جموں و کشمیر
اسمبلی انتخابات مکمل ہونے تک مجھے گھر میں ہی نظر بند رکھنے کی افواہیں گردش کر رہی ہیں :میر واعظ
سری نگرحریت چیرمین میر واعظ مولوی عمر فاروق نے جمعے کے روز کہاکہ جموں وکشمیر میں اسمبلی انتخابات کے مکمل ہونے تک مجھے گھر میں نظر بند رکھنے کی افواہیں زوروں پر ہیں اور اسی سلسلے کی ایک کڑی کے تحت جمعے کے روز گھر سے باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔
اپنے ایک ویڈیو پیغام میں میرواعظ نے کہا گزشتہ ستمبر میں عدالت جانے کے بعد مجھے طویل عرصہ کے بعد نظر بند ی سے رہا کیا گیا اس کے بعد مجھے چند ہفتوں کیلئے چھوڑا جاتا ہے اور پھر بند کیا جاتا ہے اور آئے روز حکام کے حکم پر میرے گیٹ کے سامنے گاڑی کھڑی کرکے نظر بند کیا جاتاہے اور کوئی وجہ بتائے بغیر کہا جاتا ہے کہ آپ باہر نہیں جاسکتے۔
انہوں نے کہا کہ حکام کایہ طرز عمل حد درجہ افسوسناک اور آمرانہ ہے کہ میری آزادی اور رہائی انکے حکم سے مشروط ہے۔
ایک مذہبی اور سماجی شخصیت کی حیثیت سے میری سرگرمیاں روک دی جاتی ہےں اور اس طرز عمل سے میرے ساتھ ساتھ ان تمام لوگوں کو بھی تکلیف پہنچی ہے جو میرے ساتھ منسلک ہیں۔
میر واعظ نے کہاکہ افواہ یہی ہے کہ یوٹی میں انتخابات کے اختتام تک مجھے گھریلو حراست میں ہی رکھا جائیگا اور اس طرح کا یہ طرز عمل حکام کی منفی سوچ کی عکاس ہے۔
انہوں نے کہاکہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہم بار بار جموں وکشمیر اور ہندوستان کی مختلف ریاستوں کی جیلوں میں سالہا سال سے مقید ہزاروں سیاسی نظر بندوں ،سیاسی رہنماوں ، کارکنوں،صحافیوں ، نوجوانوں ، سول سوسائٹی کے ارکان اور اب وکیلوں کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں لیکن بجائے اس کے کہ ان لوگوں کو رہا کیا جاتا ہر روز زیادہ سے زیادہ لوگوں کو نہ صرف ستایا جاتا ہے بلکہ حراست میں بھی لیا جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مجھے اطلاع ملی ہے کہ یوٹی میں انتخابات کے پیش نظر لوگوں خاص کر نوجوانوں سے ضمانتی بانڈز کے لئے مقامی تھانوں میں حاضر ہونے کیلئے کہا جاتا ہے جو کہ سراسر ہراسانی ہے۔
میر واعظ نے کہا :’میں نے ہمیشہ یہ بات کہی ہے کہ ہزاروں لوگوں کو جیلوں میں ڈال کر یا گھر وں میں نظر بند کرکے ان کی بنیادی آزادی اور جینے کا حق چھین کر آپ امن اور حالات کو معمول پر لانے کو یقینی نہیں بنا رہے ہیں بلکہ بدقسمتی سے آپ طاقت کے بل پر لوگوں کو خوفزدہ کر کے خاموش کر رہے ہیں جو کہ آگے چل کر فائدہ مند ثابت نہیں ہوسکتا۔‘
میری انتظامیہ کو یہ تجویز ہے کہ اگر حالات کو معمول پر لانا ہے اور امن کی بحالی ہمارا مقصد ہے تو طاقت اور دھونس دباو کی پالیسی کے بجائے جموں وکشمیر کے عوام کی امنگوں اور جذبات کو نظر میں رکھ کر تنازع کے پر امن اور سیاسی حل تلاش کئے بغیر کوئی چارہ نہیں
نظر بندیاں اور پابندیاں ہمیں اپنے مبنی برحق موقف کی پیروی سے نہیں روک سکتیں اور نہ میرے عزم کو کمزور کیا جاسکتا ہے۔ میں صرف حقائق آ پ کے سامنے رکھنا چاہتا تھا کیونکہ آپ جانتے ہیں کہ مقامی ذرائع ابلاغ اب ہمارے نقطہ نظر کو اپنے اخبارات اور نشریات میں جگہ نہیں دیتے۔
اس مرحلے پرمیں آپ سب کو ماہ ربیع الاول کے مقدس مہینے کی آمد پر مبارکباد پیش کرتا ہوں اور دعا گو ہوں کہ یہ مقدس مہینہ ہمارے جملہ مسائل اور مشکلات کے حل کا پیش خیمہ ثابت ہو۔
یو این آئی- ارشید بٹ
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoراہل پیلیٹ گن متاثرہ کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے کے مطالبے کے حق میں ڈی سی پی دفتر کے باہر دھرنے پر بیٹھے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
