تازہ ترین
سچائی کا سامنا کریں خود کا بھی محاسبہ کریں!!
تحریر: جاوید اختر بھارتی
جمعہ کا دن ہے لوگ صبح سے ہی گھر آنگن اور کپڑوں کی دھلائی صفائی میں لگے ہوئے ہیں غسل بھی کررہے ہیں اور نئے لباس بھی پہن رہے ہیں ہر شخص اپنی حیثیت اور وسعت کے اعتبار سے تبدیل نظر آرہاہے بچے جوان بوڑھے سبھی کی زبان سے یہی ایک لفظ نکلتا ہے کہ آج جمعہ کا دن ہے ، آج سید الایام ہے ، آج چھوٹی عید ہے آج ہم جامع مسجد جائیں گے پوری بستی کے لوگوں سے ملاقات ہوگی سب کے حالات سے واقفیت حاصل ہوگی ہم سب ایک دوسرے سے تبادلۂ خیال کریں گے جمعہ کی مبارکباد بھی پیش کریں گے غرضیکہ مؤذن نے اذان کے کلمات بلند کئے لوگ خراماں خراماں مسجد کی طرف کوچ کرنے لگے دیکھتے ہی دیکھتے پوری مسجد کھچا کھچ بھر گئی کوئی سنت و نوافل پڑھنے میں مصروف ہے تو کوئی قرآن کی تلاوت میں لگا ہوا ہے تو کوئی ہاتھوں میں تسبیح لے کر ذکر و اذکار کررہا ہے اور سبھی لوگ مسجد کے امام و خطیب کا بڑی بے صبری سے انتظار بھی کررہے ہیں اچانک محراب کے بغل کا دروازہ کھلتا ہے لوگوں نے امام شیخ کو مسجد میں داخل ہوتے دیکھا
شیخ صاحب سیدھے منبر پر چڑھے، مائیک تھاما اور سامعین کو مخاطب کرتے ہوئے صبر و استقامت کی تلقین اور اسراف نہ کرنے کے متعلق وعظ کرنے لگے.
حاضرین میں موجود ایک خاکروب بھی تھا، وہ اپنی جگہ پر کھڑا ہوا اور کچھ کہنے ہی لگا تھا کہ حاضرینِ مجلس و مصلیان مسجد نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔ دوران خطبہ اپنی حاجت نہیں پیش کی جاتی، صبر کرو، وعظ مکمل ہو لینے دو۔
خاکروب کہنے لگا کہ وہ عرصہ دراز سے محترم شیخ کی اقتدا کر رہا ہے لہذا اسے بولنے دیا جائے۔ کیوں کہ اس سے بہتر موقع میسر ہونا مشکل ہے.
خاکروب نے اجازت کا اشارہ پاتے ہی کہنا شروع کردیا:
جناب شیخ: آپ ابھی ابھی لگژری گاڑی سے آئے ہیں، عمدہ ترین لباس زیب تن کیے ہوئے ہیں،، اور پوری مسجد کو معطر کردینے والی خوشبو میں رچے بسے یہاں تشریف لائے ہیں۔ آپ کے ہاتھ میں چار انگوٹھیاں ہیں، ہر انگوٹھی کی قیمت میری تنخواہ کے برابر ہے، اور آپ کا فون آئی فون ہے۔ ہر سال آپ عمرے کی ادائیگی کے لیے سفر کرتے ہیں.
شیخ صاحب! ایک دن میرے ساتھ میرے کمرے میں چلیں جس کی چھت لوہے کی چادروں سے بنی ہوئی ہے، میری خواہش ہےکہ آپ وہاں ایک رات میرے ساتھ قیام کریں، اور ایئر کنڈیشن کے بغیر سوئیں .. پھر آپ تہجد کے وقت اٹھ کر بھوکے پیٹ میرے ساتھ کام کے لیے نکلیں، میرے ساتھ اس شدید گرمی میں شاہراہوں کو صاف کرنے کے لیے جھاڑو لگائیں، تاکہ آپ کو صبر اور روزے کا حقیقی مطلب معلوم ہوجائے. میں یہی کام ہر روز بلا ناغہ کرتا ہوں تاکہ مہینے کے آخر میں تھوڑی سی رقم مل سکے جو آپ کی خریدی ہوئی عطر کی شیشی کی قیمت کے برابر بھی نہیں ہوتی..!
