ہندوستان
ترقی یافتہ ہندوستان کے لیے ہر شعبے میں بہترین قیادت کی ضرورت ہے: مودی
نئی دہلی، وزیر اعظم نریندر مودی نے آج کہا کہ 21 ویں صدی کے ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ کے لیے ملک کے ہر شعبے، ہر بلندی میں ، زندگی کے ہر پہلو میں دن رات کام کرنے کے لیے بہترین قیادت کی ضرورت ہے جسے عالمی سوچ اور مقامی ترقی کے خیال پر کام کرنا چاہیے۔
مسٹر مودی نے آج یہاں بھارت منڈپم میں اسکول آف الٹیمیٹ لیڈرشپ ( سول ) لیڈرشپ کنکلیو کے پہلے ایڈیشن کا افتتاح کیا۔ بھوٹان کے وزیر اعظم شیرنگ ٹوبگے بھی ان کے ساتھ موجود تھے۔
اپنے خطاب میں مسٹر مودی نے کہا “کچھ ایسے واقعات ہیں جو دل کے بہت قریب ہیں اور آج کا پروگرام، روح لیڈرشپ کنکلیو بھی ایک ایسا ہی پروگرام ہے۔ قوم کی تعمیر کے لیے شہریوں کی ترقی ضروری ہے، قومی تعمیر انفرادی ترقی کے ذریعے حاصل کی جاتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن سے جگت تک اگر کوئی بلندی حاصل کرنی ہے تو اس کی شروعات عوام سے ہوتی ہے۔ ہر شعبے میں بہترین لیڈر تیار کرنا بہت ضروری ہے اور وقت کی ضرورت ہے۔ اس لیے سول کا قیام ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ کے ترقی کے سفر میں ایک بہت اہم اور بڑا قدم ہے۔
انہوں نے کہا “سوامی وویکانند ہندوستان کو غلامی سے نکال کر تبدیل کرنا چاہتے تھے اور ان کا ماننا تھا کہ اگر ان کے پاس سو ل لیڈر ہوں تو وہ نہ صرف ہندوستان کو آزادی دلا سکتے ہیں بلکہ اسے دنیا کا نمبر ایک ملک بھی بنا سکتے ہیں۔ ہم سب کو اس منتر کے ساتھ آگے بڑھنا ہے۔ آج ہر ہندوستانی 21ویں صدی کے ‘ترقی یافتہ ہندوستان’ کے لیے دن رات کام کر رہا ہے۔ ایسے میں 140 کروڑ آبادی والے ملک میں بھی ہمیں زندگی کے ہر شعبے، ہر بلندی اور ہر پہلو میں بہترین قیادت کی ضرورت ہے۔
انہوں نے کہا “مشترکہ مقصد کی ہماری آزادی کی لڑائی سے بہتر کوئی مثال نہیں ہو سکتی… آج ہمیں آزادی کے جذبے کو زندہ کرنا چاہیے اور اس سے متاثر ہو کر آگے بڑھنا چاہیے… اگر آپ خود کو ترقی دیتے ہیں، تو آپ ذاتی کامیابی کا تجربہ کر سکتے ہیں۔ اگر آپ ایک ٹیم تیار کرتے ہیں، تو آپ کی تنظیم ترقی کا تجربہ کر سکتی ہے۔ اور اگر آپ لیڈر تیار کرتے ہیں، تو آپ کی تنظیم بہت تیز رفتاری سے مؤثر طریقے سے ترقی کر سکتی ہے۔”
وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اپنی حکمرانی اور پالیسی سازی کو عالمی معیار کا بنانا ہے۔ یہ تبھی ممکن ہو گا جب ہمارے پالیسی ساز، نوکرشاہی، کاروباری افراد عالمی بنیاد کے نظام سے جڑ کر اپنی پالیسیاں بنائیں گے… اگر ہمیں ’ترقی یافتہ ہندوستان‘ بنانا ہے، تو ہمیں تمام شعبوں میں آگے بڑھنا ہو گا… ہمیں نہ صرف بہترین کارکردگی کی تمنا کرنی ہوگی بلکہ اسے حاصل کرنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ کسی بھی ملک کو ترقی کے لیے نہ صرف قدرتی وسائل بلکہ انسانی وسائل کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ 21 ویں صدی میں ہمیں ایسے وسائل کی ضرورت ہے جو مؤثر طریقے سے جدت اور مہارت کو آگے بڑھا سکیں۔ ہر شعبے میں مہارت کی ضرورت ہوتی ہے اور قیادت کی ترقی اس سے مستثنیٰ نہیں ہے – یہ نئی صلاحیتوں کا تقاضا کرتی ہے۔ ہمیں سائنسی طور پر قیادت کی ترقی کو تیز کرنا چاہیے اور سول اس تبدیلی میں اہم کردار ادا کرے گا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ ہندوستان ایک عالمی طاقت کے طور پر ابھر رہا ہے اور یہ رفتار ہر شعبے میں بڑھ رہی ہے۔ اس ترقی کو برقرار رکھنے اور اسکیل کرنے کے لیے ہمیں عالمی سطح کے لیڈروں کی ضرورت ہے۔ روح کے ادارے اس تبدیلی میں گیم چینجر ہو سکتے ہیں۔ ایسے بین الاقوامی ادارے صرف ایک آپشن نہیں بلکہ ضرورت ہیں۔ آنے والے وقتوں میں، جیسا کہ ہم سفارت کاری سے تکنیکی اختراع کی طرف ایک نئی قیادت کو آگے بڑھاتے ہیں، ہندوستان کا اثر تمام خطوں میں کئی گنا بڑھ جائے گا۔ یعنی ایک طرح سے ہندوستان کا پورا وژن اور مستقبل نئی نسل کی مضبوط قیادت پر منحصر ہوگا، اس لیے ہمیں عالمی سوچ اور مقامی ترقی کے ساتھ آگے بڑھنا ہوگا۔
مسٹر مودی نے کہا کہ ہمیں ایسے افراد تیار کرنے کی ضرورت ہے جو ہندوستانی ذہنیت کے ساتھ بین الاقوامی تناظر کو سمجھیں۔ ان رہنماؤں کو حکمت عملی سے متعلق فیصلہ سازی، بحران کے انتظام اور مستقبل کی سوچ میں مہارت حاصل کرنی چاہیے۔ عالمی مارکیٹ پلیس اور بین الاقوامی اداروں سے مقابلہ کرنے کے لیے ہمیں ایسے لیڈروں کی ضرورت ہے جو عالمی کاروبار کی حرکیات کو سمجھتے ہوں۔
وزیر اعظم نے کہا “آج بھوٹان کے بادشاہ کا یوم پیدائش ہے اور ہم نے اسکول آف الٹیمیٹ لیڈرشپ کے پہلے ایڈیشن کا افتتاح کیا ہے، یہ ایک بہت اچھا اتفاق ہے… میں سول جیسے ادارے کا بہت روشن مستقبل دیکھ رہا ہوں، کیونکہ ایسے عظیم لیڈروں نے اس کی بنیاد رکھی ہے… مجھے نوجوانوں سے بہت امیدیں ہیں اور میں ہمیشہ ان کے لیے کچھ کرنے کے طریقے تلاش کرتا رہتا ہوں۔”
اس سے پہلے بھوٹان کے وزیر اعظم شیرنگ ٹوبگے نے اپنے خطاب میں کہا “وزیر اعظم میرے بڑے بھائی، جب بھی مجھے آپ سے ملنے کا موقع ملتا ہے تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے… میرے گرو، جب بھی میں آپ سے ملتا ہوں، مجھے ایک عوامی خدمت گار کے طور پر اور بھی زیادہ محنت کرنے کی ترغیب ملتی ہے۔
مسٹر ٹوبگے نے کہا کہ ’’میں شروع سے ہی یہ واضح کردینا چاہتا ہوں کہ میں نے قیادت کے بارے میں کوئی سبق نہیں سیککھا ہے، میںشاید ہی اس کے لیے اہل ہوں، میں یہاں ایک طالب علم کے طور پر آیا ہوں۔‘‘ یہ ایک بہترین موقع ہے کیونکہ میں دنیا کے عظیم ترین لیڈر وزیراعظم نریندر مودی سے قیادت کے بارے میں سیکھوں گا۔ وزیراعظم مودی میں آپ کے اندر بڑے بھائی کی شبیہ دیکھتا ہوں ، جو ہمیشہ میری رہنمائی کرتے ہیں ۔۔۔ وزیراعظم مودی میرے بڑے بھائی ، آپ نے اپنی دانشوری، جرات اورباصلاحیت قیادت سے صرف دس برسوں میں ہندوستان کو ترقی کی راہ پر ڈال دیا ہے۔
یو این آئی ۔ ع خ
ہندوستان
نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد 320 ہندوستانی شہری لاپتہ، 21 کو وطن واپس لایا گیا: وزارتِ خارجہ
نئی دہلی، نیپال میں تباہ کن سیلاب کے بعد وہاں تقریباً 320 ہندوستانی شہری لاپتہ ہیں جبکہ 21 ہندوستانی شہریوں کو اب تک بحفاظت وطن واپس لایا گیا ہے وزارتِ خارجہ کے ترجمان رندھیر جیسوال نے جمعہ کے روز یہاں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ جمعرات کو ترشولی توانائی منصوبے میں پھنسے 63 افراد کو بچایا گیا تھا۔
کاٹھمنڈو میں ہندوستانی سفیر نے ان سے ملاقات کی ہے۔ اس کے علاوہ 96 ہندوستانی شہری چین کے علاقے سے زمینی راستے سے نیپال کی طرف بحفاظت پہنچ چکے ہیں۔ ان تمام کو وطن واپس لانے کے لیے حکومت انتظام کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین کے علاقے میں ابھی بھی تقریباً 400 ہندوستانی شہری ہیں لیکن وہ تمام محفوظ ہیں اور ان کے اہل خانہ نیز ہندوستانی سفارت خانے سے ان کی بات ہوئی ہے کیونکہ وہاں موبائل نیٹ ورک کام کر رہا ہے۔ اس علاقے میں بھی لینڈ سلائیڈنگ ہوئی ہے اور راستوں کی خرابی کی وجہ سے ان کی واپسی میں وقت لگ سکتا ہے۔ حکومت انہیں وطن واپس لانے کا انتظام کر رہی ہے۔
