تازہ ترین
چین میں اویغور مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظالم کی کہانی
رضوان سلطان:
چین کے سنکیانگ صوبے میں مسلمانوں پر ڈھائے جانے والے مظا لم کے بارے میں اگر آپ آج تک بے خبر رہے ہیں تو آج ہم آپ کو ان مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم کے بارے میں خبر دار کریں گے ۔
بات ۱۰ اگست کی ہے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے پینل نے چین پر الزام لگاتے ہوئے کہا کہ چین نے شنکیانگ صوبے میں رہنے والے اویغور مسلمانوں میں سے 10 لاکھ کو خفیہ قید خانوں میں منتقل کیا ہے ۔ یو این کی Elimination of Racial Discrimnation کمیٹی کی ممبر گئے میکڈوگل نے نے کہا کہ ’’ ہم بہت فکر مند ہیں ہمیں معتبر رپورٹس ملی ہیں کہ مذہبی شدت پسندی اور سماجی توازن کو بر قرار رکھنے کے نام پر چین نے اویغور خود مختار علاقہ شنکیانگ کو خفیہ طریقے سے ایک قید خانے میں تبدیل کیا ہے ‘‘۔جبکہ جنیوا سیشن میں موجود چین کے ۵۰ افراد پر مشتمل وفد نے اس پر کوئی جواب نہیں دیا ۔
شنکیانگ صوبے کے اویغور مسلمان کون ہیں اور ان پر مظالم کیوں ڈھائے جا رہے؟؟
شنکیانگ صوبہ چین کا سب سے بڑا صوبہ ہے ، اور اس صوبے کی سرحدیں پاکستان ، بھارت ، منگولیا ، کزاکستان ، کرگستان اور افغانستان سے ملتی ہیں ۔اگر چہ ااس صوبے نے 1940 میں کچھ وقت کیلئے آزادی دیکھی ، لیکن 1949میں چین میں کمیینسٹوں کے پاور میں آنے کے بعد یہ صوبہ پھر سے چین کے قبضے میں چلا گیا ۔اس صوبے کی ۲۲ ملین آبادی میں سے 45فیصد ترکی بولنے والے اویغور مسلمان ہیں ۔ جن کی آبادی ااس صوبے میں سب سے زیادہ ہے ، اس کے بعد ہن چینی ہیں جن کی آبادی ۴۰ فیصد ہے ۔
قدرتی وسائل سے مالا مال صوبے میں ہن چینیوں نے بڑے پیمانے اس صوبے میں نقل مکانی کی ۔ لیکن اویغور مسلمانوں کو ان کے بارے میں تحفظات ہیں کہ یہ ان کی روایات اور ثقافت کو ختم کرنے کی سازش کی جا رہی ہے ۔
بی بی سی کے مطابق اویغور مسلمانوں کے ہن مخالف اور چین سے علیحدگی کے جذبات کے پیش نظر تشدد کے واقعات 1990 سے زیادہ بڑھنے لگے ، اویغور مسلمانوں نے چین کی انتظامیہ پر امتیازی سلوک برتنے کا الزام بھی لگایا ہے ۔چین میں ہونے والے شدت پسند ی کے واقعات اور بم دھماکوں کا الزام چین سیدھے اویغور علیحدگی پسند مسلمانوں کو ٹھراتی آرہی ہے لیکن اویغور رہنما ان الزامات کی تردید کرتے ہیں ۔وہیں مسلماونوں کو چن چن کر ری ایجوکیشن سیٹروں میں بھرنے اور شدت پسندی انکے ذہنوں سے نکالنے جیسے بہانے کا جواز پیش کرتے ہوئے چینی میڈیا نے کہا ہے کہ ایسا قدم مذہبی شدت پسندی کو روکنے کیلئے ضروری ہے ۔چائنا ہومن رایٹس ڈیفنڈرس کی ایک رپورٹ کے مطابق چین میں 2017میں228000افراد کو گرفتار کیا گیا ، جن میں سے21 فیصد کا تعلق شنکیانگ صوبے سے ہے ، اور ان کی کل آبادی چین میں کل1.5فیصد بنتی ہے ۔
پابندیاں :
اگر ہم شنکیانگ کے مسلمانوں پر پابندیوں کی بات کریں تو2014 میں سنکیانگ انتظامیہ نے اویغور مسلمانوں پر روزے رکھنے کی پابندی لگا دی ، وہیں اس کے علاوہ ان پر دیگر مذہبی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر بھی پابندی لگا دی گئی۔اسی طرح سے 2017 میں کچھ عرصے کے لئے حکام نے داڑھی والے نوجوانوں اور ، برقعہ ، اور سکارف پوش خواتین پر پبلک ٹرانسپورٹ میں سفر کرنے پر پابندی لگا دی ۔
ستمبر 2017 میں ایک اور حیران کن پابندی لگا دی گئی ریڈیو فری ایشا کے مطابق اویغور مسلمانوں کو کہا گیا کہ وہ قرآن ، جائے نماز اور باقی مذہبی کتابوں جن پر چاند اور ستارے جیسے نشان ہو ں کو حکام کے حولاے کریں ۔
اتنا ہی نہیں ان مسلمانوں کو سور کا گوشت کھانے کے لئے مجبور کیا جاتا ہے ، اسکے علاوہ نئے پیدا ہونے والے بچوں کو مسلم نام رکھنے پر بھی پابندی ہے
تمام مساجد پر چین کا جھنڈا بلند کرنے کی ہدایات ہیں ، وہیں ان کے فونز گھروں اور سڑکوں پر لگائے گئے سپائی کیمروں کے ذریعے ان پر کڑی نظر رکھی جاتی ہے ۔
دنیا
ٹرمپ نے اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ‘لیک امریکہ’ رکھ دیا
