جموں و کشمیر
میری حکومت لوگوں کی امنگوں کو پورا کرنے کے لئے پر عزم ہے: منوج سنہا
جموں، جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا کا کہنا ہے کہ حکومت لوگوں کی امنگوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے لئے پر عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران جموں و کشمیر کی معیشت میں قابل ذکر بڑھوتری ہوئی ہے۔ان کا کہنا تھا کہ حکومت جموں و کشمیر کو ایک تعلیمی مرکز میں تبدیل کرنے پر توجہ مرکوز کر رہی ہے۔موصوف لیفٹیننٹ گورنر نے ان باتوں کا اظہار پیر کو اسمبلی کے پہلے بجٹ اجلاس سے خطاب کے دوران کیا۔انہوں نے کہا: ‘میری حکومت جموں وکشمیر کو ایک تعلیمی مرکز میں تبدیل کرنے کے لئے توجہ مرکوز کر رہی ہے’۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت سکولوں کو بااختیار بنانے کے لیے اٹل ٹنکرنگ لیبارٹریز کے ساتھ اپ گریڈ کر رہی ہے۔
منوج سنہا نے کہا کہ تدریسی مراکز کو بڑھانے اور اساتذہ کو بہتر بنانے کے لیے حکومت اساتذہ کے لیے صلاحیت سازی کے پروگراموں کو ترجیح دے رہی ہے تاکہ اسکولوں میں موثر سیکھنے کو یقینی بنایا جا سکے۔انہوں نے کہا کہ تعلیمی اداروں میں بہتری لانے اور اساتذہ کی حاضری کو ٹریک کرنے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا: ‘ میری حکومت اعلیٰ تعلیم کے معیار کو بڑھانے کے لیے مناسب سہولیات کی فراہمی کو یقینی بناتے ہوئے کالجوں اور یونیورسٹیوں کے بنیادی ڈھانچے کو مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے’۔
لیفٹیننٹ گورنر نے اپنے خطاب میں کہا کہ نیشنل ایجوکیشن پالیسی (این سی پی) 2020 کے مطابق ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کو اعلیٰ تعلیمی اداروں میں طلباء اور فیکلٹی کی ریسرچ اینڈ ڈیولپمنٹ میں ترقی کے لیے رکھا جائے گا۔انہوں نے کہا: ‘ مزید برآں اختراعات، انکیوبیشنز اور کاروباری افراد کی فعال طور پر حوصلہ افزائی کی جائے گی تاکہ طلباء میں اسٹارٹ اپس کی ثقافت کو فروغ دیا جا سکے اور انہیں ترقی اور خود انحصاری کو آگے بڑھانے کے لیے مہارتوں سے آراستہ کیا جا سکے’۔ان کا کہنا تھا: ‘جموں میں آئی آئی ٹی اور آئی آئی ایم اب کام کر رہے ہیں اور جموں یونیورسٹی نے A++ NAAC گریڈ کو برقرار رکھا ہے جبکہ اسلامک یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی( آئی یو ایس ٹی) مہارت کی نشوونما اور اختراع میں سرفہرست ہے’۔انہوں نے کہا کہ کشمیر یونیورسٹی (کے یو) کی فیکلٹی کو عالمی سائنس دانوں میں سرفہرست دو فیصد میں تسلیم کیا جاتا ہے اورکلسٹر یونیورسٹی آف جموں اور آئی یو ایس ٹی جیسے ادارے اعلیٰ درجے کی تحقیق میں اپنا رول ادا رہے ہیں’۔
ریاستی درجے کی بحالی کے بارے میں بات کرتے ہوئے منوج سنہا نے کہا کہ حکومت جموں وکشمیر کے ریاستی درجے کی بحالی کے مطالبے کو پورا کرنے کے لے پر عزم ہے۔انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں تمام سٹیک ہولڈرز کے ساتھ بات چیت جاری رکھی جائے گی۔ان کا کہنا تھا: ‘ حکومت جموں و کشمیر کو ریاست کا درجہ بحال کرنے کے لیے پرعزم ہے اور اس مقصد کو حاصل کرنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ رابطے جاری رکھے جائیں گے’۔انہوں نے کہا کہ حکومت مرکز کے زیر انتظام علاقوں میں بروقت انتخابات کو یقینی بنا کر پنچایت اور شہری مقامی اداروں کو مضبوط کرنے کے لیے بھی پرعزم ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ حکومت کشمیری پنڈتوں کی واپسی کو آسان بنانے اور اس کے لیے ایک محفوظ اور سازگار ماحول پیدا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا: ‘حکومت لوگوں کی امنگوں اور خواہشات کو پورا کرنے کے کئے پر عزم ہے’۔ان کا کہنا تھا کہ حالیہ برسوں کے دوران جموں و کشمیر کی معیشت میں قابل ذکر بڑھوتری ہوئی ہے۔منوج سنہا نے کہا کہ خواتین کو با اختیار بنانا میری حکومت کی اولین ترجیح ہے۔
