ہندوستان
ووٹرز کو فہرست سے باہر کرنے کی وجہ بتائے حکومت : کھرگے
نئی دہلی، کانگریس صدر ملکارجن کھرگے نے ووٹر لسٹ کی خصوصی تفصیلی نظرثانی (ایس آئی آر) کے تعلق سے حکومت اور انتخابی کمیشن سے پوچھا ہے کہ ووٹرز کو فہرست سے باہر کرنے کے بعد اب ’خصوصی‘ اور عام ووٹرز کو الگ الگ زمروں میں کیوں بانٹا جا رہا ہے۔
مسٹر کھرگے نے پیر کو سوشل میڈیا ایکس پر کہا کہ بہار سے شروع ہوا ایس آئی آر اب دہلی پہنچ چکا ہے اور کانگریس اسے پہلے دن سے ہی خامیوں سے بھرپور عمل بتا رہی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے سینئر رہنما لال کرشن اڈوانی، وزیر خارجہ، دہلی کے لیفٹیننٹ گورنر، راجیہ سبھا ایم پی، سابق مرکزی وزیر اور سابق وزیراعلیٰ سمیت کئی لوگوں کو نوٹس دیے گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس شروع سے ہی اسے خامیوں سے بھرپور نظام بتا رہی ہے اور اب اس کی خرابیاں کھل کر سامنے آ گئی ہیں۔
مسٹر کھرگے نے کہا کہ مغربی بنگال میں ایس آئی آر کے دوران جن لوگوں کے نام ووٹر لسٹ سے ہٹائے گئے، اب تک جن معاملات میں فیصلہ ہوا ہے ان میں 93 فیصد لوگوں نے اپیل میں کامیابی حاصل کی ہے اور 1,13,943 لوگوں کو پھر سے ووٹر لسٹ میں شامل کیا جائے گا۔ انہوں نے سوال کیا کہ آخر کس بنیاد پر ان لوگوں کا حقِ رائے دہی چھینا گیا۔
کانگریس صدر نے الیکشن کمیشن کی جانب سے ’وی آئی پی نشان زد ووٹرز‘ کے تعلق سے کہا کہ کیا ملک میں ہمہ گیر بالغ حقِ رائے دہی میں اب خصوصی اور عام ووٹرز کا الگ الگ زمرہ ہے؟ انہوں نے یہ بھی پوچھا کہ کیا یہ آئین کے ’ایک شخص، ایک ووٹ، ایک قدر‘ کے اصول کی خلاف ورزی نہیں ہے اور کیا وی آئی پی کا ووٹ اب زیادہ قیمتی ہو گیا ہے؟
مسٹر کھرگے نے کہا کہ ایس آئی آر کے پہلے تین مرحلوں میں 31 ریاستوں اور مرکز کے زیرِ انتظام علاقوں میں 13.8 کروڑ ووٹرز فہرست سے باہر ہوئے، جو 94.78 کروڑ ووٹرز کا تقریباً 14.61 فیصد ہے۔ ان کروڑوں عام ووٹرز کے معاملے میں کون اور کس کے اشارے پر ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھا ہے؟
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اب وی آئی پی کے لیے پریس ریلیز اور کروڑوں عام ووٹرز کے معاملے میں خاموش ہے۔
یواین آئی ایف اے
ہندوستان
عالمی کشیدگی کے وقت کثیرالجہتی کو مضبوط کرنا ضروری: جے شنکر
نئی دہلی، وزیرِ خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ہے کہ بڑھتے ہوئے مقابلے، جیو پولیٹیکل کشیدگی اور تنازعات کے درمیان عالمی نظام دباؤ میں ہے اور ایسے میں بین الاقوامی تعاون کے جذبے کو مضبوط کرنا ضروری ہے۔
مسٹر جے شنکر نے پیر کی رات نیویارک میں اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے ‘ہائی لیول ویک’ اجلاس کے موقع پر ‘پارٹنرز فار ملٹی لیٹرلزم، انٹرنیشنل لاء، پیس اینڈ پراسپرٹی’ سربراہ اجلاس میں کہا کہ امن و بین الاقوامی سلامتی، ماحولیاتی اقدامات، ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی، ترقیاتی مالیات، دہشت گردی کا مقابلہ، سپلائی چین، آفات سے نمٹنے اور وبائی امراض کی تیاری جیسے مسائل کا حل اجتماعی کوششوں سے ہی ممکن ہے۔ انہوں نے ایندھن، خوراک، کھاد اور مالیات سے جڑے بحرانوں پر بھی توجہ دینے کی ضرورت بتائی اور کہا کہ موجودہ صورتحال میں ان بحرانوں کا حل انتہائی ضروری ہے۔
