ہندوستان
اسمارٹ کلاس رومز کے ذریعے تعلیم کے معیار میں بہتری
نئی دہلی انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، بنگلور نے ایس اے اے آر – سمیکشا سیریز آف سمارٹ سٹیز مشن (ایس سی ایم) کے تحت دو مطالعات کیے ہیں اور اسمارٹ کلاس رومز کے ذریعے تعلیم کے معیار میں بہتری اور ہندوستانی اسمارٹ شہروں میں مجرمانہ سرگرمیوں کے واقعات کا اصل وقت میں پتہ لگانے میں سدھار کی بات کہی گئی ہے۔ اس میں دو مطالعات میں شامل ہیں: کیااسمارٹ کلاس رومز کے ذریعہ تعلیم کے معیار کےتئیں ہندوستانی اسمارٹ شہروں میں بہتری آئی ہے
نومبر 2023 میں شروع کی گئی ایس اے اے آر – سمیکشا سیریز آف اسمارٹ سٹیز مشن (ایس سی ایم) کے تحت، ہندوستان کے انتیس (29) بڑے اداروں کی طرف سے مختلف موضوعات پر ہندوستانی اسمارٹ شہروں پر 50 قومی سطح کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں انڈین انسٹی ٹیوٹ آف مینجمنٹ، بنگلور نےکیا’’ ہندوستانی اسمارٹ شہروں میں بچوں کے لیے اسمارٹ کلاس رومز کے ذریعے تعلیم کے معیار میں بہتری آئی ہے، جیسے کہ ڈراپ آؤٹ کی شرح میں کمی، وغیرہ، اگر کوئی ہے تو‘‘ کے عنوان ے ایک مطالعہ شروع کیا تھا۔
قومی سطح کے مطالعے سے یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ 71 شہروں نے 2,398 سرکاری اسکولوں میں 9,433 اسمارٹ کلاس روم تیار کیے ہیں۔ 2015-16 سے 2023-24 کے درمیان 19 شہروں کے اعداد و شمار کے مطابق ایس سی ایم کے ذریعے اسمارٹ کلاس رومز کا متعارف کیا جانامجموعی اندراج میں 22 فیصد اضافہ کا باعث بنا ہے۔ تجزیہ اجمیر(راجستھان)، نئی دہلی میونسپل کونسل (این ڈی ایم سی) اور تماکورو (کرناٹک) میں شہروں کی سطح پر تفصیلی جائزہ کیا گیا۔ رپورٹ کے دیگر اہم نتائج میں درج ذیل شامل ہیں:
41 شہروں میں کل 7,809 بیٹھنے کی گنجائش کے ساتھ ڈیجیٹل لائبریریاں تیار کی گئی ہیں:
مطالعہ، رائے پور اور تماکورو جیسے شہروں میں ڈیجیٹل لائبریریوں کے اہم اثرات کو اجاگر کرتا ہے۔ اس نے ضروری تعلیمی وسائل فراہم کیے اور طلبہ کے لیے مسابقتی امتحان کی تیاریوں میں مددکی۔
III. اساتذہ کی تربیت نے اسمارٹ کلاس روم کی سہولیات کو استعمال کرنے کے لیے کام کرنے کےساز گارماحول اور ترجیح کو بہتر بنایا، جس میں سینئر سیکنڈری اساتذہ نےدوسروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ کام کرنے کے ساز گار ماحول کو ظاہر کیا ہے ۔
اساتذہ عام طور پر اس خیال سے اتفاق کرتے ہیں کہ اسمارٹ کلاس روم اقدام سیکھنے کے تجربات اور ملک کے منتخب اسمارٹ شہروں میں طلباء کی حاضری کو بہتر بنا رہا ہے۔
سرکاری اسکولوں اور پبلک لائبریریوں (اسمارٹ کلاس رومز اور ڈیجیٹل لائبریریوں کی شکل میں) میں اسمارٹ حل متعارف کروانے سے معاشی طور پر کمزور طبقوں کے لیے اسمارٹ تعلیم تک رسائی کو آسان بنایا گیا ہے۔
رپورٹ کو ویب لنک سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ https://www.iimb.ac.in/node/13672
ہندوستانی اسمارٹ شہروں میں خاص طور سے خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات کا اصل وقت میں پتہ لگانے کا کیا اثر ہوا ہے؟
نومبر 2023 میں شروع کیئے گئے اسمارٹ سٹیز مشن (ایس سی ایم) کی ایس اے اے آر – سمیکشا سیریز کے تحت، ہندوستان کے انتیس (29) بڑے اداروں کے ذریعہ مختلف موضوعات پر ہندوستانی اسمارٹ شہروں پر 50 قومی سطح کے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔ اس سلسلے میں، ’ہندوستانی اسمارٹ شہروں میں مجرمانہ سرگرمیوں خاص طور پر خواتین کے خلاف جرائم کے واقعات کااصل وقت میں پتہ لگانے کا کیا اثر ہوا ہے‘ پر ایک مطالعہ؟ آئی آئی ایم بنگلور کی طرف سے شروع کیا گیا تھا۔