تازہ ترین
ویڈیو:بلدیاتی انتخابات نتائج ، کیا کشمیر میں کنول کا پھول اب حقیقت بن رہا ہے؟
خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر میں 13برس کے طویل وقفے کے بعد منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے دوران کانگریس پارٹی نے اپنی حریف جماعت بی جے پی کا پتا صاف کرتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کے بیشتر حلقوں میں جیت درج کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں منعقد ہ بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی سنیچر صبح 8بجے سے ہی جموں، کشمیر اور لداخ کے الگ الگ مراکز پر شروع کی گئی ۔ اس موقعے پر 1145حلقوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں اور آزاد اُمیدواروں کی طرف سے 3372درخواست نامزدگی داخل ہوئیں جبکہ 8، 10، 13اور 16اکتوبر کو ریاست کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان نے اپنی رائے حق دہی کا استعمال کرتے ہوئے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے من پسند اُمیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے۔ انتخابات کے دوران اگر چہ جموں اور لداخ میں عوامی کی بھاری تعداد نے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے ووٹ ڈالے تاہم وادی کشمیر میں پولنگ مراکز پر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔
کشمیر کے 598حلقوں پر 231اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا جبکہ 181حلقوں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کی۔سنیچر کو ووٹنگ کی دوران کانگریس پارٹی نے اپنی حریف جماعت بی جے پی کا پتہ صاف کرتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کے بیشتر حلقوں پر جیت درج کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کانگریس پارٹی نے خطہ لداخ کے لیہہ صوبے میں سبھی 13حلقوں پر جیت درج کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سنیچر کو ووٹنگ کی گنتی کے دوران یہاں کانگریس پارٹی کے کارکنان نے خوشیاں منائی جب یہاں پارٹی نے سبھی حلقوں پر جیت درج کرلی۔ معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی جنہوں نے لداخ ترقیاتی کونسل انتخابات میں چند ہفتے قبل ہی جیت درج کرلی تھی ، بلدیاتی انتخابات کے دوران یہاں اپنا کھاتہ نہ کھول سکی۔ ادھر کرگل میں بھی کانگریس نے 5وارڈوں پر جیت درج کرتے ہوئے بی جے پی کے لیے یہاں بھی زمین تنگ کردی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں پر 8حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے جیت درج کرلی ہے۔
خطہ چناب کے بانہال علاقے میں بھی کانگریس نے بھی بی جے پی کو کھاتہ کھولنے کی اجازت نہیں دی۔ کانگریس نے 4حلقوں پر جیت درج کرلی ہے جن میں 2خواتین اُمیدوار بھی شامل ہیں۔ اسی طرح جنوبی قصبہ اننت ناگ میں کانگریس نے 25حلقوں میں سے 20حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اننت ناگ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 20حلقوں میں سے 16حلقوں پر 240ووٹ حاصل کئے جبکہ یہاں 9حلقوں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کرائے تھے۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ میونسپل کمیٹیپر کانگریس نے جیت درج کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وٹنگ کی گنتی کے دوران یہاں کانگریس نے 12میونسپل کمیٹیوں پرجبکہ بی جے پی نے 6میونسپل کمیٹیوں پر جیت درج کی۔تفصیلات کے مطابق بارہمولہ میونسپل کمیٹی میں 15حلقوں پر ووٹنگ منعقد کی گئی جن میں کانگریس نے 8، بی جے پی نے 5اور 2آزاد اُمیدواروں نے میدان مار لیا۔ذرائع نے بتایا کہ یہاں کانگریس نے 4نشستوں پر بلامقابلہ جیت درج کرلی جبکہ بی جے پی اور آزاد اُمیدوار نے بھی ایک ایک سیٹ پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کی۔ سیکورٹی نوعیت سے حساس مانے والے جنوبی کشمیر میں کانگریس پارٹی نے کم ہی نشستوں پر جیت درج کرلی جبکہ یہاں بی جے پی کا ہی پلڑا بھاری رہا ہے.