معاف کیجیے شیخ! ہمیں صبر سیکھنے کی ضرورت نہیں کیونکہ یہ تو ہمارا روز اول سے رفیق ہے. بلکہ اس منبر کا تقاضا ہے کہ آپ، سفید لبادوں میں ملبوس کاروباری حضرات کے ظلم و ستم اور اہل علم و دانش کی منافقت کے بارے میں کھل کر بیان کریں …
بے روزگاری اور بھوک کے بارے میں بتائیں، جو معاشرے میں جنگل کی آگ کی طرح پھیلی ہوئی ہے. مظلوم لوگوں کے استحصال اور غریب کی فاقہ کشی کی بارے میں بتائیں کہ ان کے لیے اہل ثروت کے پاس کیا پالیسی ہے. کرپشن اور عوام کے پیسے کی لوٹ مار کے بارے میں بتائیں. ہمیں طبقاتی تقسیم اور دولت کی غیر منصفانہ تقسیم میں انصاف کی عدم موجودگی کے بارے میں بتائیں. ہمیں اقربا پروری، موروثیت، اور اپنے کرم فرماؤں کو نوازنے کے بارے میں بتائیں. ورنہ ہمیں آپ کے عمل سے خالی وعظ کی مزید ضرورت نہیں ہے-
آپ کے وعظ ونصیحت کا کچھ حاصل بھی نکلنا چاہئے اور یاد رکھیں کہ بھوک سارے آداب و تہذیب کو بھلا دیتی ہے ایک چوراہے پر کوئی ایسا انسان ملے جس کے پیروں میں جوتے اور چپل نہ ہوں، کپڑے انتہائی بوسیدہ ہوں، چہرے پر جھریاں پڑی ہوں، آنکھیں دھنسی ہوئی ہوں، تالو میں چھالے پڑے ہوں ، پیشانی پر گہری گہری لکیریں پڑی ہوں ، ہونٹوں پر پوپری پڑی ہوں، بھوک نڈھال ہو اور چلنا پھرنا تو دور اٹھنے بیٹھنے کی طاقت نہ ہو جسم کانپ رہا ہو اس سے آپ سوال کریں کہ ہندو ہو یامسلمان، سکھ ہو یا عیسائی ، دیوبندی ہو یا بریلوی ، شیعہ ہو یا سنی ، اہلحدیث ہو یا بوہرہ تو اس کا ایک ہی جواب ہوگا کہ میں بھوکا ہوں میں بھوکا ہوں ،، آج کہا جاتا ہے کہ غریبی بہت اچھی چیز ہے یقیناً غریبی اچھی چیز لیکن بس تقریر و تحریر تک ، وعظ ونصیحت بہت اچھی چیز ہے لیکن بس اسٹیج و منبر تک،، پیسہ ہاتھوں کی میل ہے یہ جملہ بھی زبان خرچی اور زبان کی نوک تک سب ملاکر دیکھا جائے تو آپ کی وعظ ونصیحت و خطبہ بھی آپ کے میٹر چلنے تک ،، ارے ہاتھوں سے پتھر توڑنے والے کو مخمل کی سیز پر بیٹھ کر پتھر توڑنے کا طریقہ بہت آسان ہے ، آج کی تجارتی خانقاہوں کے پیروں کو اپنی جیب بھرنے کے لئے مریدوں کو نذرانے کی اہمیت وفضیلت بتانا بہت آسان ہے ، بزنس کے طور پر اسکول و کالج چلوانے کو غریبوں کے بچوں کو تعلیم کا مشورہ دینا بہت آسان ہے ،، لیکن کبھی سچائی کا سامنا بھی کرنا چاہئے یقیناً تعلیم بہت ضروری ہے لیکن تعلیم ضروری ہے تو مہنگی کیوں ؟ اس پر کب غور ہوگا ،، علم حاصل کرو چاہے اس کے لیے چین جانا پڑے ارے بھائی علم حاصل کرنے کے لئے چین جانے کا راستہ کب ہموار ہوگا اس پر غور کیوں نہیں ؟ غرضیکہ وعظ ونصیحت سے پہلے اپنا محاسبہ ضروری ہے مشہور واقعہ ہے کہ امام اعظم ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ کی بارگاہ میں ایک خاتون نے آکر کہا کہ میرا بچہ گڑ بہت کھاتا ہے اسے سمجھا دیں کہ گڑ کھانا چھوڑدے تو امام اعظم نے کہا کہ جاؤ ایک ہفتہ بعد آنا جب ایک ہفتے بعد خاتون دوبارہ حاضر ہوئی تو امام اعظم نے بچے کو سمجھایا اور خاتون سے کہا کہ میں خود بہت گڑ کھاتا تھا تو سمجھانے کا اثر کیسے ہوتا اس لئے پہلے میں نے گڑ کھانا چھوڑا پھر تمہارے بچے کو گڑ نہ کھانے کی نصیحت کی ،، امام اعظم کاہی واقعہ ہے کہ ان کے زمانے میں ایک بکری غائب ہوگئی جب انہیں معلوم ہوا تو گوشت فروخت کرنے والوں سے پوچھا کہ ایک بکری کی کتنی ہوتی ہے علماء کرام بیان کرتے ہیں کہ امام اعظم نے چودہ سال تک گوشت نہیں کھایا یہ ہے محاسبہ اور یہ ہے تقویٰ ،، آج تو اسٹیج و منبر پر خطبہ دینے والوں سے سوال کردو تو اس کے اوپر نہ جانے کون کون سا ٹائٹل لگ جائے گا اسی وجہ سے سب کچھ ایک رسم ، ایک فن اور کاروبار بنتا جارہا ہے،، ورنہ اٹھاؤ مستند سے مستند روایت میں ملے گا امیر المؤمنین ہیں سارے اسلامی شہروں کے گورنروں کے گورنر ہیں سیدنا عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ منبر پر تشریف فرما ہیں ابھی خطبہ دینا شروع ہی کئے ہیں کہ ایک کھڑا ہوجاتا ہے اور کہتا ہے کہ ائے امیرالمومنین خطبہ دینا بند کیجئے پہلے یہ بتائیے کہ جتنا کپڑا آپ کو ملا تھا اتنا ہی مجھے بھی ملا ہے میرا کرتا نہیں بن پایا تو آپ کا کیسے بن گیا آپ تو مجھ سے زیادہ تندرست ہیں امیر المؤمنین نے ڈانٹا نہیں ، پھٹکارا نہیں ، غصہ نہیں ہوئے بلکہ اپنے بیٹے سے کہا کہ اس نوجوان کے سوال کا جواب دو بیٹے نے کہا کہ یہ حقیت ہے کہ کپڑا سب کو برابر برابر ملا ہے مگر میں نے اپنے حصے کا کپڑا اپنے والد کو دیدیا اور دو حصے کا کپڑا ملاکر میرے والد نے کرتا سلایا نوجوان مطمئن ہوگیا اور امیر المؤمنین کا احترام بجا لایا ،، آج کے حالات کے تناظر میں سوچئے کوئی معمولی سے معمولی آفیسر یا ملازم ہوتا، پیر عالم، خطیب و مقرر ہوتا تو سوال کرنے والے کا کیا حشر ہوتا ،، حضرت عمر فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے اس واقعے سے یہی سبق ملتا ہے کہ سچائی کا سامنا کریں اور خود کا محاسبہ بھی کریں ورنہ یہی سامعین کل میدان محشر میں تمہارا دامن پکڑیں گے –
javedbharti508@gmail.com om
جاوید اختر بھارتی سابق ( سکریٹری یو پی بنکر یونین) محمدآباد گوہنہ ضلع مئو یو پی
دنیا
روبیو نے میکسیکو پر ہجرت، فینٹانائل اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف کارروائی تیز کرنے پر زور دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے میکسیکو پر زور دیا ہے کہ وہ غیر قانونی ہجرت، فینٹانائل کی اسمگلنگ اور منشیات فروش گروہوں کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرے۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق روبیو نے واشنگٹن میں میکسیکو کے وزیر خارجہ روبرٹو ویلاسکو کے ساتھ مذاکرات کے دوران یہ مطالبہ کیا۔