ترجمان نے کہا کہ اس کے علاوہ ہند نژاد تقریبا 100 مزید افراد لاپتہ ہیں جو مختلف ممالک کے رہنے والے ہیں۔ ممکن ہے کہ یہ لوگ کیلاش مانسروور یاترا کے لیے گئے ہوں۔ ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ابھی تک صرف لاپتہ افراد کا اعداد و شمار ملا ہے اور کسی ہندوستانی شہری کی موت کی تصدیق نہیں کی جا سکی ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ تمل ناڈو کے جن 21 افراد کو کل محفوظ بچایا گیا تھا آج وہ وطن واپس لوٹ آئے۔ وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے ہوائی اڈے پر ان لوگوں سے ملاقات کی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جہاں تک انسانی امداد کا تعلق ہے تو اب تک دو طیاروں میں بالترتیب دس ٹن اور 37.5 ٹن امدادی سامان بھیجا جا چکا ہے اور تیسرا طیارہ آج جانے والا ہے جس میں 12 سے 13 ٹن امدادی سامان بھیجا جائے گا۔
ترجمان نے کہا کہ نیپال کی درخواست کے مطابق ایک سرنگ بچاؤ ٹیم بھیجنے کی تیاری کر رہے ہیں، جس کے لیے ضروری سامان وغیرہ کا جائزہ لینے کے لیے پہلے ایک ریکی ٹیم بھیجی جا رہی ہے۔ ایک طبی ٹیم بھی بھیجی جا رہی ہے۔ ہندوستان نے متعلقہ تکنیکی ٹیموں کے ساتھ بیلی برج کی بھی پیشکش کی ہے، تاکہ نیپال کے متاثرہ حصوں میں مواصلاتی نظام کو جلد بحال کیا جا سکے۔ ایک بیلی برج پہلے سے ہی نیپال میں موجود ہے اور اسے امدادی کوششوں کے لیے تعینات کیا جا سکتا ہے۔
مسٹر جیسوال نے کہا کہ ہندوستان نے نیپال کے حکام کو این ڈی آر ایف کی ٹیموں کو ان کے متعلقہ سامان کے ساتھ بھیجنے کی بھی خاص پیشکش کی ہے، جو تلاش اور بچاؤ کی کارروائیوں میں مدد کر سکتی ہیں اور سانحے سے متاثرہ لوگوں تک امداد پہنچا سکتی ہیں۔ اس سلسلے میں نیپال حکومت کے جواب کا انتظار ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہندوستان نیپال کی درخواست پر کوئی بھی دیگر امداد فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
کوچنگ پر حکومت سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں لوگ، مفت کوچنگ اسکیم ہدف سے 74 فیصد پیچھے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ لوک سبھا میں اپوزیشن لیڈر راہل گاندھی نے 17 جون کو کوٹا میں ‘چھاتروں کی گونج’ پروگرام میں تعلیم کے شعبے کے اہم مسئلے کو اٹھاتے ہوئے کہا تھا کہ منافع کمانے والی کوچنگ انڈسٹری نے عوام کے تعلیمی نظام کی جگہ لے لی ہے اور ہندوستانی خاندان کوچنگ سینٹروں پر حکومت کی طرف سے تعلیم میں کی جانے والی سرمایہ کاری سے 2.5 گنا زیادہ خرچ کر رہے ہیں۔
کانگریس شعبۂ مواصلات کے انچارج جے رام رمیش نے جمعہ کے روز کہا کہ اسی انکشاف کے بعد وزیرِ اعظم نریندر مودی نے بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ سے بچنے کی کوشش میں 15 اگست کو طلبہ کے لیے مفت آن لائن کوچنگ کا اعلان کیا ہے، تاہم حکومت کی مفت کوچنگ اسکیم کی کارکردگی لوگوں میں اعتماد پیدا نہیں کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کو تین برسوں میں 10,500 امیدواروں کو مفت کوچنگ کے لیے نامزد کرنا تھا لیکن اب تک صرف 2,790 طلبہ کا ہی اندراج ہوا ہے، جو ہدف کا محض 26 فیصد ہے۔
