ہندوستان
وزیراعلی کیجریوال کی ضمانت پر سپریم کورٹ کل کو فیصلہ سنائے گا
نئی دہلی، سپریم کورٹ دہلی ایکسائز پالیسی میں مبینہ گھوٹالہ سے متعلق مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) کے کیس میں تہاڑ جیل میں بند وزیر اعلی اروند کیجریوال کی ضمانت کی مانگ اور اسی کیس میں ان کی گرفتاری کو چیلنج کرنے والی درخواستوں کا فیصلہ جمعہ کو یعنی 13 ستمبر کو سنائے گا سپریم کورٹ کی ویب سائٹ کے مطابق جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس اجول بھویاں کی بنچ اپنا فیصلہ سنائے گی۔ عرضی گزار کیجریوال کی طرف سے پیش ہونے والے سینئر ایڈوکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی اور سی بی آئی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو کی گھنٹوں کی بحث کے بعد بنچ نے 5 ستمبر کو سماعت مکمل ہونے کے بعد اپنا فیصلہ محفوظ رکھ لیا تھا۔
عام آدمی پارٹی کے سربراہ مسٹر کیجریوال نے سی بی آئی کے کیس میں دہلی ہائی کورٹ کی جانب سے 5 اگست کو ان کی درخواستوں کو مسترد کرنے کے بعد سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا۔
ملزم وزیر اعلیٰ کیجریوال کو مرکزی تفتیشی ایجنسی انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) نے 21 مارچ کو اور سی بی آئی نے 26 جون 2024 کو دہلی ایکسائز پالیسی 2021-22 میں مبینہ بے ضابطگیوں کے سلسلے میں گرفتار کیا تھا (جسے تنازعہ کے بعد منسوخ کر دیا گیا تھا)۔ سی بی آئی کی گرفتاری کے وقت وہ ای ڈی کے کیس میں عدالتی حراست میں تھے۔
سی بی آئی نے 25 جون کو خصوصی عدالت کی اجازت کے بعد انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے معاملے میں مارچ سے عدالتی حراست میں رہنے والے ملزم وزیر اعلی کیجریوال سے پوچھ گچھ کی تھی اور پھر 26 جون کو انہیں گرفتار کر لیا تھا۔
عدالت عظمیٰ نے 12 جولائی کو مسٹر کیجریوال کو انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ (ای ڈی) کے ذریعہ مبینہ ایکسائز پالیسی گھوٹالہ سے متعلق منی لانڈرنگ کے کیس میں عبوری ضمانت دی تھی۔ اگر جون میں سی بی آئی نے مقدمہ درج نہ کیا ہوتا تو وہ تبھی جیل سے رہا ہو جاتے۔
سپریم کورٹ نے اس سے قبل لوک سبھا انتخابات کے دوران انہیں عبوری ضمانت دی تھی۔
سنٹرل بیورو آف انویسٹی گیشن (سی بی آئی) نے 17 اگست 2022 کو ایکسائز پالیسی کی تشکیل اور اس پر عمل درآمد میں مبینہ بے ضابطگیوں کی بنیاد پر فوجداری کا ایک مقدمہ درج کیا تھا۔ اسی بنیاد پر ای ڈی نے 22 اگست 2022 کو منی لانڈرنگ کا معاملہ درج کیا تھا۔ ابتدائی طور پر وزیر اعلیٰ کیجریوال کا نام ملزمان میں شامل نہیں تھا۔
سی بی آئی کے کیس میں عدالت عظمیٰ میں سماعت کے دوران مرکزی تفتیشی ایجنسی کی طرف سے پیش ہونے والے ایڈیشنل سالیسٹر جنرل ایس وی راجو نے چیف منسٹر کیجریوال کو ضمانت دینے کے دلائل کی سختی سے مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ماتحت عدالت کو نظرانداز کرنے کی اجازت صرف غیر معمولی حالات میں ہی دی جاسکتی ہے۔
