ہندوستان
لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل کی اپوزیشن نے شدید مخالفت کی
نئی دہلی، حکومت نے جمعرات کو لوک سبھا میں وقف (ترمیمی) بل 2024 پیش کرنے کی تجویز پیش کی، جس کی اپوزیشن نے اسے ایوان کے قانونی اختیار سے باہر اور بنیادی حقوق کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی سخت مخالفت کی۔ اور بل کو واپس لینے یا اس پر غوروخوض کرنے کے لئے اسے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجنے کا مطالبہ کیا۔
دوپہر ایک بجے اسپیکر اوم برلا کی اجازت سے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے اس بل کو پیش کرنے کی تجویز پیش کی، جس کی مخالفت کرتے ہوئے اپوزیشن نے قاعدہ 72 کے تحت اس تجویز پر بحث کا مطالبہ کیا۔ اپوزیشن کے جذبات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسپیکر مسٹر برلا نے رول 72 کے تحت اپوزیشن کو اپنے خیالات پیش کرنے کی اجازت دی۔
ایک طرف جہاں کانگریس، ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی، ڈی ایم کے، سی پی آئی (ایم)، سی پی آئی، وائی ایس آر کانگریس وغیرہ جیسی جماعتوں نے بل کی مخالفت کی، وہیں حکمراں نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی جنتا دل یونائیٹڈ، تیلگو دیشم اور شیوسینا نے بل کی حمایت کی۔ . شیوسینا کے شریکانت ایکناتھ شندے نے اپوزیشن پر سخت حملہ کرتے ہوئے کہا کہ جو لوگ ذات پات اور مذہب کی بنیاد پر ملک کے نظام کو چلانا چاہتے ہیں انہیں شرم آنی چاہئے۔ اس بل کا مقصد شفافیت اور احتساب لانا ہے لیکن آئین پر ابہام پھیلانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ جو لوگ احتجاج کر رہے ہیں، ان کی حکومت کو آئین اور وفاقی ڈھانچہ کیوں یاد نہیں آیا جب انہوں نے مہاراشٹر میں شرڈی اور مہالکشمی مندروں میں منتظمین کا تقرر کیا؟
کانگریس کے کے سی وینوگوپال نے کہا کہ یہ بل آئین کے خلاف ہے اور اس سے اس کمیونٹی کے مفادات کو نقصان پہنچے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے تحت ہر کمیونٹی کو مذہبی اور رفاہی بنیادوں پر منقولہ اور غیر منقولہ جائیداد رکھنے کا حق حاصل ہے۔ اس بل میں دو غیر مسلم اراکین کو وقف بورڈ میں شامل کرنے کی بات کہی گئی ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا اجودھیا کے شری رام جنم بھومی تیرتھ کھیت ٹرسٹ میں غیر ہندو ہوسکتے ہیں؟ انہوں نے کہا کہ یہ مذہبی آزادی کے حق پر حملہ اور آئین میں فراہم کردہ بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ ہندوستانی ثقافت میں ہر کوئی ایک دوسرے کے عقائد اور مذہبی عقائد کا احترام کرتا ہے۔ لیکن یہ قدم ان میں تفرقہ پیدا کرے گا۔
مسٹر وینوگوپال نے الزام لگایا کہ حکومت فاشزم کی طرف بڑھ رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وقف املاک سینکڑوں سال پرانی ہیں۔ بل پاس ہونے پر اس پر تنازعات اٹھائے جائیں گے۔ یہ بل غلط ارادوں سے لایا گیا ہے۔ یہ بل منظور نہیں ہو سکتا۔