محکمہ خارجہ کے ترجمان ٹومی پیگوٹ نے کہا کہ روبیو نے غیر قانونی ہجرت کے خاتمے، فینٹانائل اور دیگر غیر قانونی منشیات کی امریکہ میں اسمگلنگ روکنے، غیر ملکی دہشت گرد تنظیموں اور منشیات فروش گروہوں کو ختم کرنے اور ان کی ہتھیاروں تک رسائی روکنے کے لیے اقدامات پر زور دیا۔
یہ مذاکرات ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب ٹرمپ انتظامیہ میکسیکو کے ساتھ تعلقات میں سرحدی سکیورٹی اور غیر قانونی منشیات کے خلاف جنگ کو اہم ترجیحات قرار دے رہی ہے۔
واشنگٹن میکسیکو پر ان جرائم پیشہ تنظیموں کے خلاف کارروائیوں کو مزید مضبوط بنانے کے لیے دباؤ ڈال رہا ہے جو منشیات، خصوصاً فینٹانائل، کی تیاری اور اسمگلنگ میں ملوث ہیں۔ فینٹانائل امریکہ اور میکسیکو کے درمیان سکیورٹی تعاون میں ایک اہم مسئلہ بن چکا ہے۔
میکسیکو سرحدی سکیورٹی، منظم جرائم اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
ہندوستان
گجرات میں زہریلی شراب سے 13 اموات کے معاملے میں بھرت پور سے دو ملزمان گرفتار
بھرت پور، گجرات کے بھاو نگر میں زہریلی شراب سے 13 افراد کی موت کے معاملے میں گجرات پولیس نے راجستھان کے بھرت پور میں نقلی اور زہریلی شراب بنانے کے کاروبار سے مبینہ طور پر وابستہ دو افراد کو گرفتار کیا ہے۔
پولیس ذرائع کے مطابق گجرات پولیس نے مَتھرا گیٹ تھانہ علاقے کی ہاؤسنگ بورڈ کالونی میں چھاپہ مار کر شیر سنگھ کو گرفتار کیا، جبکہ وجے نگر سے کومل نامی شخص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ معاملے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
یو این آئی۔ م س
دنیا
ایران جنگ کے دوران ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس میں تیل اور گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رہی
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے ایران کے ساتھ جنگ کے دوران بھی تیل اور قدرتی گیس کمپنیوں کے حصص کی خرید و فروخت جاری رکھی۔ 2026 کی دوسری سہ ماہی تک کے مالیاتی گوشواروں کے مطابق، ان لین دین میں توانائی کے شعبے کے حصص کی لاکھوں ڈالر مالیت کی خرید و فروخت شامل تھی۔
سی بی ایس نیوز کی جانب سے جائزہ لیے گئے مالیاتی گوشواروں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تنازع کے دوران، جنگ میں عارضی جنگ بندی اور پھر دوبارہ جنگ شروع ہونے کے مرحلے میں ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے ایکسون موبل، شیورون اور کونکو فلپس سمیت مختلف کمپنیوں کے حصص خریدے اور فروخت کیے۔
