تازہ ترین
ویڈیو: منان وانی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں کی شرکت ، مکمل رپورٹ
خبراردو:
سرحدی قصبہ ہندوارہ میں بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب فوج اور جنگجوؤں کے درمیان خونین تصادم آرائی کے دوران حزب المجاہدین کے نامور کمانڈر اور معروف اسکاکر عبدالمنان وانی اپنے ساتھی سمیت جاں بحق ہوئے۔ اطلاعات کے مطابق فوج، سی آر پی ایف اور ایس او جی کی مشترکہ جمعیت نے ہندوارہ کے شاٹ گنڈ بالا قلم آباد بستی کا بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب کو محاصرے میں لیتے ہوئے یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کی خاطر بڑے پیمانے پر تلاشی کارروائی کاآغاز کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج اور فورسز کی بھاری جمعیت نے بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب 2:30بجے شاٹ گنڈ قلم آباد کا سخت محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے بستی کے اندرون اور بیرون راستوں کو مکمل طور پر اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس دوران فوج اور فورسز نے دوران شب ہی شاٹ گنڈ نامی بستی کی گلی کوچوں پر موبائل بنکروں کی تعیناتی یقینی بنانے کے علاوہ یہاں خاردار تاریں بھی نصب کیں اور تمام ممکنہ راستوں پر کڑا پہرہ بٹھایا۔ اس دوران تلاشی پارٹی نے جونہی بستی میں جنگجوؤں کی تلاش کے لیے پیش قدمی شروع تو انہوں نے مشتبہ مکان کی جانب گولیوں کے کئی راؤنڈ فائر کئے جس کے بعد یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے بھی تلاشی پارٹی پر خودکار ہتھیاروں سے فائرنگ شروع کی جس کے ساتھ ہی یہاں گولیوں کی گن گرج سے پوری بستی لرز اٹھی۔اس دوران فوج نے علاقہ کے چاروں اطراف مورچہ تنگ کرتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف حتمی کارروائی کرنے کا فیصلہ کیا۔ رات کی تاریکی کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک فوج و فورسز نے جنگجو مخالف آپریشن معطل کیا تاہم صبح سورج کی کرنیں پھوٹتے ہیں گولیوں کا پھر سے تبادلہ ہوا۔ انہوں نے بتایا کہ جمعرات کی صبح 9بجے طرفین کے درمیان گولیوں کا تبادلہ تھم دیا جس کے بعد یہاں موجود فورسز پارٹی نے جائے جھڑپ کے نزدیک جانے کی کوشش کی۔ انہوں نے بتایا کہ جونہی فورسز اہلکار مکان کے نزدیک جانے لگے تو یہاں پھر سے جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوا جس کے ساتھ ہی کئی منٹوں تک پھر سے شدید گولہ باری ہوئی ۔ انہوں نے بتایا جن مکان میں جنگجوؤں نے پناہ لی تھی طرفین کی گولہ باری کے نتیجے میں وہ مکمل طور پر زمین بوس ہوگیا جس کے بعد فورسز اہلکاروں نے ملبے سے 2جنگجوؤں کی نعشیں برآمد کیں۔
منان وانی کے جنازے میں ہزاروں لوگوں نے شرکت …
پولیس بیان:
پولیس ذرائع نے بتایا کہ فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی نفری نے مصدقہ اطلاع کی بنا پر شاٹ گنڈ قلم آباد علاقے کو گھیرے میں لیتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف آپریشن شروع کردیا۔انہوں نے بتایاکہ ابتدائی طور پر فورسز پارٹی نے مشتبہ مکان کے نزدیک گولیوں کے کچھ راؤنڈ فائر کئے۔ ایس ایس پی ہندوارہ آشیش مہرا نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز نے مصدقہ اطلاع ملنے کے بعد ہی علاقے میں محاصرے میں لے کر جنگجوؤں کی تلاش شروع کی۔ ادھر جھڑپ کے کئی گھنٹوں تک جاں بحق جنگجوؤں کی شناخت معلوم نہ ہونے کی وجہ سے وادی کے شمال و جنوب میں غیر یقینی صورتحال بپا رہی تاہم جمعرات سہ پہر کو پولیس نے دونوں جنگجوؤں کی شناخت عبدالمنان وانی ولد بشیر احمدوانی ساکن ٹکی پورہ لولاب اور عاشق حسین زرگر ساکن تلواری لنگیٹ کے بطور کی۔ اس دوران پولیس نے اپنے بیان میں کہا کہ پولیس اور سیکورٹی فورسز نے شاٹھ گنڈ بالا قلم آباد ہندواڑہ گاؤں کو اعلیٰ الصبح جونہی محاصرے میں لے کر تلاشی آپریشن شروع کیاتو اسی دوران علاقے میں موجود جنگجوؤں نے حفاظتی عملے پر اندھا دھند فائرنگ شروع کی۔ چنانچہ سیکورٹی فورسز نے آس پاس رہائش پذیر لوگوں کو محفوظ مقامات کی اور منتقل کیاجبکہ محصور جنگجوؤں کو بار بار خود سپردگی کی پیشکش کی گئی تاہم انہوں نے فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا جس کے بعد حفاظتی عملے نے بھی جوابی کارروائی کی جس کے نتیجے میں 2جنگجوہلاک ہوئے جن کی شناخت منان بشیر وانی و لد بشیر احمد وانی ساکنہ ٹکی پورہ سوگام کپواڑہ اور عاشق حسین زرگر ولد غلام محی الدین ساکنہ تلواری لنگیٹ کے بطور ہوئی ہے۔پولیس نے بتایا کہ جھڑپ کی جگہ اسلحہ و گولہ بارود اور قابل اعتراض مواد برآمد کیا گیا۔ پولیس نے اس سلسلے میں کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی ہے۔ادھرمعلوم ہوا ہے کہ جاں بحق جنگجو کمانڈر عبدالمنان وانی نے علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی سے شعبہ جیالونی اینڈ مائیننگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی تھے جس کے بعد ہی جنوری 2018میں انہوں نے تعلیم سے فراغت حاصل کرکے حزب المجاہدین کی صفوں میں شمولیت اختیار کی۔

