ہندوستان
نیوز ایجنسی یواین آئی بحالی کے لیے تیار ، این سی ایل ٹی نے سرمایہ کاری کی تجویز کو دی منظوری
نئی دہلی، برسوں سے شدید مالی بحران سے دوچار ہونے کے بعد یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا (یو این آئی) جو کہ ملک کی سب سے قدیم اور معتبر خبر رساں ایجنسیوں میں سے ایک ہے، ازسرنوبحالی کے لیے تیار ہے کیونکہ نیشنل کمپنی لا ٹریبونل (این سی ایل ٹی) نے آج 64 سالہ کمپنی کے لیے ایک ریزولیوشن پلان کو منظوری دے دی ہے انسالوینسی اینڈ بینکرپٹسی کوڈ (آئی بی سی ) کے تحت ریزولوشن پلان کی منظوری سے مالی بحران کی شکار اس کمپنی میں خاطرخواہ سرمایہ کاری کی راہ ہموار ہوگئی ہے، جس سے سینکڑوں صحافیوں سمیت تقریباً 900 حاضر سروس اور سابق ملازمین کو انتہائی خوشی حاصل ہوئی ہے۔
19 مئی 2023 کو ٹربیونل کی طرف سے کمپنی کے ریزولوشن پروسیس کے لیے مقر رکی گئیں ریزولیوشن پروفیشنل محترمہ پوجا باہیری نے پرجوش انداز میں کہا ’’ آج تاریخ رقم ہو گئی ہے کیونکہ فاضل این سی ایل ٹی نے یونائیٹڈ نیوز آف انڈیا (یواین آئی) کو بحال کرنے کے لیے دی اسٹیٹسمین لمیٹڈ کے پیش کردہ ریزولوشن پلان کو منظوری دے دی ہے۔‘‘
انسالوینسی معاملات میں گہراتجربہ رکھنے والی محترمہ پوجا باہیری نے کہا، ’’ یو این آئی (کیس) اس بات کی ایک بہترین مثال ہے کہ آئی بی سی کیا حاصل کر سکتا ہے…آئی بی سی کا بنیادی مقصد، جو کہ ایک کمپنی کی بحالی اور تسلسل کو یقینی بنانا ہے، بالآخر حاصل ہو گیا ہے۔‘‘
اس بات کو واضح کرتے ہوئے کہ یواین آئی کئی دہائیوں سے بقا کی جنگ لڑ رہی ہے ، انہوں نے کہا، ’’ اس خوبصورت قانون سازی ، آئی بی سی کی وجہ سے ہی ہم تاریخی اہمیت کے حامل اس ادارے (یواین آئی) کی ’بحالی‘ اور ’ریزولوشن ‘ سے متعلق فیصلے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ یواین آئی دوبارہ کامیابی کی بلندیوں کو چھو سکتی ہے اور یہی آئی بی سی کی اصل طاقت ہے۔‘‘
انہوں نے اس بات کو نمایاں کیا کہ ملک کی دوسری سب سے بڑی نیوز ایجنسی کی کامیاب بحالی میں 900 سے زائد فیملیز نے حصہ لیا ہے، جو کہ فوٹو سروس کے ساتھ ساتھ انگریزی، ہندی اور اردو زبانوں میں سینکڑوں دیگر میڈیا اداروں کو خبریں فراہم کرتی ہے۔’’
آر پی نے کہا ’’ آج خدا کے فضل اور ملازمین اور مختلف اسٹیک ہولڈرز کی ہرممکن کوششوں اور تعاون سے ہم نے تاریخ رقم کی ہے، جنھیں این سی ایل ٹی نے ممکنہ سرمایہ کاروں کو آئی بی سی قانون کے مطابق انتہائی ضروری فنڈز فراہم کرنے کی دعوت دینے کا کام سونپا تھا۔
انہوں نے مزید کہا، ’’اس عمل میں کافی محنت کی گئی ۔ ہم نے مختلف رکاوٹوں کو عبور کیا۔ اس طرح کی کامیابی کی داستان ان اصولوں پر ہمارے یقین کو تقویت دے سکتی ہے جن پر آئی بی سی قائم کیا گیا تھا ۔ یہ اس بات کا غماز ہے کہ صحیح اقدار، اخلاقیات اور انکی پاسداری نیز اچھی نیت کے ساتھ ہم ناقابل تسخیربلندی کو بھی سرکر سکتے ہیں۔‘‘
محترمہ باہیری نے کہا، ’’ بہت سے لوگوں کو لگتا ہے کہ آئی بی سی دوسرے لیجسلیچر کی طرح غیر متعلقہ ہو سکتا ہے لیکن میرا پختہ یقین ہے کہ جب تک یواین آئی جیسے اداروں کو بحال کیاجاتارہے گا، جو اس منفرد لیجسلیچر کی خوبصورتی کو ظاہر کرتاہے ، آئی بی سی کی اہمیت برقرار رہے گی ۔‘‘
