جموں و کشمیر
41.17 لاکھ روپے کی سبسڈی میں مبینہ بے ضابطگیوں پر جے کے گرامین بینک کے افسر اور بی سی کے خلاف ایف آئی آر
سری نگر، جموں و کشمیر اینٹی کرپشن بیورو (اے سی بی) نے پردھان منتری ایمپلائمنٹ جنریشن پروگرام (پی ایم ای جی پی) کے تحت کیپٹل سبسڈی کی تقسیم اور ایڈجسٹمنٹ میں مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے معاملے میں جموں و کشمیر گرامین بینک کے ایک سابق برانچ سربراہ، ایک بزنس کرسپانڈنٹ اور دیگر افراد کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
یہ مقدمہ جموں و کشمیر گرامین بینک کی ریبان برانچ، سوپور، بارہمولہ کے اُس وقت کے برانچ ہیڈ اروند سینی، بزنس کرسپانڈنٹ فردوس احمد شیخ اور دیگر کے خلاف درج کیا گیا ہے۔
اے سی بی کے مطابق، اس کی جانب سے کی گئی جانچ میں سامنے آیا کہ سینی نے مبینہ طور پر شیخ اور مستفیدین کے ساتھ ملی بھگت کرکے 25 پی ایم ای جی پی قرض کھاتوں میں 41.17 لاکھ روپے کی کیپٹل سبسڈی لازمی لاک اِن مدت پوری ہونے سے پہلے ہی جاری یا واپس ایڈجسٹ کردی۔
ایجنسی نے کہا کہ سبسڈی کو متعلقہ عمل درآمد کرنے والی ایجنسی کی ضروری منظوری یا ایڈجسٹمنٹ لیٹر کے بغیر ایڈجسٹ کیا گیا، جو بینک کی جانب سے 8 جون 2022 کے سرکلر کے ذریعے اختیار کیے گئے پی ایم ای جی پی کے عملی رہنما اصولوں کی مبینہ خلاف ورزی ہے۔
اے سی بی نے مزید الزام عائد کیا کہ ان 25 قرض کھاتوں میں سے چھ کھاتے شیخ اور ان کے اہل خانہ کے افراد کے نام منظور کیے گئے تھے اور سبسڈی کو ایڈجسٹ کرکے ان قرض کھاتوں کو بھی مقررہ مدت سے پہلے ہی بند کردیا گیا۔
ایک اور اہم معاملے میں اے سی بی نے بتایا کہ 46 پی ایم ای جی پی یونٹس کی موقع پر جا کر کی گئی تصدیق کے دوران، جن کے لیے مجموعی طور پر 1.66 کروڑ روپے کے قرض منظور اور جاری کیے گئے تھے، یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ کاروباری یونٹس سرے سے موجود ہی نہیں تھے۔
اے سی بی کے مطابق، ان تحقیقات سے اس بات کا امکان ظاہر ہوتا ہے کہ قرض کی رقم اور سبسڈی کو مبینہ طور پر دوسری جگہ منتقل کیا گیا، جس سے پی ایم ای جی پی اسکیم کے بنیادی مقاصد متاثر ہوئے۔
یہ مقدمہ انسداد بدعنوانی ایکٹ 1988 کی ترمیم شدہ 2018 کی دفعہ 13(1)(a) کے ساتھ دفعہ 13(2) اور بھارتی تعزیرات کی دفعات 409 اور 120-B کے تحت درج کیا گیا ہے۔
یواین آئی ۔ظ ا
جموں و کشمیر
مستقبل کی نسلوں کی صحت اور کسانوں کی خوشحالی کے لیے حکمت عملی تیار کی: ایل جی
جموں، جموں و کشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے پیر کو کہا کہ وزیراعظم کی پہل کے نتیجے میں اقوام متحدہ نے 2023 کو جوار باجرے کے بین الاقوامی سال کے طور پر منانے کا اعلان کیا، جس سے بھارت کی روایتی دانش مندی کو عالمی سطح پر شناخت ملی۔