سماج وادی پارٹی کے اکھلیش یادو نے کہا کہ یہ بل جان بوجھ کر سیاسی فائدہ اٹھانے کے لئے لایا گیا ہے۔ جب وقف بورڈ میں اراکین کو جمہوری طریقے سے منتخب کرنے کا نظام ہے تو پھر نامزدگی کی کیا ضرورت ہے؟ کسی غیر مسلم شخص کو بورڈ میں کیوں ہونا چاہئے؟ انہوں نے کہا کہ سچ یہ ہے کہ بی جے پی نے یہ بل چند مایوس اور مایوس بنیاد پرستوں کو خوش کرنے کے لیے لایا ہے۔ اس کے بعد مسٹر یادو نے کہا کہ یہ بل اس لیے لایا گیا ہے کیونکہ وہ ابھی ہار گئے ہیں۔ انہوں نے مسٹر اوم برلا کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ا سپیکر کا عہدہ جمہوریت کی عدالت ہے لیکن اسپیکر کے حقوق کو بھی سلب کیا جا رہا ہے۔
اس پر وزیر داخلہ امت شاہ برہم ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ اسپیکر کے حقوق پورے ایوان کا حق ہیں اور مسٹر اکھلیش یادو ان حقوق کے محافظ نہیں ہیں۔ مسٹر برلا نے اراکین کو ہدایت دی کہ وہ پارلیمنٹ کی نشست یا اندرونی انتظامات پر ذاتی تبصرہ نہ کریں۔
ترنمول کانگریس کے سدیپ بندوپادھیائے اور کلیان بنرجی نے کہا کہ ایوان کو اس سلسلے میں قانون بنانے کا حق نہیں ہے۔ اسے آئین میں ریاست کا موضوع بتایا گیا ہے۔ سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ حکومت کو مذہبی معاملات میں مداخلت کا حق نہیں ہے۔ مسٹر بنرجی نے کہا کہ یہ بل آئینی اخلاقیات کے بھی خلاف ہے اور مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے لایا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انتخابات سے قبل ہندوستان کو ہندو قوم قرار دینے کی کوشش کی گئی جو کامیاب نہیں ہوئی۔
ڈی ایم کے کی کنی موزی نے کہا کہ آج پارلیمنٹ میں بہت افسوسناک دن ہے جب ایک ایسا بل آیا ہے جو آئین کے تمام آرٹیکلز کی خلاف ورزی کرتا ہے۔ ہم نے چند روز قبل آئین کے تحفظ کا حلف اٹھایا ہے اور یہ بل آئین، وفاقی ڈھانچے اور انسانیت پر صریح تجاوز اور انصاف کی خلاف ورزی ہے۔ تمام پرانی مساجد خطرے میں پڑ جائیں گی کیونکہ کچھ ماہرین آثار قدیمہ کہیں گے کہ ایک خاص مسجد پہلے مندر تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایک کمیونٹی کو نشانہ بنانے کے لیے یہ بل لایا گیا ہے۔
نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (این سی پی) کی سپریا سولے نے کہا کہ حکومت کو بل واپس لینا چاہئے یا اسے پارلیمانی کمیٹی کو بھیجا جانا چاہئے۔ لیکن یہ بل پہلے میڈیا اور پھر اراکین پارلیمنٹ کو بتایا گیا۔ یہ پارلیمنٹ کی توہین ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس بل میں وقف ایکٹ کی کئی شقوں کو ختم کرنے کی تجویز ہے اور وقف ٹریبونل کو بھی کمزور کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اقلیتوں کو ہر ملک میں تحفظ حاصل ہے۔ آخر ایسا کیا ہے کہ اب یہ بل لانا پڑا۔
انڈین یونین مسلم لیگ کے ای ٹی محمد بشیر نے کہا کہ یہ بل آئین اور اس میں درج بنیادی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔ یہ غلط ارادوں اور بدنیتی پر مبنی ایجنڈے کے ساتھ لایا گیا ہے۔ حکومت وقف املاک پر قبضہ کرنا چاہتی ہے اور اس طرح ملک کے سیکولر ڈھانچے کو تباہ کر رہی ہے۔ اس بل کی منظوری سے وقف کا پورا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ حکومت ظالم بن چکی ہے اور ملک میں زہر پھیلا رہی ہے۔
