ہندوستان
امبیڈکر پر تنازعہ بڑھا، بی جے پی اور انڈیا گروپ نے ایک دوسرے پر تشدد کا الزام لگایا
نئی دہلی، بابا صاحب ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر پر تنازع جمعرات کو مزید بڑھ گیا اور پارلیمنٹ کمپلیکس حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور اپوزیشن انڈیا گروپ کے درمیان میدان جنگ بن گیا اور دونوں فریقوں نے ایک دوسرے پر تشدد کا الزام لگایا اور معاملہ پولیس تک پہنچ گیا۔
حکومت اور اپوزیشن کے درمیان بدھ کو ہی تنازع شروع ہو گیا تھا۔ اپوزیشن نے الزام لگایا کہ وزیر داخلہ امت شاہ نے راجیہ ابھا میں آئین کے 75 سال کے شاندار سفر پر بحث کا جواب دیتے ہوئے ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین کی۔ مسٹر شاہ اور بی جے پی لیڈر بارہا اس الزام سے انکار کر چکے ہیں۔ اس تنازعہ کی وجہ سے آج بھی لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں کوئی کام نہیں ہوسکا کیونکہ اس معاملے پر دونوں ایوانوں کی کارروائی بار بار ملتوی کی گئی اور پھر دن بھر کے لیے ملتوی کردی گئی۔ کانگریس کی قیادت میں اپوزیشن مسلسل ان سے معافی اور استعفیٰ کا مطالبہ کر رہی ہے۔
پارلیمنٹ ہاؤس احاطے میں آج دونوں ایوانوں کی کارروائی شروع ہونے سے قبل اپوزیشن ارکان نے لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی کی قیادت میں امبیڈکر مجسمہ سے نئے پارلیمنٹ ہاؤس تک مارچ کیا۔ ان کی پارٹی ابھی مکر دوار تک پہنچی ہی تھی کہ وہاں دھکا مکی کی صورت حال پیدا ہوگئی، جس میں بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ پرتاپ سارنگی اور مکیش راجپوت زخمی ہو گئے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مسٹر گاندھی نے حکمراں جماعت کے ارکان کو دھکا دیا جس سے وہ گرگئے اور زخمی ہوگئے۔
کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور مسٹر گاندھی نے ان الزامات کی تردید کی اور کہا کہ یہ بی جے پی ممبران پارلیمنٹ تھے جنہوں نے انہیں پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل ہونے سے روکنے کی کوشش کی تھی۔ تاہم، بی جے پی نے معاملے کو طول دیتے ہوئے اس کے دوممبران پارلیمنٹ، انوراگ سنگھ ٹھاکر اور بانسوری سوراج نے سنسد مارگ پولیس اسٹیشن میں مسٹر گاندھی کے خلاف ‘قتل کی کوشش’ کا مقدمہ درج کرایا۔
اسپتال میں داخل دو زخمی ارکان پارلیمنٹ کا وزیر اعظم نریندر مودی نے بھی فون کرکے خیریت دریافت کیا۔ پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو نے الزام لگایا کہ مسٹر گاندھی نے ہمارے ممبران پارلیمنٹ مکیش راجپوت اور پرتاپ سارنگی کے ساتھ مارپیٹ کی ہے۔ انہوں نے سوال کیا، ’’کس قانون نے راہل گاندھی کو قانون اپنے ہاتھ میں لینے کی اجازت دی ہے ،
انہوں نے کہا کہ یہ واقعہ پارلیمنٹ کے مرکزی دروازے پر پیش آیا، جہاں بی جے پی کے ارکان پارلیمنٹ احتجاج کر رہے تھے۔
انہوں نے کہا کہ یہ وہی جگہ ہے جہاں اپوزیشن روزانہ احتجاج کرتی ہے۔ ہم نے احتجاج اس لئے کیا کیونکہ کانگریس نے ہمیشہ ڈاکٹر امبیڈکر کی توہین کی ہے۔
دوسری جانب ناگالینڈ سے منتخب بی جے پی رکن ایس۔ فانگن کونیاک نے راجیہ سبھا میں کہا، ’’انہیں انتہائی دکھ کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ ایوان کے باہر پرامن مظاہرے کے دوران میں مکر دوار کے باہر سیڑھیوں کے نیچے کھڑی تھی۔ اس وقت میرے ساتھ ایک انتہائی مایوس کن واقعہ پیش آیا۔ لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف مسٹر گاندھی وہاں میرے پاس آگئے، جس سے میں پریشانی محسوس کرنے لگی اور وہ مجھ پر چیخنے لگے۔ میں نے محسوس کیا کہ ان کا یہ طرز عمل قائد حزب اختلاف سے میل نہیں کھاتا۔
