تازہ ترین
ویڈیو: منان وانی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
سرحدی قصبہ ہندوارہ میں بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین کے نامور کمانڈر اور معروف اسکاکر عبدالمنان وانی اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ جمعیت نے ہندوارہ کے شاٹ گنڈ بالا قلم آباد بستی کا بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی کاآغاز کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج اور فورسز کی بھاری جمعیت نے بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب 2:30بجے شاٹ گنڈ قلم آباد کا سخت محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے بستی کے اندرون اور بیرون راستوں کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس دوران فوج اور فورسز نے دوران شب ہی شاٹ گنڈ نامی بستی کی گلی کوچوں پر موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بنانے کے علاوہ یہاں خاردار تاریں بھی نصب کیں اور تمام ممکنہ راستوں پر کڑا پہرہ بٹھایا۔ اس دوران تلاشی پارٹی نے جونہی بستی میں جنگجوؤں کی تلاش کے لیے پیش قدمی شروع تو انہوں نے مشتبہ مکان کی جانب گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کئے جس کے بعد یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے بھی تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی جس کے ساتھ ہی یہاں گولیوں کی گن گرج سے پوری بستی لرز اٹھی۔اس دوران فوج نے علاقہ کے چاروں اطراف مورچہ تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کی تاریکی کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک فوج و فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن معطل کیا تاہم صبح سورج کی کرنیں پھوٹتے ہیں گولیوں کا پھر سے تبادلہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 9بجے طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ تھم دیا جس کے بعد یہاں موجود فورسز پارٹی نے جائے جھڑپ کے نزدیک جانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکار مکان کے نزدیک جانے لگے تو یہاں پھر سے جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا جس کے ساتھ ہی کئی منٹوں تک پھر سے شدید گولہ باری ہوئی ۔ انہوں نے بتایا جن مکان میں جنگجوؤں نے پناہ لی تھی طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے ملبے سے 2جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کیں۔
منان وانی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت …
پولیس بیان:
پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی نفری نے مصدقہ اطلاع کی بنا پر شاٹ گنڈ قلم آباد علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔انہوں نے بتایاکہ ابتدائی طور پر فورسز پارٹی نے مشتبہ مکان کے نزدیک گولیوں کے کچھ راؤنڈ فائر کئے۔ ایس ایس پی ہندوارہ آشیش مہرا نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ہی علاقے میں محاصرے میں لے کر جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ ادھر جھڑپ کے کئی گھنٹوں تک جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وادی کے شمال و جنوب میں غیر یقینی صورتحال بپا رہی تاہم جمعرات سہ پہر کو پولیس نے دونوں جنگجوؤں کی شناخت عبدالمنان وانی ولد بشیر احمدوانی ساکن ٹکی پورہ لولاب اور عاشق حسین زرگر ساکن تلواری لنگیٹ کے بطور کی۔ اس دوران پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے شاٹھ گنڈ بالا قلم آباد ہندواڑہ گاؤں کو اعلیٰ الصبح جونہی محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیاتو اسی دوران علاقے میں موجود جنگجوؤں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ سیکورٹی فورسز نے آس پاس رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیاجبکہ محصور جنگجوؤں کو بار بار خود سپردگی کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2جنگجوہلاک ہوئے جن کی شناخت منان بشیر وانی و لد بشیر احمد وانی ساکنہ ٹکی پورہ سوگام کپواڑہ اور عاشق حسین زرگر ولد غلام محی الدین ساکنہ تلواری لنگیٹ کے بطور ہوئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کی جگہ اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ادھرمعلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کمانڈر عبدالمنان وانی نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے شعبہ جیالونی اینڈ مائیننگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھے جس کے بعد ہی جنوری 2018میں انہوں نے تعلیم سے فراغت حاصل کرکے حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔

جھڑپ کے بعد کی صورتحال :
ادھرشاٹ گنڈ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہیں ہندوارہ کے ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی شروع کی جسے فورسز نے طاقت کے بل پر ناکام بنایا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی شاٹ گنڈ نامی علاقے میں جھڑپ کی خبر پھیل گئی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے نمودار ہوکر فورسز کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر ان پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں مزید افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ اس دوران مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں کا تعاقب کرنے کے علاوہ آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میں یہاں ایک درجن کے قریب افراد بری طرح زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطر داخل کرایا گیا۔ادھر نامور اسکالر کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی وادی کے شمال و جنوب میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس پر طوری قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے کپوارہ، بارہمولہ، اور بانڈی پورہ کے تحت آنے والے تعلیمی ادارے اگلے احکامات تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر کپوارہ خالد جہانگیر نے ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع کے تحت آنے والے جملہ اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی عمل معطل رکھنے کے احکامات جاری کردئے ۔ ادھربانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے بانڈی پورہ، سمبل، حاجن، پٹن، سوپور اور بارہمولہ میں جملہ تعلیمی اداروں میں کام کاج کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اسی طرح اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کی انتظامیہ نے بھی وادی میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یورنی ورسٹی کو بند کردیا۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا کہ شمالی کشمیر میں جاں بحق جنگجوؤں کے مابعد صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے یونیورسٹی میں اگلے احکامات تک کاج کاج کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرح ضلع سرینگر میں بھی انتظامیہ نے کئی تعلیمی اداروں اور کالجوں کو بند رکھنے کا فیصلہ لیا۔ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کو زائل کرنے کے لیے انتظامیہ نے وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو کہیں مکمل تو کہیں جزوی طور پر بند کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ، ہندوارہ، بارہمولہ، سوپور، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ، حاجن سمیت متعدد دیہات میں انتظامیہ نے موبائل انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر بند کردیا جبکہ شہر سرینگر سمیت جنوبی کشمیر کے کولگام، شوپیان ، اسلام آباد اور پلوامہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار کم کردی۔ شاٹ گنڈ جھڑپ کے بعد جونہی پولیس ذرائع نے جنگجو کمانڈر عبدالمنان وانی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی تو جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان سمیت وسطی کشمیر کے بڈگام، سرینگر اور گاندربال علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسکوٹروں اور گاڑیوں میں سوار ہوکر ہندوارہ کا رخ کرنا شروع کردیا جس کے ساتھ ہی وادی میں عجیب صورتحال بپا ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران پولیس نے جنگجوؤں کمانڈر منان وانی کی تدفین اور آخری رسومات میں لوگوں کی شرکت کو ناممکن بنانے کے لیے شمالی کشمیر کو جانے والی شاہراہ پرجگہ جگہ رکاوٹیں کھڑا کیں جبکہ شمالی کشمیر میں قائم پیٹرول پمپ مالکان کو اسکوٹر سواروں کو تیل نہ فراہم کرنے کے واضح احکامات جاری کردئے گئے۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
