ہندوستان
دہلی میں آج نئی حکومت کی حلف برداری کی تقریب، ریکھا اور دیگر چھ وزراء حلف لیں گے
نئی دہلی، بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) 27 سال کے بعد آج قومی دارالحکومت کی باگ ڈور سنبھالنے جارہی ہے اور دہلی بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر اور شالیمار باغ کی ایم ایل اے ریکھا گپتا وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیں گی۔
دہلی کے تاریخی رام لیلا میدان میں منعقدہ تقریب میں لیفٹیننٹ گورنر وی کے سکسینہ مسز گپتا کو وزیراعلی کے عہدے کا حلف دلائیں گے۔ موصولہ اطلاعات کے مطابق مسز گپتا کے ساتھ ان کی کابینہ کے ساتھی بھی عہدہ اور رازداری کا حلف لیں گے۔
مسز گپتا کو بدھ کو دہلی بی جے پی کے دفتر 14 پنچ مارگ میں منعقدہ میٹنگ میں وزیر اعلیٰ کے عہدے کے لیے منتخب کیا گیا۔ اس سے قبل بی جے پی ہائی کمان نے مسٹر او پی دھنکڑ اور روی شنکر پرساد کو بطور مبصر مقرر کیا تھا۔ ان دونوں لیڈروں کی موجودگی میں بدھ کو ممبران اسمبلی کی رائے لی گئی جس میں محترمہ گپتا کے نام پر اتفاق رائے ہو گیا۔ اس کے بعد بی جے پی لیجسلیچر پارٹی کی لیڈر ریکھا گپتا نے دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر سے ملاقات کی اور حکومت بنانے کا دعویٰ پیش کیا۔ اس دوران انہوں نے مسٹر سکسینہ کو ان ایم ایل اے کی فہرست بھی سونپی جو پہلے حلف برداری کی تقریب میں کابینہ کے وزیر کے طور پر حلف لیں گے۔
موصولہ اطلاع کے مطابق مسز گپتا کے ساتھ چھ وزراء کو بھی آج عہدہ اور رازداری کا حلف دلایا جائے گا۔ جو ایم ایل اے آج وزیر کے طور پر حلف لیں گے ان میں مسٹر پرویش ورما، آشیش سود، پنکج سنگھ، منجندر سرسا، کپل مشرا، رویندر اندراج شامل ہیں۔
مسز گپتا 1974 میں ہریانہ کے جند ضلع کے نند گڑھ گاؤں میں پیدا ہوئیں۔ ان کے والد اسٹیٹ بینک آف انڈیا میں افسر تھے۔ سال 1976 میں مسز گپتا کا کنبہ دہلی آگیا۔ اس کے بعد انہوں نے اپنی ابتدائی سے اعلیٰ تعلیم قومی دارالحکومت اور اتر پردیش کے میرٹھ سے مکمل کی۔ انہوں نے 2022 میں دہلی یونیورسٹی کے دولت رام کالج سے بی کام اور میرٹھ کی چودھری چرن سنگھ یونیورسٹی سے ایل ایل بی کی تعلیم مکمل کی۔
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی رکن مسز گپتا نے اپنا سیاسی سفر اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد کے ساتھ طالب علم لیڈر کے طور پر شروع کیا۔ وہ 1996-97 میں دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (ڈی یو ایس یو) کی صدر منتخب ہوئیں۔ اس کے بعد انہوں نے شہری سیاست میں اپنی قسمت آزمائی اور تین بار کونسلر بنیں اور جنوبی دہلی میونسپل کارپوریشن کی میئر کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔ انہوں نے 2022 میں دہلی میونسپل کارپوریشن کے میئر کے عہدے کے لیے اے اے پی کی شیلی اوبرائے کے خلاف بھی الیکشن لڑا تھا۔
مسز گپتا نے دہلی اسمبلی انتخابات میں شالیمار باغ حلقہ سے عام آدمی پارٹی کی بندنا کماری پر 29,000 ووٹوں کے فرق سے کامیابی حاصل کی۔ وہ 2015 اور 2020 کے اسمبلی انتخابات میں اسی مخالف سے ہار گئی تھیں۔
مسز گپتا بی جے پی کی دہلی یونٹ کی جنرل سکریٹری اور پارٹی کی خواتین ونگ – مہیلا مورچہ کی قومی نائب صدر رہ چکی ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیابی حاصل کرکے بی جے پی 27 سال بعد قومی راجدھانی میں اقتدار میں واپس آئی ہے۔ پارٹی نے اسمبلی کی 70 میں سے 48 سیٹیں جیتی ہیں۔ جب کہ حکمراں عام آدمی پارٹی (اے اے پی) صرف 22 سیٹوں پر سمٹ کر رہ گئی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ حلف برداری کی تقریب کا انعقاد شاندار طریقے سے کیا جائے گا۔ وزیر اعظم نریندر مودی کے علاوہ مرکزی کابینہ اور پارٹی کے تمام بڑے لیڈر اس میں شامل ہوں گے۔ ذرائع کے مطابق بی جے پی اور نیشنل ڈیموکریٹک الائنس (این ڈی اے) کی حکومت والی 21 ریاستوں کے وزرائے اعلیٰ اور نائب وزرائے اعلیٰ بھی تقریب حلف برداری میں شرکت کریں گے۔
ذرائع نے بتایا کہ حلف برداری کی تقریب میں کارپوریٹ ٹائیکون، صنعتکار، فلمی ستارے، کرکٹرز، سنت اور رشی بھی شرکت کریں گے۔ ساتھ ہی دہلی کے مختلف طبقات کے 12,000سے 16,000 باشندوں کو بھی مدعو کیا گیا ہے۔
یو این آئی۔ م ع۔ 0926
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا6 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا6 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا6 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان7 days agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
