار بنانے والے، حضرت داؤد علیہ السلام زرہ ساز، حضرت یوسف علیہ السلام بحیثیت ماہر پلاننگ اور مینجمنٹ وغیرہ۔‘‘(ص 16)
صلاحیتوں کے فروغ کی اہمیت کے حوالے سے وہ قاری کو دورِ رسالت میں لے جاتے ہیں۔ لکھتے ہیں : ’’صحابہ میں حضرت ابو بکر صدیق ؓ اورحضرت عمر ؓ رائے اور مشورے کے لوگ تھے۔ نبی اسلام ان سے قبائلی سیاست، جنگی اسٹریٹجی، جنگ میں استعمال ہونے والے نئے اوزار اور ہتھیار کے سلسلے میں مشورہ کیا کرتے تھے۔ حضرت عمرو بن العاص ؓ اورحضرت خالد بن ولید ؓ میدان جنگ کے ماہرین تھے۔ ان سے جنگی مہمات کی قیادت کا کام لیا کرتے تھے۔ حضرت علی ؓ اسلام کے اول مفتی اور قاضی تھے، سرور کونینﷺنے اپنی نگرانی میں انھیں مقدمات کے فیصلے کی ٹرینگ دی۔ حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ اورحضرت ابی بن کعب ؓ قرآن کے پہلے مفسرین تھے۔ آپ نے لوگوں سے کہہ رکھا تھا کہ ان حضرات سے قرآن سیکھا کریں۔ حضرت مصعب بن عمیر ؓ بہترین کمیونی کیشن کے آدمی تھے، ان سے ڈپلومیسی کا کام آپ نے لیا۔‘‘(ص16) آگے اس باب میں متنوع صلاحیتوں کی اہمیت، صلاحیتوں کے فروغ کے لیے حکمتِ عملی پر قیمتی نکات بیان کرتے ہیں اور سمجھاتے ہیں کہ صلاحیتیں خود بہ خود پیدا نہیں ہوتیں، اس کے لیے محنت کرنا لازمی بھی ہے اور مستقل کام بھی۔
دوسرے باب میں مصنف نے سیرتِ نبویؐ کی روشنی میں انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے سلسلے میں اہم بحث کی ہے،وہ لکھتے ہیں :’’انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے سلسلے میں نبیﷺکا فارمولا کچھ اس طرح سے تھا، جس کا ذکر اس سے پہلے ہو چکا ہے کہ Buy, Build and Borrowیعنی صلاحیتوں کو نشوونما دینا، سماج کے باصلاحیت افراد کو متاثر کرنا اور بعض مخصوص صلاحیتوں سے بہ وقت ضرورت استفادہ کرنا۔ ‘‘(ص 29)
صحیح بخاری کی وہ حدیث جس میں کہا گیا کہ’’ لوگوں کی مثال کانوں کی سی ہے (کسی میں اچھا مال نکلتا ہے کسی میں برا) سے دو اہم نکات بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’انسانوں میں سب سے زیادہ قیمتی وہ لوگ ہیں، جن کے پاس اعلی صلاحیتیں ہوتی ہیں۔ قطع نظر اس کے کہ وہ دائرۂ اسلام میں ہیں یا اس سے باہر ہیں۔ صرف صلاحیتیں انسانیت کے لیے مفید نہیں ہوتیں، اگر وہ ایمان اور تقوی سے عاری ہوں۔ سب سے زیادہ اچھے انسان وہ ہیں جن میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کا خوف پایا جاتا ہو۔‘‘ (ص 30) اسی طرح وہ حدیث مبارکہ جس میں کہا گیا ہے کہ ’’جو انوں میں سے جو جاہلیت میں سب سے بہتر تھے، اسلام میں بھی بہتر رہیں گے‘‘کا تذکرہ کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’انسانی صلاحیتوں کے فروغ کے ضمن میں سب سے پہلا ضروری کام یہ ہے کہ اپنی ہی صفوں میں جو مخلص کارکنان جو ہمہ دم دین کے ہر کام کی انجام دہی کے لیے تیار رہتے ہیں اور اپنی زندگی اسی کاز کے لیے وقف کر دینے کا تہیہ کیے ہوئے تحریک میں شامل ہوتے ہیں، ان پر پہلی توجہ دی جائے۔ ان کا تزکیہ ہو، ان کی صلاحیتیں پروان چڑھیں، ان کی شخصیت سازی ہو اور وہ اپنی پوشیدہ صلاحیتوں کو پہچانیں تا کہ انھیں درجۂ کمال تک پہنچاسکیں۔ اسی کا نام تزکیہ ہے۔