تازہ ترین
ویڈیو:بلدیاتی انتخابات نتائج ، کیا کشمیر میں کنول کا پھول اب حقیقت بن رہا ہے؟
خبراردو:
ریاست جموں وکشمیر میں 13برس کے طویل وقفے کے بعد منعقدہ بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی کے دوران کانگریس پارٹی نے اپنی حریف جماعت بی جے پی کا پتا صاف کرتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کے بیشتر حلقوں میں جیت درج کرلی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریاست جموں وکشمیر میں منعقد ہ بلدیاتی انتخابات میں ڈالے گئے ووٹوں کی گنتی سنیچر صبح 8بجے سے ہی جموں، کشمیر اور لداخ کے الگ الگ مراکز پر شروع کی گئی ۔ اس موقعے پر 1145حلقوں میں مختلف سیاسی پارٹیوں اور آزاد اُمیدواروں کی طرف سے 3372درخواست نامزدگی داخل ہوئیں جبکہ 8، 10، 13اور 16اکتوبر کو ریاست کے تینوں خطوں سے تعلق رکھنے والے رائے دہندگان نے اپنی رائے حق دہی کا استعمال کرتے ہوئے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے من پسند اُمیدواروں کے حق میں ووٹ ڈالے۔ انتخابات کے دوران اگر چہ جموں اور لداخ میں عوامی کی بھاری تعداد نے پولنگ مراکز کا رخ کرتے ہوئے ووٹ ڈالے تاہم وادی کشمیر میں پولنگ مراکز پر الو بولتے ہوئے نظر آئے۔
کشمیر کے 598حلقوں پر 231اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا جبکہ 181حلقوں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کی۔سنیچر کو ووٹنگ کی دوران کانگریس پارٹی نے اپنی حریف جماعت بی جے پی کا پتہ صاف کرتے ہوئے جموں، کشمیر اور لداخ کے بیشتر حلقوں پر جیت درج کرلی ہے۔ تفصیلات کے مطابق کانگریس پارٹی نے خطہ لداخ کے لیہہ صوبے میں سبھی 13حلقوں پر جیت درج کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ سنیچر کو ووٹنگ کی گنتی کے دوران یہاں کانگریس پارٹی کے کارکنان نے خوشیاں منائی جب یہاں پارٹی نے سبھی حلقوں پر جیت درج کرلی۔ معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی جنہوں نے لداخ ترقیاتی کونسل انتخابات میں چند ہفتے قبل ہی جیت درج کرلی تھی ، بلدیاتی انتخابات کے دوران یہاں اپنا کھاتہ نہ کھول سکی۔ ادھر کرگل میں بھی کانگریس نے 5وارڈوں پر جیت درج کرتے ہوئے بی جے پی کے لیے یہاں بھی زمین تنگ کردی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں پر 8حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے جیت درج کرلی ہے۔
خطہ چناب کے بانہال علاقے میں بھی کانگریس نے بھی بی جے پی کو کھاتہ کھولنے کی اجازت نہیں دی۔ کانگریس نے 4حلقوں پر جیت درج کرلی ہے جن میں 2خواتین اُمیدوار بھی شامل ہیں۔ اسی طرح جنوبی قصبہ اننت ناگ میں کانگریس نے 25حلقوں میں سے 20حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ اننت ناگ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 20حلقوں میں سے 16حلقوں پر 240ووٹ حاصل کئے جبکہ یہاں 9حلقوں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے کاغذات نامزدگی داخل نہیں کرائے تھے۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ میونسپل کمیٹیپر کانگریس نے جیت درج کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ وٹنگ کی گنتی کے دوران یہاں کانگریس نے 12میونسپل کمیٹیوں پرجبکہ بی جے پی نے 6میونسپل کمیٹیوں پر جیت درج کی۔تفصیلات کے مطابق بارہمولہ میونسپل کمیٹی میں 15حلقوں پر ووٹنگ منعقد کی گئی جن میں کانگریس نے 8، بی جے پی نے 5اور 2آزاد اُمیدواروں نے میدان مار لیا۔ذرائع نے بتایا کہ یہاں کانگریس نے 4نشستوں پر بلامقابلہ جیت درج کرلی جبکہ بی جے پی اور آزاد اُمیدوار نے بھی ایک ایک سیٹ پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کی۔ سیکورٹی نوعیت سے حساس مانے والے جنوبی کشمیر میں کانگریس پارٹی نے کم ہی نشستوں پر جیت درج کرلی جبکہ یہاں بی جے پی کا ہی پلڑا بھاری رہا ہے.