محترمہ کونیاک نے کہا، ’’ایسا نہیں ہے کہ میں اپنا دفاع کرنے سے قاصر ہوں۔ پھر بھی میں نے اپنے دفاع کے لیے کچھ نہیں کیا لیکن آج جو کچھ ہوا وہ واقعی بہت برا واقعہ تھا۔ کسی بھی خاتون رکن کے ساتھ، خواہ وہ شیڈولڈ ٹرائب کی ہی کیوں نہ ہو، ایسا سلوک نہیں کیا ہونا چاہیے، اس لیے میں اس معاملے میں آپ (چیئرمین) سے تحفظ چاہتی ہوں۔
دریں اثنا، انڈیا گروپ نے الزام لگایا کہ بی جے پی کے ممبران پارلیمنٹ نے مسٹر گاندھی کے ساتھ دھکا مکی کی اور احتجاج درج کرانے کے لیے لوک سبھا اسپیکر اوم برلا کو خط لکھا۔ بی جے پی اور کانگریس دونوں نے ایک دوسرے کے خلاف اپنے الزامات کی حمایت کے لیے ویڈیوز بھی شیئر کی ہیں۔ بی جے پی نے ایک ویڈیو شیئر کیا جس میں مسٹر گاندھی مسٹر سارنگی کے گرنے کے بعد ان کے پاس جاتے ہیں اور پھر وہاں سے چلے جاتے ہیں۔ بی جے پی نے کہا کہ یہ مناظر ‘گاندھی نسل کے تکبر’ کی عکاسی کرتے ہیں۔ دوسری طرف کانگریس نے ایک کلپ شیئر کرتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی ممبران پارلیمنٹ کانگریس ممبران پارلیمنٹ کو پارلیمنٹ میں داخل ہونے سے روک رہے ہیں۔ کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے بھی الزام لگایا کہ احتجاج کے دوران بی جے پی کے اراکین پارلیمنٹ نے انہیں دھکا دیا جس کی وجہ سے ان کا توازن بگڑ گیا اور وہ گرگئے۔ انہوں نے پارٹی ہیڈکوارٹر میں گاندھی کے ساتھ ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا، “لیکن وہ ہمیں دھکا دینے کے لئے قصوروار ٹھہرارہے ہیں۔”
انہوں نے بی جے پی پر خواتین سمیت اپوزیشن ارکان پارلیمنٹ کو ’’پرامن‘‘ احتجاج کرنے اور پارلیمنٹ ہاؤس میں داخل نہ ہونے دینے کا الزام لگایا۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے ملک میں جو ماحول بنایا ہے اسے برداشت نہیں کیا جائے گا اور اس کے خلاف پورے ملک میں تحریک چلائی جا رہی ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ بی جے پی ‘امریکہ میں اڈانی کے مواخذے’ کے اہم مسئلے سے توجہ ہٹانے کے لیے ان پر مارپیٹ سمیت کئی الزامات لگا رہی ہے۔
انہوں نے کہا، “ہم نے امت شاہ کو استعفیٰ دینے کو کہا، لیکن ایسا نہیں ہوا اور آج جو کچھ ہوا وہ بی جے پی کے ذریعہ اڈانی معاملے سے ملک کی توجہ ہٹانے کی ایک اور کوشش ہے۔ انہوں نے امبیڈکر جی کی توہین کی ہے۔
کانگریس کے سابق صدر نے کہا، ’’انہیں اس کے لیے معافی مانگنی چاہیے اور وزیر داخلہ کو استعفیٰ دے دینا چاہیے۔ ہم شروع سے
ہی کہتے آرہے ہیں کہ بی جے پی-آر ایس ایس کی سوچ ہمیشہ سے آئین مخالف اور امبیڈکر جی کے خلاف رہی ہے۔ وہ بابا صاحب امبیڈکر جی کے تعاون کو مٹانا چاہتے ہیں، انہوں نے اسے سب کے سامنے پیش کیا ہے۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
نہرو-گاندھی خاندان نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اقتدار کی عمارت کھڑی کی: بی جے پی