‘‘(ص 32) یہاں مصنف اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ہمیں اپنے کارکنان کی صلاحیتوں کو بڑھانا چاہیے اور ساتھ ہی واقعۂ ہجرت سے استدلال کرتے ہوئے لکھتے ہیں :’’ہجرت کے موقع پر حضرت ابوبکر صدیقؓ نے غیر مسلم بدو، عبد اللہ بن اریقط کی خدمات حاصل کیں، تاکہ وہ غیر معروف راستے سے یثرب کی طرف لے جائیں۔ روانگی کے لیے مقررہ وقت پر ابن اریقط اونٹوں کے ساتھ غار میں ان سے ملنے آیا، اور وہ سیدھے شمال کی سمت میں یثرب کی طرف جانے کے بجائے جنوب مغرب کی طرف روانہ ہوئے۔ یہ بہت ہی پر خطر سفر تھا۔ اور دوسری طرف قریش انھیں گرفتار کرنے کی ہرممکن کوشش کر رہے تھے۔ نبی ﷺ اور آپ کے ساتھی نے خود کو خدا کے سپرد کر دیا تھا، تاہم انھوں نے راستہ بتانے والے کی مدد حاصل کرنے میں دریغ نہیں کیا، وہ شخص دشمنوں کا ہم مذہب یعنی مشرک تھا، لیکن وہ اسے اچھی طرح جانتے تھے کہ وہ قابل اعتماد بھی ہے اور راستوں کا غیر معمولی جان کار بھی ہے۔ اس لیے اس پر اعتمادکیا اور راستہ بتانے والے کی حیثیت سے اس کی صلاحیتوں سے استفادہ کیا گیا۔ آپ ؐ صلاحیتوں کی قدر کرتے تھے اور ان سے تحریک کے لیے خدمات حاصل کرنے میں دریغ نہیں کرتے تھے۔‘‘(ص 36)
تیسرے باب میں مصنف نے سیرت نبویؐ کی روشنی میں بتایا ہے کہ آپ نے اس دور میں کس طرح صلاحیتوں کی نشوونما کی۔ اس سلسلے میں انہوں نے دس صلاحیتوں کے تحت نشونما کا تذکرہ کیا ہے۔ مقررین کی نشونما کے تحت وہ حضرت جعفر بن طیار کے نجاشی کے دربار میں تقریر کے تحت لکھتے ہیں :’’حضرت جعفر طیار نے نجاشی کے دربار میں جس شان دار انداز سے تقریر کی، انھیں آج ہم پڑھتے ہیں تو محسوس ہوتا ہے کہ دربار نجاشی میں اس کی کیا گونج رہی ہوگی اور سامعین کے حواس پر کیا اثرات مرتب کی ہوگی۔ ‘‘ (ص 47)
انجینئر ایس امین الحسن نے کتاب میں سیرت النبیﷺکو سمجھنے کے لیے نئے اہم زاویے بیان کیے ہیں۔ کاش ہمارے معاشرہ میں سیرت کے ان عملی پہلوؤں سے عوام الناس کو روشناس کیا جاتا۔ کتاب کے چوتھے باب میں مصنف نے تحریک اسلامی کی چار خصوصیات کی تفصیل بیان کی ہے۔ فاضل مصنف نے آج کے حالات میں کون سی صلاحیتیں پیدا کرنی چاہیے؟اس سوال کے تحت چار اہم صلاحیتوں کی طرف توجہ دلائی ہے، جن کی امت مسلمہ کو سخت ضرورت ہے۔
دنیا کی آدھی آبادی صلاحیتوں کے ارتقاء سے محروم ہے۔ ظاہر ہے اس کا متحمل کوئی بھی معاشرہ نہیں ہو سکتا، یہی وجہ ہے کہ رسول رحمت ﷺ نے خواتین کی صلاحیتوں کے ارتقاء پر خصوصی توجہ دی۔ اس معاشرہ میں خواتین چلتی پھرتی نظر آتی تھیں، مگر دھیرے دھیرے مسلم خواتین معاشرہ کی تعمیر میں وہ رول ادا نہ کر سکیں، جو ان سے مطلوب تھا۔
فاضل مصنف نے پانچویں اور چھٹے باب میں خواتین کے حوالے سے صلاحیتوں کے ارتقاء پر سیر حاصل گفتگو کی ہے۔ پانچویں باب میں مصنف نے نسوانی صلاحیتوں، ازدواجی زندگی کا استحکام، تعلقات کا فن اور پرورش کے فن اور کمیونکیشن کے فن پر سیر حاصل بحث کی ہے۔ چھٹے باب میں مسلم خواتین کا مطلوبہ کردار اور مطلوب صلاحیتیں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔ اس باب میں مصنف نے کئی خواتین، جو عملی میدان میں سرگرم ہیں اور معاشرہ کی تعمیر میں جن کا رول ہے، کی مثالیں پیش کی ہیں۔ وہ لکھتے ہیں : ’’شاہدہ البغدادی دسویں صدی کی عراق کی ایک معروف اسلامی اسکالر ہیں۔ فاطمہ سمرقندی بارہویں صدی کی اسلامی اسکالرتھیں۔ اس طرح اور بے شمار خواتین ہیں، جن کا نام تاریخ میں ملتا ہے کہ وہ یونیورسٹیوں اور مساجد میں بھی علوم اسلامیہ اور اس زمانے کی جدید سائنس پر لیکچر دیا کرتی تھیں، جن سے استفادہ کرنے والوں میں مردوخواتین دونوں شامل ہیں۔ ‘‘(ص 85)
