دنیا
اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو تنہا اور معاشی طور پر دبانے کے لیے ’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘ شروع کر دیا
واشنگٹن، امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایران کو معاشی طور پر تنہا کرنے کی ایک غیر معمولی مہم شروع کرنے کا اعلان کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ تہران کے ساتھ کاروبار کرنے والے ممالک اور کمپنیوں کو ٹرمپ انتظامیہ کے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑے گا۔
ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بیسنٹ نے کہا کہ ’’آپریشن اکنامک آؤٹ کاسٹ‘‘ کے نام سے شروع کی گئی یہ مہم دنیا بھر میں ایران کے مالیاتی روابط منقطع کرنے اور اس کی حکومت اور اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کو مالی وسائل فراہم کرنے والے ذرائع ختم کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ نئی مہم کا ہدف تہران کے لیے آمدنی پیدا کرنے والے نیٹ ورکس ہیں اور ان ممالک و کمپنیوں کو خبردار کیا جا رہا ہے کہ ایرانی حکومت کے ساتھ کاروباری روابط جاری رکھنے کی صورت میں انہیں امریکی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
بیسنٹ نے کہا، ’’ہمارا مقصد اس آمرانہ حکومت کو برقرار رکھنے والی ہر معاشی لائف لائن منقطع کرنا ہے، جب تک تہران مکمل طور پر تنہا نہ ہو جائے۔‘‘
امریکی محکمہ خزانہ کے مطابق نئی مہم کے تحت ڈیجیٹل اثاثوں، ٹیکنالوجی، سونے، ہوا بازی اور بحری جہاز رانی کے شعبوں میں پابندیوں کا دائرہ وسیع کیا جا رہا ہے۔ محکمہ خزانہ نے 60 سے زائد اداروں، افراد اور بحری جہازوں پر بھی پابندیاں عائد کی ہیں، جن پر ایران کو جوہری اور میزائل ٹیکنالوجی حاصل کرنے، سائبر کارروائیاں کرنے اور تیل سے آمدنی حاصل کرنے میں مدد دینے کا الزام ہے۔
بیسنٹ نے کہا کہ امریکہ ’’زیرو لیکیج‘‘ پالیسی اختیار کرے گا، جس کے تحت ایرانی اداروں یا ان کے بین الاقوامی شراکت داروں کے لیے پابندیوں سے بچنے کی گنجائش انتہائی محدود ہوگی۔انہوں نے کہا، ’’اس حکومت کو امریکہ اور دنیا کے خلاف دہشت گردی مسلط کرنے کی اپنی صلاحیت دوبارہ بحال کرنے کے لیے سانس لینے کی معمولی سی مہلت بھی نہیں دی جائے گی۔‘‘
امریکی وزیر خزانہ نے خبردار کیا کہ ایرانی لین دین میں سہولت فراہم کرنے والے مالیاتی ادارے اور دیگر کاروباری ادارے امریکی مالیاتی نظام تک اپنی رسائی کھو سکتے ہیں۔انہوں نے کہا، ’’ایران کی جانب سے منی لانڈرنگ میں سہولت فراہم کرنے والے کسی بھی ادارے کو امریکی ڈالر کے نظام سے نکال دیا جائے گا۔‘‘
صحافیوں نے بیسنٹ سے سوال کیا کہ کیا چینی بینکوں کو بھی نشانہ بنایا جا سکتا ہے، بالخصوص ایسے وقت میں جب واشنگٹن اور بیجنگ کے درمیان تجارتی تعلقات ایک نازک مرحلے سے گزر رہے ہیں۔ انہوں نے مخصوص اداروں کے نام بتانے سے گریز کیا، تاہم کہا کہ کوئی بھی ملک یا مالیاتی ادارہ اس مہم سے مستثنیٰ نہیں ہوگا۔انہوں نے کہا، ’’کوئی بھی امریکی پابندیوں کی پہنچ سے بالاتر نہیں ہے۔‘‘
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی تیل کو ایسی آمدنی میں تبدیل کرنے میں ملوث اداروں کے خلاف بھی کارروائی کی جا سکتی ہے جو ایرانی حکومت کی معاونت کرتی ہے۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
