پاکستان
واحد پچھتاوا یہ ہے کہ اپنے دور اقتدار میں جنرل باجوہ پر اعتماد کیا: عمران خان
اسلام آباد، پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان نے کہا ہے کہ مجھے اپنے دور اقتدار کا واحد پچھتاوا یہ ہے کہ میں نے سابق آرمی چیف جنرل ریٹائرڈ قمر جاوید باجوہ پر اعتماد کیا تھا۔
اڈیالہ جیل میں قید سابق وزیر اعظم عمران خان نے ’زیٹیو‘ کے صحافی مہدی حسن کو انٹرویو میں پاکستان کی سیاسی اور عسکری قیادت کو تنقید کا نشانہ بنایا جس میں ان کے سابقہ دوست اور بعد میں بڑے مخالف بن جانے والے جنرل قمر جاوید باجوہ کو خصوصی طور پر آڑے ہاتھوں لیا گیا۔
صحافی مہدی حسن نے بذریعہ خط سوالات جیل بھیجے تھے اور صحافی دوبدو ملاقات کی سہولت میسر نہ تھی جس کی وجہ سے انہیں جیل سے خط کے ذریعے میں بھجوائے گئے جوابات پر ہی اکتفا کرنا پڑا۔
جب عمران خان سے پوچھا گیا کہ وہ اپنی حالیہ قید کا ذمہ دار کسی سمجھتے ہیں تو انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے یہ سزا جنرل باجوہ کی ترتیب کردہ ہے اور میں کسی اور کو اس کا ذمہ دار نہیں سمجھتا۔ان کا کہنا تھا کہ جنرل باجوہ نے یہ منصوبہ بہت احتیاط سے ترتیب دیا اور اس پر عمل کیا، قومی اور بین الاقوامی سطح پر افراتفری پھیلانے کے لیے جھوٹی اور من گھڑت داستانیں اور بیانیے بنائے تاکہ وہ دوسری مرتبہ بطور آرمی چیف اپنی مدت ملازمت میں توسیع کرا سکیں۔
2019 میں عمران خان نے بطور پر وزیراعظم جنرل قمر جاوید باجوہ کی مدت ملازمت میں ان کی ریٹائرمنٹ سے محض تین ماہ قبل مزید تین سال توسیع کی منظوری دی تھی تاہم بول نیوز کو 2022 میں دیے گئے انٹرویو میں عمران خان کہا تھا کہ انہوں نے توسیع دے کر غلطی کی تھی۔
عمران خان نے حالیہ انٹرویو میں مزید کہا کہ جنرل باجوہ جمہوریت اور پاکستان پر ان کے اقدامات کی وجہ سے مرتب ہونے والے نقصان دہ اثرات کو سمجھنے میں مکمل طور پر ناکام رہے۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اب بھی یقین رکھتے ہیں کہ امریکی صدر جو بائیڈن کی انتظامیہ انہیں عہدے سے ہٹانے کے لیے بغاوت میں ملوث تھی تو اس بار عمران خان نے اس معاملے کی تمام تر ذمہ داری سابق آرمی چیف جنرل باجوہ پر عائد کی۔انہوں نے کہا کہ جنرل باجوہ نے اکیلے ہی امریکا جیسے ممالک میں میرے بارے میں کہانیاں پھیلائیں اور ایسے ظاہر کیا کہ جیسے میں امریکہ مخالف ہوں یا ان کے ساتھ اچھے تعلقات میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا۔
عمران نے کہا کہ اقتدار کے لیے ان کی ہوس نے انہیں ناقابل اعتبار بنا دیا تھا اور وہ ذاتی مفاد کے لیے وہ سوچے سمجھے بغیر ایسے فیصلے کرنے لگے جس سے ملک کو نقصان پہنچا۔
ان کا کہنا تھا کہ میں نے پاکستان میں قانون کی حکمرانی کے لیے مسلسل جدوجہد کی ہے، اگر معاشرے میں یکساں بنیادوں پر انصاف فراہم کیا جا رہا ہوتا تو ملکی سیاست میں مجھ جیسے شخص کی ضرورت ہی نہ ہوتی۔