کتاب کے آخری باب میں مصنف نے امت مسلمہ کے قائدین اور کارکنان کی صلاحیتوں کو بڑھانے پر گفتگو کی ہے۔ وہ لکھتے ہیں :’’ معلوم ہونا چاہیے کہ قائدین اس وقت سب سے زیادہ مضبوط نظر آتے ہیں، جب وہ خود سیکھ رہے ہوتے ہیں اور کیڈر سے بھی اس کا مطالبہ کر رہے ہوتے ہیں۔ ‘‘ (ص 86)
مصنف نے سیکھنے کے مراحل کی خمیدہ لکیر(learning curves) کے تحت، علم کا علم، لا علمی کا علم، علم کی لاعلمی اور لاعلمی کی لاعلمی کے تحت اہم نکات واضح کیے ہیں۔ اس باب میں مصنف بار بار یہ سمجھاتے ہیں کہ انسان چاہے کسی بھی لیول کا ہو اس کو سیکھنا لازمی ہے۔ کبھی بھی کسی فرد کو یہ سمجھنا نہیں چاہیے کہ وہ کسی فیلڈ میں ماہر ہوگیا ہے۔اب اس کو سیکھنے کی ضرورت نہیں۔ یہاں بھی مصنف نے قصہ موسیٰ علیہ السلام اور حضرت خضر کے قرآنی واقعہ سے اہم نکات بیان کیے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں :’’یہ اصول آپ کی زندگی میں کہیں بھی قابل اعتبار اور مکمل طور پر لاگو ہے، بند اور سخت رہنے سے آپ جہاں ہیں وہیں رہیں گے، جب کہ نئی تعلیم اور تبدیلی کھلا پن یقینی طور پر بہتر نشوونما اور صحت مند تبدیلی کے لئے ایک انتہائی ضروری پلیٹ فارم مہیا کرے گا اور ترقی کی راہوں پر آپ گام زن ہوں گے۔‘‘(ص 96) مصنف نے جہاں جاہلیت پر تنقید کی ہے وہی امت مسلمہ میں رائج کمزور پہلوؤں کی بھی نشاندہی کی ہے۔ ایک جگہ لکھتے ہیں :’’ صرف مغربی تعلیم کو دوش دینا نا انصافی ہوگی۔ دینی تعلیم کے نام پر دین کا جو سطحی علم رائج کیا گیا اس کا بھی یہ نقصان ہوا کہ شادی کے دوسرے ہی دن سے حقوق وفرائض کی جنگ چھیڑ دی جاتی ہے۔ جب کہ ازدواجی زندگی کی خوشیاں حقوق وفرائض کے خانوں میں تقسیم نہیں ہوتیں، بلکہ اخلاق اور احسان کی شیرینی سے حاصل ہوتی ہیں۔ وہ گھر جہنم نما ہے، جہاں صبح شام تُو تو میں میں ہوتی ہو اور جوتیوں میں دال بٹتی ہو۔ عورت کو اپنے Resourcefulness کی پہلی صلاحیت سے واقفیت ہونی چاہیے۔ ازدواجی زندگی کے استحکام میں اسے جو کردار ادا کرنا چاہیے وہ معلوم ہو۔‘‘(ص 65)
مصنف نے 96 صفحات کی اس مختصر سی کتاب میں بہت سارے قیمتی مباحث کو خوبصورتی سے سمیٹا ہے۔اس کتاب کو صرف ایک بار پڑھنا کافی نہیں ہے، بلکہ ر بار بار استفادہ کرنا ہوگا۔
کتاب کا ٹائٹل بہت خوبصورت ہے۔ مشہور و معروف ادارہ مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرزدہلی نے شاندار گیٹ اپ پر طبع کیا ہے۔ کتاب کی قیمت 70 روپے بھی مناسب ہے۔ یہ کتاب اس نمبر: 7290092403 سے حاصل کی جاسکتی ہے۔
تازہ ترین
یوم آزادی اور مسلمان
