تازہ ترین
کریری اور آرونی میں خونریز معرکہ آئیاں5جنگجو جاں بحق
خبراردو:
آپریشن آل آوٹ کے تحت شمال و جنوب میں جنگجوؤں اور فورسز کے در میان پے در پے معرکہ آرائیوں کے دوران 5جنگجو نوجوانوں کو پولیس نے جاں بحق کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کشمیر کے آتھورہ گاؤں میں 2لشکر جنگجوؤں جبکہ آرونی بجبہاڑہ میں جھڑپ کے دوران 3جنگجوؤں کو جاں بحق کیا گیا۔
جنوبی کشمیر کے آرونی علاقے میں فوج اور فورسز نے ایک مصدقہ اطلاع کی بناء پر محاصرہ عمل میں لایا جس دوران تلاشی پارٹی نے آ ر ونی نامی گاؤں میں موجود جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لئے بڑے پیمانے پر کاروائی شروع کی ۔تفصیلات کے مطابق جوں ہی فورسز اہلکار نے مشتبہ مکان کی جانب پیش قدمی کی تو یہاں مو جود جنگجوؤں نے فورسز پر شدید فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی علاقے میں جھڑپ کا با ضا بطہ آغا ز ہو گیا ۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے جنگجو ؤں کے تمام فرار ہو نے کے ممکنہ راستوں کی سخت ناکہ بندی کرتے ہو ئے علاقے میں جگہ جگہ مو بائیل بنکرس کی تعیناتی عمل میں لائی ۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکاروں نے جنگجوؤں کے خلاف فیصلہ کن کاروائی عمل میں لاتے ہو ئے مکان پر شدید فائرنگ کر نے کے علاوہ مارٹر شلنگ بھی کی جس کے نتیجے میں مکان میں چھپے بیٹھے 3جنگجوؤں کو جاں بحق کیا گیا۔ پولیس ذرائع نے بتایا کہ جائے جھڑپ سے ابھی تک تینوں جنگجوؤں کی لاشوں کو برآمد کیا گیا۔ ذرائع نے بتایا کہ آخری اطلاعات مو صول ہو نے تک یہاں تلاشی آپریشن جاری تھا ۔اس دوران کے این ایس نے آرونی جھڑپ سے متعلق پولیس افسران سے رابطہ کر نے کی کو شش کی تو انہوں نے جھڑپ کی تصدیق کرتے ہو ئے بتایا کہ ابھی تلاشی آپریشن جاری ہے اور ممکنہ طور پر رہاشی مکان میں مو جود تینوں جنگجو جاں بحق ہو گئے ۔انہوں نے بتایا کہ فورسز اہلکار مکان کے ملبے کو ہٹانے میں مصروف ہیں اور جوں ہی تلاشی آپریشن اختتام پذیر ہو گا تو صحیح صورتحال واضح ہو جائے گی ۔انہوں نے کہا کہ جھڑپ کے مقام سے جنگجووءں کی دو لاشیں برآمد کی گئی ہیں جبکہ بھاری مقدار میں ہتھیار اور گولہ بارود کو بھی ضبط کیا گیا۔انہوں نے بتایا کہ علاقے میں تلاشی آپریشن جاری ہے۔ اس دوران کھار پور پورہ آرونی میں جاری جھڑپ کی خبر جوں ہی ملحقہ علاقوں تک پہنچ گئی تو یہاں نو جوانی کی بڑی تعداد نے سڑکوں پر نکل کر فورسز اہلکاروں پر شدید سنگ باری کی ۔نمائندے نے بتایا کہ نئی بستی اننت ناگ سمیت کھار پورہ آرونی اور دیگر کچھ علاقوں میں مشتعل نو جوانوں نے فورسز اہلکاروں پر سنگ باری کی جس کے جواب میں فورسز اہلکاروں نے نو جوانوں کو منتشر کر نے کے لئے آنسوں گیس کا استعمال کیا ۔تادم تحریر علاقے میں پُر تشدد مظاہرے جاری تھے ۔
