جموں و کشمیر
کوکر ناگ تصادم :این آئی اے نے دو ملی ٹینٹ معاونین کے خلاف چارج شیٹ دائر کیا
سری نگر،قومی تحقیقاتی ایجنسی (این آئی اے) نے ہفتے کو کوکر ناگ انکاونٹر معاملے میں دو ملزمان کے خلاف چارج شیٹ پیش کیا۔
این آئی اے کے ایک ترجمان نے بتایا کہ ہفتے کے روز این آئی اے نے جموں کی خصوصی عدالت میں محمد اکبر ڈار اور غلام نبی ڈار ساکنان کوکر ناگ اننت ناگ کے خلاف یو اے پی اے اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت چارج شیٹ داخل کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ کیس کوکر ناگ تصادم آرائی سے متعلق ہے جس دوران ایک ہفتے تک جاری انکاونٹر میں مقامی دہشت گرد عزیر خان مارا گیا۔
ترجمان کے مطابق کوکر ناگ کے جنگلی علاقے میں سیکورٹی فورسز کے ساتھ تصادم میں مارا گیا دہشت گرد لشکر طیبہ کی ذیلی ونگ ٹی آر ایف سے وابستہ تھا ۔
ان کے مطابق مہلوک دہشت گرد عزیر نے اگست 2022میں دہشت گرد تنظیم میں شمولیت اختیار کی تھی اور وہ سرحد پار سے پاکستانی ہینڈلرز کے ذریعے اننت ناگ کے علاقے میں سیکورٹی فورسز کے خلاف دہشت گردانہ سرگرمیوں کو فروغ دینے میں براہ راست ملوث تھا۔
این آئی اے کے مطابق مہلوک دہشت گرد کوکر ناگ میں اس سے قبل ہوئے دہشت گردی کے واقعات میں بھی ملوث رہا ہے اور دو مرتبہ وہ سیکورٹی فورسز کو چکمہ دے کر فرار ہونے میں بھی کامیاب ہوا تھا۔
موصوف ترجمان کے مطابق تحقیقات کے دوران منکشف ہوا کہ ملزمان محمد اکبر ڈار اور غلام نبی ڈار دہشت گرد عزیر خان کے لئے اعانت کار کی حیثیت سے کام کر رہے تھے۔
ان کے مطابق دونوں علاقے میں سرگرم دہشت گردوں کی مدد و اعانت میں پیش پیش رہتے تھے تاکہ وہ تخریبی کارروائیوں کو انجام دے سکے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ دونوں ملزمان سرگرم دہشت گردوں کو سیکورٹی فورسز کی نقل وحرکت کے بارے میں بھی جانکاری فراہم کررہے تھے۔
ترجمان کے مطابق ملزمان دہشت گردوں کو کھانے پینے کی اشیاءاور رو ز مرہ کی زندگی میں استعمال چیزوں کے ساتھ ساتھ انہیں پناہ اور لاجسٹک سپورٹ بھی فراہم کررہے تھے۔
این آئی اے بیان کے مطابق لشکر طیبہ اور ٹی آر ایف دونوں ہی کالعدم تنظیمیں ہیں اور جہاد کے نام پر کشمیری نوجوانوں کو دہشت گرد تنظیموں میں شامل کرانے کے لئے اکسانے کا کام انجام دے رہے ہیں۔
لشکر طیبہ سال 1990کی دہائی میں تشکیل پانے والاسب سے بڑا دہشت گرد گروپ ہے اور اننت ناگ کے علاقے میں اپنا نیٹ ورک بحال کرنے میں سرگرم عمل ہے۔
ان کے مطابق لشکر طیبہ جموں وکشمیر خطے میں مختلف ذیلی تنظیموں کے ذریعے کام کررہا ہے اوردونوں تنظیمیں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹویٹر، ٹیلی گرام، اور یوٹیوب چینلز پر اپنے مقاصد کو فروغ دینے اور بے روزگا رنوجوانوں کو دہشت گردانہ سرگرمیوں کے لئے راغب کرانے کے لئے پیش پیش ہیں۔
اس معاملے میں 13ستمبر 2023کو جموں وکشمیر پولیس نے کیس درج کیا اور بعدازاں 5دسمبر کو کیس این آئی اے کے سپرد کیا گیا اور تفتیشی ایجنسی نے بھی الگ سے مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کی ۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
