ہندوستان
بچوں کی ذہنی نشو و نما کے لئے معاون غذا کی فراہمی بنیادی اہمیت کی حامل:ڈاکٹر اننیا اوستھی
نئی دہلی، ماہ ستمبر میں ہندوستان نے ساتواں راشٹریہ پوشن ماہ 2024 منایا ہے یہ ایک ایسا مہینہ ہے جو تغذیہ سے متعلق بیداری اور عملی کارروائی کے لیے وقف ہے یہ ایک ایسا اہم پہلو ہے جو ہماری اجتماعی توجہ کا متقاضی ہے اور وہ توجہ معاون غذائی فراہمی کی شکل میں کی جانی ہے نوزائیدہ بچوں کو پستان کے ذریعہ مخصوص غذا کی فراہمی کے علاوہ ایک ایسی غذا فراہم کرنے کا طریقہ کار جس میں ٹھوس اور نیم ٹھوس خوراک کے عناصر شامل ہوں، ہندوستان میں تغذیہ کی قلت کے مسئلے کو حل کرنے کے معاملے میں بنیادی اہمیت کی حامل ہے ان خیالات کا اظہارمحقق برائے صحت عامہ اورسائنٹفک مشاہدات کو پالیسی عمل میں بدلنے والے ادارے انوواد سالیوشنز کی ڈائرکٹر ڈاکٹر اننیا اوستھی نے یہاں جاری ایک مضمون میں کیا۔
انھوں نے کہا کہ معاون غذا کی فراہمی محض خوراک تک محدود نہیں ہے۔ اس کے تحت اس امر کو بھی یقینی بنایا جاتا ہے کہ بچوں کو صحیح وقت پر صحیح تغذیہ پر مبنی عناصر فراہم کرائے جائیں جو صحت مند اور بارآور زندگی کی بنیادیں استوار کر سکیں۔ چونکہ واحد طور پر دودھ نمو پذیر بچے کی تمام تغذیہ جاتی خوراک کی تکمیل مکمل طو رپر نہیں کر سکتا۔ عالمی ادارہ صحت نے چھ ماہ کی عمر کے بچوں کے لیے تغذیہ کے لحاظ سے وافر معاون خوراکوں کی سفارش کی ہے جس کے ساتھ دو برس کی عمر یا اس سے بھی زیادہ تک انہیں پستانوں سے دوھ بھی پلایا جانا ضروری ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے مزید کہا کہ معاون غذا کی فراہمی ذہنی نشو و نما میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ جسمانی نمو اور امراض سے محفوظ رکھنے کی قوت کو بڑھاتی ہے۔ ذہن کی نشو و نما کے سلسلے میں سائنٹفک مشاہدات سے انکشاف ہوا ہے کہ بچے کی پیدائش کے دو برسوں کے اندر اس کا ذہن 100 فی صد سے زائد نمو سے ہمکنار ہوتا ہے اوراس میں بنیادی طو رپر اس کے ذہن اور اس کی ریڑھ کی ہڈی کے اندر موجود خلیے نشو و نما کے حامل ہوتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ اسی طریقے سے پہلے سال کے دوران ایک بچے کی پیدائش کے وقت جو وزن ہوتا ہے، وہ وزن سال کے اندر تقریباً تین گنا ہو جاتا ہے۔ لہٰذا معاون طور پر غذا کی فراہمی نہ صرف یہ کہ ذہنی نشو و نما کے لیے لازمی ہے بلکہ بچے کے سوئے تغذیہ کو کم کرنے کے لیے بھی ضروری ہے۔ یہ ایسی صورت حال ہے جو ہندوستان میں پانچ برس سے کم کی عمر کے تقریباً ایک تہائی بچوں کو متاثر کرتی ہے۔ بچوں میں ناقص تغذیہ کی متعدد صورتیں ہیں جو ان کی نشو و نما میں رکاوٹ (عمر کے لحاظ سے لمبائی نہ بڑھنا)، ویسٹنگ (لمبائی کے لحاظ سے کم وزن) اور ناکافی وزن (عمر کے لحاظ سے کم وزن) پر مشتمل ہیں۔ یہ سبھی صورتیں نمو پذیر بچے کی جسمانی اور ذہنی ترقی اور نشو و نما پر اہم اثرات مرتب کر سکتی ہیں۔ مثال کے طور پر تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس کی نشو و نما رک ہو جانے والے بچے امتحانات وغیرہ میں کم نمبر لاتے ہیں، ان کے مجموعی نتائج بھی حوصلہ افزا نہیں ہوتے اور بعد کی زندگی میں ان کی اقتصادی پیداواریت بھی کم نظر آتی ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے کہا کہ اس کے علاوہ معاون غذا کی فراہمی سنگین امراض سے نبرد آزما ہونے کے نظام کی تعمیر کے لیے بھی لازم ہے۔ اس سے اسہال، سانس کی بیماریاں اور خوراک سے ہونے والی الرجی وغیرہ لاحق ہونے اور چھوت لاحق ہونے کے معاملات میں تخفیف لانے میں مدد ملتی ہے جو بچوں میں عام طور پر پائے جاتے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ایک بچے کی زندگی کے پہلے دو برس مواقع کا وہ اہم موقع ہوتا ہے جب وافر تغذیہ اہم طو رپر اس کی جسمانی نمو، ہوش و حواس اور ہماری مستقبل کی پیڑھیوں کی امراض سے لڑنے کی صلاحیت کو بہتر بنا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی اہم نازک مدت ہوتی ہے جس کے دوران ایک متوازن غذا جو وٹامن سے مالامال پھلوں اور سبزیوں، ثابت اناجوں، پھلیوں، انڈوں اور دودھ کی صنعت سے حاصل ہونے والی اشیاءکی شکل میں بچے کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ اس کی اہمیت کے باوجود ہندوستان میں معاون غذا کی فراہمی تشویشناک طو رپر فقدان کا شکار ہے۔ قومی کنبہ سروے کے ذریعہ حاصل شدہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ چھوٹے بچوں کے لیے معاون غذا کے معاملے میں فاصلہ باقی ہے جس پر سوئے تغذیہ سے نمٹنے کے لیے فوری طور پر موثر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے۔ اسی پس منظر میں خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت نے راشٹریہ پوشن ماہ (قومی تغذیہ ماہ2024) میں معاون غذا کی فراہمی کو ترجیح دی ہے جس سے ہندوستان کے تغذیہ ایجنڈے میں ایک اہم سنگ میل اجاگر ہوتا ہے۔
یہ ہمیں ایک اہم اور کلیدی سوال پر سوچنے کے لیے مجبور کرتا ہے: ہندوستان میں چھوٹے بچوں کی معاون تغذیہ فراہمی کو بڑھانے اور اختیار کرنے کے لیے کون کون سے اقدامات کیے جاتے ہیں؟
کامیاب معاون غذا کی فراہمی کے لیے پہلا اور سب سے لازمی امر یہ ہے کہ بچے کی ڈائٹ میں صحت بخش اور تغذیہ بخش خوراک شامل کی جائے خصوصاً چھ مہینے کی عمر سے لے کر دو برسوں کی عمر تک پہنچنے کے درمیان ایسا کرنا ضروری ہے۔ بھارت میں غذا¶ں کا مالامال سلسلہ دستیاب ہے اور اس کے تحت مختلف النوع تغذیہ بخش متبادل دستیاب ہیں جو چھوٹے بچے کے لیے مثالی تغذیہ فراہم کرسکتے ہیں۔ کھچڑی اور دلیہ جیسے روایتی کھانے نہ صرف یہ کہ تیار کرنے میں آسان ہوتے ہیں بلکہ ان میں لازمی تغذیہ جاتی عناصر بھی پائے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر راگی کیلے اور دلیہ پر مشتمل غذا آئرن اور کیلشیم کا عمدہ وسیلہ ہے۔ جبکہ باجرے کی کھچڑی ایسی چیز ہے جو وٹامنوں اور معدنیات کا عمدہ مرکب ہوتی ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ خواتین اور اطفال کی ترقیات کی وزارت کی جانب سے مشن پوشن 2.0 کے لیے جاری کیے گئے رہنما خطوط میں غذائی تنوع کو فروغ دینے پر ازحد زور دیا گیا ہے۔ ساتھ ہی تازے پھلوں، سبزیوں، موٹے اناجوں اور ثابت شکل میں خوراک کے استعمال کو بھی اہمیت دی گئی ہے جو مقامی طور پر دستیاب ہوتے ہیں۔ تغذیہ سے مالامال ہوتے ہیں اور علاقائی پس منظر میں بھی مناسب خیال کیے جاتے ہیں۔ ان رہنما خطوط کو بنیاد بناکر روایتی طور پر جن کھانوں کا استعمال کم ہوتا جا رہا ہے انہیں مقامی طور پر دستیاب کرایا جاتا ہے اور قابل استطاعت عناصر یا خصوصیات اس امر کو یقینی بنانے میں معاون ثابت ہو سکتے ہیں کہ بچے کو ایسی متوازن غذا فراہم ہو جو اس کی نشو و نما میں معاون ثابت ہو۔
انھوں نے کہا کہ دوسری بات، سائنٹفک طو رپر پیغام پہنچانے کے لیے ثقافتی پلیٹ فارموں کا استعمال بڑے پیمانے پر سماجی اور برتا¶ جاتی تبدیلی کو فروغ دینے کے معاملے میں کلیدی حکمت عملی ثابت ہو سکتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ڈبلیو ایچ او نے بچے کی پیدائش کے چھ مہینوں کے بعد معاون غذا کی فراہمی کا نظام الاوقات شروع کرنے کا ایک وقت مقرر کیا ہے جو صدیوں سے چلی آر ہی رسم اَن پراشن سے ہم آہنگ ہے۔ یہ رسم بھارتی ثقافتی پس منظر میں ایک اہم سنگ میل کہی جا سکتی ہے۔ معاون غذا کی فراہمی کی اہمیت کو تسلیم کرتے ہوئے خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت نے اَن پراشن دیوس کو معاشرتی بنیادوں پر ایک تقریب کی شکل میں منانے کا فیصلہ کیا ہے جس کا اہتمام آنگن واڑی کارکنان کے ذریعہ ملک بھر میں کیا جاتا ہے تاکہ ماو?ں اور مقامی برادریوں کو بچوں کی غذا میں متنوع اور تغذیہ سے مالامال غذا کی شمولیت کی اہمیت کے بارے میں آگہی فراہم کی جا سکے۔روایتی فہم و دانش اور سماجی ثقافتی طریقہ ہائے کار کا استعمال کرتے ہوئے، جس کے ذریعہ سائنٹفک طور پر یہ پیغام عام ہو سکے، یہ طریقہ نوزائیدہ بچوں اور چھوٹے بچوں کو غذا کھلانے کے سلسلے میں اس کی قبولیت کے لیے بہترین طریقہ ثابت ہو سکتا ہے۔
ڈاکٹر اننیا اوستھی نے بتایا کہ تیسری بات، اس امر کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر چھوٹے بچے خواہ ان کا سماجی اقتصادی پس منظر کچھ بھی ہو، تغذیہ بخش خوراک تک ان کو رسائی حاصل ہو۔ یہ موجودہ سرکاری پروگراموں سے استفادہ کرنے کے لیے ازحد اہم ہے۔ خواتین اور اطفال ترقیات کی وزارت کی جانب سے چلایا جانے والا معاون تغذیہ پروگرام (ایس این پی ) جہاں ایک جانب ٹیک ہوم راشن (ٹی ایچ آر) اور گرم پکا ہوا کھانا (ایچ سی ایم) جیسی سہولتیں فراہم کرتا ہے جو چھ مہینے سے لے کر چھ سال تک کے بچوں کے لیے ہوتا ہے۔ یہ عمل ان کنبوں خصوصاً کم آمدنی کی حامل برادریوں کے کنبوں کے لیے زندگی کے ایک سہارے کے طور پر کام کرتا ہے جہاں تغذیہ بخش خوراک تک رسائی اکثر بہت محدود ہوتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ چوتھی بات، صحت بخش خوراک کو فروغ دیتے ہوئے مساوی طور پر یہ بات بھی اہم ہے کہ بچوں کو رکھے ہوئے باسی کھانے اور حد سے زیادہ پکائے ہوئے کھانوں خصوصاً زیادہ چکنائی والے، شکر اور نمک آمیز کھانوں کے خطرات سے تحفظ فراہم کیا جائے۔ جنک فوڈ، مثلاً کوکیز، چپس، نمکین، فوری طور پر تیار کیے جانے والے نوڈلس، سافٹ ڈرنکس اور بیکری میں تیار ہونے والی مصنوعات بدقسمتی سے اب بچوں کے مینو میں شامل ہو چکی ہیں۔ مزید برآں بڑے زور و شور سے فروخت کے لیے بے بی فوڈس کی تشہیر کی جاتی ہے جو سرکردہ کثیر ملکی برانڈس کے حامل ہوتے ہیں۔ یہ تمام چیزیں حال ہی میں قومی اداروں مثلاً قومی کمیشن برائے تحفظ حقوق اطفال کی نگرانی میں آئی ہیں کیونکہ ان چیزوں میں بڑے پیمانے پر شکر کے اجزاءخصوصاً ہندوستان میں فروخت کے لیے پائے جاتے ہیں۔ لہٰذا کوئی حیرت کی بات نہیں ہے کہ جنک فوڈ کا استعمال ہندوستان میں چھوٹے بچوں میں عام ہو رہا ہے اور اس میں برابر اضافہ ہو رہا ہے۔ ہر سال بڑے پیمانے پر ایسا ہو رہا ہے۔ تشویش کی بات یہ ہے کہ حالیہ سائنٹفک مشاہدات سے اشارہ ملا ہے کہ ان غیر صحت بخش کھانوں کو جب بچے کھاتے ہیں تو ان کے جسم میں موٹاپا، ذیابیطس جیسے امراض کی بنیاد پڑ جاتی ہے اور وہ بالغ ہوکر دائمی صحتی مسائل کا شکار ہو جاتے ہیں۔ لہٰذا پروسیس شدہ کھانوں کے مضر اثرات کے سلسلے میں بیداری پیدا کرنا ازحد اہم ہے اور والدین کو اس بات کے لیے حوصلہ افزائی فراہم کی جانی چاہئے کہ وہ صحت بخش متبادل اختیار کریں۔ یہ کامیابی معاشرتی تعلیم، میڈیا مہمات اور حفظانِ صحت فراہم کاروں کی سرگرم شراکت اور سماجی طور پر کام کرنے والے صحتی کارکنان کے تعاون سے ہی حاصل ہوسکتی ہے۔ یعنی یہ لوگ والدین کو معقول غذائی طریقہ ہائے کار اپنانے کے تئیں راغب کر سکتے ہیں۔
آخر میں انھوں نے کہا کہ معاون غذا کی فراہمی ساتویں پوشن ماہ 2024 کا ایک عنصر تھاجس کے ذریعہ ماں اور بچے کے تغذیہ سے متعلق نظرانداز کیے گئے پہلوں اور ان سے وابستہ مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے۔ مشاہدے پر مبنی طریقہ ہائے کار کو فروغ دے کر ثقافتی روایتی طریقہ ہائے کار کو بروئے کار لاکر جن میں اَن پراشن جیسا طریقہ شامل ہے، قابل استطاعت اور مقامی طور پر دستیاب کھانے فراہم کرکے اور بچوں کو غیر صحت بخش کھانوں سے تحفظ فراہم کرکے ہندوستان نقصِ تغذیہ کے خاتمے کے ترجیحاتی ایجنڈے سے نمٹنے کے معاملے میں اہم اقدام کر سکتا ہے۔ جن آندولن یا عوامی تحریک کے ساتھ حکومت کی کوششیں اس امر کو یقینی بنا سکتی ہیں کہ تمام تر بچے ایسی غذا حاصل کریں جس کی انہیں ضرورت ہے جو ان کی نشو و نما میں معاون ثابت ہو اور اس طریقے سے وہ ملک کے لیے ایک صحت بخش مستقبل کی بنیاد ڈال سکیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔م الف
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