اس دوران جمعرات کو آتھورہ کریری نامی گاؤں کا فوج اور فورسز نے دوران شب محاصرہ عمل میں لایا جس کے دوران یہاں جنگجوؤں اور فورسز کے مابین خونین معرکہ آرائی شروع ہو ئی جو کئی گھنٹوں سے جاری رہیں۔ ایک پولیس افسر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ کریری جھڑپ کے دوران 2جنگجوؤں کو مارگرایا گیا تاہم دونوں جنگجووءں کی شناخت ابھی جاری ہے۔ معلوم ہوا ہے کہ فوج، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے کریری کے آتھورہ گاؤں میں دوران شب ہی محاصرہ عمل میں لاتے ہوئے گاؤں میں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو ڈھونڈ نکالنے کے لیے وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن شروع کردیا جس کے بعد طرفین کی گولہ باری سے آتھورہ سمیت ملحقہ علاقے گولوں اور گولیوں سے دہل اُٹھا۔ اس دوران انتظامیہ نے کسی بھی امکانی گڑ بڑ سے نمٹنے کے لیے شمالی ضلع بارہمولہ کے حدود میں موبائل انٹرنیٹ کی کم اور تیز رفتار سروس کو معطل کردیا ۔ تفصیلات کے مطابق فوج کی 29اور 52آر آر ، ایس او جی اور سی آر پی ایف کی مشترکہ جمعیت نے بارہمولہ کے آتھورہ کریری گاؤں میں بدھوار اور جمعرات کی درمیانی شب ایک مصدقہ اطلاع کی بنیاد پر محاصرے میں لے لیا جس دوران فورسز نے گاؤں کے ارد گرد سخت پہرہ بٹھاتے ہوئے ممکنہ فرار راستوں کو سیل کردیا۔ فورسز نے علاقے میں اضافی کمک کو طلب کرتے ہوئے یہاں لوگوں کی نقل و حمل کو مکمل طور پر مسدود بنادیا۔
محاصرے کے دوران فورسز پارٹی نے جونہی مشتبہ مکان کے نزدیک جانے کی کوشش کی تو یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں نے تلاشی پارٹی پر شدید فائرنگ کرتے ہوئے فورسز کو پیش قدمی کرنے سے پیچھے رکھا۔ اس دوران فورسز پارٹی نے بھی مورچہ سنبھالتے ہوئے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی شروع کی جس کے ساتھ ہی طرفین کے درمیان جھڑپ کا باضابطہ آغاز ہوگیا۔ فورسز پارٹی نے اس دوران مشتبہ مکان کا گھیراؤ تنگ کرتے ہوئے گاؤں میں کیسپر گاڑیوں کی کمک طلب کی جس دوران شب وقفے وقفے سے گاؤں میں گولیوں کا تبادلہ ہوتا رہا۔ اس دوران کچھ وقفے کی خاموشی کے بعد صبح کی روشنی ظاہر ہوتے ہی علاقے میں جھڑپ دوبارہ شروع ہوئی جس دوران علاقہ گولیوں کی گن گرج سے دہل اُٹھا۔ نمائندے کے مطابق جونہی فورسز اہلکاروں نے جمعرات کی صبح مکان کے نزدیک جانے کی کوشش کی تو یہاں موجود جنگجوؤں نے زبردست فائرنگ کی جس کے ساتھ ہی یہاں گولیوں کی گن گڑا ہٹ سے آتھورہ سمیت ملحقہ علاقہ جات دہل اُٹھے۔ ادھر انتظامیہ نے امن و قانون کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لیے شمالی ضلع بارہمولہ میں انٹرنیٹ سروس کو مکمل طور پر مفلوج کرکے رکھ دیا۔
معلوم ہوا ہے کہ بے لگام افواہ بازی پر فوری قابو پانے اور کسی بھی ممکنہ عوامی احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر انتظامیہ نے ضلع بارہمولہ کے حدود میں موبائل انٹرنیٹ کی کم اور تیز رفتارسروس کو مکمل طور پر بند رکھا گیا ۔ نمائندے کے مطابق فورسز اہلکاروں نے میڈیا نمائندوں کو بھی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں انجام دینے کے لیے آگے جانے کی اجازت نہیں دی۔ انہوں نے بتایا کہ مقامی اور بیرونی میڈیا نمائندوں کی ایک بڑی تعداد کو دن بھرجائے جھڑپ سے قریباً ایک کلومیٹر کی دوری پر روکا گیا جس کے نتیجے میں میڈیا سے وابستہ نمائندوں کو بھی صحیح اطلاعات جمع کرنے میں کافی دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔
ادھر پولیس نے کریری جھڑپ سے اپنے بیان میں کہا کہ یہاں چھپے بیٹھے جنگجوؤں کو فورسز نے ہتھیار ڈالنے کی کئی بار اپیلیں کیں تاہم مکان میں چھپے بیٹھے جنگجووءں نے فورسز کی اپیلوں کو رد کرتے ہوئے شدید فائرنگ کی جس کے جواب میں فورسز نے بھی جوابی کارروائی کرتے ہوئے دونوں جنگجوؤں کو جاں بحق کردیا۔پولیس نے بتایا کہ کریری جھڑپ میں مارئے گئے جنگجوؤں کی تحویل میں بھاری تعداد میں اسلحہ و گولہ بارود ضبط کیا جن میں 5اے کے سنتالیس رائفلیں، سینکڑوں گولیوں کے علاوہ دیگر غیر قانونی مواد بھی برآمد کیا۔
دنیا
اسرائیلی انتخابات سے قبل نیتن یاہو کی لیکوڈ اور آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی کے درمیان سخت مقابلہ
یروشلم، اسرائیل میں منگل کو ہونے والے انتخابات سے قبل وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کی حمایت کرنے والے اور ان کی مخالفت کرنے والے جماعتی اتحادوں کے درمیان سخت مقابلہ ہے۔ تاہم، زمان اسرائیل کے ایک تازہ ترین سروے کے مطابق، کسی بھی اتحاد کو 120 رکنی کنیسٹ (اسرائیلی پارلیمان) میں اکثریت حاصل ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔
14 اور 15 اکتوبر کو 500 یہودی اور عرب افراد کے درمیان کیے گئے اس سروے میں یہودی قیادت والے دونوں بڑے سیاسی اتحادوں کو 51، 51 نشستیں ملنے کا اندازہ ظاہر کیا گیا ہے، جو حکومت تشکیل دینے کے لیے درکار 61 نشستوں سے کافی کم ہے۔
عرب قیادت والی جماعتوں کو مجموعی طور پر 14 نشستیں ملنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جبکہ کسی اتحاد کا حصہ نہ بننے والی ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
دونوں میں سے کسی بھی اتحاد کے لیے بعض حریف جماعتوں کے ساتھ حکومت نہ بنانے سے متعلق انتخابی وعدوں سے پیچھے ہٹے بغیر اکثریت حاصل کرنا مشکل ہوگا۔
اگر کوئی اتحاد حکومت تشکیل دینے میں ناکام رہتا ہے تو 2027 کے اوائل میں دوبارہ انتخابات کرائے جا سکتے ہیں اور اس دوران نیتن یاہو نگراں وزیر اعظم برقرار رہیں گے۔
ٹائمز آف اسرائیل کے ایک الگ سروے کے مطابق، تقریباً 60 فیصد جواب دہندگان چاہتے ہیں کہ اگر نیتن یاہو حکومت بنانے میں ناکام رہتے ہیں تو وہ سیاست سے سبکدوش ہوجائیں۔
ٹائمز آف اسرائیل کے جماعت وار اندازوں کے مطابق، اپوزیشن رہنما گادی آئزنکوٹ کی یاشار پارٹی 23 نشستوں کے ساتھ پہلے مقام پر ہے، اگرچہ گزشتہ ہفتے کے مقابلے میں اس کی متوقع نشستوں میں تین کی کمی آئی ہے۔
دوسری جانب نیتن یاہو کی لیکوڈ پارٹی 21 نشستوں کے ساتھ دوسرے مقام پر ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے نیتن یاہو کی حمایت کے چند روز بعد لیکوڈ کی متوقع نشستوں میں ایک کا اضافہ ہوا ہے۔
اسرائیل کے سابق وزیر اعظم نفتالی بینیٹ کی جماعت بی یاخاد کو 11 نشستیں ملنے کا امکان ہے، جبکہ سخت گیر موقف رکھنے والی یسرائیل بیتینو کو نو نشستیں مل سکتی ہیں۔ عرب قیادت والے جوائنٹ لسٹ اتحاد کو بھی نو نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
