تازہ ترین
یہاں کے مقامی لیڈروں نے ہی کشمیریوں کیساتھ دھوکہ کیا ،یہ مفاد پرست لوگ ہیں :سلمان نظامی
رضوان سلطان:
صحافی اور کانگریس کے نو جوان لیڈر سلمان نظا می کے ساتھ جموں و کشمیر اور بھارت کی سیاست کے علاوہ ان کے علاوہ انکے متنازعہ ٹوئٹس پر ’’خبراردو ‘‘ کے مدیر اعلیٰ عاصم محی الد ین کے ساتھ خصوصی انٹرویو ۔
عاصم :آپ دلی کی سیاست میں رہ کے بھی متنازعہ کیوں رہتے ہیں ؟
سلمان نظامی :متنازعہ آپ مجھے مانتے ہیں ،لیکن میں اسے اپنی ایک رائے مانتا ہوں،میرے دس سال کے صحافی کرئیرکو آپ دیکھ لیں، میں نے مضامین جو لکھے ہیں بہت سخت لکھے ہیں اور میں جب بھی بولتا ہوں سخت ہی بولتا ہوں،سچائی کی بنیاد پر بولتا ہوں ،تو مخالف پارٹیوں کے لوگ یا بی جے پی کے لوگوں کو کڑوا لگتا ہے ،تو وہی کڑوا ان کو متنازعہ لگتا ہے ۔
عاصم :گجرات انتخابات کے دوران آپ کے خلاف مودی نے ایک بیان بھی دیا ،آپ نے جو ٹوئٹ کئے تھے ان میں جس زبان کا آپ نے استعمال کیا تھا مودی کے خلاف وہ ٹوئٹ کیا تھے ؟
سلمان نظامی :دیکھئے پی ایم صاحب اتنے پڑھے لکھے نہیں ہیں ،ان کی ڈگریاں ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں ،میں نے صاف سا ٹوئٹ کیا تھا دسویں پاس لڑکا بھی سمجھ سکتا تھا ،میں نے صرف مودی جی اور گاندھی خاندان کا موازنہ کیا تھا کہ گاندھی خاندان نے دیش کو کیا دیا ،اور مودی نے کیا دیا ۔تو مودی نے اپنی زبان میں اسے توڑ مڑوڑ کے پیش کیا ،بعد میں مجھے وضاحت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ میرے کچھ ساتھی بھی ناراض ہوئے ۔
لیکن بعد میں جب حقیقت سامنے آئی تو اس ٹوئٹ میں کچھ ایسا تھا نہیں جس کو مودی نے اتنا بڑھا چڑھا کے پیش کیا ، وہ بالکل پریشان ہو گئے تھے کیونکہ میں ایک مہینے کیلئے گجرات میں تھا تو مودی کو جس طریقے سے ہم نے اپنی ریلیوں میں بے نقاب کیا ،جس کے بعد آپ نے کرناٹک کے نتائج بھی دیکھے ۔
عاصم: یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ سیاست کے لئے مظلوم مسلمانوں کو بیچتے ہیں ،جبکہ جمہوریت توخیالات کی جنگ ہے ؟
سلمان نظامی : دیکھئے بات صرف مسلمانوں نہیں ہے ،میں بات اقلیتوں کی بھی کرتا ہوں اور اقلیت کوئی مذہب نہیں ہوتا ،جموں کشمیر میں اقلیت میں ہندو ،سکھ اور عیسائی آتے ہیں ،اصل میں بات زیادتی کی ہے ۔آج جو سیاست ہے وہ چاہے بھارت کی ہو یا امریکہ کی ہو ، آج اسلاموفوبیا (اسلام اور مسلمانوں سے خوف ) ہے ۔مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے ان کا قتل عام کیا جاتا ہے۔
وہیں بھارت میں جو ماب لنچنگ(ہجوم میں اکھٹا ہوکے کسی کی پٹائی کرنا ) ہوئی ،میں نے مودی سے کہا کہ جو گاؤ خانے ہیں ان کے مالک تو ہندو ہیں اور جو گوشت پاکستا ن اور دوسرے ملکوں میں بھیجاجاتا ہے اس سے تو سرکار کڑوڑوں پیسے کماتی ہے تو ان غریب لوگوں کو کس جرم میں مارا جاتا ہے ۔قتل عام ان کا ہونا چاہیے جو گوشت پر پیسہ کماتے ہیں ۔
