تازہ ترین
گورنر انتظامیہ نے کئی محکموں میں بڑی تبدیلیوں اور تقرریوں کے احکامات صادر
خبراردو :
جموں کشمیر میں انتظامی اموارات کو بہترین انداز میں چلانے اور عوامی مفاد کے خاطر خالی عہدوں کو پُر کر نے کے لئے گو نر انتظامیہ نے کئی محکموں میں اہم تبادلوں اور تقرریوں کے احکامات صادر کرتے ہوئے بھاری پیمانے پر پھیر بدل عمل میں لایا ہے ۔ گور نر انتطامیہ نے سو موار کو ریاست کے مختلف محکمہ جات میں بہتر انتظامیہ فراہم کر نے ،خالی پڑے عہدوں کو پُر کر نے کے لئے بڑے پیمانے پرتقرریوں اور تبادلوں کے احکامات صادر کر دئے ۔جنرل ایڈ منسٹریشن کی جانب سے جاری حکمنامے کے مطابق داکٹر اصغر حسن سامون کو پرنسپل سیکریٹری کو محکمہ ٹرانپورٹ میں انتظامی سیکریٹری کا اضا فی چارج دیا گیا ہے ۔حکمنامے کے مطابق شاہد عنایت اللہ کو فائنانشل کمشنر ، ریونیو کا اضافی چارچ دیا گیا۔
اسی طرح فاروق احمد لون جو کہ چیف ایکزیکیوٹیو آفیسر ایریاکے عہدے پر تعینات تھے کو تبدیل کرکے محکمہ سوشل ویلفیئر میں خصوصی سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا جبکہ موصوف اس کے علاوہ محکمہ کے انتظامی سیکرٹری کا کام کاج بھی دیکھیں گے۔ آرڈر کے مطابق دپٹی کمشنر سرینگر سید عابد رشید شاہ کو اپنے عہدے پر برقرار رکھتے ہوئے مزید ایس پی وی برائے شہر سرینگر کا اضافی چارج دیا گیا۔ اسی طرح ستین رازدان کو ایرا کے اضافی ذمہ داریاں تفویض کی گئی ہے۔
حکم نامہ کے مطابق کمار راجیو رنجن جو کہ محکمہ جی اے ڈی میں تعنیاتی کے منتظر تھے کو ڈائریکٹر ایریا پلاننگ اور خصوصی سیکرٹری برائے حکومت تعینات کیا گیا۔ اسی طرح ڈائفورڈ ساگر جو کہ ایڈیشنل ڈی سی سرینگر کے عہدے پر فائز تھے کو تدیل کرکے خصوصی افسر برائے سیل فار مانیٹرنگ پرگرامز اور میگا پروجیکٹس تعینات کیا گیا۔ حکم نامہ میں مزید بتایا گیا ہے کہ اویس احمدکو ڈپٹی کمشنر شوپیان تعینات کردیا گیا ہے جبکہ غلام احمد صوفی کو منیجنگ ڈائریکٹر ہارٹی کلچر کے منصب پر تعینات کیا گیا۔ اسی طرح راہل شرما کو ایڈیشنل کمشنر برائے صوبائی کمشنر جموں کے آفس میں تعینات کیا گیا۔ حشمت علی کو خصوصی سیکرٹری برائے محکمہ بجلی میں تعینات کیا گیا۔ اسی طرح چودھری رشید اعظم کو محکمہ اعلیٰ رتعلیم میں خصوصی سیکرٹری کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ نیز شبنم کاملی کو بھی جی اے ڈی میں اگلے احکامات تک اٹیچ رکھا گیا۔
حکم نامہ میں مزید کہا گیا کہ راجندر سنگھ تارا کو ڈائریکٹر اربن لوکل باڈیز جموں تعینات کیاگیا جبکہ طارق حسین گنائی کو ڈائریکٹر اسٹیٹس تعینات کیا گیا۔اسی طرح شوکت احمد بٹ جوکہ ضلع ترقی کمشنر شوپیان کے عہدے پر تعینات تھے کو تبدیل کرکے ضلع ترقیاتی کمشنر رام بن تعینات کردیا گیا۔نیز اروند کوتوال کو میونسپل کمشنر جموں کے عہدے پر تعینات کردیا گیا جبکہ سجاد حسین گنائی جو کہ جی اے ڈی محکمہ میں اگلی تعینات کے لیے منتظر تھے کو سرینگر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے وائس چیرمین کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔اسی طرح ریحانہ بتول کو ڈائریکٹر جنرل رورل ڈیولپمنٹ جموں تعینات کردیا گیا جبکہ زبیر احمدجو سیکرٹر محکمہ داخلہ کے عہدے پر تعینات تھے کو تبدیل کرکے چیرمین سروس سلیکشن بورڈ کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ روی کانت کو ممبر جے اینڈ کے سپیشل ٹریبونل تعینات کردیا گیا جبکہ آصف حمید خان کو منیجنگ ڈائریکٹر برائے محکمہ ٹورزم ڈیولپمنٹ کارپوریشن تعینات کردیا گیا۔
