ہندوستان
بنگلہ دیش کی کٹھ پتلی حکومت کا تختہ پلٹنے کے لیے قوم کو متحد ہوکر اٹھ کھڑا ہونا چاہیے: شیخ حسینہ
نئی دہلی، بنگلہ دیش کی سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ نے اپنے آبائی ملک میں ہونے والے انتخابات سے چند ہفتے قبل، جہاں ان کی پارٹی کو انتخاب لڑنے سے روک دیا گیا ہے، بنگلہ دیش کے اپنے ہم وطنوں کو اگست 2024 میں اپنی معزولی کے بعد قائم ہونے والی کٹھ پتلی حکومت کا تختہ پلٹنے” کے لیے متحد ہو کر اٹھ کھڑے ہونے کی تلقین کی۔
سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ جمعہ کے روز یہاں ایک بڑی پریس کانفرنس سے آڈیو لنک کے ذریعے خطاب کر رہی تھیں۔ انہوں نے ڈھاکہ میں عبوری حکام پر ملک کو انارکی (خلفشار) میں دھکیلنے اور جمہوریت کو شدید خطرے میں ڈالنے کا الزام لگایا۔
یہ ڈھاکہ میں 5 اگست 2024 کو بنگلہ دیش سے فوجی طیارے کے ذریعہ ہندوستان وارد ہونے کے بعد شیخ حسینہ کی پہلی میڈیا کانفرنس تھی۔ وہ گزشتہ 16 مہینوں کے دوران ملک میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں۔ اگرچہ شیخ حسینہ ماضی میں چند ای میل انٹرویوز دے چکی ہیں، لیکن انہوں نے اپنی برطرفی کے بعد کبھی پریس کانفرنس نہیں کی۔
شیخ حسینہ نے کہا کہ قوم کو بنگلہ دیش میں محمد یونس کی کٹھ پتلی حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے متحدہ ہو کر اٹھ کھڑا ہونا ہوگا۔
شیخ حسینہ نے کہا ”پوری قوم کو محمد یونس کی قیادت میں اس کٹھ پتلی حکومت کو اکھاڑ پھینکنے کے لیے متحد ہو کر اٹھ کھڑا ہونا چاہیے۔ وہ تمام قوتیں جو 1971 کے جذبے کی حامی ہیں، وہ یونس حکومت کے غداری پر مبنی عزائم کا مقابلہ کریں۔”
انہوں نے ایک غیر جانبدار حکومت کی بحالی، روزانہ کے تشدد اور لاقانونیت کے خاتمے، اقلیتوں اور خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور ”پریس اور اپوزیشن کے خلاف سیاسی بنیادوں پر مبنی کارروائیوں” کو روکنے کا بھی مطالبہ کیا۔ شیخ حسینہ کو اگست 2024 میں طلبہ کے احتجاج کے دوران اقتدار سے بے دخل کر دیا گیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ بنگلہ دیش کو ایک ایسی ”غداری پرمبنی سازش” کا سامنا ہے جس کا مقصد ”ملک کے علاقے کا سودا کرنا” ہے، اور متنبہ کیا کہ ملک کی سالمیت اور اتحاد خطرے میں ہے۔
موجودہ صورتحال کو خوف، جبر اور معاشی بدحالی سے تعبیر کرتے ہوئے انہوں نے کہا، ”بنگلہ دیش آج ایک ایسا ملک بن چکا ہے جہاں خون بہہ رہا ہے۔” عوامی لیگ کی سربراہ نے کہا کہ 5 اگست 2024 کو ان کی برطرفی کے بعد سے ملک لاقانونیت کا شکار ہو گیا ہے۔ شیخ حسینہ نے الزام لگایا کہ ” شدت پسندوں اور محمد یونس نے مجھے زبردستی نکال باہر کیا۔ اس دن سے ملک انارکی میں ڈوب گیا ہے،” انہوں نے دعویٰ کیا کہ جمہوری اداروں کو منظم طریقے سے کمزور کیا گیا ہے۔
