ہندوستان
بچوں کی ذہنی نشو و نما کے لئے معاون غذا کی فراہمی بنیادی اہمیت کی حامل:ڈاکٹر اننیا اوستھی
نئی دہلی، ماہ ستمبر میں ہندوستان نے ساتواں راشٹریہ پوشن ماہ 2024 منایا ہے یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو تغذیہ سے متعلق بیداری اور عملی کارروائی کے لیے وقف ہے یہ ایک ایسا اہم پہلو ہے جو ہماری اجتماعی توجہ کا متقاضی ہے اور وہ توجہ معاون غذائی فراہمی کی شکل میں کی جانی ہے نوزائیدہ بچوں کو پستان کے ذریعہ مخصوص غذا کی فراہمی کے علاوہ ایک ایسی غذا فراہم کرنے کا طریقہ کار جس میں ٹھوس اور نیم ٹھوس خوراک کے عناصر شامل ہوں، ہندوستان میں تغذیہ کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے معاملے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے ان خیالات کا اظہارمحقق برائے صحت عامہ اورسائنٹفک مشاہدات کو پالیسی عمل میں بدلنے والے ادارے انوواد سالیوشنز کی ڈائرکٹر ڈاکٹر اننیا اوستھی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ معاون غذا کی فراہمی محض خوراک تک محدود نہیں ہے۔ اس کے تحت اس امر کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ بچوں کو صحیح وقت پر صحیح تغذیہ پر مبنی عناصر فراہم کرائے جائیں جو صحت مند اور بارآور زندگی کی بنیادیں استوار کر سکیں۔ چونکہ واحد طور پر دودھ نمو پذیر بچے کی تمام تغذیہ جاتی خوراک کی تکمیل مکمل طو رپر نہیں کر سکتا۔ عالمی ادارہ صحت نے چھ ماہ کی عمر کے بچوں کے لیے تغذیہ کے لحاظ سے وافر معاون خوراکوں کی سفارش کی ہے جس کے ساتھ دو برس کی عمر یا اس سے بھی زیادہ تک انہیں پستانوں سے دوھ بھی پلایا جانا ضروری ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے مزید کہا کہ معاون غذا کی فراہمی ذہنی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جسمانی نمو اور امراض سے محفوظ رکھنے کی قوت کو بڑھاتی ہے۔ ذہن کی نشو و نما کے سلسلے میں سائنٹفک مشاہدات سے انکشاف ہوا ہے کہ بچے کی پیدائش کے دو برسوں کے اندر اس کا ذہن 100 فی صد سے زائد نمو سے ہمکنار ہوتا ہے اوراس میں بنیادی طو رپر اس کے ذہن اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کے اندر موجود خلیے نشو و نما کے حامل ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسی طریقے سے پہلے سال کے دوران ایک بچے کی پیدائش کے وقت جو وزن ہوتا ہے، وہ وزن سال کے اندر تقریباً تین گنا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا معاون طور پر غذا کی فراہمی نہ صرف یہ کہ ذہنی نشو و نما کے لیے لازمی ہے بلکہ بچے کے سوئے تغذیہ کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہے جو ہندوستان میں پانچ برس سے کم کی عمر کے تقریباً ایک تہائی بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ بچوں میں ناقص تغذیہ کی متعدد صورتیں ہیں جو ان کی نشو و نما میں رکاوٹ (عمر کے لحاظ سے لمبائی نہ بڑھنا)، ویسٹنگ (لمبائی کے لحاظ سے کم وزن) اور ناکافی وزن (عمر کے لحاظ سے کم وزن) پر مشتمل ہیں۔ یہ سبھی صورتیں نمو پذیر بچے کی جسمانی اور ذہنی ترقی اور نشو و نما پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کی نشو و نما رک ہو جانے والے بچے امتحانات وغیرہ میں کم نمبر لاتے ہیں، ان کے مجموعی نتائج بھی حوصلہ افزا نہیں ہوتے اور بعد کی زندگی میں ان کی اقتصادی پیداواریت بھی کم نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے کہا کہ اس کے علاوہ معاون غذا کی فراہمی سنگین امراض سے نبرد آزما ہونے کے نظام کی تعمیر کے لیے بھی لازم ہے۔ اس سے اسہال، سانس کی بیماریاں اور خوراک سے ہونے والی الرجی وغیرہ لاحق ہونے اور چھوت لاحق ہونے کے معاملات میں تخفیف لانے میں مدد ملتی ہے جو بچوں میں عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک بچے کی زندگی کے پہلے دو برس مواقع کا وہ اہم موقع ہوتا ہے جب وافر تغذیہ اہم طو رپر اس کی جسمانی نمو، ہوش و حواس اور ہماری مستقبل کی پیڑھیوں کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی اہم نازک مدت ہوتی ہے جس کے دوران ایک متوازن غذا جو وٹامن سے مالامال پھلوں اور سبزیوں، ثابت اناجوں، پھلیوں، انڈوں اور دودھ کی صنعت سے حاصل ہونے والی اشیاءکی شکل میں بچے کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس کی اہمیت کے باوجود ہندوستان میں معاون غذا کی فراہمی تشویشناک طو رپر فقدان کا شکار ہے۔ قومی کنبہ سروے کے ذریعہ حاصل شدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے معاون غذا کے معاملے میں فاصلہ باقی ہے جس پر سوئے تغذیہ سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر موثر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت نے راشٹریہ پوشن ماہ (قومی تغذیہ ماہ2024) میں معاون غذا کی فراہمی کو ترجیح دی ہے جس سے ہندوستان کے تغذیہ ایجنڈے میں ایک اہم سنگ میل اجاگر ہوتا ہے۔
یہ ہمیں ایک اہم اور کلیدی سوال پر سوچنے کے لیے مجبور کرتا ہے: ہندوستان میں چھوٹے بچوں کی معاون تغذیہ فراہمی کو بڑھانے اور اختیار کرنے کے لیے کون کون سے اقدامات کیے جاتے ہیں؟
کامیاب معاون غذا کی فراہمی کے لیے پہلا اور سب سے لازمی امر یہ ہے کہ بچے کی ڈائٹ میں صحت بخش اور تغذیہ بخش خوراک شامل کی جائے خصوصاً چھ مہینے کی عمر سے لے کر دو برسوں کی عمر تک پہنچنے کے درمیان ایسا کرنا ضروری ہے۔ بھارت میں غذا¶ں کا مالامال سلسلہ دستیاب ہے اور اس کے تحت مختلف النوع تغذیہ بخش متبادل دستیاب ہیں جو چھوٹے بچے کے لیے مثالی تغذیہ فراہم کرسکتے ہیں۔ کھچڑی اور دلیہ جیسے روایتی کھانے نہ صرف یہ کہ تیار کرنے میں آسان ہوتے ہیں بلکہ ان میں لازمی تغذیہ جاتی عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر راگی کیلے اور دلیہ پر مشتمل غذا آئرن اور کیلشیم کا عمدہ وسیلہ ہے۔ جبکہ باجرے کی کھچڑی ایسی چیز ہے جو وٹامنوں اور معدنیات کا عمدہ مرکب ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین اور اطفال کی ترقیات کی وزارت کی جانب سے مشن پوشن 2.0 کے لیے جاری کیے گئے رہنما خطوط میں غذائی تنوع کو فروغ دینے پر ازحد زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی تازے پھلوں، سبزیوں، موٹے اناجوں اور ثابت شکل میں خوراک کے استعمال کو بھی اہمیت دی گئی ہے جو مقامی طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔ تغذیہ سے مالامال ہوتے ہیں اور علاقائی پس منظر میں بھی مناسب خیال کیے جاتے ہیں۔ ان رہنما خطوط کو بنیاد بناکر روایتی طور پر جن کھانوں کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے انہیں مقامی طور پر دستیاب کرایا جاتا ہے اور قابل استطاعت عناصر یا خصوصیات اس امر کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں کہ بچے کو ایسی متوازن غذا فراہم ہو جو اس کی نشو و نما میں معاون ثابت ہو۔
