تازہ ترین
گورنر انتظامیہ نے کئی محکموں میں بڑی تبدیلیوں اور تقرریوں کے احکامات صادر
خبراردو :
جموں کشمیر میں انتظامی اموارات کو بہترین انداز میں چلانے اور عوامی مفاد کے خاطر خالی عہدوں کو پُر کر نے کے لئے گو نر انتظامیہ نے کئی محکموں میں اہم تبادلوں اور تقرریوں کے احکامات صادر کرتے ہوئے بھاری پیمانے پر پھیر بدل عمل میں لایا ہے ۔ گور نر انتطامیہ نے سو موار کو ریاست کے مختلف محکمہ جات میں بہتر انتظامیہ فراہم کر نے ،خالی پڑے عہدوں کو پُر کر نے کے لئے بڑے پیمانے پرتقرریوں اور تبادلوں کے احکامات صادر کر دئے ۔جنرل ایڈ منسٹریشن کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق داکٹر اصغر حسن سامون کو پرنسپل سیکریٹری کو محکمہ ٹرانپورٹ میں انتظامی سیکریٹری کا اضا فی چارج دیا گیا ہے ۔حکمنامے کے مطابق شاہد عنایت اللہ کو فائنانشل کمشنر ، ریونیو کا اضافی چارچ دیا گیا۔
اسی طرح فاروق احمد لون جو کہ چیف ایکزیکیوٹیو آفیسر ایریاکے عہدے پر تعینات تھے کو تبدیل کرکے محکمہ سوشل ویلفیئر میں خصوصی سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا جبکہ موصوف اس کے علاوہ محکمہ کے انتظامی سیکرٹری کا کام کاج بھی دیکھیں گے۔ آرڈر کے مطابق دپٹی کمشنر سرینگر سید عابد رشید شاہ کو اپنے عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے مزید ایس پی وی برائے شہر سرینگر کا اضافی چارج دیا گیا۔ اسی طرح ستین رازدان کو ایرا کے اضافی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہے۔
حکم نامہ کے مطابق کمار راجیو رنجن جو کہ محکمہ جی اے ڈی میں تعنیاتی کے منتظر تھے کو ڈائریکٹر ایریا پلاننگ اور خصوصی سیکرٹری برائے حکومت تعینات کیا گیا۔ اسی طرح ڈائفورڈ ساگر جو کہ ایڈیشنل ڈی سی سرینگر کے عہدے پر فائز تھے کو تدیل کرکے خصوصی افسر برائے سیل فار مانیٹرنگ پرگرامز اور میگا پروجیکٹس تعینات کیا گیا۔ حکم نامہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اویس احمدکو ڈپٹی کمشنر شوپیان تعینات کردیا گیا ہے جبکہ غلام احمد صوفی کو منیجنگ ڈائریکٹر ہارٹی کلچر کے منصب پر تعینات کیا گیا۔ اسی طرح راہل شرما کو ایڈیشنل کمشنر برائے صوبائی کمشنر جموں کے آفس میں تعینات کیا گیا۔ حشمت علی کو خصوصی سیکرٹری برائے محکمہ بجلی میں تعینات کیا گیا۔ اسی طرح چودھری رشید اعظم کو محکمہ اعلیٰ رتعلیم میں خصوصی سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ نیز شبنم کاملی کو بھی جی اے ڈی میں اگلے احکامات تک اٹیچ رکھا گیا۔
حکم نامہ میں مزید کہا گیا کہ راجندر سنگھ تارا کو ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز جموں تعینات کیاگیا جبکہ طارق حسین گنائی کو ڈائریکٹر اسٹیٹس تعینات کیا گیا۔اسی طرح شوکت احمد بٹ جوکہ ضلع ترقی کمشنر شوپیان کے عہدے پر تعینات تھے کو تبدیل کرکے ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن تعینات کردیا گیا۔نیز اروند کوتوال کو میونسپل کمشنر جموں کے عہدے پر تعینات کردیا گیا جبکہ سجاد حسین گنائی جو کہ جی اے ڈی محکمہ میں اگلی تعینات کے لیے منتظر تھے کو سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیرمین کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔اسی طرح ریحانہ بتول کو ڈائریکٹر جنرل رورل ڈیولپمنٹ جموں تعینات کردیا گیا جبکہ زبیر احمدجو سیکرٹر محکمہ داخلہ کے عہدے پر تعینات تھے کو تبدیل کرکے چیرمین سروس سلیکشن بورڈ کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ روی کانت کو ممبر جے اینڈ کے سپیشل ٹریبونل تعینات کردیا گیا جبکہ آصف حمید خان کو منیجنگ ڈائریکٹر برائے محکمہ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن تعینات کردیا گیا۔