جب ان سے پاکستان کے دیرینہ دوست اور مسلم برادر ملک سعودی عرب کے ساتھ ساتھ پاکستانی عسکری اور فوجی قیادت سے تعلق خراب کرنے کے حوالے سے سوال کیا گیا تو بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ میں نے اپنی حکومت گرائے جانے کے بعد بھی زیادہ تر ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار رکھے تھے، جنرل باجوہ کے زہریلے بیانیے کا اثر کچھ وقت تک تو رہ سکتا ہے لیکن یہ دیرپا نہیں رہے گا۔انہوں نے مزید کہا کہ زیادہ تر ممالک ہماری فوج کو غیر مستحکم سیاسی منظر نامے میں ایک مستحکم قوت کے طور پر دیکھتے ہیں، جب ملک کی ’ایک مستقل طاقت‘ کا سربراہ وحشیانہ طاقت اور دھوکا دہی کا بے دریغ استعمال کرتا ہے تو بہت سے ممالک کے لیے بات کرنا مشکل ہو جاتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں کہ لوگ میرے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں نہ بولیں لیکن دنیا کو جمہوریت اور پاکستان کے ان 25 کروڑ عوام کے لیے آواز بلند کرنی چاہیے جن کا مینڈیٹ دن دیہاڑے چرا لیا گیا۔
جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ موجودہ حکومت کو تسلیم کرتے ہیں تو عمران خان نے کہا کہ یہ حکومت جائز نہیں ہے اور مسلم لیگ(ن) پارلیمنٹ میں بمشکل ہی کوئی سیٹ جیت سکی تھی۔
انہوں نے کہا کہ تشدد، اور پری پول دھاندلی واضح تھی جبکہ انتخابات کے بعد بھی انہیں نتائج کو تبدیل کرنے میں تقریباً دو دن لگے اور فارم 45 کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ وہ یہ کام بھی ٹھیک سے نہیں کر سکے۔
عمران خان نے دعویٰ کیا کہ کوئی بھی پاکستانی یہی کہے گا کہ موجودہ حکومت جائز نہیں ہے، ہماری شناخت اور قیادت کو کمزور کرنے کی کوششوں کے باوجود انتخابات میں میری پارٹی کی جیت واضح تھی۔
انہوں نے صحافی کو بتایا کہ مجھے اپنے کیے پر کوئی پچھتاوا نہیں اور میں ایک پاکستانی اور مسلمان کے طور پر اپنا فرض ادا کر رہا ہوں۔
بانی پی ٹی آئی نے کہا کہ لوگوں میں میری مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ انہیں معلوم ہے کہ میں ان سے کبھی جھوٹ نہیں بولوں گا، وہ جانتے ہیں کہ کوئی رقم مجھے خرید یا تبدیل نہیں کر سکتی، وہ جانتے ہیں کہ میں کبھی جھکوں گا اور نہ انہیں مایوس کروں گا۔
جب سابق وزیراعظم سے پوچھا گیا کہ دنیا کے لیے ان کا کیا پیغام ہے تو عمران خان نے کہا کہ یہ صرف عمران خان کی بات نہیں ہے، یہ جمہوریت اور کروڑوں عوام کے حق خود ارادیت پر حملہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی جماعت پر ہر ممکن طریقے سے حملہ کیا گیا اور اس ملک کی ہر پارٹی اس الیکشن کو ملکی تاریخ کا بدترین الیکشن قرار دیتی ہے۔
عمران خان کا کہنا تھا کہ انتخابات سے عوام کے اعتماد اور مینڈیٹ کی بدولت ملک میں استحکام لانا ہوتا ہے، اس الیکشن نے نہ تو کچھ حاصل تو نہ کیا بلکہ الٹا عوام اور حکمران اشرافیہ کے درمیان غیر یقینی صورتحال اور عدم اعتماد کی خلیج کو مزید وسیع کردیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان، امریکہ۔ایران معاہدے کے لئے مزید 60 روزہ فائر بندی چاہتا ہے
اسلام آباد، پاکستان نے کہا ہے کہ امریکہ۔ایران جنگ بندی کے لئے 60 روزہ مذاکرات کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
پاکستان کے حکومتی ذرائع کی اج بروز بدھ انادولو ایجنسی کو فراہم کردہ معلومات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان کئی ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے حتمی معاہدے تک پہنچنے کی غرض سے 60 روزہ نئے مذاکراتی دور کے آغاز کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔
ذرائع نے کہا ہے کہ اسلام آباد مفاہمت کے تحت تجویز کردہ نئے شیڈول کا مقصد، آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور ایران پر عائد پابندیاں ختم کرنے کے معاملے پر تعطل کے شکار، براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنا ہے۔ اطلاع کے مطابق پاکستان کی تجویز کا مقصد فریقین کے درمیان مذاکراتی عمل کو دوبارہ فعال کرنا ہے۔
