تازہ ترین
کچھ تو غور وفکر کر ائے ابن آدم !!
تحریر:جاوید اختر بھارتی
یہ دنیا ہے کل مذاہب ، کل برادری کا سنگم ہے ، کوئی ایک اللہ کی عبادت کرتا ہے تو کوئی بہت ساری چیزوں کی عبادت کرتا ہے کوئی حکمراں بن کر زندگی گزارتا ہے تو کوئی رعایا بن کر زندگی گزارتا ہے کوئی دولت کے نشے اور سکوں کی جھنکار میں مست مگن ہے تو کوئی ایک ایک پائی کے لئے دردر کی ٹھوکر کھاتا ہے کوئی مخمل کے بستر پر سوتا ہے تو کوئی آج بھی رکشہ چلاتے چلاتے جب تھک کر چور ہوجاتا ہے تو اپنے رکشے پر ہی سوجاتا ہے کوئی اخبار بچھاکر سوجاتا ہے کوئی نیند کی گولی کھاکر سوتا ہے تو کوئی بغیر گولی کھائے سوجاتا ہے کوئی اپنے گھر کے بھرے کنبے کے ساتھ رہتا ہے تو کوئی اپنا بھرا کنبہ چھوڑ کر ہزاروں کلو میٹر کی دوری کا سفر کرتاہے تاکہ گھر کے لوگ سکون سے رہیں اس دنیا کے اندر کسی کے ہاتھوں میں قلم ہے تو کسی کے ہاتھوں میں ہتھوڑا ہے قلم چلانے والا بھی پیسہ کماتا ہے اور ہتھوڑے سے پتھر توڑنے والا بھی پیسہ کماتا ہے مگر ایک کو آفیسر کہا جاتا ہے اور دوسرے کو مزدور کہا جاتا ہے ایک شخص کو پیسہ ملتا ہے تو تنخواہ کہا جاتا ہے اور دوسرے کو پیسہ ملتا ہے تو مزدوری کہا جاتا ہے ایک شخص کی پیشانی کا پسینہ بہہ کر ٹخنوں تک آتا ہے تو دوسرا شخص ایر کنڈیشن روم میں بیٹھتا ہے آگے یہ بھی کہاجاتا ہے کہ محنت کرنے سے ہی انسان ترقی کرتاہے اگر اس بات میں صد فیصد سچائی ہے تو اینٹ بھٹوں پر بوجھ اٹھانے والا کیوں نہیں ترقی کرتا صبح سے شام تک زمین کی کھدائی کرنے والا اور پتھر توڑنے والا کیوں نہیں ترقی کرتا معلوم ہوا کہ یہ بات صرف ایک مزدور کی تسلی کے لئے کہا جاتا ہے بہر حال یہ دنیا ہے ہزاروں رنگ بدلتی ہے کبھی کسی جگہ کوڑے کا انبار بھی لگایا جاتاہے تو کبھی اسی جگہ پر بنگلہ اور محل بھی تعمیر کیا جاتا ہے یہ دنیا ہے کوئی کھا کھا کر مرتا ہے تو کوئی کھائے بغیر مرتا ہے کسی کو کھانے کا ذائقہ نہیں ملتا اور وہ کبھی اس ڈھابے تو کبھی اس ڈھابے پر پہنچ کر پیسہ پھینکتا ہے اور بڑے باپ کی اولاد ہونے کا اظہار کرتاہے تو اسی دنیا میں کوئی اتنا نڈھال ہوتا ہے کہ صبح سویرے ہی بول پڑتا ہے کہ میرا حال دیکھو کپڑا بوسیدہ ہے، چہرہ اداس ہے ہونٹوں پر جھریاں پڑی ہوئی ہیں پاوں میں جوتے اور چپل بھی نہیں ہے آنکھوں میں آنسو ہوتے ہیں اور صدا دیتا ہے کہ میرا حال دیکھو اور بتاؤ کہ مجھے تختی کی ضرورت ہے یا گندم کی ضرورت ہے؟ جواب ملتا ہے کہ تجھے گندم کی بھی ضرورت ہے، تختی کی بھی ضرورت ہے اور تعلیم کی بھی ضرورت ہے،، لیکن گندم بھی مہنگا اور تعلیم بھی مہنگی اب ایسی صورت میں غم جہاں سے نڈھال انسان کیسے ان چیزوں کا انتظام کرے تعلیم کا نعرہ ہر شخص بلند کرتا ہے مگر تعلیم کی راہ کو آسان بنانے کا نعرہ کوئی بلند نہیں کرتا کسی کو پتھر توڑتے دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی ، ہوٹلوں پر کام کرنے والوں کو دیکھا تو کہا کہ کاش اس کے پاس تعلیم ہوتی سوال یہ پیداہوتاہے کہ کیا