ٹرمپ کا مجموعی سرمایہ کاری پورٹ فولیو وسیع ہے۔ سی بی ایس نیوز کے مطابق سال کے پہلے تین ماہ کے دوران ان کے سرمایہ کاری اکاؤنٹس نے تقریباً 3,600 اسٹاک اور سیکیورٹیز لین دین کیے، جن کی مجموعی مالیت 21 کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے 69 کروڑ 50 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی۔
جوائنٹ اکنامک کمیٹی کے ڈیموکریٹ ارکان نے الگ سے اندازہ لگایا ہے کہ 2026 کے آغاز میں ٹرمپ کے تیل اور گیس کے اثاثوں کی مالیت ایک کروڑ 30 لاکھ سے 4 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے درمیان تھی، جو اگست کے وسط تک بڑھ کر ایک کروڑ 70 لاکھ سے 6 کروڑ 10 لاکھ ڈالر کے درمیان ہوگئی۔
یہ اندازے لازمی طور پر غیر حتمی ہیں کیونکہ وفاقی مالیاتی گوشواروں کے قواعد کے تحت حکام کو لین دین کی درست رقم کے بجائے مالیت کی ایک حد ظاہر کرنا ہوتی ہے۔ ان اعداد و شمار میں 2025 کے بعد ٹرمپ کی جانب سے کیے گئے تمام لین دین بھی شامل نہیں ہیں۔
گوشواروں میں نمایاں کیے گئے ایک لین دین کے مطابق 7 اپریل کو، جس روز ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جنگ میں جنگ بندی کا اعلان کیا، ان کے اکاؤنٹس نے 5 لاکھ سے 10 لاکھ ڈالر مالیت کے ایکسون موبل کے حصص فروخت کیے۔
ایکسون موبل کا حصص اس روز 163.91 ڈالر پر بند ہوا تھا، جبکہ ٹرمپ نے اسی شام جنگ بندی کا اعلان کیا۔ اگلے روز کمپنی کے حصص 6.5 فیصد کمی کے ساتھ 153.52 ڈالر پر کھلے۔
ٹرمپ کے اکاؤنٹس نے سال کی پہلی ششماہی کے دوران شیورون، کونکو فلپس اور دیگر تیل و گیس کمپنیوں کے حصص میں بھی لاکھوں ڈالر کی خرید و فروخت کی۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کا ان لین دین کے وقت یا فیصلوں میں کوئی کردار نہیں۔ ترجمان ڈیوس انگل نے کہا کہ صدر کا پورٹ فولیو “تیسرے فریق کے مالیاتی اداروں کی جانب سے آزادانہ طور پر منظم کیا جاتا ہے” اور ان کے اثاثے ایسے اختیاری اکاؤنٹس میں رکھے گئے ہیں جن میں کمپیوٹر پر مبنی ماڈل پورٹ فولیو استعمال ہوتے ہیں اور جو خودکار طور پر معروف انڈیکسز کی نقل کرتے ہیں۔
انگل کے مطابق نہ تو ٹرمپ اور نہ ہی ان کے خاندان کے ارکان سرمایہ کاری کے فیصلوں کو “براہ راست ہدایت، متاثر یا ان میں رائے شامل” کرسکتے ہیں۔
اس کے باوجود ان لین دین پر اس لیے بھی سوالات اٹھائے گئے ہیں کہ جنگ کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں اضافے سے توانائی کمپنیوں کے حصص کو فائدہ پہنچا تھا۔ ٹرمپ نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھنے سے انکار کیا ہے، جس کا مطلب ہے کہ وہ انفرادی کمپنیوں کے حصص بدستور رکھتے ہیں، بجائے اس کے کہ اپنی سرمایہ کاری کو صرف انڈیکس فنڈز، میوچل فنڈز یا دیگر وسیع پیمانے پر متنوع سرمایہ کاری تک محدود کریں۔
کچھ سرمایہ کاری ماہرین نے کہا ہے کہ کم از کم بعض لین دین کا تعلق مخصوص کمپنیوں کے حصص کی قیمتوں پر شرط لگانے کے بجائے ٹیکس مینجمنٹ سے ہوسکتا ہے۔