انتہائی قدامت پسند مذہبی جماعتوں شاس اور یونائیٹڈ توراہ جوڈازم، بائیں بازو کی ڈیموکریٹس اور انتہائی دائیں بازو کی اوتسما یہودیت، ہر ایک کو آٹھ نشستیں ملنے کا اندازہ ہے۔ مذہبی صہیونیت پارٹی کو چھ، تاریخی طور پر اسلام پسند جماعت راعم کو پانچ اور ریزروسٹس پارٹی کو چار نشستیں ملنے کی توقع ہے۔
اوفیر ونٹر کی قیادت والی دائیں بازو کی پیپلز آف اسرائیل پارٹی کے بارے میں اندازہ ہے کہ وہ انتخابی حد عبور نہیں کر پائے گی۔ اس جماعت نے وعدہ کیا ہے کہ وہ
جاری ۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
سرائیلی فوج کے سربراہ نے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران پر حملے کی ضرورت مسترد کردی
یروشلم، اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال زامیر نے فی الحال ایران پر حملے کے لیے کسی عملی ضرورت سے انکار کیا ہے۔ چینل 13 نے جمعرات کو یہ اطلاع دی۔ ان کا یہ بیان اسرائیل میں 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات سے قبل ایران کے ساتھ جنگ دوبارہ شروع ہونے کے خدشات کے درمیان سامنے آیا ہے۔
چینل 13 کے مطابق، زامیر نے حالیہ ایک نجی اجلاس میں کہا، ”ہمیں ایسے کوئی اشارے نہیں ملے ہیں جن سے ظاہر ہو کہ انتخابات سے پہلے ایران پر حملہ ضروری ہے۔ اگر ہم اس نتیجے پر پہنچے کہ ایران پر حملہ ضروری ہے تو ہم ایسا کریں گے۔”
وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو کے اہم حریف اور یاشار پارٹی کے سربراہ گادی آئزنکوٹ نے بھی جمعرات کو اسی طرح کا موقف ظاہر کیا۔ انہوں نے چینل 13 سے کہا، ”ایران کی جانب سے کوئی ایسا براہ راست اور فوری خطرہ نہیں ہے جو انتخابات سے پہلے جنگ شروع کرنے کو ضروری بنائے۔”
نیتن یاہو کو ناقدین کی جانب سے ان الزامات کا سامنا ہے کہ وہ اسرائیلی انتخابات پر اثرانداز ہونے یا انہیں ملتوی کرانے کے لیے ایران کے خلاف جنگ دوبارہ شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ تاہم، انہوں نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
جموں و کشمیر
عمر عبداللہ کی لوگوں سے باغِ گلِ داؤد کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہونے کی اپیل
سری نگر، جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعہ کو کہا کہ سری نگر کا پہلا مخصوص گلِ داؤدی باغ، ‘باغِ گلِ داؤد’، سیاحوں کو پھولوں کی ایک منفرد دل کشی فراہم کرکے کشمیر میں سیاحتی موسم کو وسعت دینے میں مددگار ثابت ہوگا۔
باغ کا دوسری مرتبہ افتتاح کرنے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے عمر عبداللہ نے کہا کہ اس اقدام کا مقصد کشمیر کے سیاحتی موسم کے آغاز اور اختتام، دونوں ادوار میں سیاحوں کے لیے خصوصی کشش کے مقامات تیار کرنا ہے۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کو تیار کرنے کے پیچھے ہمارا مقصد سیاحتی موسم کو فروغ دینا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ محکمۂ گل کاری نے باغِ گلِ داؤد کو اس لیے تیار کیا ہے تاکہ ایسے عرصے میں سیاحوں کو ایک منفرد تجربہ فراہم کیا جا سکے، جب سیاحت کے لیے خاص کشش رکھنے والے مقامات نسبتاً کم ہوتے ہیں۔
زبرون پہاڑیوں کے دامن میں واقع اور ڈل جھیل کے چمکتے پانیوں کا نظارہ پیش کرنے والا یہ خوب صورت، زینہ دار باغ سری نگر کے مشہور ٹیولپ گارڈن کے قریب واقع ہے۔
