جموں و کشمیر
بھارت سر حد پار دشمن پر حملہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے: راج ناتھ سنگھ
جموں، وزیر دفاع راج ناتھ سنگھ کا کہنا ہے کہ بی جے پی نے دفعہ 370 کو ہٹانے اور ایودھیا میں رام مندر تعمیر کرنے کے اپنے وعدے کو پورا کیا۔
انہوں نے کہا کہ مودی جی کی قیادت میں بھارت آج تمام محاذوں پر ایک طاقت ور ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آگیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بھارت سرحد پار حملہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتا ہے۔۔
موصوف مرکزی وزیر نے ان باتوں کا اظہار پیر کے روز کٹھوعہ کے بشولی میں ایک ریلی سے خطاب کرنے کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا: ‘ہم نے کہا تھا کہ جب ہماری سرکار آئی گی تو ہم دفعہ 370 کو ہٹائیں گے اور جموں و کشمیر کا بھی وہی درجہ ہوگا جو ملک کی باقی ریاستوں کا ہے اور ہم نے رام مندر کی تعمیر کا بھی وعدہ کیا تھا، ہم نے یہ دونوں وعدے پورے کئے’۔
ان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ کہتے تھے کہ دفعہ 370 کی تنسیخ سے جموں وکشمیر میں خون کی ندیاں بہیں گی لیکن ہم کہتے ہیں کہ جس طریقے سے جموں وکشمیر تعمیر و ترقی کی راہ پر گامزن ہے تو یہاں دودھ کی ندیاں بہہ رہی ہیں’۔
مسٹر سنگھ نے کہا کہ نریندر مودی کی قیادت میں بھارت تمام محاذوں پر ایک طاقتور ملک کے طور پر ابھر کر سامنے آ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر بھارت کا قد بڑھ رہا ہے اور ہماری باتوں کو پہلی بار سنجیدگی سے سنا جا رہا ہے
ان کا کہنا تھے: ‘ہم سرحد پار دشمن پر حملہ کرنے کی بھر پور صلاحیت رکھتے ہیں اور ہم نے 28 ستمبر کو سرجیکل اسٹرائیک کرکے اپنے طاقت کا ثبوت بھی فراہم کیا ہے’۔
وزیر دفاع نے کہا کہ مودی جی کی قیادت میں ملک نئی بلندیوں کو طے کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آج ہماری فوجی طاقت کا دنیا کی بہترین فوجی طاقتوں میں شمار ہوتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ علاقائی جماعتوں نیشنل کانفرنس، پی ڈی پی یہاں تک کانگریس نے بھی دفعہ 370 کو اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا۔
انہوں نے کہا: ‘میں نے نیائے یاترا کے دوران راہل گاندھی اور پرینکا گاندھی کو کشمیر میں برف کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھا اگر دفعہ 370 ختم نہ ہوا ہوتا تو کیا وہ ایسا کر سکتے تھے’۔
محبوبہ مفتی کو ہدف تنقید بناتے ہوئے راج ناتھ سنگھ نے کہا: ‘محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ دفعہ 370 ہٹے گا تو یہاں خون کی ندیاں بہیں گی لیکن میں ان کو کہنا چاہتا ہوں کہ جموں وکشمیر میں تیزی سے تعمیر ترقی ہو رہی ہے اور یہاں دودھ کی ندیاں بہہ رہی ہیں’۔
انہوں نے کہا: ‘محبوبہ مفتی نے کہا تھا کہ یہاں ترنگا اٹھانے والا بھی کوئی نہیں رہے گا لیکن آج یہاں ہر گھر اور ہر سرکاری عمارت پر ترنگا لہرا رہا ہے’۔
وزیر دفاع نے کہا کہ بی جے پی کے سنکلپ پترا میں وزیر اعظم نے 70 برسوں میں پہلی بار لوگوں کے مفت علاج کو یقینی بنایا، ان کے بغیر ایسا کون کر سکتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سال 2014 میں معاشی درجہ بندی میں ہمارا ملک گیارہویں نمبر پر تھا لیکن آج ہم پانچویں نمبر پر ہیں اور سال 2027 کے آتے آتے ہمارا شمار دنیا کے تین ٹاپ ملکوں کی فہرست میں ہوگا۔
انہوں نے لوگوں سے ڈاکٹر جیتندر سنگھ کے حق میں ووٹ ڈالنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی خواتین کی خود مختاری اور ان کے حقوق کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لئے پر عزم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہم 3 کروڑ لکھ پتی بہن جی بنانے کے لئے پر عزم ہیں۔
یو این آئی – ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
