جموں و کشمیر
اُمید کرتا ہوں کہ جماعت اسلامی پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے گا: عمر عبداللہ
سری نگر، نیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ جموں وکشمیر کے عوام کے مفادات، عزت نفس اور خدااعتمادی کیلئے نیشنل کانفرنس نے بیش بہا قربانیاں پیش کی ہیں۔
انہوں نے کہاکہ نیشنل کانفرنس کا جھنڈا لال رنگ نہیں بلکہ اس جماعت کے جانثاروں کے گرم گرم لہو ہے، اس جماعت نے اس قوم کو شخصی راج کی اُس غلامی سے نجات دلائی جب یہاں عوام سیاسی اور اقتصادی غلامی کی چکی تلے پس رہے تھے، ہمیں مال مویشیوں کی طرف بیچا اور خریدار جاتا تھا، ایک راجا ہمیں فروخت کرتا تھا اور دوسرا راجاہمیں خریدلیتا تھا
ان باتوں کا اظہارموصوف نے سونہ واری اور بانڈی میں عوامی اجتماعات سے خطاب کے دوران کیا۔
عمر عبداللہ نے کہاکہ ”نیشنل کانفرنس نے کبھی اپنا موقف نہیں بدلا، ہم جو بات 35سال قبل کہتے تھے وہی بھی کرتے ہیں۔ ہم نے 35سال پہلے بھی کہا تھا بندوق کسی مسئلے کا حل نہیں اور آج بھی یہی بات دہراتے ہیں۔ جب مرحوم عبدالغنی لون صاحب نیشنل کانفرنس صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ سے ملاقات کرنے کیلئے آئے اور اُن سے کہاکہ میں سرحد پار بندوق لانے کیلئے جارہا ہوں۔
اُس وقت ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے انہیں ایسا کرنے سے ہاتھ جوڑ کا منع کیا اور کہا کہ اس سے یہاں تباہی اور بربادی آئے گی، ہماری نوجوان نسل ختم ہوجائے گی، قبرستانوں کے قبرستان بھر جائیں گے اور دریاﺅں میں خون بہے گا لیکن وہ نہیں مانے اور بندوق لائی۔
انہوںنے کہاکہ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے حضرت بل میں بھی اپنی تقریر میں یہاں کے نوجوانوں سے اپیل کی تھی کہ اگر آپ کو فاروق عبداللہ پسند نہیں تو میں چلا جاﺅں گے، لیکن خدارا بندوق مت اُٹھائے، آپ کا مستقبل تباہ ہوگا، کچھ نہیں بدلے گا، لیکن اُس وقت ایسی فضا بنی اور ایسے حالات بنے کہ لوگ اس میں بہہ گئے لیکن آج تک کچھ نہیں بدلا، اُلٹا ہم تباہ اور برباد ہوگئے۔
ان کے مطابق اللہ کا شکر ہے کہ کل جماعت اسلامی نے اعلان کیا ہے کہ اگر جماعت پر پابندی ہٹائی جائے گی تو وہ انتخابات میں حصہ لیں گے، میں اس کا خیر مقدم کرتا ہوں اور اُمید کرتا ہوں کہ ان پر عائد پابندی کو فوری طور پر ختم کیا جائے۔ جتنی جلدی یہ میدان میں اُتریںگے، جتنی جلدی وہ اپنے اُمیدوار اُتاریں گے اُتنا ہی اچھاہے۔ ہم روز اول سے ہی کہتے آئے ہیں کہ بندوق اور پتھراﺅ سے کچھ نہیں بدلے گا، خراب حالات سے کچھ نہیں بدلے گا، کچھ بدلے گا تو ہمیں اپنے ووٹ کا استعمال کرکے اپنا مستقبل بدلنا ہے۔ “
این سی نائب صدر نے عوام سے مخاطب ہوئے ہوئے کہا کہ ” اگر آپ تھوڑا غور کریں گے تو آپ پائیں گے کہ تمام ایجنسیوں، بھاجپا، نئی دلی، ناگپور، اے ٹیم، بی ٹیم، سی ٹیم اور ڈی ٹیم کی تمام تر توجہ اس بارہمولہ نشست پر مرکوز ہے اور سبھی کی مشترکہ کوشش ہے کہ نیشنل کانفرنس کو کس طرح سے کمزور کیا جائے، کس طرح سے جوڑ توڑ کیا جائے، کسی طرح سے ووٹوں کی تقسیم کی جائے، آپ کو ان طاقتوں کو جواب دینا ہوگا، تمام سازشوں کا باریک بینی سے جائزہ لینا ہوگا ،20مئی کو یہ تمام عناصر کھلے میدان میں ہونگے جہاں آپ انہیں اپنے قیمتی ووٹوں کے ذریعے آسانی سے زیر کرسکتے ہیں۔“
انہوں نے کہا کہ ہماری لڑائی کسی ایک شخص، کسی ایک طبقے یا کسی ایک مذہب کی لڑائی نہیں ہم اس پوری قوم کیلئے لڑ رہے ہیں۔ ہم صرف کسی ایک قیدی کو چھڑانے کی بات نہیں کرتے، ہم اُن تمام ہزاروں سے زائد قیدیوں کی رہائی اور وطن واپسی کی بات کریں گے جو باہری جیلوں میں برسوں سے اسیرہیں۔ انشاءاللہ ستمبر میں نیشنل کانفرنس کی حکومت آئی تو اولین فرصت میں ان مقید نوجوانوں کی رہائی کا سامان کیا جائے گا۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
