جموں و کشمیر
دفعہ 370 کی بحالی ہمارے اٹانومی کے ہدف کے حصول کے لئے پہلا قدم ہے: آغا سید روح اللہ مہدی
سری نگر، رکن پارلیمان اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر آغا روح اللہ مہدی کا کہنا ہے کہ دفعہ 370 کی بحالی ہمارا آخری ہدف نہیں ہے بلکہ یہ اٹانومی کے ہدف کے حصول کے لئے پہلا قدم ہے۔انہوں نے کہا کہ اکثریت ملنے پر نیشنل کانفرنس کا اسمبلی میں سال 2019 کے فیصلوں کو مسترد کرنے کے لئے قرر داد پاس کرنا پہلا قدم ہوگا۔ان کا کہنا تھا کہ ہم الیکشن کمیشن آف انڈیا سے وضاحت چاہتے ہیں کہ اس وقت پولیس اور انتظامیہ میں تبدیلوں کی کیا ضرورت تھی۔
موصوف رکن پارلیمان نے ان باتوں کا اظہار ہفتے کے روز پارٹی ہیڈ کوارٹر نوائے صبح پر ایک پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘دفعہ 370 کی بحالی ہمارا آخری ہدف نہیں ہے بلکہ ہمارا ہدف اٹانومی کی بحالی ہے اور دفعہ 370 کی بحالی اس کے حصول کے لئے پہلا قدم ہے’۔ان کا کہنا تھا: ‘اگر جموں وکشمیر کے لوگ ہمیں اکثریت دیتے ہیں تو اسمبلی میں سال 2019 کے فیصلوں کو مسترد کرنے کے لئے قرار داد پاس کرنا نیشنل کانفرنس کا سب سے پہلا کام ہوگا’۔انہوں نے کہا کہ نیشنل کانفرنس اسمبلی کے ذریعے ہی ان چیزوں کی واپسی کے لئے جد وجہد کرے گی جن کو ہم سے سال 2019 میں چھینا گیا۔
پولیس اور انتظامیہ میں حالیہ تبدیلیوں اور تعیناتیوں کے بارے میں آغا روح اللہ نے کہا: ‘خدشات ظاہر کئے جا رہے ہیں کہ ضابطہ اخلاق کے اطلاق کے بعد اس وقت پولیس اور انتظامیہ میں تبدیلیوں اور پوتعیناتیوں کی کیا ضرورت تھی’۔انہوں نے کہا: ‘ہم چاہتے ہیں الیکشن کمیشن آف انڈیا اس کے متعلق وضاحت پیش کرے،ہم نے الیکشن کمیشن سے یہ وعدہ مانگا تھا کہ کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جائے گا جس سے صاف و شفاف انتخابات کے انعقاد کے بارے میں شک پیدا ہوسکے’۔انہوں نے کہا کہ ہم نے اس سلسلے میں الیکشن کمیشن آف انڈیا کو ایک مکتوب بھی بھیجا ہے۔ان کا کہنا تھا: ‘اب جو افسر تبدیل ہوئے ہیں ان سے امید ہے کہ وہ اپنے فرائض ایمانداری سے انجام دیں گے’۔
ایک سوال کے جواب میں رکن پارلیمان نے کہا: ‘نیشنل کانفرنس کا ماننا ہے کہ مسئلہ کشمیر جو ایک سیاسی مسئلہ ہے، کو حل کرنے کی ضرورت ہے اور اس کا حل ہمارے منشور میں موجود ہے اور وہ اٹانومی ہے’۔انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک ہندوستان اور پاکستان کو بات چیت کے میز پربیٹھنا چاہئے جب تک ایسا نہیں ہوگا تب تک جموں وکشمیر کو بھگتنا پڑے گا۔
ان کا کہنا تھا:’تب تک کوئی بھی بات چیت نا مکمل ہے جب تک نہ اس میں کشمیری عوام کو شامل کیا جائے’۔
موصوف لیڈر نے کہا کہ جمہوریت میں ہمارا اعتماد بحال کرنے کے لئے اسمبلی انتخابات کا انعقاد پہلا قدم ہے۔انہوں نے کہا: ‘ سب سے اہم بات یہ ہے کہ تمام پارٹیوں کو یکساں موقع فراہم کیا جانا چاہئے اور کوئی ایسا اقدام نہیں کیا جانا چاہئے جو کسی خاص جماعت کے لئے فائدہ بخش ہو’۔آسام میں نماز کے معاملے کے متعلق پوچھے جانے پر ان کا کہنا تھا: ‘ہم چاہتے ہیں اس کے لئے تمام سیکولر طاقتیں کھڑی ہو جائیں اور انڈیا الائنس جس کا ہم بھی ایک حصہ ہیں بھی اس کے لئے آواز اٹھائیں’۔انہوں نے کہا: ‘یہ ہماری اکیلے کی لڑائی نہیں ہے یہ لڑائی جتنی مسلمانوں کی ہے اتنی ہی راہل گاندھی کی بھی ہے’۔
آغا روح اللہ نے سروس سلیکشن بورڈ (ایس ایس بی) سے خواہشمند امید واروں کے لئے الاٹ شدہ امتحانی سینٹروں کا جائزہ لینے کی اپیل کرتے ہوئے کہا: ‘ان امید واروں کو نزدیک ہی سینٹر قائم کئے جانے چاہئے تاکہ ان کو مسائل کا سامنا نہ کرنا پڑے اور وہ امتحانات کے اچھی طرح سے تیاریاں کر سکیں’۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