اسی طرح امت شرما کو ڈائریکٹر امور صارفین کو جموں تعینات کیا گیا جبکہ تصدق جیلانی کو ڈائریکٹر محکمہ سیاحت تعینات کیا گیا۔ عبدالرشید ڈار کو مشن ڈائریکٹر سٹیٹ رورل لیولی ہوڈ تعینات کیا گیا جبکہ شیو کمار کو اپنے منصب سے تبدیل کرکے ایڈیشنل کمشنر کمر شل ٹیکسز جموں تعینات کیا گیا۔قاضی سرور کو ڈائریکٹر رورل ڈیولپمنٹ برائے کشمیر کے عہدے پر تعینات کیا گیا۔ نیز خورشید احمد ثنائی کو تبدیل کرکے ایڈیشنل ضلع ترقیاتی کمشنر بانڈی پورہ تعینات کیا گیا۔ نیز نذیر احمد شیخ جو کہ تعینات کے منتظر تھے کو ڈائریکٹر پنچائتی راج، رورل ڈیولپمنٹ سیول سیکرٹریٹ تعینات کیا گیا۔اسی طرح محمد ممتاز علی کو تبدیل کرکے ایڈیشنل سیکرٹری ہاوسنگ اینڈ اربن ڈیولپمنٹ تعینات کیا گیا جبکہ سدھرشن کمار کو ایڈیشنل سیکرٹری رورل ڈیولپمنٹ پنچائتی راج تعینات کیاگیا۔طفیل متو کو ڈائریکٹر سرواسکشا ابھیان ، راشٹریہ مدیا مک شکشا ابھیان تعینات کیا گیا۔حکم نامہ کے مطابق انو ملہوترا کو تبدیل کرکے ڈائریکٹر ٹکنیکل ایجوکیشن تعینات کیا گیا۔ منموہن سنگھ منیجنگ ڈائریکتر ہاوسنگ بورڈ کو تبدیل کرکے ایم ڈی سٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ کارپوریشن تعینات کیا گیا۔ اسی طرح بھوانی رکھوال کو منیجنگ ڈائریکٹر جے اینڈ کے ایگرو انڈسٹریز تعینات کیا گیا۔
اسی طرح سمیتا سیٹھی کو اپنے منصب سے تبدیل کرکے ناظم الامور ایسو سی ایٹڈ ہسپتال جموں تعینات کیا گیا۔حکم نامہ کے مطابق منظور احمد بٹ جو کہ ڈپٹی کمشنر کمرشل ٹکسز تھے کو تبدیل کرکے ایڈیشنل کمشنر ٹیکسز (ایڈمنسٹریشن کشمیر) تعینات کیا گیا۔ محکمہ سیاحت کے ناظم محمود احمد شاہ کو تبدیل کرکے اگلے احکامات تک جی اے ڈی کے ساتھ منسلک رکھا گیا۔ اسی طرح اعجاز احمد صراف کو تبدیل کرکے سیکرٹری جے اینڈ کے کھادی ویلیج اینڈ انڈسٹریز رتعینات کیا گیا۔ اسی طرح دیس راج کو ایڈیشنل سیکرٹری گورنمنٹ برائے پی ایچ ای، اریگیشن، فلڈ تعینات کیا گیا۔ منظور احمد کو چیف ایکزکیوٹیو افسر اربن ڈیولپمنٹ ایجنسی کشمیر تعینات کیا گیا۔محمد شفیع ڈار کو کسٹوڈین ٹریڈ فسلٹیشن سنٹر سلام آباد تعینات کیا گیا۔ اسی طرح غلام نبی بٹ کو سب ڈیوژنل مجسٹریٹ پٹن تعینات کیا گیا۔
حکم نامہ کے مطابق محمد اختر بٹ کو ڈپٹی ڈائریکٹر فوڈ سیول سپلائز تعینات کیاگیا۔ اسی طرح انیل سلگوترا کو ڈپٹی چیف الیکٹورل افسر جموں تعینات کیا گیا۔نیز بشیر احمد لون کو ایڈیشنل سیکرٹری محکمہ داخلہ تعینات کردیا گیا، نریندر سنگھ جموال، نریندر کھجوریہ کو سیکرٹری داخلہ ہوم تعینات کیا گیا، سورج پرکاش کو تبدیل کرکے ڈیزاسٹر منیجمنٹ رورل ڈیولپمنٹ تعینات کردیا گیا۔اسی طرح محمد فاروق ڈار کو ڈپٹی ایکسائز کمشنر (ایکزکیوٹیو) سرینگر تعینات کیا گیا جبکہ عبدالستار کو ایڈیشنل سیکرٹری ہیلتھ اینڈ میڈیکل ایجوکیشن تعینات کیا گیا۔ خورشید احمد کو ایڈیشنل کمشنر بڈگام، پرویز احمد رعنا کو سیکرٹری برائے حکومت جنرل ایڈمنسٹریشن، غلام جیلانی زرگر کو ڈپٹی کمشنر کمرشل ٹیکسز (ریکاوریز) اور فرید احمد کوہلی کو کسٹوڈین ٹریڈ سنٹر چکانداباغ تعینات کیا گیا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