لیفٹیننٹ گورنر نے یہاں ایس کے یو اے ایس ٹی میں ’’صحت کے لیے جوار باجرے: صحت مند ماحولیاتی نظام، موسمیاتی تبدیلی سے ہم آہنگ زراعت اور پائیدار غذائی نظام کی تعمیر‘‘ کے موضوع پر قومی مکالمے کا افتتاح کرنے کے بعد خطاب کرتے ہوئے پدم شری ڈاکٹر خضر ولی، جنہیں عام طور پر ’’بھارت کا ملیٹ مین‘‘ کہا جاتا ہے، اور ’کھیتی وراثت مشن‘ کے اومندر دت کا شکریہ ادا کیا۔
لیفٹیننٹ گورنر نے مرکز کے زیر انتظام خطے جموں و کشمیر میں ’ملیٹس مشن‘ کے ذریعے نئی بیداری پیدا کرنے کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ یہ موقع محض ایک سیمینار نہیں بلکہ بھارت کے دیہات سے جڑی ایک زرعی انقلاب کی خوشی منانے کا موقع ہے۔
لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی نے 2018 میں جوار باجرے کو ’’غذائی اناج‘‘ قرار دے کر اسے ’شری اَنّ‘ کا نام دیا تھا اور ان کا یہ قائدانہ کردار تاریخ میں یاد رکھا جائے گا۔
جوار باجرے کی روایتی اہمیت کا ذکر کرتے ہوئے لیفٹیننٹ گورنر نے کہا کہ جوار، باجرا، راگی، کوڈو ملیٹ، لٹل ملیٹ، فوکس ٹیل ملیٹ اور برن یارڈ ملیٹ نے کئی نسلوں سے کسانوں اور ان کے خاندانوں کو غذا فراہم کی ہے۔ کبھی ’’غریبوں کی غذا‘‘ کہہ کر نظرانداز کیے جانے والے یہ اناج اب روایتی علم اور جدید سائنس کے سنگم پر دوبارہ اپنی جگہ بنا رہے ہیں۔
انہوں نے قدیم تصور ’’اَنَّم برہما‘‘ یعنی غذا کو الٰہی نعمت قرار دینے کی روایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ صحت بخش غذا صحت مند شہریوں، مضبوط معاشروں اور موسمیاتی و دیگر بحرانوں کا مقابلہ کرنے والی قوموں کی بنیاد بنتی ہے۔
انہوں نے کہاکہ ’’ماہرین اس بات سے واقف ہیں کہ ملک کے مختلف حصوں میں چھوٹے اور معمولی رقبے والے کسانوں کے خاندانوں کو کئی دہائیوں تک جوار باجرے نے غذا فراہم کی۔ اس وقت جدید آبپاشی کی سہولتیں دستیاب نہیں تھیں۔ چھوٹے کسانوں کو نہ کھاد تک مناسب رسائی حاصل تھی اور نہ ہی موسم کی درست پیش گوئی کی سہولت موجود تھی۔
’’تاہم، جوار باجرے کی فصلوں کو ان سہولتوں کی اتنی ضرورت نہیں ہوتی تھی، کیونکہ یہ انتہائی نامساعد موسمی حالات میں بھی اگ سکتی تھیں اور خاندانوں کے لیے غذائی سہارا فراہم کرتی تھیں۔
یواین آئی۔ ظ ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر اسمبلی میں ہنگامہ، پہلے ہی دن بی جے پی ارکان کا احتجاج
سری نگر، جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی کے سات نشستوں پر مشتمل خزاں اجلاس کے پہلے ہی دن پیر کو اس وقت ہنگامہ آرائی اور کارروائی میں خلل پیدا ہوگیا جب بی جے پی ارکان نے یومیہ اجرت پر کام کرنے والے ملازمین، قومی صحت مشن (این ایچ ایم) کے ملازمین، بجلی کے نرخوں اور عمر عبداللہ کی قیادت والی حکومت کی مبینہ ناکامیوں سمیت مختلف مسائل پر احتجاج کرتے ہوئے ایوان کے ویل میں پہنچ کر نعرے بازی شروع کردی۔
احتجاج کا آغاز تعزیتی قراردادوں کے فوراً بعد ہوا، جب بی جے پی ارکان نے یومیہ اجرت والے ملازمین کو مستقل کرنے اور این ایچ ایم ملازمین کے مسائل کے حل کے لیے کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے اور پلے کارڈز لہرائے۔