امریکی وزیر دفاع: “ضرورت پڑنے پر ایران پر دوبارہ حملے کیے جا سکتے ہیں”۔
واشنگٹن، امریکی وزیرِ دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو امریکی ا فواج ایران کے خلاف دوبارہ حملے شروع کر سکتی ہیں۔
دی ہِل کے مطابق، ہیگسیتھ نے وسکانسن صوبے میں ایک فوجی اڈے کے دورے کے بعد صحافیوں سے ایران کے معاملے پر گفتگو کی۔
ہیگسیتھ نے کہا، “اگر ہمیں کینیٹک حملے کرنے پڑیں تو ہم کریں گے۔ اگر ایران اپنے پاس موجود فائدے زیادہ استعمال کرے یا امریکی فوج سے ٹکر لیتا ہے تو ہم وہ کریں گے جو کرنا ضروری ہے۔”
ہیگسیتھ نے کہا کہ فی الحال ایران کے لیے سب سے زیادہ نقصان دہ چیز اقتصادی دباؤ ہے اور اس نے دعویٰ کیا کہ امریکہ آبنائے ہرمز کو کنٹرول کرتا ہے۔
پیٹ ہیگسیتھ نے کہا، “ایران ہرمز سے کچھ بھی نہیں گزار رہا۔ تا ہم، ہم گزار سکتے ہیں۔ عالمی معیشت اس بات سے واقف ہے اور اسی لیے انہوں نے آبنا کو کنٹرول کرنے پر بڑا داؤ لگایا، مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔”
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
نئی اقتصادی پابندیوں سے قبل ایران ’’مکمل طور پر تباہی کی طرف بڑھ رہا ہے‘‘:ٹرمپ کا دعویٰ
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو دعویٰ کیا کہ ’’ایران مکمل طور پر تباہ ہو رہا ہے!‘‘۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی کرنسی امریکی ڈالر کے مقابلے میں نئی ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے اور امریکہ ایران کی پہلے سے کمزور معیشت پر دباؤ بڑھانے کے لیے نئی پابندیوں کا اعلان کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل پر مختصر پوسٹ میں یہ تبصرہ کیا۔ ادھر امریکی محکمہ خزانہ ایران کے ساتھ کاروباری تعلقات رکھنے والے اداروں اور ممالک پر ثانوی پابندیوں کا دائرہ وسیع کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔
ان اقدامات کا مقصد ان ممالک کے لیے آخری انتباہ کے طور پر کام کرنا ہے جو تہران کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں، تاکہ وہ ایران کے ساتھ کاروباری روابط ختم کردیں۔
یہ مہم واشنگٹن کی اس کوشش کا حصہ ہے جس کے ذریعے تقریباً چھ ماہ سے جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایران پر دباؤ بڑھایا جا رہا ہے۔ جنگ کے باعث آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت متاثر ہوئی ہے اور خلیجی خطے سے توانائی کی برآمدات بھی محدود ہوئی ہیں۔
امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ سے توقع تھی کہ وہ پیر کو ٹرمپ کی جانب سے اعلان کردہ اقتصادی ’’ڈی ڈے‘‘ کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔ ان اقدامات کے ذریعے ممکنہ طور پر ممالک کو ایران کے ساتھ تعلقات برقرار رکھنے یا اہم کمپنیوں اور اداروں کے لیے ڈالر پر مبنی عالمی مالیاتی نظام تک رسائی برقرار رکھنے میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور کیا جا سکتا ہے۔
