جموں و کشمیر
کشمیری پنڈتوں کا محبوب تہوار ‘ہیرتھ’، کی چار روزہ روایتی تقریبات کا آغاز، مندروں میں خصوصی پوجا پاٹ
سری نگرکشمیری پنڈتوں کے محبوب تہوار ‘ہیرتھ’ کی چار دنوں پر محیط روایتی تقریبات جمعے کے روز سے شروع ہو گئی ہیں۔
اس تہوار کو بھارت، پڑوسی ممالک بشمول سری لنکا، نیپال، پاکستان میں مقیم ہندو برادری ‘مہا شیوراتری’ کے نام سے مناتی ہے۔
ہندو مذہب کے مطابق یہ تہوار بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کی شادی کی خوشی میں منایا جاتا ہے۔ تاہم کشمیری پنڈت برادری کا اس مذہبی تہوار (مہاشیوراتری یا ہیرتھ) کو منانے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔
کشمیری پنڈت برادری اس تہوار کی تقریبات کا آغاز خصوصی پوجا جو کشمیری پنڈتوں کے ہاں ‘وٹک پوجا’ کے نام سے جانی جاتی ہے، سے کرتی ہے جس کے لئے مخصوص قسم کے برتنوں اور خشک پھلوں کا استعمال کیا جاتا ہے۔ اس خصوصی پوجا کا اہتمام کشمیری پنڈت اپنے گھروں میں ہی کرتے ہیں۔
ایک کشمیری پنڈت ونود بٹ نے یو این آئی اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس تہوار کی تقریبات 21 دن تک جاری رہتی ہیں جن کا آغاز ‘وٹک پوجا’ سے ہو چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس تہوار کے چوتھے دن پرشاد کی تقسیم ہوگی۔ کشمیر میں یہ تہوار گھروں میں ہی منایا جاتا ہے اور پوجا پاٹ بھی گھروں میں ہی ہوتی ہے۔
تاہم کشمیری پنڈت کے مطابق اس تہوار کی روایتی رونق غائب ہے کیونکہ نوے کی دہائی سے قبل جب کشمیری پنڈت یہ تہوار دیہی علاقوں میں اپنے گھروں میں مناتے تھے تو ہمارے گھروں پر مبارکباد دینے کے لئے پڑوسی مسلمانوں کا تانتا بندھا رہتا تھا۔
ان کا کہنا تھا: ‘اس تہوار کی ماضی میں ایک الگ رونق تھی۔ دیہی علاقوں میں کاریگروں اور دیگر چھوٹے چھوٹے تاجروں کے کام میں اس تہوار کے موقع پر کئی گنا اضافہ ہوجاتا تھا۔
ہمارے گھروں پر پڑوسی مسلمانوں کا تانتا بندھا رہتا تھا جو مبارکباد دینے کے لئے آتے تھے۔ اب وہ رونق غائب ہے لیکن اب جو چیز باقی ہے وہ موبائل فون پر مبارکباد دینا ہے’۔
بتادیں کہ وادی میں سنہ 1989 میں حالات خراب ہونے کے بعد بیشتر کشمیری پنڈت ملک کے مختلف شہروں بالخصوص جموں ہجرت کر گئے۔ تاہم جو پنڈت گھرانے یہی رہیں وہ دیہی علاقوں سے شہری علاقوں کی طرف ہجرت کر گئے اور ان میں سے بیشتر گھرانے آج کل حکومت کی طرف سے بنائی گئی پنڈت کالونیوں میں رہ رہے ہیں۔
آج جب مہاجر کشمیری پنڈت اس تہوار کو مناتے ہیں تو وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کشمیری مسلمان اخروٹ ساتھ لیکر اپنے پنڈت بھائیوں کو سلام کے موقع پر مبارک باد پیش کرنے کے لئے پہنچ جاتے ہیں۔
جموں میں رہائش اختیار کرچکے ایک کشمیری پنڈت نے یو این آئی اردو کو بتایا کہ ہندوﺅں میں صرف کشمیری پنڈت وٹک پوجا کا اہتمام کرتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا: ‘اس خصوصی پوجا کا سلسلہ غروب آفتاب سے شروع ہو کر رات دیر گئے تک جاری رہا۔ وٹک پوجا بھگوان شیو اور دیوی پاروتی کی شادی تقریب کی علامت ہے’۔
مذکورہ مہاجر پنڈت نے بتایا کہ مجموعی طور پر سارے ہندو مہاشیوراتری یا ہیرتھ کا تہوار مناتے ہیں مگر ان کا اورہمارا اس تہوار کو منانے کا طریقہ بالکل مختلف ہے۔