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے کانگریس پر لوٹ مار، سماج میں تقسیم اور ہندوستانی مذہب و ثقافت کے تئیں نفرت رکھنے کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ اس خاندان (گاندھی خاندان) نے ملک کی تباہی کی بنیاد پر اپنے اقتدار کی عمارت کھڑی کی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان سدھانشو ترویدی نے جمعہ کو پارٹی ہیڈکوارٹر میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کانگریس اقتدار سے باہر رہنے پر پانی سے باہر مچھلی کی طرح تڑپ رہی ہے اور کسی بھی طرح اقتدار میں واپس آنے کی کوشش کر رہی ہے۔ بدقسمتی سے، ایسی سوچ رکھنے والی کانگریس کی باگ ڈور راہل گاندھی کے ہاتھوں میں ہے۔ یہ بدقسمتی ملک سے زیادہ کانگریس کے لیے ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ پنڈت جواہر لعل نہرو نے سردار ولبھ بھائی پٹیل کو ان کا حق نہ دے کر اپنی سیاسی طاقت قائم کی اور ایک بھی ووٹ نہ ملنے کے باوجود وزیر اعظم بن گئے۔ ان کے دورِ اقتدار میں ملک نے تقسیم کا درد دیکھا، جو انسانی تاریخ کے خونریز ترین ابواب میں سے ایک تھا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ پنڈت نہرو 15 اگست 1947 کو نہیں، بلکہ 2 ستمبر 1946 کو عبوری حکومت کے وزیر اعظم بنے تھے اور ان کے دور میں ملک کی تقسیم ہوئی۔ اس کے بعد محترمہ اندرا گاندھی نے اپنی پارٹی کو تقسیم کرنے کے بعد اپنی طاقت مضبوط کی۔
انہوں نے الزام لگایا کہ محترمہ گاندھی نے مسٹر نیلم سنجیو ریڈی سے متعلق صدارتی انتخاب کے دوران اپنے ارکانِ پارلیمنٹ سے کانگریس کے سرکاری موقف کے خلاف ووٹ دینے کو کہا، جس کے نتیجے میں پارٹی تقسیم ہو گئی۔ محترمہ گاندھی کے قتل کے بعد 1984 میں دہلی میں سکھوں کے قتلِ عام کے دوران مسٹر راجیو گاندھی اقتدار میں آئے۔ سکھ مخالف تشدد یکم نومبر 1984 کو شروع ہوا تھا۔ بی جے پی ترجمان نے کہا، ”کانگریس اب اسی تاریخ کو دہلی میں مظاہرہ کرنے کا منصوبہ بنا رہی ہے اور میرا خیال ہے کہ وہ شہر کو 1984 میں دیکھی گئی افراتفری کی یاد دلانا چاہتی ہے۔”
مسٹر گاندھی کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس وقت وہ ملک سے باہر چلے گئے ہیں اور ذرائع کے مطابق چمپا (ویتنام کا قدیم نام) میں بھٹک رہے ہیں۔ وہ ملک اور کانگریس، دونوں کے لیے ایک معمہ بن گئے ہیں۔
بی جے پی رہنما نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کا ریکارڈ شاندار اور کامیابیوں سے بھرپور رہا ہے، جبکہ مسٹر گاندھی کا ریکارڈ کانگریس کے لیے مسائل سے بھرا رہا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کانگریس کے اندر کئی طرح کے تجربات کیے۔ انہوں نے کہا تھا کہ یوتھ کانگریس کے انتخابات کو جمہوری بنایا جائے گا، لیکن اس کے بعد پورے ملک نے دیکھا کہ یوتھ کانگریس میں بھیڑ کی حکمرانی اور مصنوعی ذہانت (اے آئی) سربراہ اجلاس میں برہنہ مظاہرے کے علاوہ کوئی جمہوری عمل نظر نہیں آیا۔
مسٹر ترویدی نے کہا کہ براک اوباما نے اپنی کتاب ‘اے پرامسڈ لینڈ’ میں 2010 میں راہل گاندھی سے ملاقات کے بعد باب 24 میں لکھا تھا، ”راہل گاندھی میں گھبراہٹ اور ناپختگی جھلکتی تھی۔ ایسا لگتا تھا جیسے وہ کوئی ایسا طالب علم ہو جس نے نصاب تو مکمل کر لیا ہو اور اساتذہ کو متاثر کرنے کے لیے بے چین ہو، لیکن اس میں نہ تو اس موضوع پر عبور حاصل کرنے کی صلاحیت تھی اور نہ ہی اس کے لیے جذبہ۔”
انہوں نے کہا کہ کانگریس کو کمزور کرنے اور اسے اپنی 140 سالہ تاریخ کی کم ترین سطحوں میں سے ایک پر پہنچانے کے بعد اب مسٹر گاندھی ملک کے اداروں اور نظام کو کمزور کرکے خود کو قائم کرنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک بار کہا تھا کہ ناکام پروڈکٹ کو بار بار لانچ کرنے کے لیے کانگریس نے آج صرف اپنی پارٹی ہی نہیں، بلکہ ملک کے آئینی نظام کو بھی داؤ پر لگا دیا ہے۔
