تازہ ترین
یہاں کے مقامی لیڈروں نے ہی کشمیریوں کیساتھ دھوکہ کیا ،یہ مفاد پرست لوگ ہیں :سلمان نظامی
رضوان سلطان:
صحافی اور کانگریس کے نو جوان لیڈر سلمان نظا می کے ساتھ جموں و کشمیر اور بھارت کی سیاست کے علاوہ ان کے علاوہ انکے متنازعہ ٹوئٹس پر ’’خبراردو ‘‘ کے مدیر اعلیٰ عاصم محی الد ین کے ساتھ خصوصی انٹرویو ۔
عاصم :آپ دلی کی سیاست میں رہ کے بھی متنازعہ کیوں رہتے ہیں ؟
سلمان نظامی :متنازعہ آپ مجھے مانتے ہیں ،لیکن میں اسے اپنی ایک رائے مانتا ہوں،میرے دس سال کے صحافی کرئیرکو آپ دیکھ لیں، میں نے مضامین جو لکھے ہیں بہت سخت لکھے ہیں اور میں جب بھی بولتا ہوں سخت ہی بولتا ہوں،سچائی کی بنیاد پر بولتا ہوں ،تو مخالف پارٹیوں کے لوگ یا بی جے پی کے لوگوں کو کڑوا لگتا ہے ،تو وہی کڑوا ان کو متنازعہ لگتا ہے ۔
عاصم :گجرات انتخابات کے دوران آپ کے خلاف مودی نے ایک بیان بھی دیا ،آپ نے جو ٹوئٹ کئے تھے ان میں جس زبان کا آپ نے استعمال کیا تھا مودی کے خلاف وہ ٹوئٹ کیا تھے ؟
سلمان نظامی :دیکھئے پی ایم صاحب اتنے پڑھے لکھے نہیں ہیں ،ان کی ڈگریاں ابھی تک سامنے نہیں آئی ہیں ،میں نے صاف سا ٹوئٹ کیا تھا دسویں پاس لڑکا بھی سمجھ سکتا تھا ،میں نے صرف مودی جی اور گاندھی خاندان کا موازنہ کیا تھا کہ گاندھی خاندان نے دیش کو کیا دیا ،اور مودی نے کیا دیا ۔تو مودی نے اپنی زبان میں اسے توڑ مڑوڑ کے پیش کیا ،بعد میں مجھے وضاحت کرنے کا موقع نہیں ملا۔ میرے کچھ ساتھی بھی ناراض ہوئے ۔
لیکن بعد میں جب حقیقت سامنے آئی تو اس ٹوئٹ میں کچھ ایسا تھا نہیں جس کو مودی نے اتنا بڑھا چڑھا کے پیش کیا ، وہ بالکل پریشان ہو گئے تھے کیونکہ میں ایک مہینے کیلئے گجرات میں تھا تو مودی کو جس طریقے سے ہم نے اپنی ریلیوں میں بے نقاب کیا ،جس کے بعد آپ نے کرناٹک کے نتائج بھی دیکھے ۔
عاصم: یہ کہا جا رہا ہے کہ آپ سیاست کے لئے مظلوم مسلمانوں کو بیچتے ہیں ،جبکہ جمہوریت توخیالات کی جنگ ہے ؟
سلمان نظامی : دیکھئے بات صرف مسلمانوں نہیں ہے ،میں بات اقلیتوں کی بھی کرتا ہوں اور اقلیت کوئی مذہب نہیں ہوتا ،جموں کشمیر میں اقلیت میں ہندو ،سکھ اور عیسائی آتے ہیں ،اصل میں بات زیادتی کی ہے ۔آج جو سیاست ہے وہ چاہے بھارت کی ہو یا امریکہ کی ہو ، آج اسلاموفوبیا (اسلام اور مسلمانوں سے خوف ) ہے ۔مسلمانوں کو بدنام کیا جاتا ہے ان کا قتل عام کیا جاتا ہے۔
وہیں بھارت میں جو ماب لنچنگ(ہجوم میں اکھٹا ہوکے کسی کی پٹائی کرنا ) ہوئی ،میں نے مودی سے کہا کہ جو گاؤ خانے ہیں ان کے مالک تو ہندو ہیں اور جو گوشت پاکستا ن اور دوسرے ملکوں میں بھیجاجاتا ہے اس سے تو سرکار کڑوڑوں پیسے کماتی ہے تو ان غریب لوگوں کو کس جرم میں مارا جاتا ہے ۔قتل عام ان کا ہونا چاہیے جو گوشت پر پیسہ کماتے ہیں ۔
عاصم : کیا آپ چاہتے ہیں کہ بیف پر پابندی لگنی چاہیے؟
سلمان نظامی: ہاں مذہب کی جہاں بات آئے ہم مذہب کے خلاف نہیں جا سکتے،ہم نے بہت جگہوں پر شراب کے خلاف آواز اٹھائی لیکن میں نے کسی ہندو کو اس کے خلاف بات کرتے نہیں دیکھا ۔اسی طریقے سے اگر کسی ہندو کو بیف سے پریشانی ہے تو ہمیں اسے اکسانا نہیں چاہیے اسکے لئے قانون ہے اور قانون کی پیروی کریں ،وہیں اگر بھاجپا قانون کو نہیں مانتی تو وہ ہندوستانی کہاں ہیں۔
