جموں و کشمیر
میں کشمیری عوام کے دل جیتنے میں کامیاب ہوا ہوں:نریندر مودی
سری نگر، وادی کشمیر کے حسن و جمال کے لئے رطب اللسان ہوتے ہوئے وزیر اعظم نریندر مودی نے جمعرات کو کہا کہ جموں و کشمیر ہمارے ملک کا تاج ہے انہوں نے کہا: ‘کشمیریوں کے دل جیتنا میرا مشن ہے اور میں اپنے اس مشن میں کامیاب ہوا ہوں’ ان کا کہنا تھا ‘جب بھی میں یہاں آتا ہوں تو لوگوں کے دل جیتنا میری ترجیح ہوتی ہے وزیر اعظم نے باتوں کا اظہار جمعرات کے روز یہاں بخشی اسٹیڈیم میں ایک عظیم الشان عوامی ریلی سے اپنے خطاب کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ جب بھی میں یہاں آتا ہوں تو لوگوں کے دل جیتنا میری ترجیح ہوتی ہے اور آج آپ (لوگوں کے ہجوم) کو دیکھ کر میں یہ کہہ سکتا ہوں کہ میں کشمیریوں کے دلوں کو جیتنے میں کامیاب ہوا ہوں لیکن میں یہیں پر نہیں رکوں گا بلکہ آگے بھی میری کاوشیں جاری رہیں گی’۔
کشمیر کی خوبصورتی کی تعریفیں کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا: ‘دھرتی کے سورگ یعنی کشمیر کی سر زمین پر قدم رکھنے کے بعد میں اپنے احساسات و جذبات کو بیان کرنے سے قاصر ہوں، میرے پاس الفاظ نہیں ہیں یہاں کے خوبصورت پہاڑ اور ماحول دل کو چھو لیتے ہیں’۔
نریندر مودی نے کہا: ‘آج جو جموں وکشمیر منظر نامے پر نمو دار ہوا ہے ملک کے ہر شہری کا خواب تھا، صرف آپ نہیں بلکہ ملک بھر کے 285 بلاکوں میں لوگ میرا خطاب سن رہے ہیں’۔انہوں نے کہا: ‘آج ڈاکٹر شیام پرساد مکھر جی کا خواب شرمندہ تعبیر ہوا ہےاور ان کی قربانی ثمر آور ثابت ہو رہی ہے اور آج میں سمجھ سکتا ہوں کہ میں کسی بھی مشکل چلینج پر قابو پا سکتا ہوں اور آج ملک کے 140 کروڑ لوگ وکست جموں و کشمیر دیکھ ر راحت کی سانس لے رہے ہیں’۔ان کا کہنا تھا: ‘کشمیری عوام کی طرف سے مجھے یہاں جو پیار ملا میں اس پیار کو واپس کرنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑو گا یہ مودی کی گارنٹی ہے’۔انہوں نے مودی کی گارنٹی کو کشمیری میں دہرا کر کہا: ‘یہ چھ مودی سنز گارنٹی’۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جموں میں، میں نے حال ہی میں 32 سو کروڑ روپیوں کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کیا۔انہوں نے کہا: ‘اور آج مختصر وقت میں، میں سری نگر میں 64 سو کروڑ روپیوں کے ترقیاتی منصوبوں کا افتتاح کروں گا’۔ان کا کہنا تھا کہ جموں وکشمیر بھارت کا تاج ہے اور کوئی بھی اس کو کامیابیوں کی بلندیوں کو چھونے سے نہیں روک سکتا ہے۔انہوں نے کہا: ‘ایک زمانہ ایسا بھی تھا جب ترقیاتی منصوبوں کو ملک کے باقی حصوں میں تو عملی جامہ پہنایا جاتا تھا لیکن یہاں نہیں، لیکن آج وقت نے کروٹ بدلی ہے اور میں نے آج یہاں سے ملک کے باقی حصوں کے لئے اسکیموں کا افتتاح کیا ہے’۔