وزیرِ خارجہ نے کہا کہ نئی ٹیکنالوجیز اور صلاحیتوں کے لیے مناسب قوانین اور سکیورٹی کے انتظامات ضروری ہیں۔ سپلائی میں رکاوٹ اور کسی ایک جگہ پر حد سے زیادہ انحصار کے خطرے سے نمٹنے کے لیے خطرات کو کم کرنے اور ذرائع میں تنوع لانے کو فروغ دیا جانا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ کثیر الجہتی کو آگے بڑھانے کے لیے اس میں اصلاحات ضروری ہیں، جس میں زیادہ سے زیادہ شمولیت اور شفاف فیصلہ سازی کا عمل شامل ہو۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ایودھیا میں منظم طریقے سے چڑھاوا چوری کے سرغناؤں کو بچانے کی کارروائی چل رہی ہے: کانگریس
نئی دہلی، کانگریس نے شری رام مندر میں چڑھاوا چوری کے معاملے میں تین ماہ بعد بھی چارج شیٹ داخل نہ ہونے کو سرغناؤں کو بچانے کی کوشش قرار دیتے ہوئے الزام لگایا ہے کہ بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتیں ایس آئی ٹی کے نام پر بڑے چوروں کو بچانے کی کارروائی کر رہی ہیں۔
کانگریس کے کمیونیکیشن ڈپارٹمنٹ کے انچارج جے رام رمیش نے منگل کو سوشل میڈیا ’ایکس‘ پر کہا کہ چڑھاوا چوری کے معاملے میں تحقیقات شروع ہوئے تین ماہ پورے ہونے میں صرف تین دن باقی ہیں لیکن ابھی تک ملزمان کے خلاف چارج شیٹ داخل نہیں کی گئی ہے۔ اگر 25 ستمبر تک چارج شیٹ داخل نہ ہوئی تو چڑھاوا چوری کے معاملے کے چھوٹے کرداروں کی ضمانت کا راستہ صاف ہو جائے گا۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ ملک کے عوام کو ایسی ایس آئی ٹی اور ایسی کسی سرکاری چارج شیٹ پر بھروسہ نہیں ہے جس میں بڑی مچھلیوں کو بچانے کے خدشات برقرار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو لوگ کہتے تھے کہ کچھ بھی رپورٹ کرنے کے قابل نہیں ہے، ان کی اپنی تحقیقات اب تسلیم کر رہی ہے کہ چڑھاوا چوری 70 نہیں بلکہ سی سی ٹی وی میں 105 بار سامنے آ چکی ہے جسے وہ چاہ کر بھی مسترد نہیں کر پا رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چارج شیٹ داخل کرنے میں تاخیر کیوں ہو رہی ہے، یہ سمجھنا مشکل نہیں ہے اور معاملہ بڑے چوروں اور ان کے سرپرستوں سے توجہ ہٹانے کا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ ایودھیا کے بھگوان شری رام مندر میں منظم طریقے سے کی گئی چڑھاوا چوری کے سرغناؤں کو کون اور کیوں بچا رہا ہے؟ اس سنگین معاملے میں وزیر اعظم نریندر مودی کی خاموشی اور چڑھاوا چوری کے ملزمان کی مدد پر بھی مسلسل سوالات اٹھ رہے ہیں۔
مسٹر رمیش نے کہا کہ عوام کے سیدھے سوالات ہیں کہ بڑی بڑی مچھلیوں پر اب تک کارروائی کیوں نہیں ہوئی اور ان سے سخت پوچھ گچھ کب ہوگی؟ اصل گنہگاروں کو بچانے کے لیے سپریم کورٹ کی نگرانی میں تحقیقات سے کون اور کیوں بچنا چاہتا ہے اور ٹرسٹ کو اب تک تحلیل کیوں نہیں کیا گیا؟ انہوں نے کہا کہ ایس آئی ٹی کے نام پر بی جے پی کی ڈبل انجن حکومتیں بی جے پی اور آر ایس ایس سے وابستہ چڑھاوا چوری کے ملزمان کو بچانے کی کارروائی کر رہی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ سوال اب صرف ملزمان کا نہیں بلکہ ان لوگوں کی جوابدہی کا بھی ہے جن کی نگرانی میں یہ سب کچھ ہوا۔ وزیر اعظم کو عقیدت سے جڑے اس سنگین معاملے پر خاموشی کے لئے جواب دینا ہوگا۔