ہیج آئی ایسٹ مینجمنٹ کے پورٹ فولیو مینیجر ڈیوڈ سیلم نے اس سے قبل ان لین دین کو “روایتی ٹیکس لاس ہارویسٹنگ سرگرمی” قرار دیا تھا، جس میں ایک جگہ ہونے والے منافع کو دوسری جگہ کے نقصان سے متوازن کرنے کے لیے بعض سیکیورٹیز نقصان پر فروخت کی جاتی ہیں۔ ان کے مطابق جدید ڈائریکٹ انڈیکسنگ سسٹمز کے ذریعے ایسی حکمت عملی خودکار طور پر بھی اختیار کی جاسکتی ہے۔
آفس آف گورنمنٹ ایتھکس کے قواعد کے تحت حکام کو مقررہ مدت کے اندر 1,000 ڈالر سے زیادہ مالیت کے اسٹاک کی خرید و فروخت ظاہر کرنا ہوتی ہے، تاہم ان گوشواروں میں اصل لین دین کے مقابلے میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ ٹرمپ نے 2026 میں کیے گئے بعض لین دین کی اطلاع بھی مقررہ وقت کے بعد دی۔
اس معاملے پر سرکاری اخلاقیات کے حامیوں نے بھی تنقید کی ہے۔ سِٹیزنز فار ریسپانسبلٹی اینڈ ایتھکس اِن واشنگٹن کے صدر ڈونلڈ شرمن نے کہا کہ ٹرمپ کو ایران جنگ کے نتائج سے مالی فائدہ نہیں اٹھانا چاہیے۔
شرمن نے کہا، “ٹرمپ کے بروکرز ان کی جانب سے تیل اور گیس کے حصص کی خرید و فروخت کررہے ہیں،” اور ان کا مؤقف تھا کہ صدر کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے مالی مفادات اور امریکی عوام کے مفادات کے درمیان ممکنہ تضاد سے گریز کریں۔
امریکہ میں صدر، کانگریس کے ارکان اور دیگر تمام وفاقی حکام کو قانونی طور پر انفرادی کمپنیوں کے حصص میں سرمایہ کاری اور ان کی خرید و فروخت کی اجازت ہے، اگرچہ دونوں بڑی سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے قانون ساز اس عمل پر پابندی عائد کرنے کی تجاویز بارہا پیش کرچکے ہیں۔
امریکی تاریخ کے دولت مند ترین صدور میں شمار ہونے والے ٹرمپ نے اپنے حالیہ پیش روؤں کے مقابلے میں بالکل مختلف طریقہ اختیار کیا ہے۔ مثال کے طور پر جارج ڈبلیو بش نے اپنے اثاثے بلائنڈ ٹرسٹ میں رکھے تھے، جبکہ بارک اوباما نے زیادہ تر انڈیکس اور میوچل فنڈز اور امریکی ٹریژری سیکیورٹیز میں سرمایہ کاری رکھی۔ دوسری جانب جو بائیڈن کے پاس انفرادی کمپنیوں کے حصص نہیں تھے۔
یو این آئی۔ ع ا
-
ہندوستان1 week agoشاہ کے کہنے پر ہوئی ستییندر کی گرفتاری : کیجریوال
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoچار ریاستوں میں ریل پٹریوں کی تعداد بڑھانے والے منصوبوں کو منظوری
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان6 days agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا6 days agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoکانگریس ایف-35 طیاروں کی فروخت کی منظوری دے:ترک-امریکی تنظیمیں
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر کے مسائل مرکزی حکومت حل کرے گی، امریکہ نہیں: عمرعبداللہ