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے مبینہ طور پر پاکستان کے فوجی سربراہ سے بھی بات کی تھی تاکہ ایران کے ساتھ مذاکرات بحال کرنے کی کوشش کی جا سکے۔ ادھر ایران آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت پر پابندیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس کے باعث عالمی سطح پر بحری نقل و حمل کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے۔
دوسری جانب ایران نے نئی امریکی پابندیوں کے ممکنہ اثرات کو کم اہمیت دینے کی کوشش کی ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا کہ امریکہ کی جانب سے تہران پر دباؤ ڈالنے کی سابقہ کوششیں ناکام رہی ہیں اور ’’ایرانی عوام یہ ثابت کریں گے کہ وہ اپنے حقوق کے تحفظ کے لیے پرعزم اور ثابت قدم ہیں۔‘‘
بقائی نے کہا کہ نئی پابندیاں ٹرمپ انتظامیہ کی ایک غلط حکمت عملی کی عکاسی کرتی ہیں۔ انہوں نے امریکی انتظامیہ پر الزام عائد کیا کہ وہ یہ سمجھتی ہے کہ ’’فوجی جارحیت ایرانی عوام کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر سکتی ہے۔‘‘
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ایرانی صدر مسعود پزشکیان کو ملک کو درپیش ’’بہت سے مسائل‘‘ کا اعتراف، امریکہ کے ساتھ معاہدہ جنگ سے نکلنے کا بہترین راستہ
تہران، ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے اتوار کو اعتراف کیا کہ ایران کے عوام اس وقت ’’بہت سے مسائل‘‘ کا سامنا کر رہے ہیں۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ ایران کی معیشت کو مزید تنہا کرنے کے مقصد سے نئی پابندیاں عائد کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔ پزشکیان نے جون میں واشنگٹن کے ساتھ طے پانے والے مفاہمت کی یادداشت (ایم او یو) کا دفاع کرتے ہوئے اسے موجودہ سفارتی تعطل سے نکلنے کا بہترین راستہ قرار دیا۔
امریکہ اور ایران کے درمیان جون میں طے پانے والے مفاہمتی معاہدے کے تحت جنگ ختم کرنے اور ایران کے جوہری پروگرام پر معاہدہ کرنے کے لیے مقررہ 60 روزہ مدت گزشتہ ہفتے کسی پیش رفت کے بغیر ختم ہوگئی، جس کے بعد دونوں ممالک ایک ایسی صورت حال میں ہیں جسے پزشکیان نے ’’نہ جنگ نہ امن‘‘ کی کیفیت قرار دیا۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک تقریر میں پزشکیان نے کہا، ’’میں سمجھتا ہوں کہ اس وقت ہمارے معاشرے میں بہت سے مسائل ہیں۔ ہم حتی الامکان ان مسائل کو روکنے کی کوشش کر رہے ہیں۔‘‘
انہوں نے کہا کہ ایران عملی طور پر ’’مکمل پیمانے کی اقتصادی، فوجی اور سلامتی کی جنگ‘‘ میں مصروف ہے اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر الزام عائد کیا کہ وہ اسلامی جمہوریہ ایران پر ’’سب سے زیادہ تباہ کن اور خوفناک پابندیاں‘‘ عائد کرنا چاہتے ہیں۔تاہم ایرانی صدر نے جون میں ٹرمپ کے ساتھ طے پانے والی مفاہمت کی یادداشت کا دفاع کرتے ہوئے اسے موجودہ سفارتی تعطل توڑنے کے لیے ایران کا بہترین راستہ قرار دیا۔
انہوں نے کہا، ’’اس معاہدے میں ایک بھی ایسی شق نہیں جو ہتھیار ڈالنے کے مترادف ہو۔ سپریم لیڈر پالیسیاں طے کرتے ہیں اور ہم اسی راستے پر چلیں گے۔‘‘
پزشکیان نے یہ بھی کہا کہ سفارتی غیر یقینی صورتحال ملک کی اقتصادی مشکلات کو مزید بڑھا رہی ہے، کیونکہ اس کے باعث ایران میں سرمایہ کاری لانے میں مشکلات پیش آ رہی ہیں۔