کانگریس نے مطالبہ کیا ہے کہ پورے نظام کا فارنسک آڈٹ کرایا جائے، ذمہ دار لوگوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے اور تحقیقات مکمل شفافیت کے ساتھ کی جائیں۔ مسٹر رمیش نے کہا کہ چڑھاوا بھگوان شری رام کے نام پر آیا تھا اور جو لوگ اس کے انتظام و انصرام اور منتظمین کے انتخاب کا کریڈٹ لیتے رہے ہیں، انہیں چڑھاوا چوری کی ذمہ داری بھی لینی ہوگی۔
یواین آئی۔الف الف
ہندوستان
ٹی ایم سی کے انتخابی نشان کو منجمد کرنے کے فیصلے کے خلاف ممتا بنرجی کی عرضی پر سپریم کورٹ میں فوری سماعت کی اپیل
نئی دہلی، سینئر ایڈوکیٹ کپل سبل نے پیر کو سپریم کورٹ سے آل انڈیا ترنمول کانگریس (اے آئی ٹی ایم سی) کے نام اور اس کے مخصوص ‘پھول اور گھاس’ کے نشان کو منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن آف انڈیا (ای سی آئی) کے فیصلے کو چیلنج کرنے والی ممتا بنرجی کی عرضی پر فوری سماعت کی اپیل کی۔ سبل نے انتخابی نوٹیفکیشن کے درمیان پارٹی کے نام اور نشان کو منجمد کرنے کے الیکشن کمیشن کے فیصلے پر سوال اٹھاتے ہوئے اس معاملے کو جلد فہرست بند کرنے کی مانگ کی۔
چیف جسٹس سوریہ کانت نے کہا کہ دونوں فریقوں کے پاس اپنے دلائل ہوں گے اور یقین دہانی کرائی کہ اس معاملے کو اسی ہفتے سماعت کے لیے فہرست بند کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ محترمہ ممتا بنرجی کی عرضی میں الیکشن کمیشن کے 18 ستمبر (17 ستمبر کو جاری کردہ عبوری حکم) کے اس فیصلے کو چیلنج کیا گیا ہے جس کے تحت الیکشن سمبلز آرڈر، 1968 کے تحت حتمی فیصلہ آنے تک دونوں دھڑوں کے ‘آل انڈیا ترنمول کانگریس’ کے نام اور ‘پھول اور گھاس’ کا نشان استعمال کرنے پر روک لگا دی گئی ہے۔ الیکشن کمیشن نے آنے والے 6 اکتوبر کے اسمبلی ضمنی انتخابات کے لیے دونوں دھڑوں کو متبادل نام اور نشان الاٹ کیے ہیں۔ محترمہ ممتا بنرجی کی قیادت والے دھڑے کو ‘ممتا آل انڈیا ترنمول کانگریس’ نام اور ‘فٹ بال کھلاڑی’ کا نشان الاٹ کیا گیا ہے، جبکہ رتبرت بنرجی کی قیادت والے حریف دھڑے کو ‘ڈیموکریٹک ترنمول کانگریس’ اور ‘لفافہ’ کا نشان ملا ہے۔
یواین آئی ایف اے
-
دنیا1 week agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
ہندوستان5 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
دنیا1 week agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
دنیا6 days agoاو آئی سی جنرل سیکرٹریٹ کی مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ پر حوثیوں کے حملوں کی مذمت
-
جموں و کشمیر3 days agoگوریز میں مجوزہ ’تنتر سائلنس‘ ریٹریٹ پر تنازع
-
جموں و کشمیر3 days agoاپوزیشن لیڈر سنیل شرما کا جموں و کشمیر اسمبلی تحلیل کرنے کا مطالبہ
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
-
دنیا1 week agoآبنائے ہرمز کھولنے کے لیے ایران، عمان نے خلیجی اجلاس ملتوی کردیا
-
دنیا4 days agoجنوبی کوریا کا آبنائے ہرمز میں جنگی کردار سنبھالنے سے انکار ، جنگی مقاصد کی تعنیاتی نہیں ہو گی