یوم آزادی ہر قوم کی تاریخ میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ یہ وہ دن ہوتا ہے جب ایک قوم غلامی کی زنجیروں کو توڑ کر آزادی کی نعمت حاصل کرتی ہے۔ ہندوستان کے لیے ۱۵ اگست کا دن اسی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ دن ہمیں اپنے اسلاف کی قربانیوں کی یاد دلاتا ہے اور ساتھ ہی یہ احساس بھی دلاتا ہے کہ آزادی کے بعد ہماری ذمہ داریاں کیا ہیں، خصوصاً مسلمانوں کی حیثیت سے ہم پر کیا فرائض عائد ہوتے ہیں۔
مسلمانان ہند نے آزادی کی جدوجہد میں نمایاں کردار ادا کیا اور بے شمار قربانیاں پیش کیں۔ لیکن آزادی کے بعد اصل امتحان شروع ہوتا ہے، کیونکہ آزادی کے ساتھ ذمہ داریاں بھی وابستہ ہوتی ہیں۔ قرآنِ مجید میں اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے: “إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُ بِالْعَدْلِ وَالإِحْسَانِ” (سورۃ النحل: ۹۰) یعنی اللہ تمہیں عدل اور احسان کا حکم دیتا ہے۔ یہ آیت ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ ایک مسلمان کی بنیادی ذمہ داری انصاف اور بھلائی کو فروغ دینا ہے، خواہ وہ کسی بھی معاشرے میں رہتا ہو۔
ایک مسلمان کی حیثیت سے سب سے پہلی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے ملک کے آئین اور قوانین کی پاسداری کرے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلمون على شروطهم” (سنن ابی داؤد) یعنی مسلمان اپنے معاہدوں کی پابندی کرتے ہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں یہ بات واضح ہوتی ہے کہ جس ملک میں ہم رہتے ہیں، اس کے قوانین اور اصولوں کا احترام کرنا ہماری دینی ذمہ داری ہے۔
یوم آزادی ہمیں اتحاد اور یکجہتی کا پیغام دیتا ہے۔ قرآن میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: “وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا” (سورۃ آل عمران: ۱۰۳) یعنی سب مل کر اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھام لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ نہ صرف آپس میں اتحاد برقرار رکھیں بلکہ دیگر برادریوں کے ساتھ بھی بھائی چارہ اور ہم آہنگی کو فروغ دیں۔
اسلام امن، محبت اور رواداری کا مذہب ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “المسلم من سلم المسلمون من لسانه ويده” (صحیح بخاری) یعنی مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے لوگ محفوظ رہیں۔ اس حدیث کی روشنی میں ہمیں یہ سمجھ آتا ہے کہ ایک اچھا مسلمان وہی ہے جو معاشرے میں امن اور سکون کا ذریعہ بنے۔
تعلیم کی اہمیت پر بھی قرآن و حدیث میں بہت زور دیا گیا ہے۔ قرآن کی پہلی وحی ہی “اقْرَأْ” (پڑھو) کے حکم سے شروع ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا: “طلب العلم فريضة على كل مسلم” (سنن ابن ماجہ) یعنی علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر فرض ہے۔ اس لیے مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ دینی اور عصری تعلیم دونوں پر توجہ دیں تاکہ وہ اپنے فرائض کو بہتر انداز میں ادا کر سکیں اور ملک کی ترقی میں حصہ لے سکیں۔
سماجی ذمہ داریوں کے حوالے سے قرآن میں ارشاد ہوتا ہے: “وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى” (سورۃ المائدہ: ۲) یعنی نیکی اور تقویٰ کے کاموں میں ایک دوسرے کی مدد کرو۔ اس آیت کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے معاشرے کی اصلاح کے لیے کام کریں، غریبوں اور محتاجوں کی مدد کریں، اور انصاف کے قیام کے لیے جدوجہد کریں۔