جاری ۔ یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال سیلاب: 287 ہندوستانی شہری لاپتہ، 88 ہندوستانی شہریوں کو بچایا گیا
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں 287 ہندوستانی شہری ابھی بھی لاپتہ ہیں اور ہفتے کے روز چار مزید لوگوں کو بچائے جانے کے بعد محفوظ بچائے گئے ہندوستانی شہریوں کی تعداد بڑھ کر 88 ہو گئی ہے۔
وزارتِ خارجہ نے ہفتے کے روز یہ معلومات دیتے ہوئے کہا کہ سیلاب کی وجہ سے چین کے علاقے میں پھنسے 120 ہندوستانی شہری آج وہاں سے زمینی راستے سے ہوتے ہوئے نیپال پہنچ گئے۔
وزارت نے بتایا کہ آج چار ہندوستانی شہریوں کو رسوا میں ایک پن بجلی منصوبے سے بچایا گیا۔ ان کے جلد ہی کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے۔ ان کے نام رپو کمار، چنیشور نرجاری، کرپا شنکر اور محمد منہاج الدین ہیں۔
راحت اور بچاؤ کی کارروائیوں میں ہندوستان کے تعاون کا ذکر کرتے ہوئے وزارت نے کہا ہے کہ ہندوستان سے چھ فارنسک ماہر ٹیموں کے آج کاٹھمنڈو پہنچنے کی امید ہے، تاکہ متوفین کی لاشوں کی باقیات کی شناخت کے لیے ڈی این اے نمونوں کے تجزیے میں مدد کی جا سکے۔
اس کے علاوہ سرنگ بچاؤ کے لیے ایک خاص تکنیکی ٹیم کل کاٹھمنڈو پہنچی اور متاثرہ علاقے میں سرنگ بچاؤ میں مدد کے لیے آج سے کام شروع کر دیا۔ ان کی سفارش کی بنیاد پر، سامان کے ساتھ ہندوستان کی ایک خاص سرنگ بچاؤ ٹیم کے آج نیپال پہنچنے کی امید ہے۔
قابلِ ذکر ہے کہ وزارتِ خارجہ نے کہا تھا کہ نیپال میں پھنسے تمام شہریوں کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت کی طرف سے انتظام کیا جائے گا۔ اسی کے تحت جمعہ کو 21 ہندوستانی شہری وطن واپس لوٹے تھے۔
ہندوستان نے اب تک تین طیاروں میں کئی ٹن امدادی سامان کاٹھمنڈو بھیجا ہے اور اس نے نیپال کو ہر طرح کی انسانی امداد فراہم کرنے کا یقین دلایا ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھرگے کے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ سنگین جرم، فوری ایف آئی آر درج ہو: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے کہا ہے کہ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے کے ہلدوانی میں ہوئے پروگرام کے بعد اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کرنا چھوت چھات کو فروغ دینے والا سنگین جرم ہے، اس لیے قصورواروں کے خلاف درج فہرست ذات اوردرج فہرست قبائل (مظالم کی روک تھام) قانون کے تحت فوری ایف آئی آر درج کی جانی چاہیے۔
مسٹر گاندھی نے ہفتے کے روز یہاں کانگریس ہیڈکوارٹر اندرا بھون میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آئین نے چھوت چھات کو جرم قرار دیا ہے اور کسی دلت شخص کے کسی مقام پر جانے کے بعد اس کا ‘شُدھیکرن’ کرنا اسی ذہنیت کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ صرف مسٹر کھرگے کی نہیں، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کی توہین ہے۔
انہوں نے کہا کہ آٹھ اگست کو ہلدوانی میں مسٹر کھرگے کا پروگرام ہوا تھا اور اس کے بعد ان کی تقریر والے اسٹیج کا ‘شُدھیکرن’ کیا گیا۔ اس واقعے کو تقریباً 20 دن ہو چکے ہیں لیکن ابھی تک کوئی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی ہے اور نہ ہی قصورواروں کے خلاف کوئی کارروائی کی گئی ہے۔