اس پر مسٹر کیجریوال کی نمائندگی کرنے والے سینئر ایڈوکیٹ مسٹر سنگھوی نے دلیل دی تھی کہ حراست کے دوران سی آر پی سی کی دفعہ 41A کے تحت ملزم کو نوٹس جاری کرنے سے متعلق موجودہ عرضی میں جو بنیادیں اٹھائی گئی ہیں۔ جس کے بعد خصوصی عدالت نے اسے مسترد کر دیا۔ اس لیے درخواست گزار کو دوبارہ اسی مسئلے پر بحث کرنے کے لیے وہاں بھیجنا جائز نہیں ہوگا۔
مسٹر سنگھوی نے سپریم کورٹ کو یہ بھی بتایا کہ کیجریوال کا نام 2022 میں درج مقدمے میں نہیں تھا اور انہیں اس سال جون 2024 میں گرفتار کیا گیا تھا، انہوں نے کہا، “تین عدالتی احکامات میرے حق میں ہیں۔ یہ گرفتاری پہلے سے طے شدہ تھی ا تاکہ انہیں (وزیر اعلیٰ) کو جیل میں رکھا جا سکے۔
وزیراعلی کیجریوال کی نمائندگی کرنے والے سینئر وکیل نے مزید کہا “ثبوت کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کیونکہ لاکھوں دستاویزات ہیں، جن میں سے بہت سے ڈیجیٹل ہیں۔ ان کا مؤکل عدالتی حراست میں رہتے ہوئے گواہوں کو کیسے متاثر کرسکتا ہے اور پانچ چارج شیٹ ہیں؟” اس معاملے میں بھی مقدمہ درج کیا گیا ہے۔”
انہوں نے دہلی ایکسائز پالیسی کے کیس سے متعلق دیگر ملزمان کی ضمانت کے احکامات کا حوالہ دیا – دہلی کے سابق نائب وزیر اعلی منیش سسودیا، راجیہ سبھا کے رکن سنجے سنگھ اور بھارت راشٹرا سمیتی (بی آر ایس) کی قانون ساز کونسلر کے کویتا۔ عدالت عظمیٰ کے حکم پر یہ رہنما جیل سے رہا ہو چکے ہیں۔
مسٹر سنگھوی نے مزید کہا کہ سی آر پی سی کی دفعہ 41A گرفتاریوں کو منظم کرنے کے لیے 2010 میں متعارف کرایا گیا تھا اور اس کا مقصد من مانی گرفتاریوں کو روکنا تھا اور اس بات کو یقینی بنانا تھا کہ قانون نافذ کرنے والے افسران کسی کو بغیر کسی درست بنیاد کے گرفتار نہ کر سکیں۔
دوسری طرف مسٹر راجو نے کجریوال کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ پہلے سیشن کورٹ سے رجوع کرنے کی بجائے انہوں نے براہ راست ہائی کورٹ سے رجوع کیا۔
انہوں نے کہا کہ یہ میرا ابتدائی اعتراض ہے، ماتحت عدالت کو پہلے میرٹ پر غور کرنا چاہیے تھا، ہائی کورٹ کو میرٹ کو دیکھنے کے لیے بنایا گیا تھا اور یہ صرف غیر معمولی کیسز میں ہی ہو سکتا ہے۔ عام کیسز میں سیشنز سے رجوع کرنا پڑتا ہے۔ پہلے وہ (کیجری والا) یہاں آئے اور پھر انہوں نے ہائی کورٹ سے رجوع کیا اور پھر وہ دوبارہ سپریم کورٹ آئے۔
ایڈیشنل سالیسٹر جنرل راجو نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ کیجریوال نے اپنی پارٹی کی قیادت والی دہلی حکومت کے ذریعے پنجاب کے ایک ایکسائز لائسنس ہولڈر کو ہراساں کرنے کے لیے اپنا اثر و رسوخ استعمال کیا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملزم کیجریوال کو کسی قسم کی دی جانے والی راحت کا ہائی کورٹ پر حوصلے پست کرنے والا اثر پڑے گا۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