عاصم : کیا آپ چاہتے ہیں کہ بیف پر پابندی لگنی چاہیے؟
سلمان نظامی: ہاں مذہب کی جہاں بات آئے ہم مذہب کے خلاف نہیں جا سکتے،ہم نے بہت جگہوں پر شراب کے خلاف آواز اٹھائی لیکن میں نے کسی ہندو کو اس کے خلاف بات کرتے نہیں دیکھا ۔اسی طریقے سے اگر کسی ہندو کو بیف سے پریشانی ہے تو ہمیں اسے اکسانا نہیں چاہیے اسکے لئے قانون ہے اور قانون کی پیروی کریں ،وہیں اگر بھاجپا قانون کو نہیں مانتی تو وہ ہندوستانی کہاں ہیں۔
عاصم :آپ نے کشمیر میں ہو رہے قتل عام کی بات کی،نہ تو یہ اب بھاجپا کے دور میں شروع ہوا ، اور نہ ہی ختم ہو گا کیونکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی تاریخ ہے ۔ تو 2008 میں یہاں کانگر یس کی سرکار تھی ، اس سے پہلے 1990کے ملی ٹنسی کے دور میں بھی تھی ،کیا آپکو نہیں لگتا کانگریس بھی اس کیلئے ذمہ دار ہے ۔
سلمان نظامی: دیکھئے اسوقت کے دور میں اور آج کے دور میں بہت فرق ہے ،اُس وقت ایک الگ ماحول تھا ور آج ایک الگ ماحول ہے ،آج پی ڈی پی معذور ہو گئی ہے کیوں کہ ان کو بھاجپا نے یتیم کی طرح چھوڑ دیا ،لیکن جب یہاں عمر عبد اﷲ وذیر اعلیٰ تھے تو کانگریس نے مرکز سے ان کو پورا سپورٹ دیا،کانگریس نے کبھی بھی کشمیریوں سے یہ نہیں کہا کہ آپ آرمی کیمپ میں ٹافی لینے گئے تھے؟
عاصم:1988میں جو کشمیر کے انتخابات میں جمہوریت پر دھبہ لگا وہ کانگریس کے دو ر میں لگا ،افسپا کا نگریس کے دور میں یہاں آئی ،اسکے علاوہ انسرجنسی جو ہوئی وہ بھی کانگریس کے دور میں ہوئی ،بھاجپا نے صرف یہاں پے تین سال کی حکومت کی،تو آپ یہ سارا گھما پھرا کے بھاجپا پر کیوں لاتے ہیں ؟
سلمان نظامی: اس وقت کا آپ کانگریس پرالزام نہیں لگا سکتے اسوقت تو وی پی سنگھ (سابق وزیر اعظم ہند ) کی حکومت تھی اور مرحوم مفتی صاحب مرکز میں وزیر داخلہ تھے ،تو کا نگریس کہاں سے بیچ میں آئی ،کانگریس نے یہاں حکومت ہی کب کی ، ریاست میں تو کانگریس کو کم وقت ملا ،غلام نبی آزاد کو صرف دو سال ملے جس میں آپ نے دیکھا انہوں نے کیا انقلاب لایا ۔
کشمیری ہونے کے ناطے اور ایک مقامی لیڈر ہونے کے ناطے میں یہ کہوں گا کہ یہاں کے مقامی لیڈروں نے ہی کشمیریوں کے ساتھ دھوکا کیا ،چاہے وہ پی ڈی پی یا این سی ہو یہ مفاد پرست لوگ ہیں ،سجاد لون ۲۰ سال سے بھارت کو گالیاں دیتے تھے ،اور آج وہ بھاجپا کی گود میں بیٹھ گئے ہیں ۔یہ سارے دوغلے لوگ ہیں آپ دیکھ رہے ہیں کہ پی ڈی پی کے خلاف عمران رضا انصاری کے علاوہ باقی لیڈر بغاوت کر رہے ہیں ،یہ چار سال سے کہا ں تھے ۔
عاصم : 2008 میں این سی نے کانگریس کے ساتھ ریاست میں سرکار بنائی تو تب کون سے ترقی کے پہاڑ توڑے گئے ؟
سلمان نظامی :غلام نبی آزاد نے مرکزی و زیر صحت ہوتے ہوئے پانچ میڈیکل کالج دلوائے ۔