یو این آئی ایم افضل
جموں و کشمیر
سینٹرل ایشیا کے دورے پر مودی کی روانگی سے قبل محبوبہ نے خطے سے دوبارہ جڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کی وکالت کی
سری نگر، وزیراعظم نریندر مودی کے 29 اگست سے شروع ہونے والے سینٹرل ایشیا کے چار روزہ دورے سے قبل پی ڈی پی صدر اور جموں و کشمیر کی سابق وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے جمعہ کے روز اس خطے کے سینٹرل ایشیا سے جڑنے والے تاریخی راستوں کو دوبارہ کھولنے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ جموں و کشمیر کی اہم جغرافیائی موقعیت اسے تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک بڑا ذریعہ بنا سکتی ہے۔ ایکس پر ایک پوسٹ میں محبوبہ نے کہا کہ مودی اپنے دورے کے دوران جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کے تصور پر بات کریں۔ انہوں نے کہا، “جب وزیراعظم مودی سینٹرل ایشیا کے دورے پر جا رہے ہیں، تو انہیں جنوبی ایشیا کو سینٹرل ایشیا سے دوبارہ جوڑنے کے لیے جموں و کشمیر کے تاریخی راستوں کو استعمال کرنے کی تجویز پر بات چیت کرنی چاہیے۔
جموں و کشمیر کا اہم جغرافیائی موقع نہ صرف اس خطے بلکہ پورے ملک کے لیے ایک قیمتی سرمایہ ثابت ہو سکتا ہے۔” انہوں نے مزید کہا، “خوتان، یارقند اور کاشغر کی طرف راستے کھولنے سے جموں و کشمیر تنازع کے علاقے سے بدل کر تجارت، رابطے اور تعاون کا ایک مرکزی ذریعہ بن سکتا ہے۔ جغرافیائی مواقع کو امن اور خوشحالی کے لیے استعمال کرنے دیں تاکہ کشمیر میں ایک نیا سورج طلوع ہو۔”
واضح رہے کہ وزیراعظم مودی ایس سی او سمٹ کے لیے ازبکستان کے ساتھ ساتھ کرغزستان کے دورے پر جا رہے ہیں۔
یو این آئی۔ ایف اے۔ م الف
جموں و کشمیر
ایم کے سنہا نے جموں و کشمیر کے نئے انٹیلی جنس چیف کا عہدہ سنبھال لیا
سری نگر، 1996 بیچ کے آئی پی ایس افسر ایم کے سنہا نے جمعہ کو جموں و کشمیر کے نئے ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل آف پولیس (اے ڈی جی پی)، کرائم انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) کا عہدہ سنبھال لیا۔ انہوں نے نتیش کمار کی جگہ یہ ذمہ داری سنبھالی ہے، جنہیں اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
ایم کے سنہا اس سے قبل جموں و کشمیر پولیس ہیڈکوارٹرز (پی ایچ کیو) میں اے ڈی جی پی (ہیڈکوارٹرز) کے عہدے پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ انہیں اب سی آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔
حکام کے مطابق عہدہ سنبھالنے کے فوراً بعد ایم کے سنہا نے سی آئی ڈی کے سینئر افسران کے ساتھ میٹنگ کی اور محکمہ کے انٹیلی جنس ونگ کی مجموعی کارکردگی کا جائزہ لیا۔ انہیں محکمہ کی مختلف شاخوں کے کام کاج اور سرگرمیوں کے بارے میں تفصیلی بریفنگ دی گئی۔
جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے جمعرات کو ایم کے سنہا کو مرکز کے زیر انتظام علاقے کا نیا انٹیلی جنس چیف مقرر کرنے کا حکم جاری کیا تھا۔