یو این آئی کے حوالے سے کامیاب ریزولوشن کے عمل کا مطلب یہ ہے کہ نہ صرف اب بلکہ آنے والی کئی دہائیوں تک ہزاروں زندگیوں پراس کا مثبت اثر پڑ سکتا ہے۔
1961 میں قائم ہونے والی یواین آئی ایک دہائی سے زائد عرصے سے مالی بحران کا شکار تھی ، اس کے باوجود یہ نیوز آرگنائزیشن 600 سے زیادہ میڈیا آؤٹ لیٹس اور دیگر اداروں کو فی الحال ملک بھر میں اپنی نیوز اور فوٹو سروسز فراہم کر رہی ہے۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ یو این آئی ایشیا کی واحد معتبر نیوز ایجنسی ہے جو اردو زبان میں خدمات انجام دے رہی ہے اور اس زبان کے بیشتر اخبارات اور نیوز ویب سائٹس یو این آئی پر منحصر ہیں۔
یو این آئی کے سبسکرائبروں میں ایچ ٹی سنڈی کیشن، ہندستان (ہندی روزنامہ )، دینک بھاسکر، راجستھان پتریکا، پنجاب کیسری، راشٹریہ سہارا، سامنا اور مختلف ریاستی حکومتیں، راج بھون اور سرکردہ سیاسی جماعتیں شامل ہیں۔
فی الحال کمپنی میں 250 سے زائد ملازمین زیر کار ہیں جن میں صحافی، فوٹو جرنلسٹ اور غیر صحافی افراد شامل ہیں ۔ علاوہ ازیں ملک بھر کے اضلاع تک ا سٹرنگرز کا ایک وسیع نیٹ ورک ہے۔
یہ ایجنسی اپنے سبسکرائبروں کو تیز رفتاراور سچائی پر مبنی معیاری خبرفراہمی کے لیے پرعزم ہے۔
یو این آئی۔ اے کے کے۔ایف اے
ہندوستان
کھڑگے نے مودی، شاہ کو خط لکھ کر آفت زدہ نیپال کو ضروری امداد دینے کی اپیل کی
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے نیپال میں آئے تباہ کن سیلاب کے سلسلے میں وزیراعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امت شاہ کو خط لکھ کر آفت سے متاثرہ لوگوں کو مناسب انسانی اور راحت امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔
مسٹر کھڑگے نے جمعہ کو لکھے گئے دونوں خطوط کو آج جاری کرتے ہوئے نیپال میں آئے سیلاب پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے نیپال کو انسانی امداد فراہم کرنے کے ساتھ قومی آفات سے نمٹنے والی فورس (این ڈی آر ایف) کی مہارت سے فائدہ اٹھانے کی بھی اپیل کی ہے۔
وزیر اعظم کو لکھے خط میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ نیپال میں آنے والے تباہ کن سیلاب سے گہری تشویش میں مبتلا ہیں، جس سے جانی اور مالی نقصان بڑے پیمانے پر ہوا ہے۔ حالیہ ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور متعدد افراد اب بھی لاپتہ ہیں۔ اس آفت کے باعث ہزاروں افراد کو خوراک، دوا، پناہ گاہ اور دیگر ضروری امداد کی فوری ضرورت ہے۔
انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی ہے کہ نیپال حکومت کے ساتھ مل کر متاثرہ لوگوں تک مناسب انسانی اور راحت امداد پہنچائی جائے۔
وزیر داخلہ کو لکھے خط میں مسٹر کھڑگے نے کہا کہ نیپال میں حالیہ سیلاب سے ہونے والے جانی و مالی نقصان، گھروں اور بنیادی ڈھانچے کی بڑے پیمانے پر تباہی اور لوگوں کے بے گھر ہونے سے انہیں گہرا صدمہ پہنچا ہے۔
ہندستان اور نیپال کے عوام کے درمیان گہرے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے حکومت سے اپیل کی ہے کہ نیپال کو فوری طور پر وسیع پیمانے پر انسانی اور آفات سے متعلق راحت امداد فراہم کی جائے۔ خاص طور پر ضرورت پڑنے پر این ڈی آر ایف کی ٹیمیں تعینات کی جائیں اور نیپال حکومت کے ساتھ تال میل کرکے بچاؤ، انخلا اور راحت کے کاموں میں مدد کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ اس بحران میں این ڈی آر ایف کی مہارت قیمتی تعاون فراہم کر سکتی ہے اور وزارت داخلہ کو اس معاملے سے فوری اور حساسیت کے ساتھ نمٹنا چاہیے۔