یہ مطالعہ سیکورٹی اور نگرانی کے اقدامات کے اثرات کا جائزہ لیتا ہے، ان میں حقیقی وقت میں واقعات کا پتہ لگانا، سی سی ٹی وی کیمرے،آئی او ٹی سے چلنے والے آلات اورشہروں میں خواتین اور لڑکیوں کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے جامع کمانڈ اور کنٹرول مراکز (آئی سی سی سیز کے ساتھ انہیںمربوط کرناشامل ہے ۔ قومی سطح کے مطالعہ میں اثرات کے ابتدائی تفصیلی جائزے کے لیے چنئی (تامل ناڈو)، ناگپور (مہاراشٹرا) اور تماکورو (کرناٹک) کے اسمارٹ شہروں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔ رپورٹ کے دیگر اہم نتائج میں درج ذیل شامل ہیں:
93 اسمارٹ شہروں میں، 59,802 سے زیادہ سی سی ٹی وی کیمرے اور ایمرجنسی کال باکسز نصب کیے گئے ہیں،آئی سی سی سیز کے ذریعے ریئل ٹائم مانیٹرنگ سسٹم نے خواتین کے لیے محفوظ شہری ماحول میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ پولیس کی کارروائیوں کے ساتھ نگرانی کے نظام کو مربوط کیے جانے سے قومی سطح پر شواہد پر مبنی پولیسنگ میں اضافہ ہوا ہے ۔
چنئی اور ٹوماکورو نے جدید نگرانی کے نظام سےفائدہ حاصل کیا، سیفٹی کیمروں کو آئی سی سی سیز کے ساتھ مربوط کر کے جرائم کو مؤثر طریقے سے حل کرنے کے لیے اہم شواہد جمع کرنے میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مدد کی۔
III. ناگپور نے نگرانی کے اقدامات کے نفاذ کے بعد جرائم کی مجموعی شرح میں 14 فیصد کمی کی ہے۔
مستعد نگرانی کے نظام کے نفاذ نے مضبوط حفاظتی اقدامات والے علاقوں میں ہراساں کرنے، حملہ کرنے اور دیگر جرائم کے واقعات کو کم کیا ہے۔ ان تینوں شہروں میں خواتین نے عوامی مقامات پر زیادہ اعتماد کااظہار کیا ۔رپورٹ کو ویب لنک سے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ https://www.iimb.ac.in/node/13673-نئے شہری اقدامات کو دستاویزی شکل دینے اور تحقیق کی خاطر ماہرتعلیم اور حکومت کےدرمیان خلا کو پُر کرنے کےلیےSAAR’ (Smart Cities & Academia To Action & Research) کے نام سےمشن نے 2022 میں ایک پلیٹ فارم کا آغاز کیا۔
ایس اے اے آر پہل کے تحت، اسمارٹ سٹیز مشن نے ‘‘سمیکشا سیریز’’کے طور پر 50 اثرات سے معلق تحقیقی مطالعات کا آغاز کیا ہے۔ ہندوستان کے انتیس اعلیٰ اداروں نے یہ 50 امپیکٹ اسسمنٹ اسٹڈیز کی ہیں جن میں 6 آئی آئی ایمس، 8آئی آئی ٹیز، 3 ایس پی ایز اور 12 خصوصی تحقیقی ادارے شامل ہیں۔ مشن نے اس کو ڈیٹا پیش کیا اور ان اداروں کے برسر موقعہ دورے کی سہولت فراہم کی، تاکہ مطالعہ کو دستاویزی شکل دی جا سکے جو مستقبل کی شہری ترقی کی پالیسیوں کے لیے بنیاد ہو سکتی ہے۔
اسمارٹ شہروں سے متعلق مشن(ایس سی ایم) کو مکانات اور شہری امور کی وزارت (ایم او ایچ یو اے)، حکومت ہند نے 25 جون 2015 کو شروع کیا تھا۔ اس مشن کا مقصد ایسے شہروں کو فروغ دینا ہے جو اہم بنیادی ڈھانچہ فراہم کرتے ہیں اور اس کے شہریوں کو ایک معقول معیار زندگی،ایک صاف ستھرا اور پائیدار ماحول اور ‘اسمارٹ’ سلوشنز فراہم کرتے ہیں ۔ اس مشن نے زمینی سطح پر کئی یکسر تبدیلی والےاور اختراعی پروجیکٹ شروع کیے ہیں ، جس سے یہ جدید ہندوستان میں سب سے مؤثر شہری تجربہ ہے۔
نومبر 2024 تک، ایس سی ایم کے تحت 91فیصدمنصوبے مکمل ہو چکے ہیں۔ایس ایس سی ایم کے تحت شہروں کی جانب سے رہائشیوں کی مقامی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے کئی منفرد، اختراعی اور ہوبہو منصوبے/ماڈل بروئے کار لائےگئے ہیں۔ مشن کی تکمیل کے قریب ہونے کے ساتھ، یہ ضروری ہے کہ جن منفرد حل پر کام شروع کیا گیا ہے ان کے اثرات سے متعلق جائزے کو دستاویزی شکل دی جائے۔
یو این آئی۔ م س-م ا
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