سیاسی شعور بھی ایک اہم ذمہ داری ہے۔ اسلام ہمیں مشورے اور اجتماعی فیصلوں کی تعلیم دیتا ہے۔ قرآن میں ارشاد ہے: “وَأَمْرُهُمْ شُورَىٰ بَيْنَهُمْ” (سورۃ الشوریٰ: ۳۸) یعنی ان کے معاملات آپس کے مشورے سے طے ہوتے ہیں۔ اس اصول کی روشنی میں مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ جمہوری عمل میں حصہ لیں، اپنے ووٹ کا صحیح استعمال کریں اور ایسے نمائندوں کا انتخاب کریں جو انصاف اور دیانت کے ساتھ کام کریں۔
یوم آزادی کا تقاضا ہے کہ ہم اپنے ماضی کی قربانیوں کو یاد رکھتے ہوئے حال میں اپنی ذمہ داریوں کو سمجھیں اور مستقبل کے لیے بہتر منصوبہ بندی کریں۔ مسلمانوں کو چاہیے کہ وہ اپنے دین کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے ایک مثالی شہری بنیں، ملک کی ترقی میں حصہ لیں اور امن و امان کے قیام میں اپنا کردار ادا کریں۔
آزادی ایک عظیم نعمت ہے، اور اس کی حفاظت ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ اگر مسلمان قرآن و سنت کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اپنی قومی اور سماجی ذمہ داریوں کو ادا کریں، تو نہ صرف وہ خود ترقی کریں گے بلکہ پورے ملک کی خوشحالی اور استحکام میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔ یہی یوم آزادی کا حقیقی پیغام ہے اور یہی ہماری کامیابی کا راستہ ہے۔
محمد حفیظ الدین
سکریٹری،گنجریا اتحادویلفیئر سوسائٹی
hafiznoori1987@gmail.com
تجزیہ
سوراج: تصاویر، کارٹونوں اور نوادرات کے ذریعے بیان کی گئی ہندوستان کی آزادی کی کہانی
جینت رائے چودھری
نئی دہلی، کوئی ہندوستان کی آزادی کا جشن کیسے مناتا ہے؟ پوسٹروں، تصویروں، کارٹونوں، کیلنڈروں اور یادگار اشیاء کی ایک نمائش، جو آزادی کی طرف اور آزادی کے بعد ہندوستان کے سفر کا جشن مناتی ہے، بشمول پچھلی دو صدیوں کے دوران رونما ہونے والے تمام ہنگامہ خیز واقعات کے بالکل یہی نیویل تولی کا وہ خیال ہے جو انڈیا ہیبیٹیٹ سینٹر میں سوچ سمجھ کر تیار کی گئی نمائش “سوراج” کے پیچھے ہے، جو پوسٹروں، تصویروں، دستاویزات اور یادگاری اشیاء کی ایک نمائش ہے جو آزادی کے لیے ہندوستان کے طویل سفر اور 1947 کے بعد اس کے شاندار، ہنگامہ خیز سفر کا احاطہ کرتی ہے۔
تولی نے 16 ویں صدی میں ہندوستان کے ساحل کے ساتھ فرانسیسی اور ڈچ بستیوں کی تانبے کی تختی کی نقش و نگاری سے لے کر تحریک آزادی کے پوسٹروں، سبھاش چندر جیسی فلموں کے اشتہارات اور فلمساز باسو چٹرجی کے بلٹز کے لیے بنائے گئے سیاسی کارٹونوں تک اپنی نمائش کا جائزہ لینے کے دوران یو این آئی سے بات کرتے ہوئے کہا، “میں نوجوانوں میں تخیل کو بیدار کرنے کے لیے بصری، مقبول ثقافتی تصورات کا استعمال کرتا رہا ہوں تاکہ ہماری جنگِ آزادی کو سمجھنے کی کوشش کی جائے… ہمارا تعلیمی نظام سیکھنے کو محدود کر دیتا ہے، اس طرح کی عوامی نمائش سوچ اور احساس کو ابھارنے کی کوشش کرتی ہے۔”
