جموں و کشمیر
جو ووٹ نیشنل کانفرنس اتحاد کو نہیں جائے گا وہ براہ راست بھاجپا کی مدد کریگا:عمر عبداللہ
سری نگرنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے ہفتے کے روز کہا کہ آنے والے اسمبلی انتخابات میں جموں و کشمیر کے عوام کو اس بات کا فیصلہ کرنا ہوگا کہ آیا وہ دوبارہ بی جے پی کا دور حکومت دیکھنا چاہتے ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہاکہ جو ووٹ این سی کانگریس اتحاد کو نہیں جائے گا وہ براہ راست بھاجپا کو حکومت میں آنے کے لئے مدد فراہم کرئے گا۔ان باتوں کا اظہار موصوف نے اپنی رہائش گاہ پر تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ گذشتہ5برسوں کے دوران یہاں جو عوام مخالف فیصلے لئے گئے اور اقدامات اُٹھائے گئے ، ان فیصلوں کو ایک ایک کرکے واپس کرنے کی شروعات کرنی ہے اور یہ صرف اُسی صورت میں ممکن ہوسکتا ہے جب ہم بی جے پی اور ان کے ساتھ ملے درپردہ اور عیاں عناصر کو روکنے کا کام کریں گے۔ انہوں نے کہاکہ بی جے پی ایک بہت بڑی خاصیت ہے ،ان لوگو ں نے انگریزوں سے کچھ سیکھا یا ہو یا نہ سیکھا ہو لیکن اتنا ضرور سیکھا ہے کہ کسی طرح سے کسی کو استعمال کرکے پھینکنا ہے، اگر ہم 5چھ سال جموں وکشمیر کا مشاہدہ کریں تو شائد ہی کوئی ایسا ہے شخص ہوگا جسے بھاجپا نے استعمال کرکے نہیں پٹکا ہوگا۔
عمر عبداللہ کے مطابق جس گورنر کے دستخط سے جموں و کشمیر کا آئین ، جھنڈا اور پہچان چھینی گئی اُس کا حال آپ کے سامنے ہے، اس کے بعد جس کو لایا گیا اُس کا کوئی اتہ پتہ نہیں، جن جن افسروں نے یہاں ان کا کام کیا آج وہ کہیں نہیں ہیں، جو جو افسران ان کے اشاروں پر ناچے، ایک کے بعد ایک کو بے عزت کیا گیا اور یہ سلسلہ اب بھی جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن سیاست دانوں نے اس دورانئے میں بھاجپا کی مدد کرنے کی کوشش کی اُن کا حال بھی عوام سب کے سامنے ہے، کس کس کے نام ہم یہاں لیں۔ جس پارٹی نے بھاجپا کو 2014میں یہاں کندھوں پر بٹھا کر لایا اُس کا حال بھی غیر ہے اور جن جماعتوں نے 2019کے بعد بھاجپا کی پراسکیاں بننے کی کوشش کی ان کا بھی حال بُرا ہے۔
عمر عبداللہ نے کہا کہ آج آج مقصد بی جے پی کو روکناہے، کیونکہ جو باقی ملک میں مسلمانوں کیساتھ جو کچھ ہورہا ہے ہم جموں و کشمیر میں ایسا ہوتا نہیں دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم نہیں دیکھنا چاہتے ہیں کہ ہماری بچوں کے حجاب پہن کر سلوک جانے میں کسی کو اعتراض ہو، ہم نہیں چاہتے کہ یو پی میں مدرسوں کیساتھ جو کچھ ہورہاہے وہ یہاں بھی دہرایا جائے، ہم نہیں چاہتے ہیں کہ مسلمانوں کو نماز ادا کرنے سے روکا جائے۔
نیشنل کانفرنس کے نائب صدر نے کہا کہ آنے والے انتخابات میں راستے دو ہیں اور جو ووٹ نیشنل کانفرنس اس کے اتحادیوں کو نہیں جائے گا وہ براہ راست بھاجپا کی مدد کرے گا۔
عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ ہم صرف لوگوں کو بھاجپا سے ڈرا کر ووٹ نہیں مانگ رہے ہیں بلکہ ہم نے عوام کے سامنے ایک منظم منشور رکھا ہے اور اپنے 5سالہ دورِ حکومت کا لائحہ عمل پیش کیاہے۔ ہمارا منشور ایسا شاندار ہے کہ ملک کے وزیر داخلہ بھی اس پر بات کرنے پر مجبور ہوگئے۔
بھاجپا کا کوئی لیڈر اور وزیر اعلیٰ نے جس نے کہیں نہ کہیں نیشنل کانفرنس کے منشور کی مخالفت نہ کی ہو اور مجھے لگتا ہے کہ جس منشور کی مخالفت بی جے پی کرتی ہو اُس سے بہتر یہاں کے عوام کیلئے کیا ہوسکتا ہے۔عمر عبداللہ نے مزید کہا کہ جہاں بھاجپا نے ہمارے منشور کی مخالفت کی وہیں کچھ مقامی جماعتوں نے ہمارے منشور کی نقل کرکے تھورا ادھر اُدھر کیا اور اسے اپنے منشور کے بطور عوام کے سامنے رکھ دیا۔
یو این آئی، ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