بی جے پی نے بجلی کے نرخوں میں اضافے کا مسئلہ بھی اٹھایا۔ ارکان ’’یومیہ اجرت والے ملازمین کے ساتھ انصاف کرو‘‘ اور ’’این ایچ ایم ملازمین کے ساتھ انصاف کرو‘‘ جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ انہوں نے ’’بھارت ماتا کی جے‘‘ کے نعرے بھی لگائے اور حکومت پر عوام سے متعلق مسائل حل کرنے میں ناکام رہنے کا الزام عائد کیا۔
صورتحال اس وقت مزید کشیدہ ہوگئی جب بی جے پی ارکان ایوان کے ویل میں پہنچ گئے اور حکومت کے خلاف نعرے بازی تیز کردی۔
اس کے جواب میں حکمراں بنچوں، جن میں نیشنل کانفرنس کے ارکان اور اس کے اتحادی شامل تھے، نے جموں و کشمیر کا ریاستی درجہ بحال کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعرے لگائے۔ کانگریس کے ارکان ’’ووٹ چور سرکار کو ایک دھکا اور دو‘‘ کے نعرے لگاتے ہوئے بھی نظر آئے۔
اسپیکر عبدالرحیم راتھر نے احتجاج کرنے والے بی جے پی ارکان سے بار بار اپنی نشستوں پر واپس جانے کی اپیل کی اور خبردار کیا کہ اگر کارروائی میں خلل جاری رہا تو ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی ہدایت دی کہ احتجاج کے دوران لگائے گئے بعض نعروں اور دیے گئے بیانات کو اسمبلی کی کارروائی کے سرکاری ریکارڈ کا حصہ نہ بنایا جائے۔
شور شرابے کے باوجود وقفہ سوالات جاری رہا اور وزرا نے ارکان اسمبلی کی جانب سے اٹھائے گئے سوالات کے جوابات دیے۔
نائب وزیراعلیٰ سریندر چودھری نے اپوزیشن پر سیاسی مقاصد کے لیے جان بوجھ کر اسمبلی کی کارروائی میں خلل ڈالنے کا الزام عائد کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت عوامی مسائل سے متعلق سوالات کے جواب دینے کے لیے تیار ہے۔
وقفہ سوال کے بعد نیشنل کانفرنس کے رکن اور ریٹائرڈ جسٹس حسنین مسعودی نے مرکز کے زیر انتظام خطے جموں و کشمیر میں ’جل جیون مشن‘ (جے جے ایم) کے نفاذ میں مبینہ بے ضابطگیوں کی تحقیقات کے لیے قائم ایوان کی کمیٹی کی رپورٹ اسمبلی کے میز پر پیش کی۔
اس کمیٹی کو 9 اپریل 2025 کے ایک حکم نامے کے ذریعے جموں و کشمیر میں جل جیون مشن کے نفاذ میں مبینہ بے ضابطگیوں کا جائزہ لینے کے لیے تشکیل دیا گیا تھا۔
یواین آئی۔ ط ا
جموں و کشمیر
جموں و کشمیر میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی
سری نگر، جموں و کشمیر حکومت نے پیر کو انکشاف کیا کہ براہِ راست تقرری کوٹے کے تحت مختلف محکموں میں سرکاری ملازمتوں کی 40,672 آسامیاں خالی ہیں۔
یہ اعداد و شمار جموں و کشمیر قانون ساز اسمبلی میں وزیرِ انچارج نے کانگریس کے رکن اسمبلی عرفان حفیظ لون کے ایک سوال کے جواب میں پیش کیے۔
اعداد و شمار کے مطابق گزٹڈ زمرے میں 3,318، نان گزٹڈ زمرے میں 24,427 اور ملٹی ٹاسکنگ سروسز (ایم ٹی ایس) میں 12,927 آسامیاں خالی ہیں۔