عاصم : لیکن وہ تو آج تک قائم نہیں ہو پائے ؟
سلمان نظامی : وہ تو عمر عبداﷲ کو فالو کرنا تھا مرکز نے تو کوئی کمی نہیں رکھی ،غلام نبی آزاد نے تو پانچ میڈیکل کالج کی منظوری دلوائی لیکن وہ آج تک نو سال کے بعد بھی نہیں بنے ،آزاد صاحب مرکز کو دیکھتے یا ریاست کو دیکھتے ،یہ عمر صاحب سے لاپر واہی ہوئی ۔
عاصم : آپ نے جب ان کے ساتھ سرکار بنائی تھی تب آواز کیوں نہیں اٹھائی ،جیسے آج ایسا مانا جا تا ہے کہ بھاجپا نے کہا کہ سرکار ناکام ہو گئی اسی لئے اتحاد توڑا ؟
سلمان نظامی : ہمارا این سی کے ساتھ اتحاد ٹھیک چل رہا تھا ،ہم نے کالج اور پرائمری ہلتھ سنٹرس وغیرہ کی منظوری دلوائی لیکن پھر نئی سرکاروں نے فالو نہیں کیا ،اب اگر عوام نے موقع دیا تو ہم ان کاموں کو آگے برھائیں گے ،لیکن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے ،اگر لوگوں کا قتل عام ہو اور لوگ ہی نہ بچیں تو سڑکیں اور عمارتیں بنا کے کیا کریں گے ۔
عاصم : تو پھر اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟
سلمان نظامی : بھاجپا نے یہاں گھمنڈ دیکھایا اور مودی نے اپنا ہی چلایا ،یہ گھمنڈ اٹل جی نے نہیں دیکھایا انہو ں نے پاکستان سے بات کی ،حریت کے لیڈران کو دلی بلایا ،لیکن مودی اپنی ہی چلا رہے ہیں ۔
عاصم : کشمیر کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک کشمیر ی مسلمان ہو نے کے ناطے پھر مین سٹریم میں آنا وہ بھی دلی میں تو آپ کیسے اپنا مستقبل دیکھتے ہیں؟
سلمان نظامی : دیکھئے کشمیری مسلمان کا مین سٹریم میں آنا ہندوستان کی لیڈرشپ آپ کو نہیں نکاررہی، آزاد صاحب نے آج ایک اچھا بیان دیا کہ آپ جنگجوؤں کو مارے لیکن آپ عام شہریوں کو کیوں مارتے ہیں اس میں ان کا کیا قصور ہے ۔ لیکن بھاجپا کا آپ دیکھئے منسٹر تک کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو بھی مار ڈالو ،اس سے لوگ آپ سے دور جا رہے ہیں ، لوگ بھارت کیساتھ ایک پل کا کام کرتے ہیں۔
لیکن جب آپ نے غلام نبی آزاد صاحب جیسے لوگوں کو بھی دیش دروہی بنا دیاجس نے 40سال بھارت کو دئے ،اور کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ جوڑ کے رکھا ،اور اس کرئیر میں لیڈر آف اپوزیشن بنے ،مرکزی وزیر بنے ،چیف منسٹر بنے ،اور اب چالیس سال کے بعد آپ بولتے ہیں کہ آزاد صاحب دیش دروہی ہیں تو پھر کشمیر میں نیشنلسٹ کون ہے ،سجاد لون نیشنلسٹ ہیں کیا ،جس نے ۲۵ سال بھارت کو گالیاں دیں اور آج بھاجپا کیساتھ جڑ گیا ،اور سجاد لون نیشنلسٹ بن گیا ۔
اور چالیس سال تک جس نے بھارت کا جھنڈا تھام کے رکھا وہ آج دیش دروہی بن گیا ۔تو مین سٹریم میں جو کشمیر کے نوجوان آنا چاہتے ہیں وہ ان باتوں سے دور ہوتے ہیں ۔
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