تفصیلات کے مطابق مٹن میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقوں میں سے بی جے پی نے 7پر جیت درج کرلی ہے جبکہ کانگریس پارٹی نے 2نشستیں یہاں سے حاصل کی ہیں۔کوکرناگ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقہ جات میں سے کانگریس نے 10پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ یہاں 2آزاد اُمیدوار بھی اپنا کھاتہ کھولنے میں کامیاب رہے ۔ ذرائع نے بتایا کہ کوکرناگ میونسپل کمیٹی کے تحت حلقہ جات میں صرف 4حلقوں پر انتخابات ہوئے جبکہ 8حلقوں پر اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔ اسی طرح یہاں 1حلقہ انتخاب پر کسی بھی پارٹی نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کی تھی۔ وسطی ضلع گاندربل میں ووٹنگ کے دوران جو نتائج سامنے آئے ان کے مطابق 13حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے میدان مارلیا جبکہ بی جے پی اور کانگریس پارٹی نے 2، 2نشستیں حاصل کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ 5حلقوں پر اُمیدواروں کو بلامقابلہ کامیاب قرار دیا گیا۔شمالی کشمیر کے ہندوارہ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے حلقہ جات میں سبھی 13سیٹوں پر آزاد اُمیدواروں نے کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 13میں سے صرف 7حلقوں پر ووٹنگ منعقد ہوئی جہاں آزادی اُمیدواروں نے میدان مارلیا جبکہ 6حلقوں پر بھی آزاد اُمیدواروں نے بلامقابلہ جیت درج کرلی۔بانڈی پورہ میونسپل کمیٹی پر بھی کانگریس نے 17میں سے 12حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی جبکہ بی جے پی نے 3نشستیں حاصل کیں۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 2حلقوں پر آزاد اُمیدواروں نے بھی میدان مارلیا ہے۔
حاجن میونسپل کمیٹی پر کانگریس نے 10نشستوں پر بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلی ، اسی طرح سنبل میونسپل کمیٹی میں کانگریس نے8نشستیں حاصل کرلی ۔ معلوم ہوا ہے کہ یہاں 8حلقوں پر آزاداُمیدواروں نے ہی میدان صاف کیا۔ ادھر بی جے پی نے جنوبی کشمیر کے کولگام، اننت ناگ، شوپیان اور پلوامہ کے تحت آنے والی میونسپل کمیٹیوں پر 53حلقوں پرجیت درج کرتے ہوئے 20میونسپل کمیٹیوں پر قبضہ جمالیا جبکہ کانگریس بھی جنوبی اضلاع میں 28حلقوں پر جیت درج کرنے کے ساتھ ہی 3میونسپل کمیٹیوں پر قابض ہوگئی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ بی جے پی نے جنوبی کشمیر کی شوپیان میونسپل کمیٹی میں اچھے نمبرات حاصل کرلیے ہیں جس کے تحت پارٹی 12حلقوں پر بلامقابلہ کامیاب قرار پائی ہے۔ جنوبی کشمیر کے ہی دیوسر میونسپل کمیٹی پر بی جے پی نے 8سیٹیں حاصل کرلی ہیں۔پارٹی نے قاضی گنڈ میں اپنا کھاتہ کھولتے ہوئے 7میں سے 4حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسی طرح پہلگام میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 13حلقوں پر بی جے پی نے بلامقابلہ کامیابی حاصل کرلی ہے۔معلوم ہوا ہے کہ یہاں پر کسی بھی سیاسی جماعت یا آزاد اُمیدوار نے درخواست نامزدگی داخل نہیں کرائی تھی جس کے نتیجے میں بی جے پی کے لیے جیت یقینی بن چکی تھی۔
ادھر جنوبی قصبہ کی ڈورو میونسپل کمیٹی جوکانگریس کے ریاستی صدر غلام احمد میر کا حلقہ انتخاب ہے، کے تحت آنے والے 17حلقوں میں سے کانگریس نے 14پر جیت درج کرلی ہے . کوکرناگ میونسپل کمیٹی پر بھی کانگریس پارٹی نے 8حلقوں میں سے 6حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ اسی طرح یاری پورہ میونسپل کمیٹی پر بھی پارٹی نے 13نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ادھر وسطی ضلع بڈگام میں کانگریس نے بی جے پی کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 6نشستوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ معلوا ہو اہے کہ یہاں بی جے پی نے 4نشستیں حاصل کیں۔