عمر عبداللہ نے لوگوں کو باغ کی سیر کی دعوت دیتے ہوئے کہاکہ ”میں نہ صرف ملک بھر کے ان لوگوں کو کشمیر آنے کی دعوت دیتا ہوں جو یہاں کی سیر کے خواہش مند ہیں، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر سری نگر اور آس پاس کے علاقوں میں رہنے والے اپنے لوگوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ آئیں اور اس باغ کی خوب صورتی سے لطف اندوز ہوں۔”
انہوں نے سیاحوں پر زور دیا کہ وہ باغ میں تصاویر کھینچیں اور یہاں کی خوب صورتی کی یادیں ہمیشہ کے لیے محفوظ کریں۔
گزشتہ سال باغ کے افتتاح کے بعد ہونے والی پیش رفت کا ذکر کرتے ہوئے وزیر اعلیٰ نے کہا کہ باغ میں نمایاں بہتری آئی ہے اور اسے مزید دل کش بنانے کی کوششیں جاری رہیں گی۔
انہوں نے کہاکہ ”آپ میں سے جو لوگ گزشتہ سال افتتاح کے موقع پر میرے ساتھ تھے اور جنہوں نے اس مرتبہ یہاں آنے کا موقع حاصل کیا ہے، انہوں نے خود دیکھا ہوگا کہ اس باغ نے کتنی ترقی کی ہے۔”
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ پائیداری کے اعتبار سے بھی اس باغ کو ایک فائدہ حاصل ہے، کیونکہ اس کے پودوں کو مقامی طور پر افزائش دے کر بڑھایا جا سکتا ہے، جب کہ ٹیولپ کے بلب بار بار درآمد کرنے پڑتے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ”اس باغ کا ایک بڑا فائدہ یہ ہے کہ ٹیولپ گارڈن کے برعکس، جس کے لیے ہمیں بار بار بیرونِ ملک سے بلب منگوانے پڑتے ہیں، باغِ گلِ داؤد کے پودوں کا مواد ہمارے اپنے پاس موجود ہے۔ ہم خود ان کی افزائش کرتے ہیں اور ان کی تعداد بڑھاتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت ہر سال باغ میں نئی خصوصیات متعارف کرانے کی کوشش کرے گی تاکہ اس کی کشش برقرار رہے اور سیاحتی مقام کے طور پر اس کا کردار مزید مستحکم ہو۔
یواین آئی۔ ظ ا
-
ہندوستان1 week agoانکیتا بھنڈاری کے والدین کو انڈیا گیٹ سے حراست میں لیے جانے پر کانگریس کی شدید مذمت
-
دنیا1 week agoامریکہ کے شکاگو کے قریب بڑے ہندو مندر پر اجتماعی فائرنگ کی سازش ناکام، سفید فام نسل پرست نوجوان گرفتار
-
جموں و کشمیر6 days agoجموں و کشمیر: اے ایس آئی کو ایک ماہ کے لیے نشہ چھڑانے کے مرکز بھیجنے کا حکم
-
دنیا6 days agoآج ہم اپنی توانائی کی تاریخ میں ایک نیا صفحہ کھول رہے ہیں : طيب ایردوان
-
دنیا1 week agoٹرمپ کا ایران پر جوہری حملہ کرنے سے انکار
-
ہندوستان1 week agoپنجاب، ہریانہ اور دہلی میں بھاری بارش، ژالہ باری اور 60 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے ہوائیں چلنے کی پیشگوئی
-
پاکستان1 week agoپاکستان کے شمال مغربی علاقے میں اسکول کی چھت گرنے سے کم از کم 29 افراد ہلاک
-
جموں و کشمیر1 week agoکشمیر کے بالائی علاقوں میں ہلکی برف باری، وادی میں بارش سے سردی میں اضافہ
-
دنیا7 days agoایران نے حوثی حملوں پر سعودی بیانات کو مسترد کیا اور ثالثی کی پیشکش کا اعادہ کیا
-
دنیا6 days agoآبنائے ہرمز پر امریکہ اور ایران دونوں کا کنٹرول کا دعویٰ، بحری جہازوں پر حملوں میں اضافہ
-
ہندوستان6 days agoگیانیش کمار سرکاری گواہ بنیں: راہل
-
جموں و کشمیر1 week agoسری نگر کے قالین باف کو ہاتھ سے بنے قالینوں کے لیے قومی ایوارڈ