محکمہ وار اعداد و شمار کے مطابق صحت و طبی تعلیم کا محکمہ خالی آسامیوں کے معاملے میں سب سے آگے ہے، جہاں مجموعی طور پر 12,797 آسامیاں خالی ہیں۔ ان میں 2,125 گزٹڈ، 8,064 نان گزٹڈ اور 2,608 ایم ٹی ایس کی آسامیاں شامل ہیں۔
محکمہ زراعت پیداوار میں 4,939 آسامیاں خالی ہیں، جن میں 84 گزٹڈ، 1,925 نان گزٹڈ اور 2,930 ایم ٹی ایس کی آسامیاں شامل ہیں۔
محکمہ اسکولی تعلیم میں 1,364 آسامیاں خالی ہیں، جن میں 594 گزٹڈ، 727 نان گزٹڈ اور 43 ایم ٹی ایس کی آسامیاں شامل ہیں۔ اسی طرح محکمہ ہاؤسنگ و شہری ترقی میں 2,741 آسامیاں خالی ہیں، جن میں 30 گزٹڈ، 801 نان گزٹڈ اور 1,910 ایم ٹی ایس کی آسامیاں شامل ہیں۔
وزیرِ انچارج نے بتایا کہ گزشتہ دو برس کے دوران 2,150 آسامیوں کو جموں و کشمیر پبلک سروس کمیشن (جے کے پی ایس سی) کو بھیجا گیا۔ اعداد و شمار کے مطابق سب سے زیادہ 794 آسامیاں محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے بھیجی گئیں۔
جموں و کشمیر حکومت نے بتایا کہ 2024 اور 2025 کے دوران 17,922 آسامیاں جموں و کشمیر سروسز سلیکشن بورڈ (جے کے ایس ایس بی) کو بھیجی گئیں۔ ان میں 2024 میں 11,582 اور 2025 میں 6,340 آسامیاں شامل تھیں۔
حکومت نے وضاحت کی کہ 2024 کے اعداد و شمار میں وہ آسامیاں بھی شامل ہیں جو پہلے جے کے ایس ایس بی کو بھیجی گئی تھیں، لیکن 15 مارچ 2024 کو جاری کیے گئے ایس او 176 آف 2024 کے بعد انہیں واپس متعلقہ محکموں کو بھیج دیا گیا تھا۔
جاری۔یواین آئی۔ ط ا
-
دنیا1 week agoلبنان سے انخلاء تک اسرائیل کے ساتھ کوئی نئی مذاکرات نہیں: عون
-
ہندوستان1 week agoپوتن نے استعماری سوچ والے ممالک پر کثیر قطبی دنیا کے ابھار کو متاثر کرنے کا الزام لگایا
-
دنیا1 week agoسعودی تیل پائپ لائن پر ڈرون حملوں کے بعد عراق نے متعدد سرحدی گزرگاہیں بند کردیں
-
دنیا6 days agoہم حوثی حملوں کا ‘سخت’ جواب دیں گے:سعودی عرب
-
دنیا1 week agoحوثیوں کے ساتھ لڑائی میں شدت، یمنی فورسز طائز میں پیش قدمی کر رہی ہیں
-
دنیا1 week agoایران جنگ سے دبئی کی سیاحت متاثر، غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں 44 فیصد کمی
-
دنیا6 days agoپینٹاگن کے نگران کا انکشاف: ایران جنگ سے ‘حکمت عملی’ گولہ بارود میں بہت زیادہ کمی ہوئی
-
دنیا1 week agoبنگلہ دیش میں خسرہ سے مزید سات اموات، ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 1019 ہوگئی
-
ہندوستان4 days agoکھرگے اور راہل نے یومِ پیدائش پر مودی کو مبارکباد دی
-
ہندوستان1 week agoبرکس میں مودی کا خطاب : سلامتی کونسل سمیت عالمی اداروں میں ہو اصلاحات اور جہاز رانوں کے لیے سکیورٹی نیٹ ورک بنایا جائے
-
دنیا1 week agoایران اور متحدہ عرب امارات باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے اور تعاون میں توسیع پر متفق
-
دنیا1 week agoحوثیوں کا سعودی ایئربیس پر بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز سے بڑا حملہ