تاریخ کا ایک ایسا منظر جو سامنے آنے والی کہانی میں کسی کا فریق بنے بغیر سوالات کو جنم دیتا ہے اور ابھارتا ہے اور جوابات فراہم کرتا ہے۔ کانگریس، کمیونسٹ، اور عسکری انقلابی تحریکیں سبھی کی نمائندگی کی گئی ہے، جیسا کہ آر ایس ایس کی ہے۔
یہ نمائش آزادی کی جنگ کے روایتی مطبوعہ بیانیے سے آگے دیکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ پچھلی دو صدیوں کا سفر کرتی ہے، ان واقعات، شخصیات اور تحریکوں کو اکٹھا کرتی ہے جنہوں نے برصغیر کو نوآبادیاتی تسلط اور مزاحمت سے تبدیل کیا؛ 1857 کی بغاوت؛ قوم پرستی کا عروج؛ بنگال کی نشاۃ ثانیہ؛ سودیشی تحریک؛ گاندھی اور عوامی تحریکیں؛ انقلابی جدوجہد؛ دونوں عالمی جنگیں؛ تقسیم اور آزادی۔
تاہم، سوراج 15 اگست 1947 پر ختم نہیں ہوتا۔ سفر جاری ہے — چین کے ساتھ 1962 کی جنگ، 1971 کی بنگلہ دیش کی آزادی، اور محترمہ اندرا گاندھی اور راجیو گاندھی کے قتل اس دور کے اخبارات کے صفحات کے ذریعے اور پوسٹروں اور کارٹونوں کے ذریعے آپ کو گھورتے ہیں۔
ہندوستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر دکھایا گیا ہے جیسا کہ وہ تھا، انتشار کا شکار، متنوع، اور پھر بھی ایک مشترکہ منزل کی طرف گامزن۔ ایک ایسی قوم جو تقسیم، مہاجروں، جنگوں، رجواڑہ ریاستوں کے انضمام، آئین کی تشکیل، ریاستوں کی لسانی تنظیم نو، سیاسی اتھل پتھل، اقتصادی تبدیلی، ایمرجنسی، لبرلائزیشن اور ان ڈرامائی تبدیلیوں کا سامنا کر رہی ہے جنہوں نے آزادی کے بعد کی دہائیوں میں ہندوستان کو نئی شکل دی ہے۔
بھولے ہوئے سیاسی کارٹون نگاروں اور ہندوستان کے معاشی مسائل، اندرونی کشمکش، اور برصغیر کو متاثر کرنے والی جغرافیائی سیاست پر ان کے شاندار طنز کو تاریخ پر روشنی ڈالنے کے لیے واپس لایا گیا ہے۔
پاپ کیلنڈر جو بوس کو بھارت ماتا کو حتمی قربانی پیش کرنے کے لیے اپنا سر کاٹتے ہوئے دکھاتے ہیں، ایک سوچ میں ڈوبے ہوئے جواہر لعل نہرو کی کیلنڈر آرٹ کے ساتھ رکھے گئے ہیں، اس کے ساتھ بڑی سیاہ و سفید تصاویر ہیں جو 1950 کی دہائی کے “جدید ہندوستان کے مندر” کہلانے والے اسٹیل ملز اور کارخانوں کے جوش و خروش کو زندہ کرتی ہیں، بھولی ہوئی یادوں کو واپس لاتی ہیں یا نئی یادوں کو بیدار کرتی ہیں۔
پس منظر میں موسیقی ہلکے سے پرانے گانے بجاتی ہے، اور ناظرین “چھوڑو کل کی باتیں… ہم ہندوستانی” اور “آؤ بچوں تمہیں دکھاؤں جھانکی ہندوستان کی” جیسے دل کو چھو لینے والے گانوں کے ساتھ سُر ملاتے ہیں، جو 1950 اور 1960 کی دہائی کے حب الوطنی کے پاپ نغموں میں سب سے بہترین ہیں۔
پوسٹر، نایاب تصاویر، اخبار کے صفحات، سیاسی کارٹون، خطوط، سرکاری دستاویزات، اشتہارات، ذاتی یادگاری اشیاء، اور دیگر تاریخی نوادرات، جنہیں تولی نے سوراج کو تیار کرنے کے لیے اکٹھا کیا ہے، ہر دور کے ماحول کو دوبارہ تخلیق کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔
ایک لحاظ سے، یہ جدید ہندوستان کی ایک غیر معمولی بصری تاریخ ہے، کسی ایک سیاسی نظریے یا ماضی کے کسی ایک ورژن کا جشن نہیں ہے، بلکہ ہندوستانی تجربے کے غیر معمولی دائرہ کار کو سمیٹنے کی ایک کوشش ہے۔