تعلیم کا مشورہ ہی دینا کافی ہے اور تشویش و افسوس کا اظہار ہی کافی ہے یا مسائل کے حل کی ضرورت ہے،، کہیں ایک ماہ میں پانچ کروڑ روپئے کے سموسے کھانے کی ویڈیو وائرل کی جاتی ہے اور اس پر تبصرہ کیا جاتا ہے تو کہیں نذرانوں کا انبار لگاہوا ہے کہیں جلسوں کی بھیڑ لگی ہوئی ہے تو کہیں مرغ و ماہی کا بازار گرم ہے اور ان اندھا دھند حاصل ہونے والے نذرانے کی رقم سے نہ یونیورسٹی بنوائی جاتی ہے اور نہ اسپتال تعمیر کرایا جاتاہے ملک میں ایسے ایسے پیر ہیں جن کے پاس لگژری گاڑیاں ہیں اور بنگلہ ہے ایک طریقے سے وہ حکومت چلاتے ہیں مگر مریدین کی شکل میں اپنی رعایا کے لئے حالت بیماری میں علاج کا بھی انتظام نہیں کراتے تعلیم کے لئے اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں بھی نہیں بنواتے شائد انہیں اس بات کا اندیشہ ہے کہ مریدین کہیں تعلیم یافتہ ہوکر ہمیں تنہا نہ چھوڑ دیں حالانکہ انہیں ایسا نہیں سوچنا چاہئے کیونکہ آج کے ترقی یافتہ دور میں تعلیم یافتہ بھی اندھ بھکتوں کی فہرست میں اپنا نام درج کراتے ہیں ،، بہر حال یہ تو حقیقت ہے کہ آج کے دور میں خانقاہوں سے اگر اسکول و کالج اور یونیورسٹیاں تعمیر کرانے اور مسلمانوں کو تعلیم یافتہ بنانے کی مہم چلائی جائے اور مکمل انتظام کیا جائے تو بہت آسانی ہوگی اور کامیابی بھی حاصل ہوگی،، ایک انسان کے لئے ضروری ہے کہ اپنی زندگی کو کارآمد بنائے اور دوسروں کے دکھ سکھ میں شریک ہوکر ہاتھ بٹائے کیونکہ صرف خود کا جینا کوئی جینا نہیں اگر کوئی یہ سوچ کر زندگی گزارے کہ بس اپنا کام چلے باقی جس کا جو حال ہے وہ سمجھے تو ایسی سوچ اور ایسی ذہنیت رکھنے والے انسان اور جانور میں کوئی فرق نہیں اس لئے کہ زندگی تو جانور بھی گزار لیتے ہیں پھر اشرف المخلوقات ہونے کا کیا مطلب ہے بہترین انسان وہی ہے جو خود کو انسانیت کے سانچے میں ڈھالے یعنی پہلے اچھا انسان بنے اور یہ بات بھی ذہن میں رہے کہ جو اچھا انسان نہیں بن سکتا وہ اچھا مسلمان بھی نہیں بن سکتا کیونکہ ہاتھ اللہ نے بخشا ہے سخاوت کے لئے ، پاؤں بخشا ہے راہ صداقت کے لئے ، دل دیا ہے ایمان کی دولت کے لئے ، اپنے محبوب کی اور اپنی محبت کے لئے ، نظر بخشی ہے نظارہ قدرت کے لئے ، شعور بخشا ہے حق اور ناحق کی پہچان کے لئے جب سب کو جمع کیا جاتا ہے تو ایک پیغام جاری ہوتاہے ایک اعلان ہوتاہے کان عطا کیا ہے اسی سماعت کے لئے کہ درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو ورنہ طاعت کے لئے کچھ کم نہ تھے کر و بیاں-
اب آئیے حالات پر غور کریں اور فیصلہ کریں کہ مرنے کے بعد ہم کاندھا دینے کے لئے بے چین رہتے ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کوشش کرتے ہیں تو آخر جیتے جی ہم ایک دوسرے کا کاندھا کیوں نہیں پکڑتے یعنی سہارا کیوں نہیں دیتے،، بستر پر ایک شخص موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے تو اس کے نزدیک بیٹھ کر قرآن مجید پڑھا جاتا ہے بالخصوص سورہ یٰس کی تلاوت کی جاتی ہے بعض لوگ کہتے ہیں کہ مرنے کے لئے سورہ یٰس پڑھی جاتی ہے حالانکہ اس لئے پڑھی جاتی ہے کہ حیات باقی ہوتو اللہ تبارک وتعالیٰ شفائے کاملہ عطا فرمائے یا پھر موت کا معاملہ آسان فرمائے یہاں بھی سبق ملتا ہے کہ آخر جینے کے لئے اور جینے کا سلیقہ سیکھنے کے لئے قرآن کیوں نہیں پڑھا جاتا ،، مردے کے نام پر خوب کھانا کھلانے کا اہتمام ہوتاہے تو پھر زندہ لوگوں کے لئے بھکمری اور فاقہ کشی سے بچانے کا اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، مزاروں پر چادروں پر چادر چڑھانے کے بجائے غریبوں کو کپڑا پہنانے کا انتظام و اہتمام کیوں نہیں کیا جاتا ،، ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ مذکورہ تقاریب کا راقم الحروف مخالف نہیں ہے مگر اس سے جو نتائج اخذ ہورہے ہیں جس سے انسانیت کو فروغ حاصل ہو سکتا ہے اس دنیا میں بہت سے لوگوں کی زندگیاں سنور سکتی ہیں اور حقوق العباد کی ادائیگی ہوسکتی ہے وہ بیان و تحریر کرنا اصل مقصد ہے ،، یہ بات بھی ذہن نشین رہے کہ اسلام کے اندر نہ پاپائیت ہے اور نہ ہی برہمنیت ہے بلکہ اسلام کی تعلیمات تو یہ ہے کہ ہر شخص اس قابل بنے کہ اپنی بیٹی کا نکاح خود پڑھائے ، اپنے باپ کا جنازہ خود پڑھائے دین کا داعی بنے مبلغ بنے یہ ذمہ داری کسی ایک ذات برادری تک کے لئے محدود و مخصوص نہیں کی گئی ہے کہ فلاں ذات برادری کے لوگ یہ کام کریں گے یہ الگ بات ہے کہ کچھ لوگوں نے ایسا نظریہ پیش کیا ہے انہوں نے غلط کیا ہے بلکہ ایسا کرنے والوں نے اندھ بھگتی کا جال بچھانے کی کوشش کی ہے تاکہ کوئی ہمارے مد مقابل نہ بیٹھ سکے اور نہ کھڑا ہوسکے ایسے لوگوں نے دعوت، خطابت، صحافت، نظامت ،تعلیم، اسکول و مدارس، تقریر و تحریر سب کو تجارت سمجھا ہے،، بعض بزرگان دین نے کہا ہے کہ اساتذہ اور سرپرست دونوں کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو تعلیم کے ساتھ کوئی ہنر بھی سکھائیں ورنہ اس بات کا اندیشہ ہے کہ حصول تعلیم کے بعد ہنر سے محروم لوگ دین کو بیچیں گے آج نتیجہ ہمارے سامنے ہے بہت سے مقررین نے ریٹ مقرر کیا ہوا ہے ، نعت خوانی کے لئے شعرا چالیس چالیس ہزار روپیہ عام طریقے سے لیتے ہیں یہاں تک کہ پروگرام میں شریک ہونے سے پہلے رقم اپنے اکاؤنٹ میں منگواتے ہیں یہ حال ہے مسلمانوں کا اور ایڈیڈ مدارس کا تو حال یہ ہے کہ اللہ رحم کرے رشوت لینے دینے کا طریقہ اور برق رفتاری تو کوئی انہیں سے سیکھے،، حال ہی میں ایک بزرگ عالم دین کی ایک ویڈیو وائرل ہوئی ان کی باتوں میں دین اور معاشرے کے ساتھ گرانٹیڈ مدارس کے حالات پر درد چھلکا باتیں تلخ ضرور لگتی ہیں مگر انہوں نے سچائی بیان کردی ہے ایک طرف مدارس کو دین اسلام کا قلعہ کہا جاتا ہے اور دوسری طرف رشوت دینے کی قطاریں لگی رہتی ہیں یہ تو شرم سے ڈوب مرنے کی بات ہے –
javedbharti508@gmail.com
جاوید اختر بھارتی (سابق سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
-
ہندوستان6 days agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
