ہندوستان
خصوصی مہم میں چھ ہزار کروڑ روپے کی منشیات تلف کرنے کا ہدف : شاہ
نئی دہلی مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے جمعہ کو یہاں نارکو کوآرڈینیشن سینٹر کی دسویں اعلیٰ سطحی میٹنگ کی صدارت کی اور “منشیات کنٹرول پر وژن دستاویز (2026-2029)” اور “این سی بی کی سالانہ رپورٹ-2025” کا اجراء کیا اور جموں و گوہاٹی میں نیشنل ریکارڈ بیورو کے علاقائی دفاتر کا ای-افتتاح کیا۔
مسٹر شاہ نے ‘آن لائن ڈرگز ڈسپوزل فورٹ نائٹ کمپین’ کا آغاز بھی کیا جس میں 6,000 کروڑ روپے سے زیادہ مالیت کے 2,09,500 کلو گرام نشہ آوراشیا تلف کرنے کا ہدف رکھا گیا ہے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا، “ملک نارکوٹکس کے خلاف لڑائی کے ایسے موڑ پر کھڑا ہے جہاں آنے والے تین سال یہ طے کریں گے کہ نشہ ہم پر فتح حاصل کرے گا یا ہم نشے پر فتح حاصل کریں گے۔ ملک کے آنے والے 100 سال کے مستقبل کے لیے یہ لڑائی ہمیں مضبوطی کے ساتھ مشترکہ کوششوں سے جیتنی چاہیے۔ یہ لڑائی کوئی ایک محکمہ، ریاست، حکومت یا فرد نہیں لڑ سکتا بلکہ اس کے لیے تمام ریاستوں اور ان کے متعلقہ محکموں کو ایک ساتھ ایک ہی پلیٹ فارم پر آنا ہوگا۔”
مہم میں سب کی شرکت کی اپیل کرتے ہوئے انہوں نے کہا، “اس لڑائی میں ہمیں عوام کو ترغیب دینے والے سنتوں، ملک کا مستقبل طے کرنے والے نوجوانوں اور ہماری ماتر شکتی (خواتین) کو بھی جوڑنا ہوگا، تبھی اس لڑائی میں ہم پوری طرح کامیاب ہو سکیں گے۔ منشیات کا مسئلہ صرف امن و امان اور عوامی صحت کا معاملہ نہیں ہے بلکہ یہ ملک کی اندرونی سلامتی، سماجی استحکام، اقتصادی مفادات کے تحفظ اور ہماری نوجوان نسل اور اس کے ذریعے ملک کے مستقبل سے جڑا ہوا مسئلہ ہے۔ اس مسئلے پر مکمل فتح حاصل کرنا ہندستان کی تمام ریاستوں کا ایک اجتماعی ہدف ہونا چاہیے۔” وزیر داخلہ نے کہا کہ منشیات کی اسمگلنگ، منظم جرائم، نارکو ٹیرر فنانس اور سرحد پار کے دہشت گرد نیٹ ورکس کی فنانسنگ کے ساتھ یہ مسئلہ ایک ابھرتا ہوا نارکو دہشت گردی کا نظام بن چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کی اندرونی سلامتی، معیشت اور نوجوان نسل کے مستقبل کے تحفظ کے لیے ہمیں اس پر مکمل فتح حاصل کرنی ہی ہوگی۔
انہوں نے کہا، “ہم ڈیتھ ٹرائینگل اور ڈیتھ کریسنٹ کے درمیان ہیں اور ڈرون پر مبنی ڈراپس، سمندری راستوں سے کنٹینرائزڈ کارگو، ڈارک نیٹ، کرپٹو پیمنٹ، آرڈر ٹو ڈیلیوری ماڈل، پارسل کا استعمال وغیرہ جیسے طریقوں سے منشیات کا کاروبار کرنے والوں نے ہماری لڑائی کو اور زیادہ مشکل بنا دیا ہے۔ نارکو مجرم ٹیکنالوجی سے لیس ہو کر نیٹ ورک پر مبنی بن چکے ہیں اور ملٹی ڈومین جرائم کی شکل میں آج ہمارے سامنے کھڑے ہیں۔ اس مشکل لڑائی کے تئیں ہمارا ردعمل بھی اجتماعی اور منظم، روڈ میپ پر مبنی اور جدید اور انٹیلی جنس معلومات پر مبنی ہونا چاہیے۔ ہمارا نقطہ نظر ٹیکنالوجی پر مبنی ہونا چاہیے اور ہمیں سخت موقف کے ساتھ نیٹ ورک سینٹرک لڑائی لڑنی ہوگی تبھی ہم اس مسئلے کے خلاف فتح حاصل کر سکتے ہیں۔”
مسٹر شاہ نے کہا کہ 2004 سے 2014 تک 40000 کروڑ روپے کی مالیت کی 26 لاکھ کلو گرام سنتھیٹک ڈرگز ضبط کی گئی تھیں جبکہ 2014 سے 2026 تک 1 لاکھ 84 ہزار کروڑ روپے مالیت کی ایک کروڑ 18 لاکھ کلو گرام منشیات ضبط کی گئی ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ حکومت کی مہم کامیابی کی سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔
مرکزی وزیر داخلہ نے کہا، “اگر ہم اس لڑائی کو مل کر اور متحد ہو کر لڑتے ہیں تو یقیناً فتح ہماری ہوگی۔ تین سال کے اندر ہم ہندستان میں نشہ آوراشیا کے نیٹ ورک کو ختم کرنے کی سمت میں بہت آگے نکل جائیں گے۔ ان تین سال میں ہم سب ایک ہدف طے کر کے اجتماعی کوششوں سے محنت کریں، وقت کی حد اور مشترکہ حکمت عملی کے ساتھ ہدف مقرر کریں تو ہماری جیت یقینی ہے۔”
یو این آئی ایف اے
ہندوستان
طلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے رہنما راہل گاندھی نے طلبہ کے احتجاج کے دوران پولیس کی کارروائی کو لے کر حکومت پر حملہ کرتے ہوئے ایک انگریزی روزنامے میں مضمون لکھا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ نوجوانوں کی آواز دبانے کے لیے ان کے خلاف کارروائی کی گئی ہے، جس پر حکومت کو جواب دینا ضروری ہے۔
مسٹر گاندھی کے اس مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے اور پارٹی کی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے کہا ہے کہ طلبہ کے خلاف کارروائی کے لیے وزیر داخلہ امت شاہ ذمہ دار ہیں۔
انگریزی روزنامے ’دی ہندو‘ میں شائع اپنے مضمون میں مسٹر گاندھی نے طلبہ پر طاقت کے استعمال کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے مستقبل کے بارے میں سوال پوچھنے والے طلبہ پر پیلٹ گن، کیل لگی لاٹھیاں اور آنسو گیس استعمال کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی حقیقت سے پوری طرح کٹ چکے ہیں اور طلبہ کی یہ تحریک ان کے لیے ایک انتباہ ہے کہ ملک کے نوجوان بیدار ہو چکے ہیں۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ نوجوانوں کے درمیان وزیر اعظم کی شبیہ تباہ ہو چکی ہے اور اسے دوبارہ بحال نہیں کیا جا سکتا۔
ملک کے نوجوان مسٹر مودی، مسٹر شاہ یا کسی افسر کو ان کے اقدامات کے نتائج سے بچنے نہیں دیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن نوجوانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور ان مبینہ جرائم کو سزا کے بغیر نہیں جانے دے گی۔
مسٹر کھڑگے نے مسٹر گاندھی کے مضمون کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مضمون کے ذریعے نوجوانوں کی آواز کو مضبوطی سے اٹھایا ہے۔ کانگریس صدر نے کہا کہ نوجوانوں کے ساتھ ہوئی زیادتی کا جواب حکومت کو دینا ہوگا۔
محترمہ واڈرا نے بھی مسٹر گاندھی کے الزامات کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ پارلیمنٹ سے محض 500 میٹر کی دوری پر طلبہ کے خلاف وحشیانہ کارروائی کی گئی اور اس کی ذمہ داری مسٹر شاہ کی ہے۔
انہوں نے راہل گاندھی کے حوالے سے کہا کہ اس معاملے میں صرف 2 امکانات ہیں—یا تو وزیر داخلہ نے طلبہ کے خلاف کارروائی کی اجازت دی، ایسی صورت میں وہ ذمہ دار ہیں، یا پھر انہیں اس کی اطلاع ہی نہیں تھی، تو یہ ان کی مکمل نااہلی کو ظاہر کرتا ہے۔ دونوں صورتوں میں وزیر داخلہ کی حیثیت سے اس واقعے کی ذمہ داری انہی کی ہے اور انہیں استعفیٰ دینا چاہیے۔
راہل گاندھی نے ایک اور تبصرے میں کہا کہ نوجوان خواتین کے ساتھ پولیس اہلکاروں نے مارپیٹ کی، کئی طلبہ زخمی ہوئے اور نابالغ طلبہ کی ہڈیاں تک ٹوٹنے کی بات سامنے آئی۔ انہوں نے سوال کیا کہ حکومت طلبہ کے سوالوں کا جواب اس طرح کیوں دے رہی ہے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ واقعے کے تقریباً 20 دن بعد بھی وزیر داخلہ امت شاہ پارلیمنٹ میں اس معاملے پر جواب دینے نہیں آئے ہیں اور بحث کے لیے اپوزیشن کی جانب سے پیش کی گئی ہر تجویز کو مسترد کر دیا گیا ہے۔
