دنیا
پیزشکیان کے اقوام متحدہ روانہ ہونے کے دوران ایران کی جنگ کا جغرافیہ وسیع ہونے کی وارننگ
تہران، ایران نے خبردار کیا ہے کہ امریکہ کے کسی بھی نئے فوجی حملے سے تقریباً سات ماہ سے جاری تنازع مزید وسیع ہو سکتا ہے۔ یہ انتباہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب صدر مسعود پیزشکیان سفارتی غیر یقینی صورتحال کے درمیان اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک روانہ ہو رہے ہیں۔
ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کے مطابق اسلامی انقلابی گارڈ کور (آئی آر جی سی) کے ترجمان حسین محبی نے کہا کہ امریکہ کے کسی بھی نئے حملے کا جواب ایران اپنے ہتھیاروں کے ساتھ ساتھ ’’جنگ کے جغرافیے‘‘ میں بھی تبدیلی کرتے ہوئے دے گا۔ انہوں نے کہا کہ آئی آر جی سی پہلے ہی ایک طویل جنگ کے لیے تیار ہے۔
یہ انتباہ ایسے وقت آیا ہے جب امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ وہ ایران کے حوالے سے متعدد اختیارات پر غور کر رہے ہیں، جن میں دوبارہ فوجی کارروائی، اقتصادی دباؤ یا مذاکرات شامل ہیں۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ وہ غالباً اقوام متحدہ کے اجلاس کے موقع پر پیزشکیان سے ملاقات کے لیے تیار ہوں گے، تاہم ایسی کسی ملاقات کا ابھی اعلان نہیں کیا گیا ہے۔
پیزشکیان منگل کو تہران سے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس میں شرکت کے لیے روانہ ہوئے، جہاں وہ بدھ کو خطاب کریں گے۔ امریکہ نے ایرانی وفد کے بعض ارکان کے لیے اقوام متحدہ کے سفر کی منظوری دی ہے، تاہم ان کی نقل و حرکت پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ ایرانی حکام نے بتایا کہ پیزشکیان کی مواصلاتی ٹیم کے ارکان کو امریکی ویزے دینے سے انکار کر دیا گیا۔
ایران سے روانگی سے قبل پیزشکیان نے کہا کہ وہ تہران کے موقف کا ’’مضبوطی سے دفاع‘‘ کریں گے اور اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم کو بین الاقوامی برادری کے سامنے ایران کی صورتحال پیش کرنے کے لیے استعمال کریں گے۔ انہوں نے کہا، ’’ہم اس سے سر بلند ہو کر نکلے اور یہ ہم سب کے لیے باعث عزت اور فخر ہے۔ لہٰذا ہم بین الاقوامی فورمز پر اپنے موقف کا مضبوطی سے دفاع کریں گے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی ایک ایسی جگہ ہے جہاں ہم دنیا تک اپنا موقف، اپنی شکایات اور اپنی طاقت پہنچا سکتے ہیں۔‘‘
انہوں نے ایران میں شہریوں کی ہلاکتوں، جن میں میناب اور لامرد میں بچے بھی شامل ہیں، کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایران تنازع کے دوران ہونے والی ان کارروائیوں کو بھی اٹھائے گا جنہیں وہ خلاف ورزیاں سمجھتا ہے۔
دریں اثنا، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اصرار کیا کہ موجودہ شکل میں اقوام متحدہ پر تہران کو ’’کوئی اعتماد نہیں‘‘ ہے۔
عراقچی نے کہا کہ پیزشکیان اقوام متحدہ سے اپنے خطاب میں ایرانی عوام کے حقوق اور مفادات کا دفاع کریں گے۔ انہوں نے غزہ، مغربی کنارے، لبنان اور ایران میں ہونے والے تشدد کی مغربی اور یورپی حکومتوں کی جانب سے ناکافی مذمت پر تنقید کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
یمن میں حوثیوں کی تزویراتی پہاڑی چوٹیوں پر قبضے کی لڑائی، ہزاروں مزید افراد بے گھر
صنعاء، یمن میں لڑائی شدت اختیار کر گئی ہے اور حوثی باغی بحیرہ احمر کے قریب تزویراتی اہمیت کی حامل پہاڑیوں پر کنٹرول کے لیے سعودی حمایت یافتہ حکومتی فورسز سے نبرد آزما ہیں۔ ایران کے حامی اس گروپ کے رہنما نے امریکہ کو تنازع میں براہ راست فوجی مداخلت کے خلاف خبردار کیا ہے۔