مسٹر رمیش نے کہا، “اس اسکیم کا بجٹ ہر سال کم ہوا ہے اور گزشتہ سال اس پر کیا گیا خرچ مقررہ بجٹ کے آدھے سے بھی کم تھا۔ یہ حقائق سماجی انصاف اور تفویضِ اختیارات کی وزارت کی پارلیمانی قائمہ کمیٹی کی تازہ ترین رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جسے 10 اگست 2026 کو پارلیمنٹ میں پیش کیا گیا۔”
کانگریس لیڈر نے الزام لگایا کہ ملک کے ابتر تعلیمی نظام کو بنیادی طور پر ٹھیک کرنے اور عوامی تعلیم میں دوبارہ سرمایہ کاری کرنے کے بجائے مودی حکومت نے عوامی وسائل کو آن لائن کوچنگ میں لگانے کا فیصلہ کیا ہے۔ انہوں نے اسے جواب دہی سے بچنے کا ایک ڈراما قرار دیا اور کہا کہ حکومت پہلے ہی دکھا چکی ہے کہ اس اسکیم کو کامیابی سے نافذ کرنے کی اس کی صلاحیت انتہائی کم ہے۔
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
مالی شمولیت میں جن دھن یوجنا کے یکسرتبدیلی لانے والے رول کی وزیرِ اعظم مودی نے کی ستائش
نئی دہلی، وزیرِ اعظم نریندر مودی نے جمعہ کے روز پردھان منتری جن دھن یوجنا کی ستائش کرتے ہوئے اس کے سفر کو ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج” سے تعبیر کیا اور ملک بھر میں مالی شمولیت پر اس کے دور رس اثرات کو اجاگر کیا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک پوسٹ میں وزیرِ اعظم نے کہا، ” غیرمعمولی وسعت اورانقلابی نتائج! جن دھن یوجنا کا ایک بے مثال اثر رہا ہے۔”
ان کے یہ تبصرے مالی شمولیت کی اس اہم اسکیم کے 28 اگست 2014 کو اپنے آغاز سے 12 سال مکمل ہونے پر سامنے آئے۔ پردھان منتری جن دھن یوجنا کو بینکنگ خدمات تک ہمہ گیر رسائی فراہم کرنے اور رسمی مالیاتی نظام سے باہر رہنے والے لاکھوں لوگوں کو بینکنگ نیٹ ورک میں لانے کے لیے شروع کیا گیا تھا۔
سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، 19 اگست 2026 تک 59 کروڑ سے زیادہ جن دھن کھاتے کھولے جا چکے تھے، جن میں کل جمع رقم 3.16 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر گئی ہے۔ مستفیدین میں خواتین کا تناسب 55 فیصد سے زیادہ ہے، جبکہ تقریباً 78 فیصد کھاتے دیہی اور نیم شہری علاقوں میں ہیں۔ اس اسکیم کے تحت 41 کروڑ سے زیادہ روپے۔کارڈ بھی جاری کیے گئے ہیں۔
گزشتہ 12 برسوں میں، جن دھن یوجنا حکومت کی مالی شمولیت کی کوششوں کا ایک مرکزی ستون بن گئی ہے، جس نے مستفیدین کو بینکنگ، بچت، کریڈٹ، انشورنس، پینشن کی سہولیات اور ڈیجیٹل ادائیگی کی خدمات تک رسائی حاصل کرنے میں مدد کی ہے۔
اس اسکیم نے جن دھن-آدھار-موبائل، یا جے اے ایم، فریم ورک میں بھی ایک اہم کردار ادا کیا ہے، جس نے مستفیدین کے بینک کھاتوں میں سرکاری فوائد کی براہِ راست منتقلی کو ممکن بنایا ہے اور فلاحی امداد کی فراہمی میں خامیوں کو کم کرنے کی کوشش کی ہے۔
اب جب کہ یہ پروگرام اپنے 13 ویں سال میں داخل ہو رہا ہے، حکومت کا کہنا ہے کہ جن دھن یوجنا رسمی مالیاتی خدمات تک رسائی کو وسعت دے رہی ہے اور ان لوگوں کی معاشی شراکت کو مضبوط کر رہی ہے جو پہلے مین اسٹریم بینکنگ نظام سے باہر تھے۔
یو این آئی ایف اے
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا7 days agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا7 days agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
دنیا7 days agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
جموں و کشمیر1 week agoلیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے نوجوانوں سے مقامی ضروریات کے مطابق زرعی حل تیار کرنے کی اپیل کی
