تازہ ترین
چینی صدر کا دورہ سعودی عرب علاقائی اور عالمی سطح پر تعاون بڑھانے پر اتفاق ،مشترکہ اعلامیہ جاری
ریاض، 9دسمبر(یواین آئی)چین کے صدر شی کے سعودی عرب کے تین روزہ دورے کے اختتام پر تفصیلی مشترکہ اعلامیہ جاری کیا گیا ہے۔ جس میں تیل کی ایک مستحکم عالمی مارکیٹ کی اہمیت پر مشترکہ طور پر زور دیا گیا ہے۔ مشترکہ بیان میں روس یوکرین تنازع اور ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں پر امن حل کے ساتھ ساتھ اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ ایران پڑوسی ملکوں کے اندرونی معاملات میں مداخلت سے گریز کرے۔
العربیہ کی ایک رپورٹ کے مطابق مشترکہ بیان میں یمن اور شام کے سلسلے میں پر امن حل کی کوششوں کی تائید کی گئی اور لبنان کے بحران کے حل کے لیے کوششوں کی بات کی گئی ہے۔۔ چین نے روس یوکرین ، یمن اور شام کے سلسلے میں سعودی عرب کے کردار کی تعریف کی۔ دونوں ملکوں نے علاقائی کے علاوہ بین الاقوامی سطح پر بایمی تعاون کو بڑھانے پر اتفاق کرتے ہئے دو طرفہ سرمایہ کاری منصوبوں اور توانائی اور تجارت کے امور پر اعلی سظح کی دوطرفہ کمیٹی قائم کرنے پر بھی زور دیا۔
سرکاری خبر رساں ادارے ‘ ایس پی اے ‘ کے مطابق اعلامیے میں چین نے تیل کی مستحکم اور متوازن عالمی منڈی کے لیے مملکت کے کردار اور حمایت کا خیر مقدم کیا گیا ہے۔ چین کو خام تیل کی بڑی اور قابل بھروسہ برآمد کنندہ مملکت کے طور پر بھی سعودی عرب کو سراہا گیا ہے۔مشترکہ اعلامیے میں سعودی عرب اور چین کے درمیان مستقبل میں تعلقات کو غیر معمولی اہمیت دی گئی ہے۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں اتفاق کیا ہے کہ جوہری توانائی کے پر امن استعمال کے لیے باہمی تعاون میں اضافہ کیا جائے گا۔
شاہ سلمان بن عبدالعزیز اور صدر شی کے درمیان ملاقات میں ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان بھی موجود رہے۔ یہ اہم ملاقات الیمامہ محل میں جمعرات کے روز ملاقات ہوئی ۔ اس اعلی ترین ملاقات کے لیے صدر شی سات دسمبرکو بدھ کے روز سعودی عرب پہنچے تھے ۔الیمامہ محل ہو ہونےو الی ملاقات میں دو طرفہ تعلقات اور تعاون بڑھانے کے لیے مختلف شعبوں کو زیر بحث لایا گیا۔ اس تعاون کے لیے علاقائی اوربین الاقوامی سطحوں پر ہونے والی پیش رفت کے تناظر کے حوالے سے دیکھا گیا۔
چینی صدر کے دورے کے موقع پر دونوں مملکوں گرین انرجی، گرین ہائیڈروجن ، فوٹو وولٹائک انرجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور کلوڈ سروسزکے شعبوں میں تعاون کے لیے مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔فریقین نے 12 معاہدات اور مفاہمتی یادداشتوں پر ہائیڈروجن انرجی ، عدالتی شعبے، چینی زبان کی تعلیم ، ہاوسنگ، ڈائریکٹ انویسٹمنٹ ، ریڈیو ، ٹی وی ، ڈیجیٹل اکانومی ، معاشی ترقی ، سٹینڈرائزیشن ، خبری کوریج ، ٹیکس ایڈمنسٹریشن اور اینٹی کرپشن سے متعلق موضوعات پر دستخط کیے گئے۔علاوہ ازیں’ ایس پی اے ‘ کے مطابق سرکاری اور نجی شعبے میں 9 معاہدوں اور مفاہمت یادداشتوں پر دستخط کیے گئے۔ جبکہ دونوں مملکت اور چین کے درمیان دونوں کی نجی کمپنیوں نے 25 معاہدات پر دستخط کیے ہیں۔
چینی صدر نے سعودی عرب کی طرف سے زبردست میزبانی کی تعریف کی اور شاہ سلمان بن عبدالعزیز کو دورہ چین کی دعوت دی گئی۔ شاہ سلمان نے یہ دعوت قبول کر لی۔ تاہم شاہ سلمان کے دورہ چین کی تاریخ بعد ازاں دونوں طرف کے مشورے اور سہولت کے مطابق طے کی جائے گی۔