کشمیری پنڈتوں کو چھوڑ کر دوسرے ہندو اس تہوار کے موقع پر مندروں میں جا کر پوجا کرتے ہیں جبکہ ہم اس تہوار سے متعلق خصوصی وٹک پوجا کا اہتمام اپنے گھروں میں ہی کرتے ہیں۔
انہوں نے ‘وٹک پوجا’ کے طریقہ کار کے بارے میں کہا: ‘ہم دولہا دلہن (بھگوان شیو اور دیوی پاروتی) کی علامت کے طور پر دو برتن پوجا کے وقت سامنے رکھتے ہیں۔
انیس سو نوے کی دہائی کے شروع ہونے سے قبل ہم اس پوجا کے لئے مٹی کے برتن (مٹکے) استعمال میں لاتے تھے چونکہ ایسے برتنوں کو اب حاصل کرنا مشکل ہوگیا ہے تو آج المونیم یا اسٹیل کے برتن استعمال میں لائے جاتے ہیں۔ دو بڑے برتنوں کے علاوہ چار یا چھ چھوٹے چھوٹے برتن بھی پوجا کے وقت سامنے رکھے جاتے ہیں جن کو باراتیوں کی علامت تصور کیا جاتا ہے۔
اس کے علاوہ شادی کی رسم انجام دینے کے لئے ایک گرو اور حفاظت کے لئے دو محافظوں کی علامت کے طور پر تین مزید برتن رکھے جاتے ہیں۔ اس پوجا میں زیادہ سے زیادہ گیارہ برتنوں کا استعمال کیا جاتا ہے جو مختلف لوگوں کی علامت ظاہر کرتے ہیں’۔
وادی میں اس تہوار کے حوالے سے بھیگے ہوئے اخروٹوں کا پرشاد اور مچھلیوں کا سالن بہت ہی مشہور ہے۔
ایک کشمیری پنڈت نے بتایا کہ وٹک پوجا کے لئے استعمال ہونے والے برتنوں میں اخروٹ، بادام اور دوسرے خشک پھلوں کی گریاں رکھی جاتی ہیں جو تہوار کے چار دنوں کے بعد پرشاد کے طور پر رشتہ داروں اور پڑوسیوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اس پرشاد میں سے ایک بڑا حصہ بیاہی گئی عورتوں کے وہاں بھیجا جاتا ہے۔
جنوبی ہند میں رہائش اختیار کرچکے ایک کشمیری پنڈت نے بتایا کہ شیوراتری جسے کشمیری میں ہیرتھ کہتے ہیں، کشمیری پنڈتوں کا سب سے بڑا تہوار ہے۔ اس تہوار کے موقع پر ہمیں اپنے مادر وطن، کشمیری پڑوسیوں اور دوستوں کی بے حد کمی محسوس ہو رہی ہے۔
دریں اثنا شیوراتری کے تہوار کے سلسلے میں جمعے کو وادی میں قائم مندروں میں خصوصی پوجاپاٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں کشمیری پنڈتوں کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
سب سے بڑی تقریبات سری نگر کے ہنومان مندر، رام مندر اور شنکر آچاریہ مندر میں منعقد ہوئیں۔
سری نگر میں زبرون پہاڑی سلسلہ پر واقع شنکر آچاریہ مندر کو ‘شیوراتری’ کے پیش نظر برقی قمقموں سے سجایا گیا تھا۔ اس مندر پر جمعے کی صبح سے سینکڑوں کی تعداد میں ہندو مذہب کے پیروکاروں نے حاضری دی جنہیں ‘ہر ہر مہا دیو، بم بم بھولے، جے بھولے ناتھ’ جیسے نعرے لگاتے ہوئے سنا گیا۔
اس مندر پر جہاں مختلف تنظیموں نے حاضری دینے والوں کے لئے خصوصی لنگر کا انتظام کیا تھا وہیں انتظامیہ نے بھی سکیورٹی سمیت تمام انتظامات کیے تھے۔
مندر میں حاضری دینے والے ایک عقیدت مند نے کہا: ‘ہم نے امن اور شانتی کے لئے دعائیں مانگی ہیں۔ ہر گھر میں شانتی رہے۔ لوگوں کو تمام دکھوں سے نجات ملے’۔
مہاشیوراتری کے تہوار کے سلسلے میں جموں بھر کے مندروں کو چراغاں کیا گیا ہے۔
شیو پاروتی مندر، شیو دھام اور دیگر مشہور مندروں کو پھول مالاﺅں اور رنگا رنگ روشنیوں سے سجایا گیا ہے۔ کشمیر انتظامیہ نے مہاشیوراتری یا ‘ہیرتھ’ کے تہوار کے سلسلے میں پنڈت برادری والے علاقوں میں معقول انتظامات کیے تھے۔ محکمہ فشریز کی طرف سے ٹراوٹ فش کی خریداری کے لئے سیل مراکز قائم کیے گئے تھے۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