مسٹر گاندھی نے کہا کہ وزیر داخلہ کی خاموشی محض کوتاہی نہیں ہے، بلکہ یہ تشدد کو منظوری دینے کے مترادف ہے۔ انہوں نے پورے معاملے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اپوزیشن طلبہ کو انصاف دلانے اور ذمہ دار لوگوں کی جواب دہی طے ہونے تک اپنی جدوجہد جاری رکھے گی۔
یو این آئی ایم جے
ہندوستان
راہل گاندھی کا مودی اور امت شاہ پر نوجوانوں کی آواز دبانے کا الزام
نئی دہلی، کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے وزیراعظم نریندر مودی اور مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کو نشانہ بناتے ہوئے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت جین زی کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
مسٹر راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری ایک پوسٹ میں کہا، “مودی اور امت شاہ، آپ جین زی کو خاموش نہیں کرا سکتے۔ پہلے آپ نے ان کی ہڈیاں توڑیں، اب ان کے خلاف ایف آئی آر درج کر رہے ہیں اور ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس بند کرا رہے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا، “آپ ہندوستان کا ماضی ہیں، اس لیے ہندوستان کے مستقبل کے ساتھ اپنے رویے میں احتیاط برتیں۔”
راہل گاندھی کے اس بیان کو ملک میں حالیہ واقعات اور نوجوانوں کے خلاف کارروائیوں کے تناظر میں حکومت پر ایک سخت سیاسی حملہ تصور کیا جا رہا ہے۔
یو این آئی۔ م س
ہندوستان
حکومت بتائے، گولی چلانے کا حکم کس نے دیا : کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے کہا ہے کہ حکومت بتائے کہ دہلی میں احتجاج کر رہے طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اوران پر گولی چلانے کا حکم کس نے دیا پارٹی نے کہا کہ اس پورے معاملے میں ملک کے وزیرِ داخلہ امت شاہ کو جواب دینا چاہیے۔
ہمارا یہ بھی سوال ہے کہ وزیرِ داخلہ پارلیمنٹ سے کیوں بھاگ رہے ہیں اور اس مسئلے پر جواب دینے سے کیوں بچ رہے ہیں۔
کانگریس جنرل سکریٹری کے سی وینو گوپال نے جمعرات کو پارلیمنٹ ہاؤس کے احاطے میں صحافیوں سے کہا کہ دہلی میں طلبہ کے خلاف پولیس کارروائی اور گولی چلانے کا حکم کس نے دیا، اس سوال کا جواب وزیرِ داخلہ کو دینا چاہیے اور انہیں پارلیمنٹ میں آنا چاہیے، پارلیمنٹ آنے سے بھاگنا نہیں چاہیے۔
انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن کے رہنما کو پارلیمنٹ میں بولنے تک کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ حکومت کو طالب علموں پر ہوئی کارروائی کے لیے جوابدہ ہونا چاہیے اور پورے معاملے کی سچائی ملک کے سامنے رکھنی چاہیے۔
یو این آئی۔ ایف اے
-
ہندوستان7 hours agoطلبہ پر کارروائی کے معاملے پر حکومت کو گھیرتے ہوئے راہل کا مضمون، کھڑگے اور پرینکا نے حمایت کی
-
دنیا7 hours agoسعودی عرب میں فیکٹری میں آگ کے سبب 16 بنگلہ دیشی مزدور ہلاک
-
دنیا2 hours agoایران کا فی الحال امریکہ کے ساتھ کوئی مذاکرات نہیں: ایرانی وزیر خارجہ
-
دنیا9 hours agoٹرمپ جوہری معاہدے کے بغیر ایران کے ساتھ تنازع ختم کرنے پر تیار: رپورٹ
-
دنیا1 hour agoتجربہ کار آئی آر جی سی کمانڈر محسن رضائی ایران کے قومی سلامتی کے سربراہ مقرر
-
دنیا1 hour agoآبنائے ہرمز کے مستقبل پر ایرانی مطالبات سے غیر یقینی بڑھنے کے باعث تیل کی قیمتوں میں اضافہ
-
جموں و کشمیر10 minutes ago7.12 لاکھ روپے کے کپواڑہ پل گھپلے کے معاملے میں اے سی بی نے 10 افراد کے خلاف فردِ جرم عائد کی
-
جموں و کشمیر8 minutes agoکابینہ میں توسیع ’کسی وقت‘ ہوگی، عمر عبداللہ