پیر کو ہونے والی جھڑپیں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ کے باعث خطے میں کشیدگی بڑھ گئی ہے۔ یہ جھڑپیں ’نیویارک ٹائمز‘ کی اس رپورٹ کے بعد بھی سامنے آئیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اتوار کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملوں کا حکم دیا تھا، لیکن آخری وقت میں یہ حملے منسوخ کردیے۔
حکام کے مطابق حالیہ لڑائی میں کم از کم 674 افراد ہلاک اور ایک لاکھ 58 ہزار سے زیادہ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔
الجزیرہ کے عینی شاہدین کے مطابق حوثیوں نے اس ماہ یمن کے بحیرہ احمر کے ساحلی علاقوں، بشمول موخا بندرگاہ، پر قبضہ کرنے کے بعد اب صوبہ تعز اور لحج میں کہبوب پہاڑیوں پر قبضے کے لیے لڑائی شروع کر دی ہے۔ ان تزویراتی بلندیوں سے آبنائے باب المندب اور بحیرہ احمر میں واقع میون جزیرے پر نظر رکھی جا سکتی ہے اور ان پر کنٹرول حوثیوں کو ساحلی علاقے کو حکومت کے زیر کنٹرول جنوبی علاقوں سے کاٹنے کا موقع دے سکتا ہے۔
الجزیرہ کی تعز سے رپورٹنگ کرنے والی ماہ علی نے کہا، ’’حوثیوں کے موخا میں داخل ہونے، بندرگاہ پر قبضہ کرنے اور بعد میں میون جزیرے پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد وہ پہاڑی علاقوں کی جانب پیش قدمی یا ایسی کامیابیاں حاصل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن سے ان کا عقبی علاقہ محفوظ ہو سکے۔‘‘
انہوں نے کہا، ’’کہبوب اب مرکزی میدانِ جنگ ہے۔ آنے والے دنوں میں بھی یہی صورت حال برقرار رہ سکتی ہے، کیونکہ یہ پہاڑی علاقہ تزویراتی طور پر اہم ہے اور یہاں سے میون جزیرے پر نظر رکھی جا سکتی ہے۔‘‘
یہ لڑائی ایسے وقت میں ہوئی ہے جب میڈیا رپورٹس کے مطابق سعودی ولی عہد محمد بن سلمان امریکہ پر حوثیوں کے خلاف جنگ میں شامل ہونے کے لیے مسلسل زور دے رہے ہیں۔ حوثیوں نے ہفتے کو سعودی دارالحکومت ریاض پر حملے کا دعویٰ بھی کیا تھا، جو حالیہ کشیدگی میں اضافے کے بعد پہلی بار تھا۔تاہم، اطلاعات کے مطابق واشنگٹن نے اب تک سعودی درخواستوں کو مسترد کیا ہے۔
’نیویارک ٹائمز‘ نے پیر کو رپورٹ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے ریاض کی جانب سے نئی درخواستوں کے بعد اتوار کو حوثیوں کے خلاف فضائی حملے کرنے کی تیاری کر لی تھی، لیکن اس نے آخری وقت میں حملے منسوخ کر دیے، حتیٰ کہ فوجی اہلکار طیاروں پر بم لاد رہے تھے۔
حوثی رہنما عبدالملک الحوثی نے بھی ایک خطاب میں کہا کہ امریکہ سعودی عرب کے ساتھ مل کر ان کی فورسز کے خلاف کارروائی میں اضافے پر غور کر رہا ہے۔
حوثی رہنما نے کہا، ’’علاقائی حالات نے امریکہ اور اسرائیل کو کسی حد تک مصروف کر رکھا ہے، جس سے سعودی حکومت کے لیے مشکلات پیدا ہوئی ہیں، جو یمنی عوام کے خلاف اپنی جارحیت اور ناکہ بندی میں ان کی شرکت چاہتی ہے۔‘‘ تاہم انہوں نے امریکہ کو کشیدگی بڑھانے سے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ’’جو شخص ظالم کی حمایت کرتا ہے، وہ اخلاقی، قانونی اور انسانی طور پر تمام نتائج کا ذمہ دار ہوتا ہے۔‘‘
انہوں نے پاکستان اور ترکی سے بھی، جنہوں نے سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدہ کیا ہے، تنازع میں ملوث نہ ہونے کی اپیل کی۔
جاری۔ یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
ٹرمپ نے مشرق وسطیٰ کے توانائی شعبے کی تعمیر نو کے لیے 5 ارب ڈالر کے فنڈ کی تجویز دی: ڈبلیو ایس جے
واشنگٹن، امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے مشرق وسطیٰ کے ان ممالک میں جنگ کے دوران تباہ ہونے والے توانائی کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر نو میں مدد کے لیے ایک نئے فنڈ میں 5 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی تجویز پیش کی ہے۔ ’دی وال اسٹریٹ جرنل‘ (ڈبلیو ایس جے) نے ذرائع کے حوالے سے یہ اطلاع دی ہے۔