یو این آئی۔ایم جے
ہندوستان
ازبکستان اور کرغیزستان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا ہے کہ ازبکستان اورجمہوریہ کرغیز کے ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی اور امن، استحکام اور خوشحالی کے لیے مشترکہ کوششوں کو تقویت ملے گی۔
مسٹر مودی نے دونوں ملکوں کے چار روزہ دورے پر روانہ ہونے سے پہلے ہفتہ کو ایک بیان میں کہا کہ وہ صدر شوکت مرزایوف کی دعوت پر 29 اور 30 اگست کو سرکاری دورے کے لیے تاشقند میں ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ وہ صدر مرزایوف کے ساتھ دو طرفہ اہمیت کے مختلف امور پر بات چیت کے لیے پرجوش ہیں۔
انہوں نے کہا، ’’حالیہ برسوں میں ہندستان-ازبکستان حکمت عملی پر مبنی شراکت داری میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ میں صدر مرزایوف کے ساتھ تجارت اور سرمایہ کاری، ڈیجیٹل رابطے، دفاع اور توانائی کے شعبوں میں ہمارے تعاون کو مزید گہرا کرنے اور وکست بھارت اور یانگی ازبکستان کے ہمارے مشترکہ تصورات کو آگے بڑھانے پر اپنی بات چیت کا منتظر ہوں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ تاشقند اسٹیٹ یونیورسٹی آف اورینٹل اسٹڈیز میں شاستری یادگار اور مہاتما گاندھی مرکز کا بھی دورہ کریں گے، جو دونوں ملکوں کو جوڑنے والے قریبی ثقافتی اور عوام سے عوام کے تعلقات کے لیے ایک خراج عقیدت ہے۔
مسٹر مودی نے کہا کہ تاشقند سے وہ کرغیز جمہوریہ کے صدر صادر ژاپاروف کی دعوت پر 26ویں ایس سی او سربراہ اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک کا سفر کریں گے، جو اس اہم تنظیم کے 25 سال مکمل ہونے کی علامت ہے۔ ہندستان 2017 سے ایس سی او کا فعال اور تعمیری رکن رہا ہے۔
انہوں نے کہا، ’’میں خطے کے لیے ہندستان کے نقطۂ نظر کو آگے بڑھانے کا منتظر ہوں، جو سلامتی، رابطے اور مواقع پر مبنی ہے، اور ایسے خطے کے لیے رکن ممالک کے ساتھ مل کر کام کرنے کا خواہاں ہوں جو دہشت گردی، علیحدگی پسندی اور انتہا پسندی کے بحران سے پاک ہو، جو ہمارے پڑوس اور اس سے آگے امن اور استحکام کے لیے مسلسل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔‘‘
وزیر اعظم نے کہا کہ وہ صدر ژاپاروف اور ایس سی او کے دیگر رہنماؤں سے ملاقات اور چھٹے عالمی خانہ بدوش کھیلوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے بھی پرجوش ہیں، جو وسطی ایشیا کے مالا مال اور جاندار ورثے کا جشن ہے، جس کا ہندستان گہرا احترام کرتا ہے۔
انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ان کے دورے سے وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داری مضبوط ہوگی۔ انہوں نے کہا، ’’مجھے یقین ہے کہ یہ سفر وسطی ایشیا میں ہندستان کی حکمت عملی پر مبنی شراکت داریوں کو مضبوط کرے گا، خطے کے ساتھ ہمارے تہذیبی تعلق کو مزید گہرا کرے گا اور امن، استحکام اور خوشحالی کی ہماری مشترکہ جستجو کو آگے بڑھائے گا—یہ وہ اقدار ہیں جو دنیا کے ساتھ ہندستان کے تعلقات کے مرکز میں ہیں۔‘‘
یو این آئی، ایم جے
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