دورے کے اختتام پر جاری کیے گئے مشترکہ بیان میں چین کی طرف سے مملکت کی سلامتی و استحکام کے لیے مسلسل حمایت کااظہار کیا گیا۔ نیز سعودی عرب کے اندرونی معاملات میں مداخلت پر مبنی اقدامات کی مخالفت کے عزم کااظہار کیا گیا۔ اس سلسلے میں سعودی عرب میں شہریوں اور شہری تنصیبات کو ٹارگیٹ کر کے کیے جانے والے اور مملکت کے مفادات پر کیے جانے والے حملوں کی بھی مخالفت کا اندیہ دیا گیا۔ خلیجی ممالک کی سربراہی کانفرنس سے پہلے دونوں طرف سے چین اور خلیجی ممالک کے درمیان سٹریٹجک پارٹنر شپ اور گہرے تعلقات کی اہمیت پر زور دیا گیا۔نیز اس پر بھی کام کرنے کا فیصلہ کیا گیا کہ خلیجی ممالک پلس چین یعنی 6 جمع 1 کے انداز میں خلیجی ممالک اور چین کے معیشت و تجارت کے امور کے وزیر وں کو فورم تشکیل دیا جائے۔
مشترکہ بیان میں تونائی کے شعبے کے لیے انفراسٹرکچر کے امور بھی فوکس میں رہے۔ دونوں طرف سے اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ مل کر مشترکہ سرمایہ کاری کے مواقع بھی تلاش کیے جائیں گے۔
یہ مواقع پیٹرو کیمیکلز کے شعبے کے علاوہ بجلی ، پی وی انرجی ۔ ونڈ انرجی سمیت قابل تجدید توانائی کے شعبوں میں بھی سرمایہ کاری کے لیے ہم آہنگی ظاہر کی گئی۔دونوں ملکوں نے ہائیڈروجن سے متعلق وسائل کے استعمال ، توانائی کی مستعدی ، توانائی کی مقامی سطح پر پیداوار کے اجزا اور فراہمی توانائی کے لیے اقدامات پر کام کرنے پر اتفاق کیا گیا۔
اس تناظر میں سعودی عرب اور چین دونوں نے چین کے ‘ بیلٹ اینڈ روڈ ‘ انیشیٹو کے حوالے سے بھی دو طرفہ تعاون کو گہرا اور مضبوط کرنے پر زور دیا ۔ اس طرح توانائی کے منصوبوں میں بھی دونوں ملک علاقائی سطح کے علاوہ یورپ اور افریقہ میں بھی منصوبے لگانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔علاوہ ازیں مال کی نقل وحمل اور کے لیے دو طرفہ طور پر اتفاق کیا کہ تعاون کو بڑھایا جائے اوراس سلسلے میں فضائی کے علاوہ بحری روابط کو بھی فعال بنایا جائے۔ جبکہ شہریوں کو جدید سفری سہولتیں دینے کے لیے سفری ذرائع بشمول ریلوے کے حوالے سے مثبت انداز میں چیزوں کو دیکھا گیا۔
سعودی عرب کی طرف سے بھی چین کو دعوت دی گئی کہ ملک کے مستقبل میں میگا پارجیکٹس میں اپنی مہارت کے ساتھ شریک ہو۔ نیز چین کے تاجروں کو مملکت میں اپنا علاقائی ہیڈ کوارٹر قائم کرنے کی دعوت دی گئی۔
صدر شی کے دورے کے اختتام سے قبل جاری کردہ مشترکہ بیان میں اعلیٰ سطح کی دو طرفہ مشترکہ کمیٹی کے ذریعے دو طرفہ روابط کو موثر بنانے کے لیے بھی اتفاق کیا گیا ۔ تاکہ تجارتی شعبے میں تعاون کو تزی سے بڑھایا جا سکے۔ اس بات کا بھی ادراک کیا گیا کہ تجارت اور سرمایہ کاری کے حوالے سے ایسے منصوبے بھی ہونے چاہییں جو طرفہ تعاون و ترقی اور شراکت کی علامت کے طور پر نظرآنے والے ہوں۔
اس وقت دو طرفہ جاری تجارت کی مشترکہ بیان میں تعریف کی گئی ، جبکہ تیل کے علاوہ دیگر شعبوں کی تجارت کو بڑھانے پر بھی دونوں طرف سے زور دیا گیا۔ مشترکہ بیان نے سعودی عرب اور چین کے درمیان ‘ آٹو موٹوو انڈسٹری ، ان مشینیون کی سپلائی کے تسلسل، نقل و حمل سمیت انفراسٹرکچر اور مینو فیکچرنگ کے امور میں بھی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔
خارجہ امور کا شعبہ اگرچہ چین کے صدر کے دورے میں اہم تر سمجھا گیا ہے تام اس مشترکہ بیان میں اس کو بظاہر کم اہمیت دی گئی ہے۔ خارجہ امور کے حوالے سے دونوں ملکوں نے روس اور یوکرین کے درمیان تنازعے کو پرامن طریقوں سے حل کیا جانے پر زور دیا ہے۔ اس موقع پر چین کی طرف سے سعودی عرب کے انسانی بنیادوں پر ادا کیے گئے کردار کی تعریف کی گئی جو روس اور یوکرین کے سلسلے میں پچھلے کئی ماہ سے مملکت ادا کر رہی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں دونوں ملک اس بات پر متفق نظر آئے کہ باہمی تعاون کو مظبوط کیا جائے تاکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے جوہری پروگرام کا پر امن حل نکل سکے۔
دونوں نے نے اس بات پر ایران سے اپیل کی کہ وہ اپنے جوہری پروگرام کے حوالے سے بین الاقوامی ایٹمی توانائی کے ادارے کے ساتھ پرولیفیشن کے حوالے سے تعاون کرے اور اچھے ہمسایوں کی طرح رہتے ہوئے دوسروں کے اندرونی معاملات میں مداخلت نہ کرے۔