شیخ حسینہ نے موجودہ بنگلہ دیش کو ”وسیع قید خانہ” قرار دیا، جہاں عام لوگ روزانہ کے تشدد، عدم تحفظ اور معاشی تنگی کے درمیان بقا کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ جمہوریت خطرے میں ہے اور موجودہ نظام کے تحت خواتین اور اقلیتوں پر حملوں میں تیزی سے اضافے کا الزام لگایا۔ عوامی لیگ کے مطالبات کا خاکہ پیش کرتے ہوئے شیخ حسینہ نے کہا کہ ان کی جماعت غیر جانبدار حکومت کی بحالی، تشدد اور لاقانونیت کے فوری خاتمے، اور شہری و انتظامی خدمات کی مناسب فعالیت کا مطالبہ کر رہی ہے۔ انہوں نے حکام پر زور دیا کہ وہ اقلیتوں اور خواتین کی حفاظت کو یقینی بنائیں، پریس اور اپوزیشن جماعتوں کے خلاف سیاسی انتقامی کارروائیاں بند کریں اور عدلیہ کی آزادی کو بحال کریں۔
سابق وزیراعظم نے مزید مطالبہ کیا کہ اقوامِ متحدہ کو گزشتہ ایک سال کے دوران ہونے والے تشدد اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی تحقیقات کے لیے مدعو کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ احتساب اور عوامی اعتماد کی بحالی کے لیے بین الاقوامی جانچ ناگزیر ہے۔
شیخ حسینہ نے پریس کانفرنس میں کسی سوال کا جواب نہیں دیا جہاں ہندوستانی اور غیر ملکی میڈیا موجود تھا۔ تاہم، بنگلہ دیش کے سابق وزیر تعلیم محب الحسن چودھری نوفل نے ایک سوال کے جواب میں واضح کیا کہ عوامی لیگ موجودہ عبوری انتظامیہ کو کس طرح ہٹانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ انہوں نے کہا “ہم خانہ جنگی جیسی صورت حال پیدا کرنے کے لیے فوج سے نہیں لڑنا چاہتے ہيں، جس سے یہ ظاہر ہے کہ “لڑائی” جمہوری طریقے اور احتجاج کے ذریعے ہوگی۔”
ڈھاکہ میں عبوری حکام نے شیخ حسینہ کے الزامات پر تاحال کوئی ردعمل ظاہر نہیں کیا ہے۔
یو این آئی۔ م ش۔
ہندوستان
مودی، شاہ، گیانیش سے لڑ رہا ہوں، پیچھے نہیں ہٹوں گا: راہل
نئی دہلی، کانگریس کے سابق صدر اور لوک سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف راہل گاندھی نے ہفتے کے روز کہا کہ وہ وزیرِ اعظم نریندر مودی، وزیرِ داخلہ امت شاہ اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کے خلاف ایک دہائی سے زیادہ عرصے سے لڑ رہے ہیں اور وہ انہیں اچھی طرح سمجھ گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی، مسٹر شاہ، موہن بھاگوت، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار اور قومی سلامتی کے مشیر اجیت ڈوبھال کے چاروں طرف گھیرا مسلسل تنگ ہو رہا ہے اور وہ ان کے خلاف جاری اس لڑائی میں پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ مسٹر گاندھی نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر ایک پوسٹ میں کہا کہ ان لوگوں کی سب سے بڑی پہچان بزدلی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی جتنی چاہیں اتنی پولیس بلالیں اور تمام رہنماؤں اور نوجوانوں کو گرفتار کر لیں، لیکن وہ ہرگز پیچھے نہیں ہٹنے والے ہیں۔
کانگریس رہنما نے کہا، “ہم آپ کو چاروں طرف سے گھیر رہے ہیں اور ہم پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔ میری بات یاد رکھیے، ہمیں جو جانکاری چاہیے، وہ ہمارے پاس پہلے سے موجود ہے۔”
کانگریس رہنما نے ملک کے نوجوانوں سے اپنا احتجاج جاری رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ انہیں نوجوانوں پر فخر ہے اور وہ ان کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ بات یقینی بنائیں گے کہ موجودہ حکومت اور آئین پر حملہ کرنے والے لوگ شکست سے دوچار ہوں۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