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ اور کینیڈا کے درمیان واقع اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” رکھنے کے لیے ایک انتظامی حکم نامے پر دستخط کیے ہیں۔
ٹرمپ نے حکم نامے پر دستخط کرنے سے قبل اوول آفس میں کہا، ”ہم اونٹاریو جھیل کا نام فوری طور پر تبدیل کرکے لیک امریکہ کرنے جا رہے ہیں۔ میں ابھی اس حکم نامے پر دستخط کر رہا ہوں۔” انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے ذریعے وہ کوئی خاص پیغام نہیں دے رہے، تاہم وہ طویل عرصے سے اس بارے میں سوچ رہے تھے۔
ایک روز قبل صدر ٹرمپ نے کینیڈا کے ساتھ جاری تجارتی تنازع کے دوران ایک ویڈیو پوسٹ کی تھی، جس میں انہوں نے نقشے پر علامتی طور پر اونٹاریو جھیل کا نام تبدیل کرکے ”لیک امریکہ” دکھایا تھا۔
تاہم کینیڈا کے وزیر اعظم مارک کارنی نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے اس کا نام ”لیک امریکہ” رکھے جانے کے باوجود کینیڈا اس جھیل کو اونٹاریو جھیل ہی کہتا رہے گا۔
کارنی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا، ”ہم جانتے ہیں کہ امریکہ تجارتی تعلقات، خارجہ پالیسیاں، قومی یادگاروں اور آبی ذخائر کے نام بھی تبدیل کر رہا ہے، لیکن کینیڈین جانتے ہیں کہ حقیقت میں اس کا نام اونٹاریو جھیل ہی ہے—تب بھی، اب بھی اور ہمیشہ یہی رہے گا۔”
وزیر اعظم نے یاد دلایا کہ جھیل کا نام مقامی باشندوں کی زبان سے نکلا ہے اور اس کی تاریخ چار صدیوں سے بھی زیادہ پرانی ہے۔ یہ نام کینیڈین کنفیڈریشن اور امریکہ کے اعلانِ آزادی، دونوں سے بھی پہلے کا ہے۔
کارنی کے مطابق ”لیک اونٹاریو” کا نام وینڈاٹ زبان کے لفظ ”اونٹاریو” سے ماخوذ ہے، جس کا مطلب ”جھیل خوبصورت ہے، جھیل بڑی ہے” ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ نام 400 سال سے زیادہ پرانا ہے۔
اونٹاریو جھیل گریٹ لیکس نظام کا حصہ ہے اور امریکہ اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ اس کے ساحل امریکی ریاست نیویارک اور کینیڈا کے صوبے اونٹاریو سے ملتے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
جموں و کشمیر
کشمیر میں عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں اولین ترجیح رہیں گی: نئے آئی جی پی
سری نگر، کشمیر کے نو تعینات انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) سجیت کمار نے جمعہ کے روز کہا کہ کشمیر میں عسکریت پسندی کے خلاف کارروائیاں پولیس کی اولین ترجیح برقرار رہیں گی۔
سجیت کمار نے جمعرات کو کشمیر کے آئی جی پی کا عہدہ سنبھالا تھا۔ انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندی مخالف کارروائیاں پولیس کی پہلی ترجیح تھیں اور آئندہ بھی رہیں گی۔
عید میلاد النبیؐ کے موقع پر جمعہ کی نماز کے لیے بڑی تعداد میں لوگوں کے اجتماع کے پیش نظر سری نگر کے حضرت بل درگاہ کے دورے کے دوران صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، حالیہ دنوں وادی میں عسکریت پسندوں کے معاونین (او جی ڈبلیوز) کی گرفتاریوں اور عسکریت پسندی مخالف کارروائیوں کے دوران برآمدگی کے بارے میں پوچھے گئے سوال کے جواب میں آئی جی پی نے کہاکہ ’’کارروائیاں ہماری پہلی ترجیح تھیں اور اب بھی ہماری ترجیح ہیں۔‘‘
آئی جی پی نے کہا کہ عید میلاد کے موقع پر جمعہ کے دن بڑے اجتماعات کے پیش نظر پولیس کی توجہ نمازوں کے پرامن اور منظم انعقاد کو یقینی بنانے پر بھی مرکوز ہے۔
انہوں نے کہا کہ پولیس بڑے اجتماعات کے مؤثر انتظام اور سکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے پولیس ٹیموں اور دیگر سکیورٹی و سول ایجنسیوں کے درمیان تال میل کا بھی جائزہ لے رہی ہے۔
سجیت کمار نے کہا کہ سری نگر کے دیگر مقامات پر بھی اسی طرح کے انتظامات کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
انہوں نے عوام سے اپیل کی کہ وہ پولیس اور سکیورٹی ایجنسیوں کے ساتھ تعاون کریں۔
انہوں نے عوام کو یقین دلایا کہ زونل پولیس ان کی حفاظت کے لیے پوری طرح پرعزم ہے اور امن و سلامتی برقرار رکھنے میں عوام سے پولیس کا تعاون کرنے کی اپیل کی۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