دریں اثنا، 1999 بیچ کے آئی پی ایس افسر نتیش کمار، جو اس سے قبل اے ڈی جی پی سی آئی ڈی اور جموں و کشمیر اسٹیٹ انویسٹی گیشن ایجنسی (ایس آئی اے) کے ڈائریکٹر کے عہدے پر فائز تھے، کو اے ڈی جی پی آرمڈ پولیس، جموں و کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
کشتواڑ ضلع کے سینکڑوں بااثر اساتذہ کئی برس سے ایک ہی جگہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوئے ہیں: اجیت بھگت
کشتواڑ، جموں و کشمیر نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈر اور چناب ویلی کے ترجمان اجیت بھگت نے الزام عائد کیا کہ محکمہ اسکول ایجوکیشن عملاً بدعنوانی کا گڑھ بن چکا ہے، جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ کشتواڑ ضلع کے ساتھ ساتھ ڈوڈہ اور رامبن اضلاع میں سینکڑوں اساتذہ ہیں۔ جو کہ اپنی من مرضی سے اسکولوں میں بیٹھے ہوۓ ہیں۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے یہاں جاری ایک پریس ریلیز میں کہا کہ ٹرانسفر پالیسی کی خلاف ورزی کرتے ہوئے وہ اپنی مرضی کی جگہ پر بیٹھے ہیں، حیرت کی بات یہ ہے کہ ان میں سے کئی رہائشی اساتذہ جو دور دراز علاقوں میں تعینات ہیں، بغیر کوئی کام کیے محکمہ سے تنخواہ لے رہے ہیں،
مسٹر بھگت نے کہا کہ بہت سے ایسے اساتذہ ہیں جو پچھلے کئی سالوں سے اعلیٰ حکام سے رابطہ کر رہے ہیں جب کہ حقیقی اساتذہ جو اسٹریم لائن جگہوں پر پوسٹنگ کے مستحق ہیں، وہ محکمے میں گہرے گٹھ جوڑ کی وجہ سے ہیں،
مسٹر بھگت نے الزام لگایا کہ شہر میں اسکول سب سے پسندیدہ جگہ ہیں جہاں صرف بااثر اساتذہ ہی تعینات ہیں جب کہ شہر میں بہت سے اچھے اساتذہ کو کبھی موقع نہیں دیا جاتا۔
سینئر نیشنل کانفرنس لیڈر نے کہا کہ تبادلوں میں غیر جانبداری کے مسائل سامنے آئے لیکن اعلیٰ حکام کی دانستہ لاعلمی اور انتظامیہ کے کمزور عزم کی وجہ سے اس لعنت پر قابو نہیں پایا جا سکا۔
انھوں نے کہا کہ انتظامیہ اساتذہ کے مسائل سے بخوبی واقف ہے، جنہیں گٹھ جوڑ کا خمیازہ بھگتنا پڑا جس نے انہیں اپنے آبائی علاقوں میں واپس جانے کی اجازت نہیں دی، اس لیے انہوں نے اپنی زیادہ تر خدمات دور دراز علاقوں میں گزاریں۔
یو این آئی۔ ظ ا۔م الف
-
جموں و کشمیر1 week agoکٹھوعہ کے تمام 216 سرحدی گاؤں اب سڑک سے منسلک، مکمل برق کاری : منوج سنہا
-
ہندوستان1 week agoوندے ماترم پر کانگریس کا فیصلہ غیر آئینی اور مستقبل میں سنگین بحران پیدا کرنے والا: راج ناتھ
-
دنیا1 week agoتیونس کے ساحل کے قریب کشتی ڈوب گئی، 13 افراد لاپتہ
-
دنیا1 week agoنیتن یاہو کا شام پر اسرائیلی حملے کا دفاع، ترکی کو فوجی تیاریوں پر خبردار کردیا
-
دنیا1 week agoکانگریس پر ڈیموکریٹس کا قبضہ ہوا تو میرے خلاف مواخذے کی کوشش ہوگی: ٹرمپ
-
جموں و کشمیر1 week agoجموں-سری نگر کے درمیان نئی وندے بھارت ٹرین، ادھم پور میں بھی اسٹاپ ہوگا
-
دنیا1 week agoایران کے صدر کا امریکہ کے ساتھ جنگ ختم کرنے پر زور، مذاکرات تعطل کا شکار
-
ہندوستان1 week agoطلبہ پر پیلٹ گن کے استعمال کے میرے پاس ہیں ثبوت: راہل
-
ہندوستان1 week agoایف آئی آر درج کرا دی، لگے آٹھ گھنٹے، انصاف کی سمت میں کامیابی کا میرا پہلا قدم: راہل
-
دنیا1 week agoامریکی قرضہ 40 ٹریلین ڈالر تک پہنچنے پر وانس کا کہنا ہے کہ بیسنٹ کے پاس ’’انتہائی خفیہ منصوبہ‘‘ ہے
-
ہندوستان1 week agoہندستان اور سنگاپور نے اسٹریٹجک شراکت داری کا جائزہ لیا، ابھرتے ہوئے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر زور
-
تازہ ترین7 days agoیوم آزادی اور مسلمان