جھڑپ کے بعد کی صورتحال :
ادھرشاٹ گنڈ جھڑپ کی خبر پھیلتے ہیں ہندوارہ کے ملحقہ علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے جائے جھڑپ کی طرف پیش قدمی شروع کی جسے فورسز نے طاقت کے بل پر ناکام بنایا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ جونہی شاٹ گنڈ نامی علاقے میں جھڑپ کی خبر پھیل گئی تو یہاں نوجوانوں کی مختلف ٹولیوں نے نمودار ہوکر فورسز کی کارروائی میں رخنہ ڈالنے کی خاطر ان پر سنگ باری کی جس کے نتیجے میں یہاں مزید افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا۔ اس دوران مظاہرین کو منشتر کرنے کے لیے فورسز اہلکاروں نے نوجوانوں کا تعاقب کرنے کے علاوہ آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے جس کے نتیجے میں یہاں ایک درجن کے قریب افراد بری طرح زخمی ہوگئے جنہیں مختلف ہسپتالوں میں علاج و معالجے کی خاطر داخل کرایا گیا۔ادھر نامور اسکالر کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی وادی کے شمال و جنوب میں افرا تفری کا ماحول پیدا ہوا جس پر طوری قابو پانے کے لیے انتظامیہ نے شمالی کشمیر کے کپوارہ، بارہمولہ، اور بانڈی پورہ کے تحت آنے والے تعلیمی ادارے اگلے احکامات تک بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔ ڈپٹی کمشنر کپوارہ خالد جہانگیر نے ضلع میں امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے ضلع کے تحت آنے والے جملہ اسکولوں اور کالجوں میں تدریسی عمل معطل رکھنے کے احکامات جاری کردئے ۔ ادھربانڈی پورہ اور بارہمولہ میں بھی انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑبڑ سے نمٹنے کے لیے بانڈی پورہ، سمبل، حاجن، پٹن، سوپور اور بارہمولہ میں جملہ تعلیمی اداروں میں کام کاج کو بند رکھنے کا فیصلہ کیا۔

اسی طرح اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی اونتی پورہ کی انتظامیہ نے بھی وادی میں غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر یورنی ورسٹی کو بند کردیا۔ یونیورسٹی کے ترجمان نے بتایا کہ شمالی کشمیر میں جاں بحق جنگجوؤں کے مابعد صورتحال کے پیش نظر انتظامیہ نے یونیورسٹی میں اگلے احکامات تک کاج کاج کو معطل رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔اسی طرح ضلع سرینگر میں بھی انتظامیہ نے کئی تعلیمی اداروں اور کالجوں کو بند رکھنے کا فیصلہ لیا۔ امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے اور ممکنہ عوامی احتجاج کو زائل کرنے کے لیے انتظامیہ نے وادی بھر میں موبائل انٹرنیٹ سروس کو کہیں مکمل تو کہیں جزوی طور پر بند کردیا۔ معلوم ہوا ہے کہ شمالی کشمیر کے کپوارہ، ہندوارہ، بارہمولہ، سوپور، رفیع آباد، پٹن، بانڈی پورہ، حاجن سمیت متعدد دیہات میں انتظامیہ نے موبائل انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر بند کردیا جبکہ شہر سرینگر سمیت جنوبی کشمیر کے کولگام، شوپیان ، اسلام آباد اور پلوامہ میں موبائل انٹرنیٹ سروس کی رفتار کم کردی۔ شاٹ گنڈ جھڑپ کے بعد جونہی پولیس ذرائع نے جنگجو کمانڈر عبدالمنان وانی کے جاں بحق ہونے کی تصدیق کردی تو جنوبی کشمیر کے کولگام، اسلام آباد، پلوامہ اور شوپیان سمیت وسطی کشمیر کے بڈگام، سرینگر اور گاندربال علاقوں سے نوجوانوں کی بڑی تعداد نے اسکوٹروں اور گاڑیوں میں سوار ہوکر ہندوارہ کا رخ کرنا شروع کردیا جس کے ساتھ ہی وادی میں عجیب صورتحال بپا ہوئی۔ معلوم ہوا ہے کہ اس دوران پولیس نے جنگجوؤں کمانڈر منان وانی کی تدفین اور آخری رسومات میں لوگوں کی شرکت کو ناممکن بنانے کے لیے شمالی کشمیر کو جانے والی شاہراہ پرجگہ جگہ رکاوٹیں کھڑا کیں جبکہ شمالی کشمیر میں قائم پیٹرول پمپ مالکان کو اسکوٹر سواروں کو تیل نہ فراہم کرنے کے واضح احکامات جاری کردئے گئے۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
