ہندوستان
راہل گاندھی کی نیائے یاترہ کیا مسلم مسائل و ان پر ہو رہے ظلم سے ہے مستثنٰی : ڈاکٹر ایوب سرجن
پرتاپ گڑھ، مسلمانوں کے ووٹ حاصل کر اقتدار حاصل کرنے والے اکھلیش ،مایاوتی و راہل گاندھی کیا مسلم مسائل پر سنجیدہ ہیں ؟ اگر سنجیدہ ہوتے تو مسلمانوں پر ہورہے مظالم پر آواز ضرور اٹھاتے ،مساجد ،مدارس ،مذار پر بغیر کسی عدالتی احکام کے بلڈوزر چلایا جارہا ،اور بے قصور مسلمانوں کو جیل بھیجا جا رہا ہے ،مگر ان کے ووٹ لینے والی مبینہ سیکولر پارٹیاں خاموش تماشائی نظر آرہی ہیں ،ان کو صرف بی جے پی کی شکست کے نام پر ووٹ چاہیئے ،ان کے مسائل سے کوئی مطلب نہیں ہے ۔راہل گاندھی کی نیائے یاترہ جاری ہے ،مگر اس میں ملک کی پچیس کروڑ مسلمانوں کے مسائل شامل نہیں ہے ،ہلدوانی سے لے کر دیگر مقامات پر مسلمانوں کے ساتھ ظلم ہو رہا ہے ،مگر راہل گاندھی انہیں انصاف دلانے کے لئے نیائے یاترہ میں آواز اٹھانے سے قاصر نظر آرہے ہیں ۔پیس پارٹی کے قومی صدر ڈاکٹر ایوب سرجن نے سیکولر پارٹیوں کے مسلمانوں کے تئیں دوہیری پالیسی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ راہل گاندھی کی نیائے یاترہ کیا مسلم مسائل و ان پر ہو رہے ظلم سے مستثنٰی ہے ؟
ڈاکٹر ایوب سرجن نے کہا کہ کانگریس ،سماج وادی پارٹی و بی ایس پی کی ہمیشہ مسلمانوں کے تئیں دوہری پالیسی رہی ،صرف انتخاب کے وقت وہ مسلمانوں کے ہمدرد نظر آتے ہیں ،اور ان پارٹیوں میں شامل مسلم لیڈران اپنے ذاتی مفاد کے لئے کبھی اس دوہری پالیسی کے خلاف آواز نہیں اٹھاتے ہیں ،بلکہ انتخاب کے وقت اپنی پارٹی کے لئے مسلمانوں کو گمراہ کر ووٹ حاصل کرنے میں پیش پیش رہتے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ملک کے حالات کسی سے مخفی نہیں ہے ،ہر جگہ مسلمانوں کا استحصال کیا جا رہا ہے ،کبھی غیر قانونی قبضے کے نام پر مساجد و مدارس پر بلڈوزر چلایا جا رہا ہے، تو ،کبھی مبینہ الزام عائد کر جیل بھیجا جا رہا ہے ،مگر آزادی سے آج تک مسلمانوں کے ووٹ حاصل کرنے والی پارٹیاں ظلم کے خلاف آواز اٹھانے سے قاصر رہی ہیں ،جہاں تک کانگریس کا سوال اس کی تاریخ ہی مسلم مظالم پر مبنی ہے ،میرٹھ سے ملیانہ ،بھاگل پور و نیلی آسام وغیرہ ایسی مسلم خون ریزی کی تاریخ ہے، جس کو کبھی بھلایا نہیں جا سکتا،پھر بھی کانگریس سیکولر اور اپنے کو انصاف پسند باور کراتی ہے ، اس کو پہلے اپنے دامن پر لگے مسلمانوں کے خون کے داغ پر غور فکر کرنے کی ضرورت ہے ۔
وہیں سماج وادی پارٹی و بی ایس پی کی تاریخ بھی مسلم استحصال سے مستثنٰی نہیں ہے ۔سماج وادی پارٹی کے زیر اقتدار میں فسادات تو بی ایس پی اقتدار میں بے گناہ مسلمانوں کو جیل بھیجنا شامل ہے ۔ایسے حالات میں کوئی پارٹی مسلمانوں کی ہمدرد نہیں ،جس پر مسلمانوں کو مشاہدہ کی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ڈاکٹر ایوب سرجن نے مسلمانوں کا انتباہ کیا کہ وہ اب بھی وقت ہے مذکورہ سیاسی پارٹیوں کا دامن چھوڑ کر اپنی قیادت پیس پارٹی کے پرچم کے نیچے آکر اپنے سیاسی مستقبل کو روشن ،اور ظلم سے نجات حاصل کرنے کی اپنی راہ ہموار بنائیں ۔
یواین آئی ع ک
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے مودی
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی ہفتے کے روز ازبکستان اور کرغزستان کے چار روزہ دورے پر جائیں گے جہاں وہ بشکیک میں 26 ویں شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے۔
وزارتِ خارجہ میں سکریٹری (مغرب) سیبی جارج نے جمعرات کے روز یہاں ایک پریس کانفرنس میں وزیرِ اعظم کے دورے کے بارے میں معلومات دیں۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی 29 اور 30 اگست کو ازبکستان میں نیز 31 اگست سے یکم ستمبر تک کرغز جمہوریہ میں رہیں گے۔
انہوں نے کہا کہ وزیرِ اعظم ازبکستان کے صدر شوکت میرضیایف کی دعوت پر تاشقند جائیں گے اور یہ اس ملک کا ان کا چوتھا دورہ ہوگا۔ وہ اس سے پہلے 2015، 2016 اور 2022 میں ازبکستان گئے تھے۔ ازبکستان کے صدر 2018 میں ہندوستان آئے تھے اور 2019 میں انہوں نے وائبرنٹ گجرات کانفرنس میں حصہ لیا تھا۔ اس کے علاوہ دونوں رہنماؤں نے سال 2020 میں ورچوئل ذریعے سے کانفرنس میں شرکت کی تھی۔