اسی طرح یہاں کانگریس پارٹی چرار میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 18حلقوں پر جیت درج کرلی۔ پارٹی نے چاڈورہ میونسپل کمیٹی کے تحت آنے والے 8حلقوں میں سے 6پر کامیابی کا جھنڈا گاڑدیا ۔ادھر جموں میں بی جے پی نے میدان مارتے ہوئے کانگریس کو پیچھے چھوڑتے ہوئے 43حلقوں پر جیت کرلی۔ تفصیلات کے مطابق جموں کے 75حلقوں پر بی جے پی نے 43، کانگریس نے 14اور آزاد اُمیدواروں نے 18حلقوں پر کامیابی حاصل کرلی ہے۔ ادھر ووٹوں کی گنتی عمل میں لانے کے لیے انتظامیہ نے گنتی مراکز کے ارد گرد سخت سیکورٹی کا پہرا بٹھایا دیا تھاجس دوران شیر کشمیر انٹرنیشنل کنونشن سنٹر بیلوارڈ کو سیکورٹی فورسز نے مکمل طور پر اپنی تحویل میں لیا تھا جبکہ اسی طرح جموں کے پالی ٹنکنک انسٹی چوٹ واقع بکرم چوک جموں کو بھی فورسز اہلکاروں نے اپنی تحویل میں لے کر ووٹنگ کی گنتی کو پرامن اور خوشگوار ماحول میں منعقد کیا۔
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
پاکستان
کویت کے ساتھ معاہدے سے پاکستان کا مشرق وسطیٰ میں دفاعی حصار وسیع
اسلام آباد، پاکستان اور کویت نے جمعرات کو ایک نئے دفاعی معاہدے پر دستخط کیے۔ پاکستان کی وزارت دفاع کے مطابق یہ معاہدہ 2023 سے موجود فوجی تعاون کے فریم ورک کو نمایاں طور پر وسعت دیتا ہے۔
پاکستان کے وزیر دفاع خواجہ آصف اور کویت کے وزیر دفاع شیخ عبداللہ علی عبداللہ السالم الصباح نے راولپنڈی میں ’پروٹوکول ایگریمنٹ 2026‘ پر دستخط کیے۔
معاہدے کے تحت پاکستانی مسلح افواج کویت کی فوج کی تربیت، دفاعی صلاحیتوں میں اضافے اور سرحدی انتظام میں معاونت کریں گی۔یہ معاہدہ جون 2023 میں طے پانے والے ایک بنیادی معاہدے کی بنیاد پر کیا گیا ہے، جس کی کویت نے گزشتہ ماہ باضابطہ طور پر توثیق کی تھی۔
یہ پاکستان اور خلیجی ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کے بڑھتے ہوئے سلسلے میں تازہ ترین پیش رفت ہے۔
حالیہ برسوں میں پاکستان نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا، سعودی عرب اور ترکی کے ساتھ ’مکہ پیکٹ‘ کے نام سے سہ فریقی اجتماعی سلامتی کے معاہدے میں شمولیت اختیار کی، سعودی عرب میں ہزاروں فوجی اور ایک جنگی طیاروں کا اسکواڈرن تعینات کیا اور قطر کے ساتھ فوجی تربیتی تعاون کو بھی وسعت دی ہے۔
پاکستان کئی دہائیوں سے خلیجی ممالک کی افواج کو تربیت اور افرادی قوت فراہم کرتا آیا ہے۔ تاہم اب فرق اس تعاون کی رفتار اور نمایاں حیثیت میں آیا ہے اور خلیجی دارالحکومت خاموش تعاون کے بجائے باضابطہ معاہدوں کے ذریعے اسے ادارہ جاتی شکل دینے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
معاہدوں کے اس سلسلے سے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ آخر خلیجی ممالک مسلسل پاکستان کا رخ کیوں کر رہے ہیں اور پاکستان ان معاہدوں کے ذریعے کیا حاصل کر رہا ہے؟
کویت اسلام آباد کے ساتھ دفاعی تعاون کو نئی سطح پر لے جانے والا تازہ ترین خلیجی ملک ہے۔
کویت کے ساتھ پاکستان کا دفاعی تعاون 1960 کی دہائی کے اواخر سے جاری ہے۔ 1990-91 کی خلیجی جنگ کے دوران بھی پاکستان نے سعودی عرب میں ایک بڑا فوجی دستہ بھیجا تھا، جو 1990 میں عراق کی جانب سے کویت پر حملے کے بعد مکہ اور مدینہ کے اطراف دفاعی پوزیشنوں پر تعینات کیا گیا تھا۔
پاکستان کے سابق دو ستارہ جنرل اور اب دفاعی تجزیہ کار زاہد محمود نے کہا کہ یہی تاریخ جمعرات کو ہونے والے معاہدے کا پس منظر ہے۔انہوں نے کہا، ’’پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون کوئی نئی بات نہیں ہے۔‘‘