تفصیلات کے مطابق مٹن میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقوں میں سے بی جے پی نے 7پر جیت درج کرلی ہے جبکہ کانگریس پارٹی نے 2نشستیں یہاں سے حاصل کی ہیں۔کوکرناگ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقہ جات میں سے کانگریس نے 10پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ یہاں 2آزاد اُمیدوار بھی اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کوکرناگ میونسپل کمیٹی کے تحت حلقہ جات میں صرف 4حلقوں پر انتخابات ہوئے جبکہ 8حلقوں پر اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح یہاں 1حلقہ انتخاب پر کسی بھی پارٹی نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کی تھی۔ وسطی ضلع گاندربل میں ووٹنگ کے دوران جو نتائج سامنے آئے ان کے مطابق 13حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے میدان مارلیا جبکہ بی جے پی اور کانگریس پارٹی نے 2، 2نشستیں حاصل کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ 5حلقوں پر اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔شمالی کشمیر کے ہندوارہ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقہ جات میں سبھی 13سیٹوں پر آزاد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 13میں سے صرف 7حلقوں پر ووٹنگ منعقد ہوئی جہاں آزادی اُمیدواروں نے میدان مارلیا جبکہ 6حلقوں پر بھی آزاد اُمیدواروں نے بلامقابلہ جیت درج کرلی۔بانڈی پورہ میونسپل کمیٹی پر بھی کانگریس نے 17میں سے 12حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ بی جے پی نے 3نشستیں حاصل کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 2حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے بھی میدان مارلیا ہے۔
حاجن میونسپل کمیٹی پر کانگریس نے 10نشستوں پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلی ، اسی طرح سنبل میونسپل کمیٹی میں کانگریس نے8نشستیں حاصل کرلی ۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 8حلقوں پر آزاداُمیدواروں نے ہی میدان صاف کیا۔ ادھر بی جے پی نے جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ کے تحت آنے والی میونسپل کمیٹیوں پر 53حلقوں پرجیت درج کرتے ہوئے 20میونسپل کمیٹیوں پر قبضہ جمالیا جبکہ کانگریس بھی جنوبی اضلاع میں 28حلقوں پر جیت درج کرنے کے ساتھ ہی 3میونسپل کمیٹیوں پر قابض ہوگئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی نے جنوبی کشمیر کی شوپیان میونسپل کمیٹی میں اچھے نمبرات حاصل کرلیے ہیں جس کے تحت پارٹی 12حلقوں پر بلامقابلہ کامیاب قرار پائی ہے۔ جنوبی کشمیر کے ہی دیوسر میونسپل کمیٹی پر بی جے پی نے 8سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔پارٹی نے قاضی گنڈ میں اپنا کھاتہ کھولتے ہوئے 7میں سے 4حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسی طرح پہلگام میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 13حلقوں پر بی جے پی نے بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کرائی تھی جس کے نتیجے میں بی جے پی کے لیے جیت یقینی بن چکی تھی۔
ادھر جنوبی قصبہ کی ڈورو میونسپل کمیٹی جوکانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کا حلقہ انتخاب ہے، کے تحت آنے والے 17حلقوں میں سے کانگریس نے 14پر جیت درج کرلی ہے . کوکرناگ میونسپل کمیٹی پر بھی کانگریس پارٹی نے 8حلقوں میں سے 6حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسی طرح یاری پورہ میونسپل کمیٹی پر بھی پارٹی نے 13نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ادھر وسطی ضلع بڈگام میں کانگریس نے بی جے پی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 6نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوا ہو اہے کہ یہاں بی جے پی نے 4نشستیں حاصل کیں۔اسی طرح یہاں کانگریس پارٹی چرار میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 18حلقوں پر جیت درج کرلی۔ پارٹی نے چاڈورہ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 8حلقوں میں سے 6پر کامیابی کا جھنڈا گاڑدیا ۔ادھر جموں میں بی جے پی نے میدان مارتے ہوئے کانگریس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 43حلقوں پر جیت کرلی۔ تفصیلات کے مطابق جموں کے 75حلقوں پر بی جے پی نے 43، کانگریس نے 14اور آزاد اُمیدواروں نے 18حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ادھر ووٹوں کی گنتی عمل میں لانے کے لیے انتظامیہ نے گنتی مراکز کے ارد گرد سخت سیکورٹی کا پہرا بٹھایا دیا تھاجس دوران شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر بیلوارڈ کو سیکورٹی فورسز نے مکمل طور پر اپنی تحویل میں لیا تھا جبکہ اسی طرح جموں کے پالی ٹنکنک انسٹی چوٹ واقع بکرم چوک جموں کو بھی فورسز اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر ووٹنگ کی گنتی کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کیا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا6 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
دنیا1 week agoایران کا ٹرمپ روٹ پر ردعمل: “ہم خطے میں امریکی موجودگی پر خدشات رکھتے ہیں”
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