جیسے ہی بھیڑ نمائش کے درمیان گھومتی ہے، سیلفیاں بناتی ہے، تولی اپنے ماتھے کا پسینہ پونچھتے ہیں اور مسکراہٹ کے ساتھ کہتے ہیں، “لوگ اس لیے جڑتے ہیں کیونکہ نمائش، موسیقی، سبھی مل کر اس بات کا احساس دلاتے ہیں کہ ہندوستان نے کیا کچھ برداشت کیا۔”
نیویل تولی اور ان لوگوں کے لیے جو پاپ جدید تاریخ کی ان کی تیار کردہ سمجھ کو دیکھنے کے لیے جمع ہوئے ہیں، آزادی کا جشن منانے کا یہی مطلب ہے — یہ یاد رکھنا کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، ان اتھل پتھل کو سمجھنا جنہوں نے ہمیں شکل دی، اور اس ہندوستان پر غور کرنا جسے ہم نے آزاد ہونے کے بعد سے تعمیر کیا ہے۔
یو این آئی ایف اے
تجزیہ
کاکروچ جنتا پارٹی کا احتجاج، بڑھتی ہوئی جی ڈی پی اور روزگار کے مواقع میں کمی
از: جینت رائے چودھری
نئی دہلی، دوپہر ڈھل چکی ہے، دہلی کی دھندلی دھوپ میں ہزاروں نوجوان لڑکے اور لڑکیاں جمع ہیں، وہ ایک ایسے احتجاج میں شریک ہیں، جو کئی دنوں سے جاری ہے، لیکن جمعہ کو کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کی جانب سے وزیر تعلیم دھرمیندر پردھان کے استعفے کے مطالبے پر ملک گیر تحریک کے اعلان کے بعد اس میں نئی جان آ گئی ہے،جن پتھ پر واقع عالیشان امپیریل ہوٹل سے جے پور کے سوائی مان سنگھ کی تعمیر کردہ اٹھارویں صدی کے اوائل کی رصد گاہ جنتر منتر کی جانب جانے والی تنگ سڑک کو پولیس نے بیریکیڈ لگا کر بند کر دیا ہے۔
فسادات پر قابو پانے والی پولیس کی تین قطاریں تعینات ہیں، لیکن اس کے باوجود دہلی اور اس کے آس پاس کی یونیورسٹیوں کے طلبہ بلکہ گوہاٹی سے پونے تک مختلف شہروں سے آئے نوجوان، پولیس کی ناکہ بندی سے بچتے ہوئے احتجاج میں شامل ہو رہے ہیں۔ اس احتجاج نے اب عالمی توجہ حاصل کر لی ہے۔
غازی آباد کے 21 سالہ انجینئرنگ کے طالب علم کوستوو دت نے کہا، “میں اس لیے آیا ہوں کیوں کہ پیر کے روز طلبہ کو بلاوجہ بری طرح پیٹا گیا۔ ہمارا تعلیمی نظام ٹوٹ چکا ہے۔ طلبہ صرف امتحانات میں شفافیت کا مطالبہ کر رہے تھے، پھر ان کے ساتھ مجرموں جیسا سلوک کیوں کیا گیا؟”
چند ہفتے قبل سی جے پی نے مئی میں منعقد ہونے والے نیشنل ایلیجبلٹی کم انٹرنس ٹیسٹ (نیٹ) میں مبینہ پرچہ لیک ہونے اور دیگر بے ضابطگیوں کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا۔ پیر کو پولیس کی کارروائی، جس میں متعدد طلبہ کو دوڑا کر مارا گیا اور درجنوں زخمی ہوئے، جن میں کئی کی آنکھوں اور سر پر چوٹیں آئیں، کے بعد یہ احتجاج مزید شدت اختیار کر گیا۔
لیکن ہندوستان کے نوجوانوں کے لیے ناقص امتحانی نظام اور پولیس سے تصادم دراصل برسوں سے بڑھتی ہوئی بے چینی کا آخری سبب ثابت ہوا۔ 1990 کی دہائی سے ملک کی نوجوان آبادی، تعلیم کی شرح اور مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں مسلسل اضافہ ہوا، مگر روزگار کے مواقع اسی رفتار سے پیدا نہیں ہو سکے، جس کے نتیجے میں نوجوانوں میں شدید مایوسی جنم لیتی رہی۔
ہندوستان میں 15 سے 29 برس کی عمر کے تقریباً 36 کروڑ 70 لاکھ نوجوان ہیں، جو دنیا کی سب سے بڑی نوجوان آبادیوں میں شمار ہوتے ہیں۔ ایک وقت میں اسے ملک کا “یوتھ ڈیوڈنڈ” قرار دیا جاتا تھا، لیکن اس صلاحیت کو معاشی ترقی میں تبدیل کرنا اتنا آسان ثابت نہیں ہوا۔