سی جے پی کے احتجاج پر پولیس کی سخت کارروائی، کئی رہنما حراست میں
نئی دہلی، کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے چیف الیکشن کمشنر کے استعفے سمیت دیگر مطالبات کے حق میں ہفتے کے روز راجدھانی دہلی کے جنتر منتر پر پہنچنے کے خدشے کے پیشِ نظر دہلی پولیس اور دیگر سکیورٹی فورسز نے سخت کارروائی کرتے ہوئے قومی سطح کے کئی رہنماؤں-بشمول سی پی آئی (ایم) کے ایم اے بے بی، ترنمول کانگریس کی ممتا بنرجی، عام آدمی پارٹی کے اروند کیجریوال اور سینکڑوں مظاہرین کو حراست میں لے لیا۔
جنتر منتر پر مجوزہ احتجاج کو دیکھتے ہوئے پولیس نے اس سے قبل کاکروچ جنتا پارٹی (سی جے پی) کے اہم رہنماؤں ابھیجیت دیپکے، سوربھ داس اور آشوتوش رانکا کو دہلی پہنچنے پر اندرا گاندھی بین الاقوامی ہوائی اڈے پر ہی حراست میں لے لیا تھا۔ دہلی پولیس نے سرحدوں سمیت کئی علاقوں میں پہرا سخت کرتے ہوئے کئی جگہوں پر بڑی پیمانے پر بیریکیڈنگ لگائی اور صبح سے ہی ٹریفک پر سخت پابندیاں نافذ کر دیں۔ گاڑیوں کی آمدورفت کو کنٹرول کرنے اور حالات پر نظر رکھنے کے لیے اہم چوراہوں پر پولیس فورس تعینات کی گئی۔
دہلی ٹریفک پولیس نے کناٹ پلیس، منڈی ہاؤس، جنتر منتر، پٹیل چوک اور وسطی دہلی کے دیگر حصوں میں ٹریفک جام اور روٹ ڈائیورژن سے متعلق ایڈوائزری جاری کی۔ پولیس کی سختی کے باوجود بڑی تعداد میں مظاہرین مختلف مقامات پر پہنچے، جن میں منٹو برج، دہلی ریلوے اسٹیشن، اشوک روڈ-جنتر منتر روڈ گول چکر، ٹالسٹائی مارگ-جن پتھ کراسنگ، جے سنگھ روڈ،سنسد مارگ کراسنگ، ریل بھون گول چکر، گول ڈاک خانہ اور ونڈسر پلیس شامل ہیں۔
پولیس نے سی جے پی کے بانی اراکین مسٹر دیپکے، داس اور رانکا کو قومی راجدھانی میں اس وقت حراست میں لے لیا جب وہ ممبئی سے یہاں آنے والی پرواز سے اترنے والے تھے۔ دہلی پولیس نے انہیں ہوائی جہاز کے اندر سے ہی اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس واقعے کے بعد پارٹی نے سوشل میڈیا پر بتایا کہ ان رہنماؤں کے حراست میں لیے جانے کے بعد تنظیم کے انچارج اجنکیہ شندے ہفتے کے روز جنتر منتر پر ہونے والے احتجاج کی قیادت کریں گے۔ مسٹر دیپکے نے ایک پہلے سے ریکارڈ شدہ پیغام کے ذریعے یہ جانکاری دیتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ قیادت کی حراست کے باوجود یہ احتجاج جاری رہے گا اور مسٹر کمار کے استعفیٰ نیز ووٹر لسٹوں کے خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کو واپس لینے کی مانگ پر تحریک پورے عزم کے ساتھ آگے بڑھائی جائے گی۔ اس دوران یہ جانکاری بھی سامنے آئی کہ مسٹر دیپکے کی دادی کا انتقال ہو گیا ہے۔
پارٹی نے ایک بیان جاری کر کے کہا کہ رہنماؤں کو اس طرح حراست میں لینا کارکنوں کے حوصلوں کو پست نہیں کر سکتا اور یہ جمہوری حقوق کے تحفظ کے لیے ایک فیصلہ کن جدوجہد ہے۔ بیان میں کہا گیا، “جب ریاستی اقتدار جمہوری اختلاف کو دبانے کے لیے بڑے پیمانے پر گرفتاریوں کا سہارا لیتی ہے، تو جمہوریت کو بچانے کے لیے عوام کو خود کمان سنبھالنی ہوگی۔”