کانگریس اور دوسری سیاسی جماعتوں کو ہدف تنقید بناتے ہوئے وزیر اعظم نے کہا: ‘دفعہ 370 سے ہمیشہ صرف ان ہی پارٹیوں کوفائدہ پہنچتا تھا عام لوگوں کو نہیں اور اب اس دفعہ کی تنسیخ کے بعد لوگوں کے خواب پورے ہو رہے ہیں اور ان کے دروازوں پر نئے مواقع دستک دہے رہے ہیں’۔
انہوں نے کانگریس کے بغیر کسی پارٹی کا نام نہ لیتے ہوئے کہا: ‘کچھ سیاسی جماعتیں دفعہ 370 کو اپنے سیاسی مفادات کے حصول کے لئے استعمال کر رہی تھیں لیکن اب وہ ختم ہوگیا ہے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘جموں و کشمیر کے خصوصی درجے کے خاتمے کے بعد پہلی بار مغربی پاکستان کے پناہ گزینوں، اور دوسرے مستضعف طبقوں سے وابستہ لوگوں کو ووٹ ڈالنے کا حق دیا گیا یہ لوگ گذشتہ 70 برسوں سے اپنے حقوق کا انتظار کر رہے تھے’۔
جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کو جموں و کشمیر بینک کو خراب کرنے کا قصور وار ٹھہراتے ہوئے نریندر مودی نے کہا: ‘یہ بینک ڈوبنے والا تھا اور لوگوں کو کروڑوں روپیوں کا نقصان ہو سکتا تھا’۔
انہوں نے کہا: ‘لیکن ہم نے اس بینک کو جموں وکشمیر کی سیاسی جماعتوں کے چنگل سے آزاد کیا آج یہ بینک 17 سو کروڑ روپیوں کا منافع کما رہا ہے اس کا شیئر ریٹ 140 روپیے تک بڑھ گیا اور آج یہ بینک 2.25 لاکھ کروڑ روپیوں کی تجارت کر رہا ہے’۔
وزیر اعظم نے کہا کہ جموں وکشمیر کو آج شادی بیاہ کی تقریب انجام دینے کے لئے سب سے زیادہ مطلوب جگہ کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔انہوں نے کہا: ‘میں خود اس کے لئے مہم چلا رہا ہوں اور اب یہ پیغام پھیل چکا ہے کہ جموں وکشمیر میں شادی بیاہ کی تقریبات انجام دی جائیں اور یہاں کچھ دنوں کے لئے ٹھہرا جائے تاکہ یہاں مقامی لوگوں کو فائدہ پہنچ سکے’۔
ان کا کہنا تھا: ‘ ما بعد جی ٹونٹی ٹورزم اجلاس جموں وکشمیر میں سیاحوں کا رش غیر معمولی طور پر بڑھ گیا ہے اور سال گذشتہ زائد از 2 کروڑ سیاحوں نے جموں و کشمیر کی سیر کی’۔انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سیاحوں کی تعداد میں بھی نمایاں اضافہ درج ہوا ہے۔
نریندر مودی نے کہا کہ سال گذشتہ شری امرناتھ جی یاترا کے لئے بھی ریکارڈ تعداد میں یاتری آئے اور یہی حال جموں میں ویشنو دیوی مندر کا بھی تھا۔انہوں نے کہا: ‘کچھ لوگ مجھے کہتے ہیں کہ مودی کی کوئی فیملی نہیں ہے لیکن وہ یہ نہیں جانتے یں کہ پوری قوم میری فیملی ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘آج جموں وکشمیر کے لوگ میرے حریفوں کو یہ کہہ کر کہ ہم ان کی فیملی یں، بھر پور جواب دے رہے ہیں
انہوں نے کہا: ‘چونکہ ماہ رمضان آ رہا ہے جموں وکشمیر بھی امن اور خوشحالی کے ساتھ آگے بڑھے گا’۔
وزیر اعظم نے کہا کہ آنے والے پانچ برسوں کے دوران جموں وکشمیر ترقیاتی منظر نامے پر نمایاں تبدیلی دیکھے گا۔
انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کو ترقی اور خوشحالے کے منازل طے کرنے سے کوئی بھی روک نہیں سکتا ہے۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