لداخ کی پشمینہ کو عالمی منڈیوں تک پہنچانے کی پہل، لیفٹیننٹ گورنر نے خریداروں اور مقامی صنعت کاروں کے کنکلیو کا افتتاح کیا
سری نگر، لداخ کی عالمی شہرت یافتہ پشمینہ اون کو بین الاقوامی منڈیوں میں وسیع تر رسائی دلانے کی کوششوں کے تحت لیفٹیننٹ گورنر ونے کمار سکسینہ نے لیہ میں دو روزہ پشمینہ کنکلیو کا افتتاح کیا۔ اس کا مقصد مقامی مویشی پالنے والوں، دست کاروں اور کاروباری افراد کو بین الاقوامی خریداروں اور صنعت سے وابستہ اہم شخصیات سے جوڑنا ہے۔
‘لداخ پشمینہ کنکلیو: ریورس بائر سیلر میٹ’ میں پشمینہ کی پوری پیداواری اور تجارتی زنجیر سے وابستہ مختلف فریقوں نے شرکت کی، جن میں خانہ بدوش مویشی پالنے والے، دست کار، ڈیزائنر، کاروباری افراد، صنعتی نمائندے اور خریدار شامل تھے۔ منگولیا، جاپان اور تھائی لینڈ کے مندوبین نے بھی اس کنکلیو میں شرکت کی، جس سے بین الاقوامی تعاون، معلومات کے تبادلے اور لداخ کے اس قیمتی قدرتی ریشے کے لیے عالمی منڈیوں تک رسائی کے نئے امکانات پیدا ہوئے۔ پشمینہ کو اکثر ‘لداخ کا سنہرا ریشہ’ بھی کہا جاتا ہے۔
حکام کے مطابق، اس موقع پر حکومتِ ہند کی وزارتِ ٹیکسٹائل اور مرکز کے زیر انتظام علاقے لداخ کے محکمۂ صنعت و تجارت کے درمیان مفاہمت کی ایک یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کیے گئے۔ اس کا مقصد پشمینہ کے شعبے کے فروغ اور ترقی کے لیے باہمی تعاون کو مضبوط بنانا ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے جغرافیائی شناخت (جی آئی) ٹیگ یافتہ لداخی پشمینہ پر ایک ڈاک ٹکٹ بھی جاری کیا۔ اس کے ذریعے اس قیمتی ریشے کی منفرد شناخت، روایتی دست کاری اور اس سے وابستہ ثقافتی ورثے کو تسلیم کیا گیا ہے۔
کنکلیو کے ایک اہم حصے، ‘ریورس بائر سیلر میٹ’ کا مقصد پشمینہ تیار کرنے والوں اور کاروباری اداروں کو خریداروں، ٹیکسٹائل مینوفیکچررز، ڈیزائنروں اور مارکیٹ سے وابستہ دیگر فریقوں کے قریب لانا ہے۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے براہِ راست بات چیت ممکن ہوگی، مقامی پروڈیوسروں کو بازار کی ضروریات سمجھنے میں مدد ملے گی، مقامی مصنوعات کی نمائش کی جا سکے گی اور کاروباری مواقع کے ساتھ ممکنہ تجارتی شراکت داریوں کو بھی تلاش کیا جا سکے گا۔
یواین آئی۔ ظ ا
ہندوستان
اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کے لیے تیار رہے فوج: راج ناتھ
نئی دہلی، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ نے فوج کے سینئر کمانڈروں سے کہا ہے کہ وہ اگلے 20 سے 30 سال کے چیلنجز کو مدنظر رکھتے ہوئے طویل مدتی حکمت عملی تیار کریں اور موجودہ نیز ابھرتے ہوئے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے بھی تیار رہیں۔
مسٹر سنگھ نے جمعہ کو یہاں فوجی کمانڈروں کی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ بدلتے ہوئے حالات کے مطابق فوجی حکمت عملیوں میں تبدیلی کے لیے لچک برقرار رکھنا ضروری ہے۔ اس موقع پر انہوں نے فوج کی مستقبل کی تیاری کے لیے فوجی آپریشنز کا نظریہ بھی جاری کیا۔