اس دوران دونوں رہنماؤں کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ بات چیت ہوگی۔ اس کے علاوہ علاقائی اور بین الاقوامی اہمیت کے موضوعات پر بھی تبادلۂ خیال کا امکان ہے۔
مسٹر جارج نے کہا کہ ازبکستان سے مسٹر مودی کرغز جمہوریہ کے صدر، صدر جاپاروف کی دعوت پر بشکیک جائیں گے جہاں وہ 26 ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں حصہ لیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایس سی او کا قیام بنیادی طور پر دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کی تین برائیوں کا مقابلہ کرنے کے مقصد سے کیا گیا تھا اور یہ تمام آج بھی چیلنج بنے ہوئے ہیں۔
سربراہ اجلاس سے الگ مسٹر مودی کی روس کے صدر کے ساتھ ساتھ دیگر رکن ممالک کے رہنماؤں کے ساتھ دوطرفہ بات چیت کا بھی امکان ہے۔
ایس سی او ممالک کے ساتھ ہندوستان کے مسلسل مضبوط ہوتے تعلقات کے پیشِ نظر اس دورے کو اہم مانا جا رہا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
پی ایم مودی نے ہندستان سے اولمپک میں رسائی بڑھانے، 2036 کھیلوں کی تیاریاں ابھی سے شروع کرنے پر زور دیا
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعرات کے روز ہندستان سے اولمپک کے مختلف شعبوں میں اپنی شرکت کو وسعت دینے اور 2036 کے اولمپکس کے لیے ایتھلیٹوں کی تیاری فوری طور پر شروع کرنے کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ملک کا کھیل کا وژن صرف تمغے جیتنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ وکست بھارت کی تعمیر میں کھیلوں اور نوجوانوں کی طاقت کو بروئے کار لانے کے ایک بڑے مشن کا حصہ ہے۔
کھیلو انڈیا ڈائیلاگ سے ویڈیو کانفرنسنگ کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کھیلوں، نوجوانوں کی قیادت، فٹنس، شہری ذمہ داری اور قومی تعمیر پر ملک گیر بحث کے ایک حصے کے طور پر ملک بھر کے نوجوانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کیا۔
کھیلوں کے قومی دن 2026ء کی تقریبات کے حصے کے طور پر ‘میرا یووا بھارت'(مائی بھارت ) کے ذریعہ منعقدہ اس پروگرام کا مقصد نوجوانوں کو ہندستان کے کھیلوں کے سفر سے جڑنے، اپنی امنگوں کا اشتراک کرنے اور ملک کے نوجوانوں اور کھیلوں کے ماحولیاتی نظام کو مضبوط بنانے کے لیے خیالات پیش کرنے کا ایک پلیٹ فارم فراہم کرنا ہے۔ ہر ضلع کے دو کالجوں کے طلبہ کی شرکت کے ساتھ تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں اس کا انعقاد کیا جا رہا ہے۔
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ انہوں نے 15 اگست کو لال قلعہ کی فصیل سے یومِ آزادی کے خطاب کے دوران ہندستان کے وسیع تر کھیلوں کے وژن کو اجاگر کیا تھا۔
انہوں نے کہا، “جب میں کھیلوں کے بارے میں بات کرتا ہوں تو یہ صرف تمغے جیتنے کے بارے میں نہیں ہے۔ یہ ایک ترقی یافتہ ہندستان کی تعمیر میں ہندستان کی کھیل کی صلاحیت اور نوجوانوں کی طاقت کو ایک ساتھ لانے کی مہم ہے۔”
بین الاقوامی مقابلوں میں زیادہ سے زیادہ شعبوں میں حصہ لینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے وزیرِ اعظم نے کہا کہ ملک نے تاریخی طور پر اولمپکس میں شامل تقریباً نصف مقابلوں میں حصہ نہیں لیا ہے۔
انہوں نے کہا، “دوسرے ممالک ان کھیلوں میں تمغے جیتتے ہیں جن میں ہم حصہ بھی نہیں لیتے ہیں۔ اگر ہم اپنے تمغوں کی تعداد میں اضافہ کرنا چاہتے ہیں تو ہمیں ان کھیلوں میں بھی بہترین کارکردگی حاصل کرنی ہوگی۔”
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے کہا کہ اولمپک کے متعدد شعبوں میں ہندستان کی عدم موجودگی نے ملک کے لیے تمغوں کی دوڑ میں مقابلہ کرنے کے مواقع کو محدود کر دیا ہے اور انہوں نے ملک کے کھیلوں کے دائرہ کار کو وسعت دینے کے لیے منظم کوششوں کی اپیل کی۔
انہوں نے کہا، “اولمپکس میں شامل مختلف کھیلوں میں سے ہندستانی ٹیمیں تقریباً نصف میں حصہ نہیں لیتی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ ہم تمغوں کی بڑی تعداد کے لیے مقابلہ بھی نہیں کرتے۔ یہ دہائیوں سے جاری ہے۔”
جاری ۔ یو این آئی ایف اے
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