بار بار عائد کی جانے والی پابندیوں اور امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث ایران کی معیشت شدید متاثر ہوئی ہے، جبکہ مہنگائی، بے روزگاری اور شرح تبادلہ میں شدید اتار چڑھاؤ نے عوام کی قوت خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔
پزشکیان نے کہا، ’’ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ مہنگائی، معاشی مشکلات اور بے روزگاری پر قابو پایا جائے اور عوام کے مستقبل کو محفوظ بنایا جائے تاکہ وہ عزت اور وقار کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔‘‘
ایران میں حالیہ برسوں کے دوران معاشی مشکلات بارہا بدامنی کا سبب بنی ہیں۔ دسمبر کے اواخر میں اشیائے ضروریہ کی بڑھتی قیمتوں کے خلاف شروع ہونے والی احتجاجی تحریک بعد میں حکومت مخالف بڑے مظاہروں میں تبدیل ہوگئی۔
ایرانی حکام نے اس بدامنی کے دوران 3,000 سے زائد ہلاکتوں کی اطلاع دی اور امریکہ و اسرائیل پر تشدد کو ہوا دینے کا الزام عائد کیا۔ تاہم بیرون ملک قائم غیر سرکاری تنظیموں نے الزام لگایا کہ ایرانی سکیورٹی فورسز نے عوام کے خلاف سخت اور بلاامتیاز کریک ڈاؤن کیا، جس میں ہزاروں افراد ہلاک ہوئے، جبکہ بعض اندازوں میں ہلاکتوں کی تعداد دسیوں ہزار تک بتائی گئی ہے۔
ادھر نئی امریکی پابندیوں کے اعلان سے قبل پیر کو ایرانی کرنسی ریال بھی ڈالر کے مقابلے میں ریکارڈ کم ترین سطح پر پہنچ گئی۔ غیر رسمی مارکیٹ میں ایک امریکی ڈالر کی قیمت تقریباً 20 لاکھ 20 ہزار ریال تک پہنچ گئی، جبکہ مرکزی بینک کی سرکاری شرح تقریباً 15 لاکھ ریال فی ڈالر تھی۔
غیر رسمی شرح تبادلہ ہی ایران میں زیادہ تر عوام استعمال کرتے ہیں۔ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملے شروع ہونے سے پہلے بھی ایرانی ریال شدید دباؤ میں تھا، جبکہ ملک میں دوہرے ہندسے کی مہنگائی اور منفی اقتصادی نمو جاری تھی۔ جنگ کے بڑھتے ہوئے اثرات کے باعث پہلے ہی کمزور ایرانی معیشت پر دباؤ بڑھنے سے ریال مسلسل نئی ریکارڈ کم ترین سطحوں پر گر رہا ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoپوپ لیو کا مطالبہ: مغربی کنارے میں تشدّد بند کیا جائے
-
ہندوستان1 week agoیو جی سی – نیٹ کے تین مضامین کا امتحان دوبارہ کرانے پر جواب دیں مودی: راہل
-
پاکستان1 week agoپاکستان کی سپریم کورٹ نے سابق وزیراعظم عمران خان کو شفا انٹرنیشنل اسپتال منتقل کرنے کا حکم دیا
-
ہندوستان1 week agoطلبہ کے مطالبات پر راہل گاندھی نے ہیمنت سورین سے مداخلت کی اپیل کی، مظاہرین سے ملنے کی خواہش ظاہر کی
-
ہندوستان1 week agoمحض 24 گھنٹوں میں ہی سامنے آ گیا کہ کس کے دماغ میں ’نکسل‘ ہے: بی جے پی
-
دنیا1 week agoامریکہ نے بات چیت میں رکاوٹ ڈالنے پر عمان کو دھمکی دی
-
دنیا1 week agoاردوغان کی ٹرمپ سے ایران کے ساتھ بات چیت جاری رکھنے کی اپیل
-
ہندوستان1 week agoملک میں ‘پیپر لیک نکسل’ کو ختم کرنے کی ضرورت: کانگریس
-
دنیا1 week agoکشنر نیتن یاہو سے ملاقات کرکے ٹرمپ کے غزہ منصوبے کو آگے بڑھائیں گے
-
جموں و کشمیر1 week agoرجیجو کے تبصرے کے بعد محبوبہ مفتی نے خود کو کہا ’دماغی نکسل‘
-
ہندوستان1 week agoہریانہ، پنجاب میں 17-18 اگست کو شدید بارش کی پیش گوئی، ہماچل اور جموں و کشمیر میں بہت شدید بارش کا خدشہ
-
جموں و کشمیر1 week agoشری بوڈھا امرناتھ یاترا کا آغاز، منوج سنہا نے پہلے جتھے کو کیا روانہ