بی جے پی ترجمان نے کہا کہ مسٹر گاندھی کس طرح ناکام پروڈکٹ ہیں، وہ اسے حقائق کے ساتھ ثابت کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا، ”جب دہلی کے سینٹ اسٹیفن کالج میں ان کا داخلہ ہوا تھا تو وہ قومی سطح کے نشانے باز کھلاڑی کے طور پر داخل ہوئے تھے۔ لیکن اس کے بعد ان کا نشانہ ایسا چُوکا کہ وہ ہر نشانہ چُوکتے چلے گئے۔ یہ ان کی پہلی ناکامی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے اپنے خاندانی رواج کو برقرار رکھتے ہوئے تعلیم حاصل کرنے کے لیے انگلینڈ کا رخ کیا۔ پھر 1996 سے 1999 کے درمیان انہوں نے ایک برطانوی کمپنی میں ملازمت کی، جو بند ہو گئی۔ یعنی آپ سوچئے کہ وہ کتنے اہم پروڈکٹ ہیں کہ جہاں جہاں راہل کے قدم پڑے، وہاں وہاں تباہی مچ گئی۔”
اس کے بعد کانگریس کے بڑے رہنماؤں نے 2014 میں انہیں اپنا غیر اعلانیہ رہنما بنایا اور کانگریس لوک سبھا میں اپنی تاریخ کی اب تک کی سب سے کم نشستوں پر پہنچ گئی۔
مسٹر ترویدی نے کہا، ”مسٹر گاندھی نے پھر ایک اور تجربہ کیا اور کہا کہ ہم خاندانی سیاست ختم کریں گے، لیکن آج صورتِ حال یہ ہے کہ کانگریس کی تاریخ میں نہرو-گاندھی خاندان کے تینوں افراد (ماں، بیٹا اور بیٹی) پارلیمنٹ میں موجود ہیں۔”
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
چین کے تئیں نرمی اور بڑھتے معاشی انحصار پر جواب دیں مودی: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے چین کے ساتھ سرحد پر کشیدگی، بڑھتے تجارتی خسارے اور معاشی انحصار پر وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی کو تشویش ناک قرار دیتے ہوئے اس معاملے پر ان سے واضح جواب دینے کا مطالبہ کیا ہے۔
کانگریس کے شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر کہا کہ ایک طرف وزیر اعظم کی جانب سے چین کو مسلسل رعایتیں دینے کا سلسلہ جاری ہے، تو دوسری طرف ہندوستان اور چین کی سرحد پر حالیہ جھڑپوں کے دوران انڈو تبتن بارڈر پولیس (آئی ٹی بی پی) کی کارکردگی کی اس کے ڈائریکٹر جنرل نے ستائش کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی اور ان کا پورا نظام اس سنگین معاملے پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ اروناچل پردیش کے تاکسنگ میں تصادم کے بعد گزشتہ ماہ ریاست کے واچا اور دمائی میں کور کمانڈر سطح کی بات چیت ہوئی۔ مقامی لوگوں کے مطابق، لداخ کی طرح ایک بار پھر گشت کے بعض مقامات ہندوستان کے ہاتھ سے نکل گئے ہیں۔ انہوں نے چین کی جانب سے اروناچل پردیش کے شہروں کے نام تبدیل کرنے اور وہاں 60 ہزار میگاواٹ کا ڈیم بنانے کے منصوبے پر بھی تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس سے ماحولیات اور آبی سلامتی کو بڑا خطرہ لاحق ہے۔
کانگریس لیڈر نے کہا کہ چین کے ساتھ ہندوستان کا تجارتی خسارہ مالی سال 2025-26 میں ریکارڈ 112 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جب کہ گزشتہ سال یہ 99 ارب ڈالر تھا۔ اس کے نتیجے میں کئی صنعتوں کے مائیکرو، چھوٹے اور درمیانہ درجے کے کاروباری ادارے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ ‘میک اِن انڈیا’ اب ‘چین سے درآمد’ میں تبدیل ہوچکا ہے اور بڑھتا ہوا تجارتی خسارہ ملک کی معاشی سلامتی کے لیے سنگین چیلنج ہے۔
