ہندوستان
سپریم کورٹ میں کیجریوال کو نہیں ملی راحت، منگل کو آ سکتا ہے ہائی کورٹ کا فیصلہ
نئی دہلی، سپریم کورٹ نے پیر کے روز ایکسائز پالیسی میں مبینہ گھوٹالہ سے متعلق منی لانڈرنگ کیس کے ملزم دہلی کے وزیر اعلی اروند کیجریوال کی ضمانت پر دہلی ہائی کورٹ کے عبوری روک کو ‘تھوڑا غیر معمولی’ قرار دیا۔ اس معاملے کی اگلی سماعت 26 جون کو ہوگی ۔
جسٹس منوج مشرا اور جسٹس ایس وی این بھٹی کی تعطیلاتی بنچ نے متعلقہ فریقوں کے دلائل سننے کے بعد کہا کہ اگر اس دوران ہائی کورٹ اس معاملے میں کوئی حکم دیتا ہے تو اسے ریکارڈ پر لایا جا سکتا ہے۔
تاہم بنچ نے کہا کہ ہائی کورٹ کا حکم “تھوڑا غیر معمولی” تھا کیونکہ عام طور پر کوئی بھی حکم امتناعی سماعت کی تاریخ پر دیا جاتا ہے۔
انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی ) کی جانب سے پیش ہونے والے سالیسٹر جنرل تشار مہتا اور ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کے دلائل سننے کے بعد عدالت عظمیٰ نے کیس پر غور کے لیے 26 جون کی تاریخ مقرر کی ہے ۔ ای ڈی کی جانب سے انہوں نے کہا کہ ہائی کورٹ منگل کو اپنا حکم دے سکتا ہے۔ جس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت 26 جون تک ملتوی کرنے کا حکم دیا۔
سینئر وکیل ابھیشیک منو سنگھوی اور وکرم چودھری نے وزیراعلی کیجریوال کی طرف سے دلائل پیش کئے۔
ہائی کورٹ نے دہلی کی ای ڈی اور مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی ) کی خصوصی عدالت کے 20 جون کو مسٹر کیجریوال کو ضمانت دینے کے حکم پر اگلے 21 جون کو عبوری حکم امتناعی جاری کیا تھا۔
جسٹس سدھیر کمار جین کی تعطیلاتی سنگل بنچ نے دونوں فریقوں کے دلائل کو تفصیل سے سننے کے بعد مسٹر کیجریوال کی ضمانت پر عبوری روک لگا دی اور کہا کہ اس معاملے میں تفصیلی حکم اگلے دو تین دنوں میں دیا جائے گا۔ اس دوران نچلی عدالت کے حکم پر عبوری روک لگی رہے گی ۔
جج موصوف نے کہا تھا ‘میں دو سے تین دن کے لیے آرڈر کو محفوظ کر رہا ہوں۔ “نچلی عدالت کے حکم پر عمل درآمد کو اگلے حکم کے اعلان تک روک دیا گیا ہے۔”
ہائی کورٹ کی سنگل بنچ نے دونوں فریقوں سے کہا تھا کہ وہ 24 جون کو تحریری طور پر اپنے اپنے خیالات پیش کریں۔
راؤز ایونیو میں واقع ای ڈی اور سینٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) کی تعطیلی جج نیا ئے بندو نے 20 جون کو دیر شام کو مسٹر کیجریوال کو بڑی راحت دیتے ہوئے ضمانت دی تھی۔ اس حکم کے خلاف ای ڈی نے اگلے دن 21 جون کو دہلی ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور فوری سماعت کی درخواست کی۔
ہائی کورٹ کے سامنے ای ڈی کی طرف سے پیش ہوکر ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے ملزم وزیر اعلی کیجریوال کی رہائی پر روک لگانے کی درخواست کی اور اس درخواست کی فوری سماعت کی گزارش کی۔ یہ دعوی کرتے ہوئے کہ متعلقہ نچلی عدالت نے انہیں (ای ڈی) کو اپنا موقف پیش کرنے کا وقت موقع نہیں دیا تھا ۔
ہائی کورٹ کے سامنے مسٹر راجو نے کہا تھا ‘میں فوری طور پر روک لگانے کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ یہ حکم کل (جمعرات 20 جون) رات 8 بجے سنایا گیا ہے ۔ آرڈر ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کیا گیا ہے۔ ’’ہمیں (کیجریوال کی) ضمانت کی مخالفت کرنے کا واضح موقع نہیں دیا گیا ہے ۔‘‘
خصوصی عدالت نے مسٹر کیجریوال اور مرکزی تفتیشی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کی دو دن تک دلائل سننے کے بعد جمعرات 20 جون کی دیر شام مسٹر کیجریوال کی ضمانت کا حکم جاری کر دیا۔ عدالت نے ایک لاکھ روپے کے ذاتی مچلکے پر ان کی رہائی کا حکم دیا تھا۔
حکم جاری ہونے کے بعد ای ڈی نے خصوصی عدالت کے سامنے یہ کہتے ہوئے ضمانت کو چیلنج کیا تھا کہ ضمانتی مچلکے پر دستخط 48 گھنٹے کے لیے ملتوی کیے جا سکتے ہیں، لیکن خصوصی جج نے ای ڈی کی اس درخواست کو مسترد کر دیا تھا اور حکم پر عبوری روک لگا دی تھی۔ عدالت نے کہا تھا کہ ضمانتی مچلکے جمعہ 21 جون کو ڈیوٹی جج کے سامنے پیش کیے جائیں گے۔
عام آدمی پارٹی کے رہنما کیجریوال کو ای ڈی نے 21 مارچ کو گرفتار کیا تھا اور اس وقت وہ عدالتی حراست میں تہاڑ جیل میں بند ہیں۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