اس کے علاوہ انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ذرائع کے مطابق، ہفتے کی صبح ایک مشترکہ آپریشن کے تحت دہلی اور گروگرام پولیس نے گروگرام کے ایک رہائشی فلیٹ سے معروف یوٹیوبر دھرو راٹھی کو حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔ مسٹر راٹھی ایسی ویڈیوز کے لیے جانے جاتے ہیں جن میں مرکزی حکومت پر سخت تنقید کی جاتی ہے۔
اس احتجاجی مظاہرے کو روکنے کے لیے وسطی دہلی اور اس کے آس پاس کے علاقوں میں سکیورٹی فورسز اور پولیس اہلکاروں کو بھاری تعداد میں تعینات کیا گیا ہے۔ طے شدہ احتجاجی مقام کے قریب جمع ہونے والے مظاہرین کو پولیس نے حراست میں لے کر بسوں میں بٹھایا اور دیگر مقامات پر لے گئی۔ سکیورٹی اقدامات کے تحت دہلی پولیس ایکٹ کی دفعہ 65 کے تحت بڑے پیمانے پر کارروائی کرتے ہوئے اب تک ہزاروں لوگوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ دہلی پولیس نے سی جے پی کے اس احتجاج کی اجازت دینے سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا تھا کہ پارٹی کی طرف سے پیش کی گئی اطلاع کوئی باضابطہ درخواست نہیں تھی، کیونکہ ضابطوں کے مطابق جنتر منتر پر مظاہرے کے لیے کم از کم 10 دن پہلے درخواست دینا لازمی ہوتا ہے۔
مرکزی وزارتِ داخلہ نے بھی تمام ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں کی انتظامیہ کو دہلی پولیس کے ساتھ تال میل قائم کرنے اور راجدھانی کی طرف مظاہرین کی آمد کو روکنے کے لیے احتیاطی قدم اٹھانے کی ہدایت دی تھی۔ احتیاط کے طور پر حکام نے دہلی کے کچھ حصوں میں انٹرنیٹ خدمات پر پابندیاں عائد کی ہیں، بازاروں اور میٹرو اسٹیشنوں کو بند رکھنے کے احکامات دیے ہیں نیز شہر میں آنے والی کئی ٹرینوں کو منسوخ کر دیا ہے۔
دہلی کے مقبول دلی ہاٹ سے طلبہ کی بھیڑ کی قیادت کرنے کی کوشش کر رہی بائیں بازو کی طالب علم رہنما نیہا بورا کو بھی “سرفروشی کی تمنا” نظم گاتے ہوئے دوپہر کے وقت حراست میں لے لیا گیا۔ ممتا بنرجی اور ان کے ممبرانِ پارلیمنٹ اور حامیوں کا ایک گروپ پابندی کی خلاف ورزی کرنے کے پاداش میں حراست میں لیے جانے سے پہلے ساؤتھ ایونیو میں اپنی رہائش گاہ کے باہر پلے کارڈز لے کر دھرنے پر بیٹھا تھا۔ ممتا بنرجی نے ایک پولیس گاڑی میں لے جائے جاتے وقت نامہ نگاروں سے کہا، “ملک میں کیا چل رہا ہے، سب کو پتہ ہے۔”
دوسری طرف، بھارتیہ جنتا پارٹی نے ہفتے کے روز اپوزیشن پر اپنے حملے تیز کرتے ہوئے راہل گاندھی اور اروند کیجریوال سمیت دیگر رہنماؤں پر ملک میں کشیدگی بھڑکانے کی کوشش کرنے کا الزام عائد کیا۔ بی جے پی کے صدر نتن نبین نے کہا کہ حکومت ان کے ذریعے بدامنی پھیلانے کی کوششوں سے سختی سے نمٹے گی۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اپوزیشن رہنما بار بار انتخابی شکست کے بعد مایوسی کے عالم میں کام کر رہے ہیں اور خبردار کیا کہ پارٹی اور اس کے حامی ان کی ان کوششوں کی بھرپور مخالفت کریں گے۔ انہوں نے کہا،”سرکار آپ کے ذریعہ کشیدگی پیداکرنے کے لیئے کی جارہی کوششوں سے سختی سے نمٹے گی ”