انھوں نے کہا کہ دوسری بات، سائنٹفک طو رپر پیغام پہنچانے کے لیے ثقافتی پلیٹ فارموں کا استعمال بڑے پیمانے پر سماجی اور برتا¶ جاتی تبدیلی کو فروغ دینے کے معاملے میں کلیدی حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے بچے کی پیدائش کے چھ مہینوں کے بعد معاون غذا کی فراہمی کا نظام الاوقات شروع کرنے کا ایک وقت مقرر کیا ہے جو صدیوں سے چلی آر ہی رسم اَن پراشن سے ہم آہنگ ہے۔ یہ رسم بھارتی ثقافتی پس منظر میں ایک اہم سنگ میل کہی جا سکتی ہے۔ معاون غذا کی فراہمی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت نے اَن پراشن دیوس کو معاشرتی بنیادوں پر ایک تقریب کی شکل میں منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اہتمام آنگن واڑی کارکنان کے ذریعہ ملک بھر میں کیا جاتا ہے تاکہ ماو?ں اور مقامی برادریوں کو بچوں کی غذا میں متنوع اور تغذیہ سے مالامال غذا کی شمولیت کی اہمیت کے بارے میں آگہی فراہم کی جا سکے۔روایتی فہم و دانش اور سماجی ثقافتی طریقہ ہائے کار کا استعمال کرتے ہوئے، جس کے ذریعہ سائنٹفک طور پر یہ پیغام عام ہو سکے، یہ طریقہ نوزائیدہ بچوں اور چھوٹے بچوں کو غذا کھلانے کے سلسلے میں اس کی قبولیت کے لیے بہترین طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے بتایا کہ تیسری بات، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر چھوٹے بچے خواہ ان کا سماجی اقتصادی پس منظر کچھ بھی ہو، تغذیہ بخش خوراک تک ان کو رسائی حاصل ہو۔ یہ موجودہ سرکاری پروگراموں سے استفادہ کرنے کے لیے ازحد اہم ہے۔ خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت کی جانب سے چلایا جانے والا معاون تغذیہ پروگرام (ایس این پی ) جہاں ایک جانب ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر) اور گرم پکا ہوا کھانا (ایچ سی ایم) جیسی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو چھ مہینے سے لے کر چھ سال تک کے بچوں کے لیے ہوتا ہے۔ یہ عمل ان کنبوں خصوصاً کم آمدنی کی حامل برادریوں کے کنبوں کے لیے زندگی کے ایک سہارے کے طور پر کام کرتا ہے جہاں تغذیہ بخش خوراک تک رسائی اکثر بہت محدود ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ چوتھی بات، صحت بخش خوراک کو فروغ دیتے ہوئے مساوی طور پر یہ بات بھی اہم ہے کہ بچوں کو رکھے ہوئے باسی کھانے اور حد سے زیادہ پکائے ہوئے کھانوں خصوصاً زیادہ چکنائی والے، شکر اور نمک آمیز کھانوں کے خطرات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ جنک فوڈ، مثلاً کوکیز، چپس، نمکین، فوری طور پر تیار کیے جانے والے نوڈلس، سافٹ ڈرنکس اور بیکری میں تیار ہونے والی مصنوعات بدقسمتی سے اب بچوں کے مینو میں شامل ہو چکی ہیں۔ مزید برآں بڑے زور و شور سے فروخت کے لیے بے بی فوڈس کی تشہیر کی جاتی ہے جو سرکردہ کثیر ملکی برانڈس کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں حال ہی میں قومی اداروں مثلاً قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کی نگرانی میں آئی ہیں کیونکہ ان چیزوں میں بڑے پیمانے پر شکر کے اجزاءخصوصاً ہندوستان میں فروخت کے لیے پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ جنک فوڈ کا استعمال ہندوستان میں چھوٹے بچوں میں عام ہو رہا ہے اور اس میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال بڑے پیمانے پر ایسا ہو رہا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ حالیہ سائنٹفک مشاہدات سے اشارہ ملا ہے کہ ان غیر صحت بخش کھانوں کو جب بچے کھاتے ہیں تو ان کے جسم میں موٹاپا، ذیابیطس جیسے امراض کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور وہ بالغ ہوکر دائمی صحتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا پروسیس شدہ کھانوں کے مضر اثرات کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنا ازحد اہم ہے اور والدین کو اس بات کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کی جانی چاہئے کہ وہ صحت بخش متبادل اختیار کریں۔ یہ کامیابی معاشرتی تعلیم، میڈیا مہمات اور حفظانِ صحت فراہم کاروں کی سرگرم شراکت اور سماجی طور پر کام کرنے والے صحتی کارکنان کے تعاون سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ یعنی یہ لوگ والدین کو معقول غذائی طریقہ ہائے کار اپنانے کے تئیں راغب کر سکتے ہیں۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ معاون غذا کی فراہمی ساتویں پوشن ماہ 2024 کا ایک عنصر تھاجس کے ذریعہ ماں اور بچے کے تغذیہ سے متعلق نظرانداز کیے گئے پہلوں اور ان سے وابستہ مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ مشاہدے پر مبنی طریقہ ہائے کار کو فروغ دے کر ثقافتی روایتی طریقہ ہائے کار کو بروئے کار لاکر جن میں اَن پراشن جیسا طریقہ شامل ہے، قابل استطاعت اور مقامی طور پر دستیاب کھانے فراہم کرکے اور بچوں کو غیر صحت بخش کھانوں سے تحفظ فراہم کرکے ہندوستان نقصِ تغذیہ کے خاتمے کے ترجیحاتی ایجنڈے سے نمٹنے کے معاملے میں اہم اقدام کر سکتا ہے۔ جن آندولن یا عوامی تحریک کے ساتھ حکومت کی کوششیں اس امر کو یقینی بنا سکتی ہیں کہ تمام تر بچے ایسی غذا حاصل کریں جس کی انہیں ضرورت ہے جو ان کی نشو و نما میں معاون ثابت ہو اور اس طریقے سے وہ ملک کے لیے ایک صحت بخش مستقبل کی بنیاد ڈال سکیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔م الف
ہندوستان
مودی کل وارانسی میں گارمنٹ فیکٹری اور بھونیشور میں ریزرو بینک کے ڈیٹا سینٹر کا افتتاح کریں گے
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی اتوار کو اتر پردیش اور اڈیشہ کے دورے پر رہیں گے۔
وزیر اعظم وارانسی میں اَروِند لمیٹڈ کی نئی گارمنٹ مینوفیکچرنگ فیکٹری کا افتتاح کریں گے۔ اس کے بعد نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے 94ویں یومِ تاسیس کے موقع پر منعقد ہونے والے ‘ونگز اوور گنگا’ پروگرام میں ایئر فورس ڈے ایریل ڈسپلے-2026 کا مشاہدہ کریں گے۔ اڈیشہ کے بھونیشور میں وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نئے ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے اور اجتماع سے خطاب کریں گے۔
وارانسی میں قائم کی گئی نئی گارمنٹ فیکٹری کا مقصد ملک کے ٹیکسٹائل اور ملبوسات کی تیاری کے شعبے کو مضبوط بنانا اور علاقے میں صنعتی ترقی کو فروغ دینا ہے۔ جدید مینوفیکچرنگ کے طریقوں پر توجہ مرکوز کرنے والا یہ ادارہ روزگار کے مواقع پیدا کرے گا، خاص طور پر خواتین کے لیے۔ عالمی صارفین سے منسلک اس منصوبے کے ذریعے وارانسی میں تیار ہونے والی مصنوعات بین الاقوامی منڈیوں تک پہنچیں گی۔ یہ منصوبہ خواتین کی قیادت میں ترقی اور اتر پردیش میں صنعتی سرمایہ کاری کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔
وزیر اعظم دوپہر میں وارانسی کے نمو گھاٹ پر ہندوستانی فضائیہ کے ایریل ڈسپلے-2026 میں مہمانِ خصوصی ہوں گے۔ ‘ونگز اوور گنگا’ کے موضوع پر منعقد ہونے والا یہ پروگرام ہندوستانی فضائیہ کی 94ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا جائے گا۔ اس میں دیسی ساختہ لڑاکا طیارہ تیجس، ہلکا لڑاکا ہیلی کاپٹر پرچنڈ، سخوئی-30 اور رافیل لڑاکا طیاروں سمیت ٹرانسپورٹ طیارے حصہ لیں گے۔ ہندوستانی بحریہ اور فوج کے طیارے بھی مشترکہ آپریشنل صلاحیت کا مظاہرہ کریں گے۔