عاصم :آپ نے کشمیر میں ہو رہے قتل عام کی بات کی،نہ تو یہ اب بھاجپا کے دور میں شروع ہوا ، اور نہ ہی ختم ہو گا کیونکہ اس کے پیچھے ایک بہت بڑی تاریخ ہے ۔ تو 2008 میں یہاں کانگر یس کی سرکار تھی ، اس سے پہلے 1990کے ملی ٹنسی کے دور میں بھی تھی ،کیا آپکو نہیں لگتا کانگریس بھی اس کیلئے ذمہ دار ہے ۔
سلمان نظامی: دیکھئے اسوقت کے دور میں اور آج کے دور میں بہت فرق ہے ،اُس وقت ایک الگ ماحول تھا ور آج ایک الگ ماحول ہے ،آج پی ڈی پی معذور ہو گئی ہے کیوں کہ ان کو بھاجپا نے یتیم کی طرح چھوڑ دیا ،لیکن جب یہاں عمر عبد اﷲ وذیر اعلیٰ تھے تو کانگریس نے مرکز سے ان کو پورا سپورٹ دیا،کانگریس نے کبھی بھی کشمیریوں سے یہ نہیں کہا کہ آپ آرمی کیمپ میں ٹافی لینے گئے تھے؟
عاصم:1988میں جو کشمیر کے انتخابات میں جمہوریت پر دھبہ لگا وہ کانگریس کے دو ر میں لگا ،افسپا کا نگریس کے دور میں یہاں آئی ،اسکے علاوہ انسرجنسی جو ہوئی وہ بھی کانگریس کے دور میں ہوئی ،بھاجپا نے صرف یہاں پے تین سال کی حکومت کی،تو آپ یہ سارا گھما پھرا کے بھاجپا پر کیوں لاتے ہیں ؟
سلمان نظامی: اس وقت کا آپ کانگریس پرالزام نہیں لگا سکتے اسوقت تو وی پی سنگھ (سابق وزیر اعظم ہند ) کی حکومت تھی اور مرحوم مفتی صاحب مرکز میں وزیر داخلہ تھے ،تو کا نگریس کہاں سے بیچ میں آئی ،کانگریس نے یہاں حکومت ہی کب کی ، ریاست میں تو کانگریس کو کم وقت ملا ،غلام نبی آزاد کو صرف دو سال ملے جس میں آپ نے دیکھا انہوں نے کیا انقلاب لایا ۔
کشمیری ہونے کے ناطے اور ایک مقامی لیڈر ہونے کے ناطے میں یہ کہوں گا کہ یہاں کے مقامی لیڈروں نے ہی کشمیریوں کے ساتھ دھوکا کیا ،چاہے وہ پی ڈی پی یا این سی ہو یہ مفاد پرست لوگ ہیں ،سجاد لون ۲۰ سال سے بھارت کو گالیاں دیتے تھے ،اور آج وہ بھاجپا کی گود میں بیٹھ گئے ہیں ۔یہ سارے دوغلے لوگ ہیں آپ دیکھ رہے ہیں کہ پی ڈی پی کے خلاف عمران رضا انصاری کے علاوہ باقی لیڈر بغاوت کر رہے ہیں ،یہ چار سال سے کہا ں تھے ۔
عاصم : 2008 میں این سی نے کانگریس کے ساتھ ریاست میں سرکار بنائی تو تب کون سے ترقی کے پہاڑ توڑے گئے ؟
سلمان نظامی :غلام نبی آزاد نے مرکزی و زیر صحت ہوتے ہوئے پانچ میڈیکل کالج دلوائے ۔
عاصم : لیکن وہ تو آج تک قائم نہیں ہو پائے ؟
سلمان نظامی : وہ تو عمر عبداﷲ کو فالو کرنا تھا مرکز نے تو کوئی کمی نہیں رکھی ،غلام نبی آزاد نے تو پانچ میڈیکل کالج کی منظوری دلوائی لیکن وہ آج تک نو سال کے بعد بھی نہیں بنے ،آزاد صاحب مرکز کو دیکھتے یا ریاست کو دیکھتے ،یہ عمر صاحب سے لاپر واہی ہوئی ۔
عاصم : آپ نے جب ان کے ساتھ سرکار بنائی تھی تب آواز کیوں نہیں اٹھائی ،جیسے آج ایسا مانا جا تا ہے کہ بھاجپا نے کہا کہ سرکار ناکام ہو گئی اسی لئے اتحاد توڑا ؟
سلمان نظامی : ہمارا این سی کے ساتھ اتحاد ٹھیک چل رہا تھا ،ہم نے کالج اور پرائمری ہلتھ سنٹرس وغیرہ کی منظوری دلوائی لیکن پھر نئی سرکاروں نے فالو نہیں کیا ،اب اگر عوام نے موقع دیا تو ہم ان کاموں کو آگے برھائیں گے ،لیکن اس وقت سب سے بڑا مسئلہ کشمیر کا ہے ،اگر لوگوں کا قتل عام ہو اور لوگ ہی نہ بچیں تو سڑکیں اور عمارتیں بنا کے کیا کریں گے ۔
عاصم : تو پھر اس مسئلے کا حل کیا ہے ؟
سلمان نظامی : بھاجپا نے یہاں گھمنڈ دیکھایا اور مودی نے اپنا ہی چلایا ،یہ گھمنڈ اٹل جی نے نہیں دیکھایا انہو ں نے پاکستان سے بات کی ،حریت کے لیڈران کو دلی بلایا ،لیکن مودی اپنی ہی چلا رہے ہیں ۔