پاکستان کی نئی تجویز کے حوالے سے واشنگٹن، تہران یا اسلام آباد کی حکومتوں کی جانب سے تاحال کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا۔ اسلام آباد کی یہ نئی کوشش ابتدائی 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے ختم ہونے کے بعد سامنے آئی ہیں۔ فریقین نے اس مدت میں توسیع کے حوالے سے کوئی اعلان نہیں کیا تھا۔ یہ مدت 17 جون کو شروع ہوئی اور 16 اگست کو ختم ہوگئی تھی۔
پاکستانی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ مدت ختم ہونے کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اس بات پر ایک غیر اعلانیہ مفاہمت موجود ہے کہ دونوں ممالک نیا تنازعہ شروع نہیں کریں گے۔
بتایا گیا ہے کہ تازہ پیش رفت پاکستان کے چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے حالیہ دورۂ تہران کے بعد سامنے آئی ہے۔ منیر کی ایرانی حکام کے ساتھ ہونے والی ملاقاتوں میں طویل عرصے سے تعطل کے شکار امریکہ-ایران براہِ راست مذاکرات کو دوبارہ شروع کرنے اور آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کے لیے نئی تجاویز پر غور کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
پاکستان
پاکستان کے اسپتال کی نرسری میں آتشزدگی، کم از کم 15 نومولود بچے جاں بحق
اسلام آباد، پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے ایک سرکاری اسپتال کی نرسری میں آگ لگنے سے کم از کم 14 نومولود بچے جاں بحق ہوگئے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے واقعے پر تحقیقات کا حکم دیا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق آگ بدھ کی صبح پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پی آئی ایم ایس) اسپتال کے مدر اینڈ چائلڈ سینٹر کی تیسری منزل پر لگی۔
مقامی نشریاتی ادارے جیو ٹی وی نے اسپتال ذرائع کے حوالے سے ہلاکتوں کی تعداد 15 بتائی ہے۔
رپورٹ کے مطابق آگ مقامی وقت کے مطابق صبح 7 بجے سے کچھ دیر پہلے لگی اور اب اس پر قابو پا لیا گیا ہے۔ جیو ٹی وی نے بتایا کہ صرف ایک نومولود بچے کو زندہ بچایا جا سکا۔
وزیراعظم شہباز شریف نے ایکس پر جاری بیان میں جاں بحق بچوں کے اہل خانہ سے ’’گہری تعزیت‘‘ کا اظہار کرتے ہوئے حکام کو ’’فوری تحقیقات‘‘ کی ہدایت کی۔
انہوں نے یقین دلایا کہ واقعے کے ذمہ دار افراد کے خلاف ’’سخت ترین کارروائی‘‘ کی جائے گی۔
جیو ٹی وی نے امدادی ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ ابتدائی طور پر آگ لگنے کی وجہ خراب ایئر کنڈیشننگ یونٹ میں شارٹ سرکٹ کو قرار دیا جا رہا ہے۔
پاکستان میں عمارتوں میں آتشزدگی کے واقعات عام ہیں، جہاں حفاظتی ضوابط اور تعمیراتی قوانین پر اکثر عمل نہیں کیا جاتا یا ان کا نفاذ مؤثر نہیں ہوتا۔ جنوری میں جنوبی بندرگاہی شہر کراچی کے ایک گنجان تجارتی مرکز میں شدید آتشزدگی سے کم از کم 65 افراد جاں بحق ہوئے تھے۔
بدھ کا واقعہ پاکستان کی تاریخ میں اسپتالوں میں پیش آنے والے ہلاکت خیز آتشزدگی کے واقعات میں سے ایک ہے۔ حکومت سرکاری اسپتالوں کے ذریعے رعایتی طبی سہولیات فراہم کرتی ہے، تاہم سرکاری شعبہ صحت شدید مالی قلت، ناقص انتظام اور گنجائش سے زیادہ مریضوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