ڈبلیو ایس جے کے مطابق، امریکہ سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، بحرین، کویت، عمان، عراق اور اردن سے بھی اس فنڈ میں سرمایہ کاری حاصل کرنے کی کوشش کرے گا۔ توقع ہے کہ یہ فنڈ مجموعی طور پر 10 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری حاصل کرے گا۔
اخبار نے مزید بتایا کہ فنڈ کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور اس کی شرائط میں تبدیلی ممکن ہے۔
28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیے تھے، جس کے جواب میں ایران نے بھی جوابی حملے کیے۔ جون کے وسط میں تہران اور واشنگٹن نے جنگ بندی سے متعلق ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے تھے، تاہم اس کے کچھ ہی عرصے بعد دوبارہ لڑائی شروع ہو گئی۔
تنازع اب بھی حل طلب ہے اور وقفے وقفے سے دوبارہ جھڑپیں جاری ہیں۔ تاہم واشنگٹن نے اسلامی جمہوریہ ایران پر اقتصادی دباؤ بڑھانے کا راستہ اختیار کیا ہے اور تہران پر اضافی مالی مشکلات عائد کرکے تنازع ختم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
یو این آئی۔ ع ا۔
دنیا
بڑے میڈیا اداروں کے بائیکاٹ کے درمیان وائٹ ہاؤس ٹرمپ ٹی وی شروع کرے گا
واشنگٹن، وائٹ ہاؤس نے ’ٹرمپ ٹی وی‘ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ کے کئی بڑے میڈیا اداروں نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سرگرمیوں کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔
وائٹ ہاؤس کے سرکاری یوٹیوب چینل پر ’’ٹرمپ ٹی وی: دی ایسینشلز اسٹیشن‘‘ کے نام سے ایک لائیو اسٹریم کا اعلان کیا گیا، جو 23:00 جی ایم ٹی پر شروع ہوا۔
ویڈیو کی تفصیل میں کہا گیا ہے، ’’ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ترین لمحات سب ایک ہی جگہ دیکھیں۔ اہم ویڈیوز، بڑی تقریریں اور قابلِ ذکر جھلکیاں 24 گھنٹے، ہفتے کے ساتوں دن نشر کی جائیں گی اور انہیں حقیقی وقت میں اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔ باخبر رہیں اور تازہ ترین معلومات سے آگاہ رہیں۔‘‘
گزشتہ ہفتے ٹرمپ نے کہا تھا کہ وہ ’سی این این‘، ’ایم ایس ناؤ‘ اور ’پولیٹیکو‘ کے رپورٹرز کو وائٹ ہاؤس سے پابندی عائد کر رہے ہیں اور ان تینوں اداروں کو ’’جعلی‘‘ قرار دیا تھا۔ ان تینوں میڈیا اداروں نے پیر کو کہا کہ وہ وائٹ ہاؤس کی کوریج کے لیے صحافیوں کی منظوری ختم کرنے کے اقدام پر امریکی انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر رہے ہیں۔
ٹرمپ کے اعلان کے جواب میں کئی نشریاتی اداروں نے انتظامیہ پر امریکی آئین کی پہلی ترمیم کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا، جو آزادی اظہار اور آزادی صحافت کی ضمانت دیتی ہے، اور ٹرمپ کی سرگرمیوں کی کوریج کے بائیکاٹ کا اعلان کیا۔
’فاکس نیوز‘، ’اے بی سی‘، ’سی بی ایس‘، ’این بی سی‘، ’دی نیویارک ٹائمز‘ اور ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ بائیکاٹ میں شامل ہو گئے ہیں۔
یو این آئی۔ ع ا۔
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
ہندوستان5 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
جموں و کشمیر3 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا6 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
جموں و کشمیر3 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا4 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