اگرچہ ہندوستان کی جی ڈی پی کئی برسوں تک سات فی صد سے زیادہ کی رفتار سے بڑھتی رہی، لیکن سینٹر فار مانیٹرنگ انڈین اکانومی کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق رواں سال جون میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 6.64 فی صد رہی۔
اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں یہ شرح اس سے بھی زیادہ ہے۔ عظیم پریم جی یونیورسٹی کی رواں سال جاری کردہ رپورٹ کے مطابق 25 سے 29 برس کی عمر کے گریجویٹس میں بے روزگاری کی شرح تقریباً 20 فیصد ہے۔
جواہر لعل نہرو یونیورسٹی کے سابق پروفیسر معاشیات ڈاکٹر بسواجیت دھر نے یو این آئی سے کہا، “یہ احتجاج اس بات کی علامت ہے کہ ہم اپنی نوجوان آبادی کو وہ معاشی مواقع فراہم کرنے میں ناکام رہے ہیں جن کا وعدہ ایک زیادہ تعلیم یافتہ نسل سے کیا گیا تھا۔”
‘اسٹیٹ آف ورکنگ انڈیا 2026’ رپورٹ کے مطابق 05-2004سے 2023 تک ہر سال تقریباً 50 لاکھ نئے گریجویٹس سامنے آئے، لیکن ان میں سے صرف 28 لاکھ کو روزگار مل سکا۔ ان میں بھی مستقل تنخواہ والی ملازمت حاصل کرنے والوں کی تعداد بہت کم رہی، جس کے نتیجے میں گریجویٹ بے روزگاری میں اضافہ اور آمدنی کی رفتار میں کمی دیکھی گئی۔
کانپور سے تعلق رکھنے والی پوسٹ گریجویٹ طالبہ پریتی مشرا، جو جنوبی مشرقی دہلی میں ایک پیئنگ گیسٹ رہائش گاہ میں رہتی ہیں اور مختلف سرکاری و یونیورسٹی ملازمتوں کے امتحانات دے رہی ہیں، کہتی ہیں، “جہاں ملازمتیں موجود بھی ہیں وہاں ابتدائی تنخواہ اتنی کم ہے کہ والدین کو ہماری مالی مدد جاری رکھنی پڑتی ہے۔”
ہیومن ریسورس کمپنیوں کے مطابق ملک کے کئی حصوں میں انجینئروں کی ابتدائی تنخواہ آج بھی تقریباً 30 ہزار روپے ماہانہ ہے، اور گزشتہ آٹھ سے دس برس میں اس میں کوئی خاص اضافہ نہیں ہوا۔ پریتی مشرا کہتی ہیں، “معیاری ملازمتیں بہت کم ہیں، اسی لیے مسابقتی امتحانات کی دوڑ لگی ہوئی ہے اور اب نوجوانوں کو یہ خوف بھی ہے کہ ان امتحانات میں بھی ان کے ساتھ ناانصافی ہو رہی ہے۔”
اس کے باوجود ہندوستان میں اعلیٰ تعلیم میں داخلے کی شرح سن 2000 کے تقریباً 10 فی صد سے بڑھ کر 2026 میں 30 فی صد تک پہنچ گئی ہے، جس کا مطلب ہے کہ ملک میں پہلے سے کہیں زیادہ تعلیم یافتہ نوجوان موجود ہیں۔
کوستوو دت کہتے ہیں، “یہ تمام باتیں ہمیں پریشان کرتی ہیں۔ میرے والد کسان ہیں اور انہوں نے قرض لے کر ہم بہن بھائیوں کو پڑھایا ہے۔ کیا ہمیں ایسی ملازمت ملے گی جس سے ہمارے خاندان کی حالت بہتر ہو سکے؟ یا پھر ہمیں ملازمتوں میں امتیاز اور امتحانات میں دھوکے کا سامنا کرنا پڑے گا؟”
اسی دوران ہجوم میں زور دار نعرے گونجنے لگتے ہیں۔ سی جے پی کے رہنما ابھیجیت دیپکے اعلان کرتے ہیں کہ اب سب لوگ کھڑے ہو کر قومی ترانہ گائیں۔
پسینے اور شاید فخر سے چمکتے ہوئے چہرے روشن ہو اٹھتے ہیں جب وہاں موجود مجمع قومی ترانہ ‘جن گن من ‘ گاتا ہے۔
طلباء کو ضرورت پڑنے پر قابو میں رکھنے کے لیے لاٹھیوں کے ساتھ گھومنے والے پولیس اہلکار بھی مودب انداز میں کھڑے ہو جاتے ہیں۔ دہلی کے ابر آلود آسمان سے سورج بھی چند لمحوں کے لیے جھانکنے لگتا ہے۔
یواین آئی۔ م س ۔ م الف
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