مسٹر گاندھی نے وزیرِ اعظم نریندر مودی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اتراکھنڈ حکومت کو اس معاملے میں فوری کارروائی کرنے اورقصورواروں کے خلاف ایس سی-ایس ٹی قانون کے تحت ایف آئی آر درج کرنے کا حکم دیں۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیرِ اعظم دلتوں کے احترام کی بات کرتے ہیں، اس لیے انہیں یہ یقینی بنانا چاہیے کہ مسٹر کھرگے کو انصاف ملے۔
کانگریس رہنما نے کہا کہ ملک میں دو نظریات کے درمیان لڑائی ہے۔ ایک آئین کا نظریہ ہے اور دوسرا بی جے پی-آر ایس ایس کا نظریہ ہے۔ آئین نافذ ہونے کے بعد بھی ملک میں دلتوں کے ساتھ امتیازی سلوک اور مظالم کے واقعات سلسلہ جاری ہے ۔ ملک کے کئی اسکولوں میں دلت بچوں سے بیت الخلا صاف کرایا جاتا ہے اور جھاڑو لگوائی جاتی ہے، انہیں کنوؤں سے پانی لینے سے روکا جاتا ہے، چائے کی دکانوں پر ان کے لیے الگ کپ رکھے جاتے ہیں۔ شادی بیاہ کے موقع پر گھوڑی پر بیٹھ کر بارات نکالنے والے دلتوں پر بھی حملے ہوتے ہیں اور دھمکیاں دی جاتی ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ کوئی دلت شخص جتنا کامیاب ہوتا ہے، اس پر اتنے ہی زور دار طریقے سے حملہ کیا جاتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کاروبار، کرکٹ یا کسی دوسرے شعبے میں کامیاب ہونے والے دلت شخص کو بھی اس ذہنیت کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور دلت لیڈروں کے ساتھ بھی ایسا سلوک کیا جاتا ہے۔ اس تناظر میں انہوں نے راجستھان کانگریس اسمبلی پارلیمانی پارٹی کے لیڈر ٹیکارام جولی اور بہار کے سابق وزیرِ اعلیٰ جیتن رام مانجھی کے ساتھ ہوئے ‘شُدھیکرن’ کے واقعات کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ذہنیت صرف ایک فرد تک محدود نہیں ہے۔
کانگریس رہنما نے پارلیمنٹ میں مسٹر کھرگے کے اس معاملے کو اٹھانے کا ذکر کیا اور کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما جے پی نڈّا نے کہا تھا کہ اگر ایسا واقعہ ہوا ہے تو کارروائی کی جائے گی۔ اس کے باوجود اتراکھنڈ بی جے پی صدر مہیندر بھٹ نے ‘شُدھیکرن’ کے واقعے کو درست قرار دیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیرِ اعظم کہتے ہیں کہ وہ ہر ذات کا احترام کرتے ہیں لیکن اگر ان کی پارٹی کے رہنما اس طرح کے واقعے کو صحیح ٹھہراتے ہیں تو ان کے قول و فعل میں فرق صاف دکھائی دیتا ہے۔
کانگریس کی لڑائی اسی امتیازی سلوک اور عدم مساوات کے نظریے کے خلاف ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ یہ صرف کانگریس صدر کھرگے کا معاملہ نہیں ہے، بلکہ ملک کے ہر دلت شخص کے وقار ، مساوات اور آئینی حقوق سے جڑا معاملہ ہے۔ حکومت کو فوری کارروائی کرنی چاہیے اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا ہے تو کانگریس قصورواروں کو انصاف کے کٹھہرے تک پہنچانے کے لیے اپنی لڑائی جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
تازہ ترین1 week agoیوم آزادی اور مسلمان
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