اسی طرح امت شرما کو ڈائریکٹر امور صارفین کو جموں تعینات کیا گیا جبکہ تصدق جیلانی کو ڈائریکٹر محکمہ سیاحت تعینات کیا گیا۔ عبدالرشید ڈار کو مشن ڈائریکٹر سٹیٹ رورل لیولی ہوڈ تعینات کیا گیا جبکہ شیو کمار کو اپنے منصب سے تبدیل کرکے ایڈیشنل کمشنر کمر شل ٹیکسز جموں تعینات کیا گیا۔قاضی سرور کو ڈائریکٹر رورل ڈیولپمنٹ برائے کشمیر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ نیز خورشید احمد ثنائی کو تبدیل کرکے ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ تعینات کیا گیا۔ نیز نذیر احمد شیخ جو کہ تعینات کے منتظر تھے کو ڈائریکٹر پنچائتی راج، رورل ڈیولپمنٹ سیول سیکرٹریٹ تعینات کیا گیا۔اسی طرح محمد ممتاز علی کو تبدیل کرکے ایڈیشنل سیکرٹری ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ تعینات کیا گیا جبکہ سدھرشن کمار کو ایڈیشنل سیکرٹری رورل ڈیولپمنٹ پنچائتی راج تعینات کیاگیا۔طفیل متو کو ڈائریکٹر سرواسکشا ابھیان ، راشٹریہ مدیا مک شکشا ابھیان تعینات کیا گیا۔حکم نامہ کے مطابق انو ملہوترا کو تبدیل کرکے ڈائریکٹر ٹکنیکل ایجوکیشن تعینات کیا گیا۔ منموہن سنگھ منیجنگ ڈائریکتر ہاوسنگ بورڈ کو تبدیل کرکے ایم ڈی سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن تعینات کیا گیا۔ اسی طرح بھوانی رکھوال کو منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ایگرو انڈسٹریز تعینات کیا گیا۔
اسی طرح سمیتا سیٹھی کو اپنے منصب سے تبدیل کرکے ناظم الامور ایسو سی ایٹڈ ہسپتال جموں تعینات کیا گیا۔حکم نامہ کے مطابق منظور احمد بٹ جو کہ ڈپٹی کمشنر کمرشل ٹکسز تھے کو تبدیل کرکے ایڈیشنل کمشنر ٹیکسز (ایڈمنسٹریشن کشمیر) تعینات کیا گیا۔ محکمہ سیاحت کے ناظم محمود احمد شاہ کو تبدیل کرکے اگلے احکامات تک جی اے ڈی کے ساتھ منسلک رکھا گیا۔ اسی طرح اعجاز احمد صراف کو تبدیل کرکے سیکرٹری جے اینڈ کے کھادی ویلیج اینڈ انڈسٹریز رتعینات کیا گیا۔ اسی طرح دیس راج کو ایڈیشنل سیکرٹری گورنمنٹ برائے پی ایچ ای، اریگیشن، فلڈ تعینات کیا گیا۔ منظور احمد کو چیف ایکزکیوٹیو افسر اربن ڈیولپمنٹ ایجنسی کشمیر تعینات کیا گیا۔محمد شفیع ڈار کو کسٹوڈین ٹریڈ فسلٹیشن سنٹر سلام آباد تعینات کیا گیا۔ اسی طرح غلام نبی بٹ کو سب ڈیوژنل مجسٹریٹ پٹن تعینات کیا گیا۔
حکم نامہ کے مطابق محمد اختر بٹ کو ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ سیول سپلائز تعینات کیاگیا۔ اسی طرح انیل سلگوترا کو ڈپٹی چیف الیکٹورل افسر جموں تعینات کیا گیا۔نیز بشیر احمد لون کو ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ داخلہ تعینات کردیا گیا، نریندر سنگھ جموال، نریندر کھجوریہ کو سیکرٹری داخلہ ہوم تعینات کیا گیا، سورج پرکاش کو تبدیل کرکے ڈیزاسٹر منیجمنٹ رورل ڈیولپمنٹ تعینات کردیا گیا۔اسی طرح محمد فاروق ڈار کو ڈپٹی ایکسائز کمشنر (ایکزکیوٹیو) سرینگر تعینات کیا گیا جبکہ عبدالستار کو ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن تعینات کیا گیا۔ خورشید احمد کو ایڈیشنل کمشنر بڈگام، پرویز احمد رعنا کو سیکرٹری برائے حکومت جنرل ایڈمنسٹریشن، غلام جیلانی زرگر کو ڈپٹی کمشنر کمرشل ٹیکسز (ریکاوریز) اور فرید احمد کوہلی کو کسٹوڈین ٹریڈ سنٹر چکانداباغ تعینات کیا گیا۔
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