ایئر شو میں ہندوستانی فضائیہ کی اہم مظاہرہ کرنے والی ٹیمیں، سوریہ کرن ایروبیٹک ٹیم اور سارنگ ہیلی کاپٹر ڈسپلے ٹیم بھی حصہ لیں گی۔ مظاہرے کے دوران پرواز کی مہارت، باہمی تال میل اور آپریشنل کارکردگی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔
اس کے بعد مسٹر مودی اڈیشہ کے بھونیشور پہنچیں گے۔ شام کو وہ ریزرو بینک آف انڈیا کے نو تعمیر شدہ ڈیٹا سینٹر اور سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا افتتاح کریں گے۔ ان سہولتوں کو بینک کی کمپیوٹنگ ضروریات پوری کرنے اور بینکاری و مالیاتی شعبے کو محفوظ، مضبوط اور مستقبل کی ضروریات کے مطابق ڈیجیٹل ڈھانچہ فراہم کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔
ڈیٹا سینٹر کمپلیکس میں چار جدید ترین ڈیٹا سینٹر ہوں گے، جہاں ادائیگی اور تصفیے کے نظام سمیت اہم ڈیجیٹل خدمات چلائی جائیں گی۔ اس سہولت کو اپ ٹائم انسٹی ٹیوٹ کے ٹیئر-4 معیار کی سند حاصل ہوئی ہے، جسے ڈیٹا سینٹر کے بنیادی ڈھانچے اور آپریشنل مضبوطی کے لیے عالمی معیار سمجھا جاتا ہے۔ یہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبے میں دنیا کی سب سے بڑی ٹائر-4 سند یافتہ سہولتوں میں شامل ہے۔
بھونیشور میں قائم سائبر سکیورٹی ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کا مقصد سائبر سکیورٹی اور انٹرپرائز ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تربیت، تحقیق اور ماہرین کی صلاحیتوں کو فروغ دینا ہے۔ یہ ادارہ بینکاری، مالیاتی خدمات اور بیمہ کے شعبوں سے متعلق جدید ترین ٹیکنالوجی پر توجہ مرکوز کرے گا۔ ان میں کوانٹم کمپیوٹنگ اور مصنوعی ذہانت سمیت ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز شامل ہیں۔ بینک کے مطابق، یہ دونوں سہولتیں ڈیجیٹل مالیاتی خدمات کی رسائی، کارکردگی اور قابلِ اعتماد ہونے کی صلاحیت بڑھانے میں معاون ثابت ہوں گی۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات میں ہی شریک حیات بننے کا احساس ہوگیا تھا: سونیا
نئی دہلی، کانگریس پارلیمانی پارٹی کی لیڈر سونیا گاندھی نے سابق وزیر اعظم اور اپنے شوہر راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات کا واقعہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں سب سے زیادہ متاثر کیا تھا اور وہ اس ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
محترمہ گاندھی نے اپنی آنے والی خودنوشت کتاب ‘بیلونگ: اے جرنی آف لو’ میں بیان کیے گئے واقعات سے متعلق ایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے ہفتہ کو بتایا کہ ان دنوں انگلینڈ میں انہیں کھانا بہت خراب لگتا تھا۔ اس وقت آج کی طرح اتنے ریستوراں بھی نہیں ہوا کرتے تھے، اس لیے وہ مسلسل ایسی جگہ تلاش کرتی رہتی تھیں، جہاں انہیں اپنی پسند کا کھانا، خاص طور پر اطالوی کھانا مل سکے۔
انہوں نے بتایا کہ اسی تلاش کے دوران انہیں ایک یونانی ریستوراں کے بارے میں معلوم ہوا، جہاں کئی طلبہ، خاص طور پر یورپی اور ہندوستانی طلبہ کھانا کھانے جایا کرتے تھے۔ اسی ریستوراں میں ان کی راجیو گاندھی سے پہلی ملاقات ہوئی تھی۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ پہلی ملاقات میں ہی انہیں احساس ہوگیا تھا کہ مسٹر گاندھی ایسے شخص ہیں، جن کے ساتھ وہ زندگی گزارنا چاہیں گی۔ بعد میں انہیں معلوم ہوا کہ راجیو گاندھی نے بھی ان کے بارے میں ایسا ہی محسوس کیا تھا۔