یمن کے بارے میں بات کرتے ہوئے چین نے مملکت کی طرف سے جنگ کی خاتمے کے لیے کی گئی کوششوں کو سراہا اور یمن کی جماعتوں کے درمیان مذاکرات کی حوصلہ افزائی کی۔دونوں ملکوں نے یمن کے صدارتی کونسل کی قیادت کی حمایتت پر زور دیا اس پر بھی زور دیا کہ ایرانی حمایت یافتہ حوثی اقوام متحدہ کے خصوصی نمائندے کے ساتھ تعاون کریں تاکہ ایک مستقل اور جامع سیاسی حل کی طرف بڑھا جاسکے۔
دونوں فریقں نے شام میں بحران کے سییاسی حل کے لیے کوششوں کو مؤثر بنانے پر زور دیا۔ شام میں دیشت گردی کے خاتمے کے لیے اقوام متحدہ اور اس کے خصوصی نمائندے کی خدمات کو سراہا۔
لبنان کے تحفظ، استحکام اور اتحاد کو درپیش مسائل پر تشویش ظاہر کی اور لبنان کے بحران کے حل کے لیے اصلاحات، بات چیت اور مشاورت پر زور دیا۔
دنیا
نیپال میں سیلاب اور لرزشِ اراضی سے اموات کی تعداد 623 تک ہو گئی، 1,100 سے زیادہ افراد لاپتہ ہیں
کٹھمنڈو، شدید سیلابوں اور لینڈ سلائیڈز کے باعث نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد ہفتہ کو 623 تک پہنچ گئی، جب کہ ریسکیو ٹیمیں تیز بہاؤ والے دریاؤں کے ذریعے بہنے والی لاشوں کی تلاش کر رہی ہے۔
نیپال پولیس نے تصدیق کی ہے کہ انہوں نے 616 لاشیں برآمد کی ہیں، جن میں 233 چتّوان اور 158 نوالپاراسی مشرقی میں ملی ہیں، جو ان علاقوں کو آفت سے سب سے زیادہ متاثرہ بناتی ہیں۔ اس ہلاکت خیز صورتحال میں بھوتیکوشی اور ٹرِشُلی دریاؤں کے طغیانی کے بعد گورکھا، دھادِنگ اور نوواکوت میں ملنے والے درجنوں افراد بھی شامل ہیں۔
لاشیں حتیٰ کہ ہندوستان کی سرحد تک بھی ملی ہیں۔
کم از کم 638 افراد نیپال کے حصے میں لاپتہ ہیں، جن میں 511 غیر ملکی شامل ہیں۔
دریں اثنا، ریاستی خبر رساں ایجنسی شِنخوا کے مطابق چین میں سات افراد ہلاک اور 554 لاپتہ ہیں۔
نیپالی حکام نے بتایا کہ 2,301 افراد کو بچایا گیا اور زخمیوں کا علاج کیا گیا ہے، نوواکوت اور راسووا اضلاع میں امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔
پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق 27 پولیس اہلکاروں سے رابطہ نہیں ہو سکا جبکہ متاثرہ علاقوں میں بازیابی کے امور کے لیے 4,811 اہلکار تعینات ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکہ اور وینزویلا ‘دنیا کا سب سے بڑا تیل معاہدہ’ پر پہنچ گئے ہیں: ٹرمپ
واشنگٹن، صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ وینزویلا کے ساتھ ایک معاہدے پر پہنچ گیا ہے، جس سے وینزویلا کے 65 بلین بیرل سے زیادہ کے تیل کے ثابت شدہ ذخائر پر امریکی اکثریت کا کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔
صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم “سچ” پر لکھا، “یہ تاریخی معاہدہ امریکہ کے تیل کے ذخائر کو دوگنا کر دے گا، ہماری تیل کی سپلائی میں نمایاں اضافہ کرے گا اور تمام امریکیوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں نمایاں طور پر کمی آئے گی۔”
وینزویلا کی عبوری صدر ڈیلسی روڈریگز نے امریکہ کے ساتھ تیل کے معاہدے کی تفصیل بتائی۔ انہوں نے صدر ٹرمپ اور سکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کا شکریہ ادا کیا کہ وہ اس اقدام کو آگے بڑھانے پر آمادگی ظاہر کرتے ہیں، جسے دو طرفہ تعلقات میں ایک سنگ میل سمجھا جاتا ہے۔
محترمہ ڈیلسی نے کہا کہ معاہدے کا مقصد نجی شعبے کی شراکت سے تیل کی پیداوار کو بڑھانا ہے۔
اس سے قبل ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ جنوری کے اوائل میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی حراست کے بعد سے امریکا وینزویلا کے تیل سے منافع کما رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
