جموں و کشمیر
کٹھوعہ میں فوجی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت 4 فوجی جاں بحق، چھ دیگر زخمی
جموں، جموں وکشمیر کے کٹھوعہ ضلع کے لوہی ملہار علاقے میں پیر کی سہ پہر ملی ٹینٹوں نے فوجی گاڑی پر گھات لگا کر حملہ کیا جس کے نتیجے میں جونیئر کمیشنڈ آفیسر(جے سی او) سمیت چار اہلکار جاں بحق جبکہ چھ دیگر زخمی ہوئے ہیں۔
معلوم ہوا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے ایک وسیع جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر حملہ آوروں کی بڑے پیمانے پر تلاش شروع کی ہے۔
اطلاعات کے مطابق کٹھوعہ ضلع کے لوہی ملہار بلاک کے مچھڈی علاقے میں پیر کی سہ پہر تین بجکر 30منٹ پر ملی ٹینٹوں نے فوجی کانوائی پر گھات لگا کر حملہ کیا ۔
ذرائع نے بتایا کہ ملی ٹینٹوں نے پہلے فوجی گاڑی پر گرینیڈ داغے اور اس کے بعد اندھا دھند فائرنگ شروع کی جس کے نتیجے میں گاڑی میں سوار جونیئر کمیشنڈ آفیسر سمیت دس اہلکار شدید طورپر زخمی ہوئے۔
حملے کی اطلاع ملتے ہی پولیس اور فوج کے سینئر آفیسران جائے موقع پر پہنچے اور زخمی ہوئے اہلکاروں کو علاج ومعالجہ کی خاطر نزدیکی ہسپتال منتقل کیا تاہم جے سی او سمیت چار اہلکار زخموں کی تاب نہ لا کر چل بسے۔
ذرائع کے مطابق حملے میں زخمی ہوئے چھ میں سے تین اہلکاروں کی حالت بھی تشویشناک بنی ہوئی ہے۔
باوثوق ذرائع نے بتایا کہ فوج ، پولیس ، پیرا کمانڈوز نے ایک وسیع جنگلی علاقے کو محاصرے میں لے کر بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا۔
ذرائع نے بتایا کہ جنگلی علاقے میں شدید گولیوں کا تبادلہ جاری رہا ہے جبکہ دہشت گردوں کو مار گرانے کی خاطر ہیلی کاپٹروں کی بھی خدمات حاصل کی گئی ہے۔
ان کے مطابق فوج ، پولیس کے سینئر آفیسران جائے موقع پر پہنچے اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد صوبے جموں میں سیکورٹی فورسز کو ہائی الرٹ پر رہنے کے احکامات صادر کئے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملی ٹینٹوں نے فوجی گاڑی پر چاروں طرف سے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں جوانوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملا۔
دفاعی ذرائع کے مطابق کٹھوعہ حملے میں چار فوجی اہلکار شہید ہوئے ہیں، ان کے مطابق فوج نے ایک وسیع العریض علاقے کو محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن کا دائرہ وسیع کیا ہے۔
ان کے مطابق جنگلی علاقے میں ملی ٹینٹوں اور فورسز کے مابین گولیوں کا تبادلہ جاری ہے اور ملی ٹینٹوں کو فرار ہونے کا کوئی موقع فراہم نہیں کریں گے۔
دریں اثنا کٹھوعہ میں فوجی کانوائی پر حملے کے بعد صوبہ جموں میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا ہے۔
کٹھوعہ ، راجوری ، پونچھ ، ریاسی اور جموں میں بھی اضافی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ہے جبکہ لوگوں سے تلقین کی گئی ہے کہ مشکوک نظر آنے والے افراد کے بارے میں فوری طورپر نزدیکی پولیس اسٹیشن کے ساتھ رابط قائم کریں۔
واضح رہے کہ گزشتہ ایک ماہ سے جموں صوبے میں لگاتار حملے ہو رہے ہیں ، گر چہ سیکورٹی ایجنسیوں نے نئی حکمت عملی بھی ترتیب دی تاہم ملی ٹینٹوں کی جانب سے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
