جموں و کشمیر
جنوبی کشمیر میں بی جے پی نے اے اور بی ٹیم کو میدان میں اتارا:عمر عبداللہ
سری نگر،نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ جنوبی کشمیر میں این سی امیدور کا سیدھا مقابلہ پی ڈی پی کے ساتھ ہے۔
انہوں نے کہاکہ گرچہ بی جے پی نے اے اور بی ٹیم کو میدان میں اتار لیکن وہ کافی کمزور نظر آرہے ہیں۔
پی ڈی پی کو ایک دفعہ پھر ہدفہ تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہاکہ سیٹ کی لالچ میں آکر پی ڈی پی نے انڈیا بلاک کو چھوڑا ۔
ان باتوں کا اظہار موصوف نے پلوامہ میں نامہ نگاروں سے بات چیت کے دوران کیا۔
انہوں نے کہاکہ الیکشن سے قبل ہی بی جے پی صدر رویندر رینا جموں میں جیت کا دعویٰ کر رہے ہیں۔
عمر عبداللہ نے کہا ؛’رویندر رینا تو جنوبی کشمیر میں اپنا امیدوار کھڑا کرنے کے حوالے سے بلند بانگ دعوئے کر رہے تھے لیکن ہار سامنے دکھائی دینے کے بعد اپنا امیدوار کھڑا نہ کرنے کا فیصلہ لیا۔ ‘
ان کے مطابق بی جے پی نے میدان کھلا نہیں چھوڑا بلکہ وہ اے اور بی ٹیم کی حمایت کریں گے۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر کا مزید کہنا تھا کہ جنوبی کشمیر میں نیشنل کانفرنس کا مقابلہ پی ڈی پی کے ساتھ ہے ، بی جے پی کی اے اور بی ٹیم کا کئی پر وجود ہی نہیں ۔
عمر عبداللہ سے جب سوال کیا گیا کہ اے اور بی ٹیمیں کون ہیں تو انہوں نے کہا :’یہ سب کو پتہ ہے کہ بی جے پی کے سینئر لیڈران کن لیڈروں کے ساتھ ملتے ہیں ۔‘
انہوں نے مزید بتایا کہ بی جے پی نے کشمیر میں میدان کھلا نہیں چھوڑا بلکہ اے اور بی ٹیم کو حمایت دینے کا فیصلہ لیا ہے اورا س کی تصدیق وزیر داخلہ امیت شاہ نے جموں دورے کے دوران کی ہے۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ہماری پہچان، ہمارا وجود، ہماری عزت، سب کچھ تہس نہس ہوا، ہمیں پارلیمنٹ میں اُس پارٹی کا نمائندہ ہونا چاہئے جو وہاں جاکر عوام کی آواز بلند کرنے میں کوئی کثر باقی نہ رکھے۔ اُمیدوار وہ ہونا چاہئے جو صحیح معنوں میں آپ کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرے،جس کی آواز میں دم ہو ۔نہ کہ وہ اُمیدوار جو لوگوں کو تقسیم کرے۔
انہوں نے کہاکہ ہمیں وہ آوازیں نہیں چاہئے جو یہاں کے عوام کو آپس میں لڑوائے، جو ہمارے اتحاد و اتفاق کو کمزور کرے،بدقسمتی سے ہمارے یہاں ویسے بھی اُمیدار ہیں، جو اس بات سے خوش نہیں تھے کہ ہم ساتھ لڑیں، جنہوں نے بار بار ایک ڈیڑھ سال ہمارے خلاف تقریریں کیں اور تقریروں کے ذریعے ہمیں لڑوانے کاکام کیا۔
ان کے مطابق کیا ہم بھول جائیں جب جب انہوں نے اتحاد کے دوران تقریریں کی تو صرف نیشنل کانفرنس کو نشانہ بنایا،آج اگر ہمارے اتحاد اور اتفاق کو زک پہنچایا ہے تو اُن کی تقریریوں سے پہنچا ہے،آج ایک سٹیج پر کھڑے نہیں کیونکہ اِن لوگوں نے لڑوانے اور تفرقہ ڈالنے میں کوئی کثر باقی نہیں چھوڑی۔ا
ین سی نائب صدر نے کہا کہ مشکلات کی کمی نہیں، مصائب کی کمی نہیں، مطالبوں کی کمی نہیں، چاہئے نوجوانوں کے مطالبے ہوں، سڑکوں کے مطالبے ہوں، روزگا رکے مطالبے ہوں، لوگ گوناگوں مشکلات سے دوچار ہیں۔
بے روزگار کی حد یہ ہے کہ آج پی ایچ ڈی سکالروں کیلئے نوکریاں نہیں، ایک وقت تھا جب پی ایچ ڈی والوں کو فوری طور پر اسسٹنٹ پروفیسر کی نوکری ملتی تھی لیکن آج پی ایچ ڈی سکالروں کو نیڈ بیسڈ بنیادوں محدود مدت کیلئے روزگار دیا جاتا ہے اور پھر نکالا جاتا ہے، اور یہی سب کا حال ہے، پہلے استعمال کرتے ہیں پھر بے عزت کرتے ہیں، ان لوگوں (حکمرانوں )نے کس کو بے عزت نہیں کیا، یہاں تو اب ہم اپنی سڑکیں استعمال نہیں کر پاتے ہیں۔
یو این آئی،ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