مسٹر رمیش نے 19 جون 2020 کو چین کے حوالے سے وزیر اعظم کے بیان کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان آج بھی اس بیان کی قیمت چکا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی کا یہ بیان 20 ہندوستانی جوانوں کی شہادت کے بعد سامنے آیا تھا۔
کانگریس لیڈر نے سابق آرمی چیف جنرل ایم ایم نرونے کے اس انکشاف کا بھی ذکر کیا، جس میں انہوں نے بتایا تھا کہ لداخ میں چینی دراندازی کے دوران انہیں صرف یہ ہدایت ملی تھی کہ ”جو مناسب سمجھو، وہ کرو۔” انہوں نے کہا کہ 4 جولائی 2025 کو نائب آرمی چیف لیفٹیننٹ جنرل راہل سنگھ نے آپریشن سندور کے دوران پاکستان کی فوجی کارروائی میں چین کے وسیع کردار کا انکشاف کیا تھا، جب کہ گزشتہ 25 اگست کو سابق چیف آف ڈیفنس اسٹاف جنرل انل چوہان نے عوامی طور پر ان انکشافات کی تردید کی تھی۔ مسٹر رمیش نے اس واقعے کے بعد جنرل چوہان کی جانب سے آر ایس ایس اور بی جے پی کے نظریے سے وابستہ ایک اہم تھنک ٹینک کی سربراہی سنبھالنے کا بھی ذکر کیا۔
انہوں نے سوال کیا کہ سرحد پر کشیدگی کے باوجود چین کے تئیں نرمی اور معاشی محاذ پر بڑھتا ہوا انحصار کس طرح کی قوم پرستی ہے۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کو کھوکھلے دعووں کی نہیں، بلکہ قومی سلامتی کے معاملے پر واضح جواب کی ضرورت ہے۔
یواین آئی ۔ ایف اے
ہندوستان
جرمنی کے ایک مطالعاتی و تحقیقی ادارے میں ہندوستان کے لیے خصوصی مرکز قائم
نئی دہلی، جرمنی میں بین الاقوامی تعلقات کے مطالعے اور تحقیق کرنے والے برلن کے خودمختار ادارے کونسل آن فارن ریلیشنز (ڈی جی اے پی) میں ہندوستان سے متعلق ایک مرکز قائم کیا گیا ہے۔
‘انڈیا سینٹر’ کے نام سے قائم اس مرکز کی افتتاحی تقریب میں ہندوستان کے وزیر تجارت و صنعت پیوش گوئل اور جرمنی کی وزیر برائے اقتصادی امور و توانائی کیتھرینا ریشے نے شرکت کی۔ مسٹر گوئل اس وقت جرمنی اور نیدرلینڈز کے سرکاری دورے پر ہیں۔
مسٹر گوئل نے کہا کہ ڈی جی اے پی میں ہندوستان کے لیے قائم کیا گیا یہ مرکز ہندوستان اور جرمنی کے درمیان بڑھتے ہوئے تعلقات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے ہمارے مشترکہ عزم کی عکاسی کرتا ہے۔
وزیر تجارت نے کہا، ”ہماری ایک دوسرے کی تکمیل کرنے والی صلاحیتیں ہمارے بلند حوصلہ اقتصادی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے ایک مضبوط بنیاد فراہم کرتی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ہندوستان اور یورپی یونین کے درمیان آزاد تجارتی معاہدہ اس شراکت داری کو مزید رفتار دینے کا کام کرے گا۔”
اس موقع پر مسٹر گوئل نے دونوں ممالک کے کاروباری اداروں اور سرمایہ کاروں سے اپیل کی کہ وہ باہمی خوشحالی اور ترقی کو مزید آگے بڑھانے کے لیے تعاون کے نئے راستے تلاش کریں۔
یو این آئی۔ ایم جے
-
ہندوستان1 week agoمرکزی حکومت نے جنوبی بحر ہند ماہی گیری معاہدے میں شمولیت کو دی منظوری
-
دنیا1 week agoجاپانی صحافی کی روس میں گرفتاری: دونوں ملکوں کے درمیان کشیدگی کیوں بڑھ رہی ہے
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
ہندوستان1 week agoمظاہرین پر تشدد کرنے والوں کو ثبوتوں کی بنیاد پر سزا ملے گی: راہل
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر میں 15 اکتوبر سے اسکولوں کے اوقات میں تبدیلی
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week ago16 سالہ معصوم لڑکی اور 50 سالہ دولہے کی پانچ لاکھ روپے میں منگنی، بروقت ٹیم نے شادی کو روک دیا
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