وزیر دفاع نے آپریشن سندور کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ نئی سوچ، بہتر تال میل، مضبوط ہم آہنگی اور جدید ہتھیاروں نے اس کی کامیابی میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس مہم نے واضح پیغام دیا کہ ہندوستان اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضروری اقدامات کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
مسٹر سنگھ نے فوج میں تنظیم نو اور ڈرون سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے لیے کی جانے والی کوششوں کی ستائش کی۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت، خودکار نظام، اعداد و شمار کے تجزیے، سائبر سکیورٹی اور محفوظ مواصلاتی نظام جیسے شعبوں میں صلاحیت بڑھانے پر زور دیا۔ انہوں نے کہا کہ فضائی، سمندری، خلائی اور سائبر شعبوں میں چیلنجز بڑھنے کے باوجود زمینی جنگ اور فوج کا کردار اہم رہے گا۔ جدید جنگ میں کامیابی کے لیے متعدد شعبوں میں بیک وقت کام کرنے کی صلاحیت اور مشترکہ آپریشنز میں بہتر تال میل ضروری ہے۔
وزیر دفاع نے دفاعی پیداوار میں خود انحصاری کے لیے کی جانے والی کوششوں کا بھی ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 میں ملک کی دفاعی پیداوار بڑھ کر ریکارڈ 1.78 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچ گئی، جبکہ دفاعی برآمدات تقریباً 38 ہزار کروڑ روپے کی اب تک کی بلند ترین سطح پر رہیں۔ انہوں نے کہا کہ دفاعی شعبے میں خود انحصاری مرکزی حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔
سال 2025 کو اصلاحات کا سال قرار دیتے ہوئے وزیر دفاع نے کہا کہ اصلاحات ایک مسلسل عمل ہے اور ان کی کامیابی مؤثر نفاذ پر منحصر ہے۔ انہوں نے فوجی کمانڈروں سے اپیل کی کہ وہ اپنے اپنے شعبوں میں اصلاحات کو آگے بڑھائیں اور انہیں فوجی صلاحیت میں حقیقی بہتری کی شکل میں نافذ کریں۔ انہوں نے انسانی وسائل کے بہتر انتظام، فوج میں خواتین کی زیادہ شمولیت اور قومی سلامتی کے لیے متحدہ نقطۂ نظر اپنانے پر بھی زور دیا۔
اس موقع پر وزیر دفاع نے فوجی آپریشنز کا نظریہ جاری کیا۔ یہ بدلتی ہوئی جنگی نوعیت اور مستقبل کے تنازعات کے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لیے ہندوستانی فوج کی تیاری کا ایک جامع خاکہ پیش کرتا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کے جریدے کا سالانہ شمارہ بھی جاری کیا اور اقوام متحدہ کے امن مشنوں میں نمایاں تعاون کرنے والے ہندوستانی فوج کے جوانوں کو خراج تحسین پیش کیا۔
اس پروگرام میں وزیر مملکت برائے دفاع سنجے سیٹھ، چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل این ایس راجا سبرامنی، فوج کے سربراہ جنرل دھیرج سیٹھ، دفاعی سکریٹری راجیش کمار سنگھ اور دیگر سینئر افسران موجود تھے۔ فوجی کمانڈروں کی یہ کانفرنس موجودہ اقدامات کا جائزہ لینے، مستقبل کی ترجیحات طے کرنے اور ٹیکنالوجی سے لیس نیز بدلتے ہوئے حالات کے مطابق تیار فوج کی تشکیل کے لیے پالیسی کی سمت متعین کرنے کے مقصد سے منعقد کی گئی ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