محمود کے مطابق کویت کے ساتھ ہونے والے معاہدے کا موازنہ گزشتہ ستمبر میں سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کے دستخط کردہ ’اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ‘ (ایس ایم ڈی اے) سے نہیں کیا جاسکتا۔ کویت معاہدے میں مکہ پیکٹ یا ایس ایم ڈی اے جیسی کوئی شق شامل نہیں، جن کے تحت کسی ایک فریق پر جارحیت کو تمام فریقوں پر حملہ تصور کیا جاتا ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
جنگ کے آغاز کے بعد ایران کا آبنائے ہرمز پر سابقہ کنٹرول بڑی حد تک کم ہوا: امریکہ کا دعویٰ
واشنگٹن/تہران، امریکہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کی فوج نے جنگ کے آغاز کے بعد سے آبنائے ہرمز پر ایران کی گرفت کو بتدریج کمزور کر دیا ہے۔ واشنگٹن کے مطابق جو کارروائی ابتدا میں ایران کی میزائل اور جوہری صلاحیتوں کے خلاف مہم کے طور پر شروع ہوئی تھی، وہ اب دنیا کی اہم ترین توانائی گزرگاہوں میں سے ایک پر کنٹرول حاصل کرنے کی طویل جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ہی تہران کا سب سے مؤثر دباؤ کا ذریعہ رہی ہے۔
امریکی حکام کا خیال ہے کہ آبنائے ہرمز کی بدلتی ہوئی صورتحال جنگ میں ایک اہم موڑ ثابت ہو سکتی ہے، جس سے عالمی توانائی منڈیوں پر دباؤ کم ہوگا اور واشنگٹن کو تہران کے ساتھ مستقبل کے مذاکرات میں زیادہ اثر و رسوخ حاصل ہوگا۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعرات کو ایک فون انٹرویو میں ’ایکسِیوس‘ سے کہا، ’’وہ جگہ کھلی ہوئی ہے۔ ایرانی ردعمل بہت معمولی ہے۔ وہ نہیں چاہتے کہ ہم دوبارہ ان پر حملہ کریں۔ یہی پوری بات ہے، باقی کسی چیز کی اہمیت نہیں۔‘‘
جنگ شروع ہونے کے وقت آبنائے ہرمز کھلی ہوئی تھی، عالمی سطح پر تیل کی ترسیل معمول کے مطابق جاری تھی اور برینٹ خام تیل کی قیمت تقریباً 72 ڈالر فی بیرل تھی۔
دو اسرائیلی حکام کے مطابق آبنائے ہرمز کو بند کرنے کا فیصلہ اس وقت پاسداران انقلاب کی بحریہ کے کمانڈر جنرل علی رضا تنگسیری نے کیا تھا۔ جنگ کے پہلے 72 گھنٹوں کے اندر ایران نے آبی گزرگاہ کی بندش کا اعلان کیا اور خبردار کیا کہ گزرنے کی کوشش کرنے والے ٹینکروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔
اسرائیلی اور امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس کے بعد تنگسیری نے ایرانی افواج کو آبنائے ہرمز کے اندر ’ٹریفک سیپریشن اسکیم‘ یعنی بین الاقوامی جہاز رانی کے مرکزی راستے میں بحری سرنگیں بچھانے کا حکم دیا۔ تنگسیری تین ہفتے بعد بندر عباس میں اسرائیلی فضائی حملے میں مارے گئے۔
حملوں اور سمندری سرنگوں کے خطرے کے باعث آبنائے ہرمز سے تجارتی جہازوں کی آمدورفت تقریباً رک گئی۔ اس کے نتیجے میں برینٹ خام تیل کی قیمت بڑھ کر 126 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی اور عالمی توانائی منڈیوں پر شدید دباؤ پڑنے لگا۔
ٹرمپ نے 8 اپریل کو جنگ بندی پر اتفاق کیا، جس کی ایک وجہ امریکہ میں ایندھن کی قیمتوں میں بڑے اضافے اور توانائی منڈیوں کے دباؤ کو بھی قرار دیا گیا۔ یہ بالکل اسی نوعیت کا معاشی خلل تھا جسے ایران پیدا کرنا چاہتا تھا۔
دو ماہ بعد امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) میں آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا مرکزی معاملہ بن گیا۔ تاہم آبی گزرگاہ مکمل طور پر معمول پر نہ آسکی اور جلد ہی یہ معاہدہ بھی ناکام ہوگیا۔
مفاہمتی یادداشت کے خاتمے کے بعد امریکی فوج نے آبنائے ہرمز کو اپنے طور پر دوبارہ کھولنے کی کوشش شروع کردی۔ امریکہ نے متحدہ عرب امارات کے تعاون سے ایک ٹاسک فورس تشکیل دی، جس نے جنوبی راستے سے تجارتی جہازوں کی رہنمائی شروع کی، انہیں فضائی تحفظ فراہم کیا اور ایرانی ڈرونز اور کروز میزائلوں کو روکنے کی کارروائیاں کیں۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
-
ہندوستان1 week agoمودی نے خلائی شعبے کے اسٹارٹ اپس کے سربراہان اور بانیوں سے بات چیت کی