عاصم : کشمیر کے حالات کو دیکھتے ہوئے ایک کشمیر ی مسلمان ہو نے کے ناطے پھر مین سٹریم میں آنا وہ بھی دلی میں تو آپ کیسے اپنا مستقبل دیکھتے ہیں؟
سلمان نظامی : دیکھئے کشمیری مسلمان کا مین سٹریم میں آنا ہندوستان کی لیڈرشپ آپ کو نہیں نکاررہی، آزاد صاحب نے آج ایک اچھا بیان دیا کہ آپ جنگجوؤں کو مارے لیکن آپ عام شہریوں کو کیوں مارتے ہیں اس میں ان کا کیا قصور ہے ۔ لیکن بھاجپا کا آپ دیکھئے منسٹر تک کہتے ہیں کہ عام لوگوں کو بھی مار ڈالو ،اس سے لوگ آپ سے دور جا رہے ہیں ، لوگ بھارت کیساتھ ایک پل کا کام کرتے ہیں۔
لیکن جب آپ نے غلام نبی آزاد صاحب جیسے لوگوں کو بھی دیش دروہی بنا دیاجس نے 40سال بھارت کو دئے ،اور کشمیر کو ہندوستان کے ساتھ جوڑ کے رکھا ،اور اس کرئیر میں لیڈر آف اپوزیشن بنے ،مرکزی وزیر بنے ،چیف منسٹر بنے ،اور اب چالیس سال کے بعد آپ بولتے ہیں کہ آزاد صاحب دیش دروہی ہیں تو پھر کشمیر میں نیشنلسٹ کون ہے ،سجاد لون نیشنلسٹ ہیں کیا ،جس نے ۲۵ سال بھارت کو گالیاں دیں اور آج بھاجپا کیساتھ جڑ گیا ،اور سجاد لون نیشنلسٹ بن گیا ۔
اور چالیس سال تک جس نے بھارت کا جھنڈا تھام کے رکھا وہ آج دیش دروہی بن گیا ۔تو مین سٹریم میں جو کشمیر کے نوجوان آنا چاہتے ہیں وہ ان باتوں سے دور ہوتے ہیں ۔
ہندوستان
اگلے 30 سال تک اپوزیشن کی حکومت نہیں بنے گی: شاہ
نئی دہلی، مرکزی وزیر داخلہ و امدادباہمی امت شاہ نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا کوئی امکان نہیں ہے۔
مسٹر شاہ یہاں یمنا کی بحالی سے متعلق 8,941 کروڑ روپے کے منصوبوں کے افتتاح اور سنگِ بنیاد کی تقریب سے خطاب کررہے تھے۔ انہوں نے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اور عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اروند کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں انتخابات میں شکست کے بعد ای وی ایم، ووٹ چوری اور الیکشن کمیشن کو لے کر بہانے بناتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس سے اگلے 30 سال تک اس کی حکومت بننے کا امکان نہیں ہے۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں کبھی ای وی ایم تو کبھی ووٹ چوری کا بہانہ بناتی ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ اگلے 30 سال تک ان کی پارٹی کی حکومت رہے گی تو اپوزیشن جماعتیں عوام سے کہتی ہیں کہ ووٹ چوری ہورہی ہے، ورنہ امت شاہ جی کو یہ بات کیسے معلوم ہوئی۔
مسٹر شاہ نے کہا کہ وہ یہیں پیدا ہوئے ہیں، یہیں رہتے ہیں اور ملک کے عوام کے درمیان رہتے ہیں۔ انہیں ہر چھ ماہ میں بیرون ملک جانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جس طرح کی منفی سیاست کررہی ہے، اس کے پیش نظر اگلے 30 سال تک اس کی حکومت نہیں بنے گی۔ ملک کی مختلف ریاستوں میں بی جے پی کی حکومتیں منتخب ہونے سے اپوزیشن جماعتیں پریشان ہیں اور اسی وجہ سے وہ ووٹ چوری کا مسئلہ اٹھارہی ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن جماعتیں ووٹ چوری کا شور مچا کر دراندازوں کے ووٹ بچانا چاہتی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اپوزیشن انتخابات میں شکست کے بعد الیکشن کمیشن اور ووٹر لسٹ پر سوال اٹھاتی ہے، جب کہ جیتنے پر انہی انتظامات کو درست قرار دیتی ہے۔ انہوں نے کیرالہ، تلنگانہ، ہماچل پردیش اور تمل ناڈو کے انتخابات کا ذکر کرتے ہوئے اپوزیشن پر دوہرے معیار اپنانے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن جماعتیں آس پاس کی ریاستوں سے اپنے کارکنوں کو جمع کرکے دہلی میں مظاہرے کرنے کے ذریعے عوام کے فیصلے کو جھٹلا نہیں سکتیں۔ جمہوریت میں انتخابات جیتنے کے لیے عوام کے درمیان جانا، ان کے مسائل کو سمجھنا اور انہیں حل کرنا ضروری ہے۔ دھرنے، مظاہروں اور سیاسی ہتھکنڈوں کے ذریعے عوامی فیصلے کو چیلنج نہیں کیا جاسکتا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے بوتھ سطح کے کارکنوں سے لے کر وزیر اعظم نریندر مودی تک، پارٹی کے کروڑوں کارکن عوام کے درمیان رہ کر ان کے مسائل حل کرنے کے لیے کام کرتے ہیں۔
مسٹر شاہ نے مسٹر کیجریوال کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہلی کے سابق وزیر اعلیٰ انتخابات میں شکست کے بعد پنجاب میں ڈیرہ ڈالے ہوئے ہیں اور وہاں کے وزیر اعلیٰ کو کام نہیں کرنے دے رہے ہیں۔ انہوں نے پنجاب میں منشیات کے کاروبار کے معاملے پر ریاستی حکومت کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ آئندہ انتخابات میں پنجاب کے عوام بی جے پی کو اقتدار میں لانے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی 2029 تک پنجاب سے منشیات کے کاروبار کو ختم کرنے کے لیے پُرعزم ہے۔ انہوں نے الزام لگایا کہ دہلی کی سابقہ حکومت نے تحریک کے نام پر اقتدار حاصل کیا، لیکن جمنا کی صفائی اور بنیادی شہری سہولتوں کی فراہمی کے لیے خاطر خواہ کام نہیں کیا۔
یمنا کی بحالی کا ذکر کرتے ہوئے مسٹر شاہ نے کہا کہ دہلی میں بی جے پی کی حکومت بننے کے بعد وزیر اعظم مودی نے دریا کو آلودگی سے پاک بنانے کے لیے ایک لائحہ عمل تیار کرنے کی ہدایت دی تھی۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ منصوبے کا 40 فیصد سے زیادہ کام مکمل ہوچکا ہے اور مرکز کے ساتھ دہلی، ہریانہ اور اتر پردیش کی حکومتوں نے یمنا کو صاف کرنے کے لیے مقررہ مدت پر مبنی لائحہ عمل تیار کیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ مئی 2029 سے پہلے یمنا کو صاف و شفاف بنانے کا ہدف حاصل کرلیا جائے گا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
مودی اور نیتن یاہو کے درمیان فون پر بات چیت، مغربی ایشیا میں امن کی بحالی پر زور
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اور اسرائیل کے وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے جمعرات کو مغربی ایشیا کی صورتِ حال پر تبادلۂ خیال کیا اور خطے میں امن و استحکام کی بحالی کی فوری ضرورت پر زور دیا۔
دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے درمیان خصوصی اسٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے عزم کا بھی اعادہ کیا۔
وزیر اعظم کے دفتر کے مطابق، مسٹر مودی نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو سے ٹیلی فون پر بات چیت کی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں نے ہندوستان اور اسرائیل کے تعلقات میں مسلسل برقرار رفتار کا خیرمقدم کیا اور باہمی شراکت داری کو آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔
وزیر اعظم مودی نے مغربی ایشیا میں امن کی بحالی کے لیے بات چیت اور سفارت کاری کا راستہ اختیار کرنے کی ہندوستان کی اپیل کا اعادہ کیا۔ دونوں رہنماؤں نے آئندہ بھی رابطے میں رہنے پر اتفاق کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
دنیا
سعودی عرب کے دمام ہوائی اڈے پر حملے میں دو افراد ہلاک، آٹھ زخمی، پروازیں بحال
دمام، سعودی عرب کے دمام شہر میں شاہ فہد بین الاقوامی ہوائی اڈے پر جمعرات کو فضائی آپریشن دوبارہ شروع ہوگیا اور ہوائی ٹریفک معمول پر آگئی۔ سعودی شہری ہوا بازی اتھارٹی نے بتایا کہ حملے میں دو افراد ہلاک اور آٹھ زخمی ہوگئے تھے۔
بدھ کی شام ہونے والا یہ حملہ مملکت کے مشرقی صوبے میں تیل کی ایک تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے دو کارکنوں کی ہلاکت کے چند گھنٹے بعد ہوا۔ ان واقعات نے سعودی عرب کے شہری اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو درپیش مسلسل سلامتی کے خطرات کو اجاگر کیا ہے۔
جنرل اتھارٹی آف سول ایوی ایشن (گاکا) نے بتایا کہ ہوائی اڈے پر حملے میں ایک سعودی شہری اور ایک ہندوستانی باشندہ ہلاک ہوئے۔ زخمیوں میں سعودی عرب، ہندوستان، یمن، بنگلہ دیش اور نیپال کے شہری شامل ہیں۔
اتھارٹی کے مطابق، زخمیوں کی حالت معمولی سے شدید نوعیت کی ہے اور انہیں مختلف اسپتالوں میں طبی امداد دی جارہی ہے۔
گاکا نے مزید کہا کہ حکام ہوائی اڈے کو پہنچنے والے نقصان کا جائزہ لے رہے ہیں اور مسافروں و عملے کی سلامتی یقینی بنانے کے لیے اقدامات کیے جارہے ہیں۔
یمن میں قانونی حکومت کی بحالی کے لیے قائم اتحاد کے مطابق، جمعرات کو بھی سعودی عرب کو نشانہ بنانے والے ڈرون حملے جاری رہے۔ ریاض اور مدینہ کے علاقوں میں پانچ ڈرونوں کو روک کر تباہ کردیا گیا، جبکہ اس سے قبل مشرقی صوبے میں چار دیگر ڈرون مار گرائے گئے تھے۔
گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سعودی عرب کو یمن کی حوثی ملیشیا سے منسوب ڈرون اور میزائل حملوں کا مسلسل سامنا ہے۔ ان حملوں میں ہوائی اڈوں، توانائی کی تنصیبات اور شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
اس سے قبل بدھ کو سعودی وزارت توانائی نے بتایا تھا کہ مشرقی صوبے میں سعودی آرامکو کے شیبہ آئل فیلڈ کی ایک پروسیسنگ تنصیب پر روکے گئے ڈرون کا ملبہ گرنے سے فلپائن اور نیپال کے دو کارکن ہلاک ہوگئے تھے۔
وزارت کے مطابق، اس واقعے میں پاکستان اور ہندوستان سے تعلق رکھنے والے دو دیگر کارکن بھی زخمی ہوئے۔
وزارت نے بتایا کہ اس واقعے کے نتیجے میں تنصیب کے احاطے سے باہر ایک ٹھیکیدار کی گاڑی میں آگ لگ گئی، تاہم آئل فیلڈ میں کام کاج متاثر نہیں ہوا۔
حملوں کے پیش نظر سعودی حکام آنے والے ڈرونوں اور میزائلوں کو روکنے کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان واقعات نے مملکت میں اہم بنیادی ڈھانچے اور شہری تنصیبات کی سلامتی کے حوالے سے تشویش بڑھا دی ہے۔
یو این آئی۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا7 days agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر5 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoگرین لینڈ میں تیل، گیس اور معدنیات کی بڑے پیمانے پر تلاش جلد شروع ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoدیش کے 13.3 کروڑ لوگوں کو گھس پیٹھیا بتانا ہندوستانیت کی توہین: کھرگے