کانگریس نے برسرِ اقتدار جماعت اور حکومت پر قومی راجدھانی کو “قلعے” میں تبدیل کرنے کا الزام لگایا، جس کے تحت پارٹی کے جنرل سکریٹری جے رام رمیش نے ‘ایکس’ پر لکھا، “قومی راجدھانی کو ایک قلعے میں بدل دیا گیا ہے، جہاں ہر طرف مسلح سکیورٹی اہلکار تعینات ہیں۔” کانگریس صدر اور راجیہ سبھا میں قائدِ حزبِ اختلاف ملکارجن کھرگے نے مودی حکومت پر الزام لگایا ہے کہ حکومت سے سوال کرنے والوں کو حراست میں لے کر ان کی آواز دبائی جارہی ہے اور ملک کو ‘خاموش جمہوریت’ میں بدلا جا رہا ہے۔ مسٹر کھرگے نے سوشل میڈیا ‘ایکس’ پر کہا کہ نوجوانوں، طلبہ، وکلا، صحافیوں، سماجی کارکنوں، کسان تنظیموں کے رہنماؤں، یوٹیوبرز اور کنٹینٹ کریئیٹرز سمیت حکومت سے سوال کرنے والے تمام لوگوں کو حراست میں لیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا، “بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) اور راشٹریہ سویم سیوک سنگھ (آر ایس ایس) کی بزدلی آج پوری طرح سامنے آ گئی ہے۔ حراست، گرفتاریاں، جیل، لاٹھیاں اور پیلٹ بھی ہندوستان کے لوگوں کو روک نہیں سکتے۔ آزادی کی جدوجہد کے وقت سے ہی نوجوان ملک کی تقدیر طے کرنے میں پیش پیش رہے ہیں۔” کانگریس صدر نے کہا کہ ان کی پارٹی متحد اپوزیشن کے ساتھ مل کر اس آمریت پر مبنی حکومت کے خلاف پوری طاقت سے لڑتی رہے گی۔ ہندوستان کی آزادی کے لیے خون بہانے والی کانگریس جمہوریت، آئین اور ہرہندوستانی کے بنیادی حقوق کی حفاظت کے لیے جدوجہد جاری رکھے گی۔
سماج وادی کے قومی صدر اکھیلیش یادو نے بی جے پی حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ عوام کی آواز کو طاقت کے بل پر دبانے کی کوشش حکومت کی بہت بڑی بھول ثابت ہوگی۔ مسٹر یادو نے ‘ایکس’ پر کہا، “کسی کے روکے سے نہیں رکےگا، اب دہلی میں دیش جٹے گا ” انہوں نے کہا کہ” ملک کی نوجوان توانائی ان کے ساتھ ہے۔ بی جے پی حکومت اگر یہ سمجھ رہی ہے کہ وہ طاقت کے بل پر عوام کو روک لے گی، تو یہ اس کی اور بھی بڑی بھول ثابت ہوگی۔ مسٹر یادو نے کہا کہ ‘جنتر منتر’ اب صرف ایک جگہ کا نام نہیں، بلکہ نئی چیتنا اور بیداری کی علامت بن گیا ہے۔”
پولیس نے صبح ہی جنتر منتر پر منعقدہ مظاہرے میں شامل ہونے جا رہے مارکسی کمیونسٹ پارٹی (سی پی آئی-ایم) کے سرکردہ رہنماؤں سمیت کئی رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں سی پی آئی (ایم) کے جنرل سکریٹری ایم اے بے بی، سابق وزیرِ اعلیٰ اور کیرالہ اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف پنارائی وجین، کیرالہ کے سابق وزیرِ خزانہ کے این بال گوپال ، راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس، مانیکندن وی گوندن، محترمہ ورندا کرات، کے کے شیلجہ اور پی راجیو شامل ہیں۔ محترمہ کرات نے فیس بک پیج پر لکھا، “مودی اور ان کی حکومت کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ ہندوستان کے لوگ اٹھ کھڑے ہوئے ہیں اور وہ انہیں روک نہیں سکتے۔ دہلی کا دل اس کے تمام لوگوں کا ہے۔ یہ دبانے والے طریقے ہمیں نہیں روک پائیں گے! چلو جنتر منتر کی طرف!” کیرالہ بھون سے باہر نکلتے ہی پولیس نے بائیں بازو کے رہنماؤں کو جنتر منتر کی طرف مارچ کرنے سے روک دیا اور انہیں حراست میں لے لیا۔ شروع میں پولیس نے مسٹر وجین، مسٹر برٹاس اور مسٹر کے این بال گوپال کو چھوڑ کر دیگر رہنماؤں کو حراست میں لیا تھا لیکن جب یہ تینوں رہنما جنتر منتر کی طرف بڑھنے لگے تو پولیس کے ساتھ ان کی تلخ بحث ہوئی اور پولیس نے انہیں بھی حراست میں لے لیا۔ حراست میں لیے جانے کے دوران میڈیا سے بات کرتے ہوئے مسٹر وجین نے اس کارروائی کو ‘جمہوریت کا قتل’ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں سے ان کی حکومت منتخب کرنے کا حق چھینا جا رہا ہے اور 13 کروڑ سے زیادہ ووٹرز کے نام کاٹے گئے ہیں۔ انہوں نے الزام لگایا کہ یہ کام چیف الیکشن کمشنر نے حکومت کے اشارے پر کیا ہے اور حکومت اب انہیں بچانے کے لیے غیر قانونی طریقے اپنا رہی ہے لیکن یہ احتجاج آج ختم نہیں ہوگا۔ مسٹر وجین نے کہا کہ ہندوستان کوئی پولیس اسٹیٹ نہیں، بلکہ ایک جمہوری ملک ہے اور برسرِ اقتدار جماعت کے دل میں جمہوریت کے تئیں کوئی احترام نہ ہونے کی وجہ سے ایسی کارروائی کی جا رہی ہے۔ وہیں، رکنِ پارلیمنٹ جان برٹاس نے واضح کیا کہ وہ کسی بھی دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے۔
اسی دوران، سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن نے سپریم کورٹ کے علاقے میں پرامن احتجاج کے دوران وکلا کے خلاف طاقت کے استعمال اور ان کی حراست کی خبروں پر گہرے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ایسوسی ایشن نے خاص طور پر خواتین وکلا سمیت سینئر اور نوجوان وکلا کی مبینہ حراست کا مسئلہ اٹھایا ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریہ کانت کو دیے گئے ایک میمورنڈم میں ایسوسی ایشن نے مداخلت کا مطالبہ کرتے ہوئے حراست میں لیے گئے وکلا کی حفاظت اور ان کے ٹھکانے کا پتہ لگانے کی گزارش کی ہے۔ اس کے ساتھ ہی، بغیر کسی قانونی جواز کے روکے گئے وکلا کو فوری طور پر قانونی امداد فراہم کرنے، ان کی رہائی کو یقینی بنانے اور پورے واقعے کی غیر جانبدارانہ جانچ کے بعد مناسب قانونی کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
جنتر منتر پر احتجاج کرنے جا رہے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال سمیت پارٹی کے کئی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا ہے۔ حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں ‘عآپ’ کے راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ، دہلی کے سابق وزیر سوربھ بھاردواج اور ایم ایل اے درگیش پاٹھک بھی شامل ہیں۔ ‘عآپ’ کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے آج دہلی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اروند کیجریوال اور ‘عآپ’ کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو پولیس مودی حکومت کے حکم پر حراست میں لے کر جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج کرنے پہنچ رہی تھی اور اسی دوران پولیس نے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