محترمہ گاندھی نے بتایا کہ سب سے پہلے ان دونوں کے ایک مشترکہ دوست نے ان کا ایک دوسرے سے تعارف کرایا تھا۔ اس کے بعد وہ دوست بن گئے اور اپنے دوستوں کے ساتھ پارٹیوں میں جانے اور سیاحتی مقامات کی سیر کرنے لگے۔ محترمہ گاندھی نے ویلنٹائن پارٹی کا بھی ذکر کیا، جس میں بڑی تعداد میں طلبہ نے شرکت کی تھی۔
راجیو گاندھی کو یاد کرتے ہوئے محترمہ گاندھی نے کہا کہ وہ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے، لیکن ان کی شخصیت میں جھلکنے والی انکساری نے انہیں خاص طور پر متاثر کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ راجیو گاندھی کی یہی سادگی ان کے دل کو چھو گئی تھی اور وہ ان سے اپنی پہلی ملاقات کو کبھی نہیں بھول سکتیں۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
ووٹر فہرست کی خامیوں کے لیئے سافٹ ویئرکوموردالزام ٹھہرانا ناقابل قبول: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں خامیوں کے تعلق سے الیکشن کمیشن کو نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو فائدہ پہنچانے کے لیے کی گئی منظم سازش کا الزام سافٹ ویئرلگانے کی کوشش ناقابل قبول ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے ہفتہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ اتر پردیش قانون ساز کونسل کے انتخابات کی ووٹر فہرست میں ایک ووٹر کا نام ‘رام نے یادو کو مارا’ اور اس کے والد کا نام ‘مورکھ چندر یادو’ درج ہے۔ اسی طرح ایک ووٹر کے والد کا نام ‘بی کام’ اور ایک دوسرے ووٹر کا نام ‘رام نے شرما کا نام’ درج کیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ووٹر فہرستوں کو درست کرنے کے اعلان کردہ مقصد سے شروع کیے گئے خصوصی تفصیلی نظر ثانی (ایس آئی آر) کے عمل نے ان فہرستوں کی ساکھ کو مزید شکوک و شبہات کے دائرے میں لا کھڑا کیا ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ لوک سبھا اور ہریانہ، مہاراشٹر نیز مغربی بنگال سمیت مختلف ریاستوں کے انتخابات میں ووٹ چوری کے حوالے سے لوگوں کے شبہات اب یقین میں بدلتے جا رہے ہیں۔ ان کی پارٹی کا واضح موقف ہے کہ بی جے پی نے الیکشن کمیشن کے ساتھ ملی بھگت کرکے انتخابات جیتے ہیں۔ ووٹ چوری کے معاملے پر لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کے سوالات کا جواب دینے کے بجائے وزیر اعظم نریندر مودی اور ان کی پارٹی بی جے پی مسٹر گاندھی پر ذاتی حملے کر رہی ہے۔
کانگریس نے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے فوری استعفے، بی جے پی کو فائدہ پہنچانے کے مقصد سے چلائے جا رہے ایس آئی آر کے عمل پر روک لگانے، ووٹر فہرست کی غیر جانبدارانہ جانچ کرانے، مکمل مشین ریڈیبل ڈیٹا عام کرنے اور ہر اہل شہری کے حق رائے دہی کے تحفظ کو یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔
یواین آئی ۔ ایف اے
-
دنیا1 week agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا1 week agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان1 week agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں و کشمیر: رام بن میں چرس اور ہیروئن کے ساتھ تین افراد گرفتار
-
ہندوستان1 week agoسی جے پی بانی ابھیجیت دیپکے کو ملی ضمانت
-
ہندوستان1 week agoاقتدار کے لالچ میں آئینی اداروں پر سوال اٹھا کر جمہوریت کے وقار کو ٹھیس پہنچاتے ہیں راہل گاندھی: دھرمیندر پردھان
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان1 week agoجی ٹی ٹی سی آئی اور شری دھرمک لیلا کمیٹی نے لال قلعے میں ‘عالمی یومِ خوراک’ منایا
-
دنیا1 week agoٹرمپ نے روس پر نئی پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ مؤخر کردیا