جنتر منتر پر احتجاج سے پہلے کیجریوال ، سنجے سنگھ سمیت کئی ‘عآپ’ رہنما حراست میں
نئی دہلی، چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ہفتے کے روز جنتر منتر پر احتجاج کرنے جا رہے عام آدمی پارٹی (عآپ) کے قومی کنوینر اروند کیجریوال سمیت پارٹی کے کئی رہنماؤں کو دہلی پولیس نے حراست میں لے لیا۔
حراست میں لیے گئے رہنماؤں میں ‘عآپ’ کے راجیہ سبھا کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ، دہلی کے سابق وزیر سوربھ بھاردواج اور ایم ایل اے درگیش پاٹھک بھی شامل ہیں۔ ‘عآپ’ کے ایم ایل اے کلدیپ کمار نے آج دہلی پولیس کی کارروائی پر سوال اٹھاتے ہوئے الزام لگایا کہ اروند کیجریوال اور ‘عآپ’ کے رکنِ پارلیمنٹ سنجے سنگھ کو پولیس مودی حکومت کے حکم پر حراست میں لے کر جا رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ پارٹی چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کا مطالبہ کرنے کے لیے احتجاج کرنے پہنچ رہی تھی اور اسی دوران پولیس نے رہنماؤں کو حراست میں لے لیا۔
انہوں نے کہا، “یاد رکھنا، مودی جی، گیانیش کمار کو استعفیٰ دینا پڑے گا۔” انہوں نے الزام لگایا کہ حکومت اپوزیشن کی آواز کو دبانے کی کوشش کر رہی ہے۔
‘عآپ’ کے قومی میڈیا انچارج انوراگ ڈھانڈا نے کہا، “پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے کیجریوال اور ہم سب کو دہلی پولیس بس میں گھما رہی ہے۔ ان کو پتہ ہی نہیں کہ جانا کہاں ہے یا پھر دہلی کے کسی تھانے میں کیجریوال جی کو لے جانے کی ہمت نہیں ہو رہی؟”
مسٹر سنجے سنگھ نے کہا، “پچھلے ڈیڑھ گھنٹے سے دہلی پولیس یہاں سے وہاں گھوم رہی ہے۔ اروند کیجریوال کو کس تھانے میں لے جانا ہے، دہلی پولیس کو نہیں پتہ؟ عجیب مذاق چل رہا ہے۔”
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoخمیس مشیط کی جانب داغے گئے تین حوثی بیلسٹک میزائل تباہ
-
کھیل1 week agoڈوگرا اور مظفر نے جموں و کشمیر کی اننگز کو سنبھالا
-
کھیل1 week agoپاکستان کو 19 رن سے شکست دے کر ہندوستان نے ایشیائی کھیلوں کی کرکٹ کا طلائی تمغہ جیتا
-
ہندوستان1 week agoمودی حکومت غیر قانونی ہے، دوبارہ انتخابات کرائے جائیں: کھڑگے
-
دنیا1 week agoعراقچی کی آئی اے ای اے معائنہ کاروں کو متاثرہ جوہری مراکز تک رسائی کی تجویز
-
دنیا1 week agoیمن میں حوثیوں کے خلاف کارروائیاں، 1540 ہلاک و زخمی ہونے کا دعویٰ
-
دنیا1 week agoیمن میں تعز کی لڑائی تیز، حوثی ٹھکانوں پر تین گھنٹے میں 20 فضائی حملے
-
دنیا1 week agoایران کا مسئلہ حل ہو جائے تو پٹرول کی قیمتیں گر جائیں گی :ٹرمپ
-
ہندوستان1 week agoراہل گاندھی نے لوگوں سے اپنے مسائل اور جدوجہد شیئر کرنے کے لیے ’ستیہ گرہ‘ ڈیجیٹل پلیٹ فارم لانچ کیا
-
ہندوستان1 week agoووٹ چوری کے خلاف نوجوانوں کے احتجاج کی راہل نے حمایت کی
-
دنیا6 days agoایرانی وزیر تیل مستعفی، نیشنل آئل کمپنی کے سربراہ قائم مقام وزیر مقرر
-
جموں و کشمیر1 week agoریاستی حیثیت سے متعلق قرارداد این سی کی حکمرانی کی ناکامی چھپانے کی سیاسی چال: چگ
